ماہ مبارک رمضان کے لمحوں کو غنیمت جانیں

0 0

ھائیو! اور بہنو! اللہ کا مہینہ آن پہنچا ہے۔ کتنا اچھا ہے  کہ اسے بہترین فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک لمحہ بھی اس مہینہ کا بیکار میں ضایع نہ ہو۔ اس ایک مہینہ میں ایک سال کی قسمت بلکہ ایک عمر کی قسمت لکھی جاتی ہے۔

ہوشیار رہیں کہ کہیں یہ مہینہ بھی بے توجہی کے ساتھ گذر جائے اور بروز عید ہم شرمندہ ، شرمسار اور رحمت الٰہی سے محروم ٹہلتے ہوئے نظر آئیں۔روایت میں ہے کہ رسول خدا (ص) نے  ماہ رمضان سے پہلے ایک خطبہ پڑھا  اور اس خطبہ میں فرمایا:

اے لوگو! جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا: یا محمد! جو آپ کا نام مبارک سنے اور آپ پر درود نہ بھیجے خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے محمد! جو شخص ماہ رمضان کو درک کرے اور خدا کی رحمت اور مغفرت کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور دنیا سے گذر جائے ہمیشہ خدا کی رحمت سے دور رہے گا۔ اے پیغمبر آپ آمین کہیے۔ میں نے بھی آمین کہا۔(۱)

اس ماہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور جھنم کے دروازے بند ہیں  کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ جس کی وجہ سے بہشت کے دروازے ہمارے اوپر بند ہو جائیں۔

اس مبارک ماہ میں جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتاہے جنت کو مزین کیا جاتا ہے اور نیک کاموں اور عبادتوں  کی جزا دوگنی ہو جاتی ہے۔

رسول خدا  نے فرمایا: شهر رمضان شهرالله عز و جل و هو شهر يضاعف الله فيه الحسنات و يمحو فيه السيئات، و هو شهر البركة، و هو شهرالانابة، و هو شهر التوبة، و هو شهرالمغفرة ، و هو شهرالعتق من النار و الفوز بالجنة.

الا فاجتنبوا فيه كل حرام و اكثروا فيه من تلاوة القرآن و سلوا فيه حوائجكم واشتغلوا فيه بذكر ربكم و لا يكونن شهر رمضان عندكم كغيره من الشهور فان له عندالله حرمه و فضلا على سائر الشهور، ولا يكونن شهر رمضان، يوم صومكم كيوم فطركم . (2(

مزید  حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

ماہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے کہ جس میں نیک کاموں کی جزا دوبرابر ہو جاتی ہے اور گناہ محو ہو جاتے ہیں۔ ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان توبہ اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان جہنم سے رہائی اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے۔

پس اے لوگو! اس مہینہ میں ہر برے اور حرام کام سے دوری اختیار کرو۔ اور قرآن کی کثرت سے تلاوت کرو۔ اور اس کے تمام اوقات کو اللہ کی یاد میں گزارو۔ مبادا یہ مہینہ بھی تمہارے نزدیک دوسرے مہینوں کی طرح رہے اس لیے کہ یہ دوسرے مہینوں پر برتری اور فوقیت رکھتا ہے۔ حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں:  “عليكم فى شهر رمضان بكثرة الاستغفار والدعاء، فاما الدعاء فيدفع البلاء عنكم و اما الاستغفار فتمحى به ذنوبكم .” (3)

آپ پر لازمی ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں کثرت سے دعا اور استغفار کریں  اس لیے کہ دعا بلاؤں کو ٹال دیتی ہے۔ اور استغفار گناہوں کو محو کر دیتا ہے۔

بہر حال ، ماہ رمضان خودسازی کامہینہ ہے۔ اور خود سازی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو بھول کر خدا کو اپنا مالک واقعی سمجھے تا کہ خدا کو پہچان سکے اور اس کی عبودیت کا حق ادا کر سکے۔ اور جو چیز رنگ الٰہی کے مخالف ہو اس سے دور رہے۔ خود سازی اور نفسانی ہوی و ہوس سے کنارہ کشی تمام کمالات اور فضائل انسانی کا منشا ہے۔ اگر کوئی اپنے آپ کو مادی تعلقات سے دور رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور دنیاکے تجملات  میں غرق نہ ہوا تو یقینا خدا کی طرف متوجہ رہے گا اور تکامل کی طرف گامزن ہو گا۔ اور کامیابی اور کامرانی کے بلند ترین مقام پر فائزہوگا۔

مزید  کام کی باتیں

خدا شاہد ہے کہ  دنیا کےتمام مفاسد ، مظالم، فتنہ وفساد  صرف خود پرستی اور ہوس پرستی کی بنا پر ہیں۔لہذا قرآن کریم میں ہمیشہ تزکیہ اورتربیت تعلیم اور تعلم پر مقدم ذکر ہوا ہے اور خود سازی یعنی تزکیہ  نفس اور ماہ رمضان تزکیہ اور تطہیر نفس کے لیے ہے۔ پس آئیے اس مبارک مہینہ میں خدا کا قرب حاصل کریں تاکہ روز قیامت سرخرو اس کی بارگا ہ میں حاضر ہوں۔

امام سجاد (ع) کے مناجات کا ایک ٹکڑا

آخر میں امام سجاد علیہ السلام کی دعا اور مناجات کا ایک حصہ صحیفہ سجادیہ سے نقل کرتے ہیں تاکہ ہماری زندگی کے لیے نمونہ عمل قرار پائے:

” اللهم و انت جعلت من صفايا تلك الوظائف، و خصائص تلك الفروض شهر رمضان، الذى اختصصته من سائر الشهور و تخيرته من جميع الازمنه و الدهور، و آثرته على كل اوقات السنه بما انزلت فيه من القرآن و النور و ضاعفت فيه من الايمان، و فرضت فيه من الصيام، و رغبت فيه من القيام، و اجللت فيه من ليله القدر التى هى خير من الف شهر، ثم آثرتنا به على سائر الامم و اصطفيتنا بفضله دون اهل الملل، فصمنا بامرك نهاره، و قمنا بعونك ليله، متعرضين بصيامه و قيامه لما عرضتنا له من رحمتك و نسبتنا اليه من مثوبتك و انت الملى بما رغب فيه اليك، الجواد بما سئلت من فضلك القريب الى من حاول قربك. ” (4(

خدایا تو نے اپنے منتخب کاموں اور مخصوص فرائض سے ماہ مبارک رمضان کو قرار دیا ہے۔ وہ مہینہ جسے تو نے تمام مہینوں میں سے انتخاب کیا ہے اور تمام دنوں اور لمحوں میں سے اسے چنا ہے۔ اور سال کے تمام اوقات پر اسے فوقیت اور برتری عطا کی ہے۔ یہ فوقیت اس لیے ہے کہ اس کے اندر قرآن اور نور کو نازل کیا ہے اور ایمان کو اس مہینہ کے اندر دوگنا کیا ہے اور روزہ کو اس ماہ میں واجب کیا ہے اور شب بیداری کو اس میں عبادت کے لیے قرار دیا ہےاور اس ماہ میں شب قدر کو رکھا ہے کہ جو ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ پھر ہمیں اس مہینہ کے وسیلہ سے تمام دیگر مذاہب اور امتوں پر برتری عطا کی ہے۔ پھر تیرے حکم سے ہم اس کے دنوں کو روزہ رکھتے ہیں اور تیری مدد سے اس کی راتوں کو عبادت کرتے ہیں۔ اس حال میں کہ اس کے صیام و قیام کے وسیلہ سے اس کی بارگاہ میں دعوت کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اور اسے تیرے حضور سے اجرو ثواب لینے کا سبب قرار دیتے ہیں تو ہر اس چیز پر قادر ہے جو تیری بارگاہ سے ہم طلب کرتےہیں۔ اور جو کچھ بھی تیرے فضل و کرم سے مانگا جائے تو عطا کرتاہے اور جو تیرے تقرب کی تلاش میں ہو تو اس کے نزدیک ہوتا ہے۔

مزید  انقلاب اسلامی ایران کا انقلابِ فرانس اور روس سے تقابلی جائزہ

پروردگار عالم سے دعاگو ہیں کہ ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اس مہینہ میں اس کی عبادت کر سکیں اور اس کی بارگاہ سے رحمت اور مغفرت طلب کر سکیں۔

حوالہ جات

1- المقنعه، ص 308 .

2- فضائل الاشهر الثلاثه، ص 95 .

3- وسائل الشيعه، ج 7، ص 220 .

4- صحيفه سجاديه، دعاى 45.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.