قرآن و حدیث اہل سنت کی نظر میں

0 0

ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ شیعہ امامیہ قرآن کو سنت پر مقدم کرتے ہیں اور اسے سنت کا قاضی و حاکم قرار دیتے  ہیں لیکن اہل سنت والجماعت اس سلسلہ میں شیعوں کے خلاف ہیں وہ قرآن پر سنت کو مقدم کرتے ہیں اور اسے حاکم و قاضی قرار دیتے ہیں۔
اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ اسی لئے خود کو اہل سنت کہتے ہیں کہ انھوں نےسنت ہی کو  سب کچھ سمجھ لیا ہے ورنہ وہ اپنے کو اہل قرآن و سنت کیوں نہیں کہتے ہیں۔ جب کہ وہ اپنی کتابوں میں یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ بنی(ص) نے فرمایا:
” میں تمھارے درمیان قرآن اور اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں۔”
انھوں نے قرآن کو چھوڑ دیا اور اسے مرتبہ پر رکھا اور خیالی سنت سے تمسک کرلیا اور اسے  پہلے مرتبہ پر رکھا ۔ ہم ان کے قول کا اصلی مقصد سمجھتے ہیں کہ سنت قرآن پر حاکم و قاضی ہے یہ بات عجیب ہے۔ میرا تو عقیدہ یہ ہے کہ اہل سنت یہ فیصلہ کرنےپر اس وقت مجبور ہوئے جب انھوں نے دیکھا کہ ہمارے اعمال قرآن خلاف ہیں اور جب ان کے مخدوم حکام نے ان پر یہ بات تھوپ دی کہ تم یہ لکھو کہ سنت  قرآن پر مقدم ہے تب انھوں نے لکھا اور ان کے اعمال کی برئت کے لئے جھوٹی حدیثیں گھڑ کر نبی(ص)  کی طرف  منسوب کردیں ۔ جب وہ احادیث احکام قرآن کے خلاف ظاہر ہوئیں تو کہا : سنت قرآن پر حاکم وقاضی ہے یا وہ قرآ ن  کو منسوخ کرتی ہے۔
اس کے لئے میں ایک واضح مثال دیتا ہوں جس کو ایک مسلمان دن بھر میں چند مرتبہ انجام دیتا ہے اور وہ ہے ہر نماز سے قبل وضو قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے۔

‘ اے ایمان لانے والو: جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو( اس وقت) اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولیا کرو اور اپنے سروں کے بعض حصّہ کا اور پیروں کا گٹوں تک مسح کیا کرو۔( مائدہ/۶)
نصب و جر کی قرت سے قطع نظر، جیسا کہ ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ لغت عرب میں ماہر اہلسنت والجماعت کے مشہور عالم فخررازی دونوں قرت واجب جانتے ہیں۔( تفسیر کبیر  فخررازی جلد۱۱، ص۶۱)
ابن حزم نےبھی کہا ہے: خواہ لام کو کسرے کے ساتھ پڑھا جائے یا فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے بہر صورت وہ رؤس پر عطف ہوگا۔ خواہ لفظی اعتبار سے خواہ وضع کے لحاظ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے۔( المحلی۔ ابن حزم جلد۲ ص۵۴)
اگر ہم سورہ مائدہ میں نازل ہونے والی آیت وضو میں غور کرتے جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع اس بات پر ہے کہ جو سورہ مائدہ آخر میں نازل ہوا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی(ص) کی وفات  سے صرف دو ماہ قبل نازل ہوا ہے پس نبی(ص) نے کیسے اور کب حکم مسح کو منسوخ کیا ؟ اور نبی(ص) نے ۲۳ سال تک وضو مسح کیا اور ہر روز متعدد بار مسح کرتے تھے۔
کیا یہ بات عقل می آی ہے کہ وفاتِ نبی(ص) سے دو ماہ قبل آیت ” وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ” نازل ہوئی اور رسول(ص) نے حکمِ قرآن کے خلاف مسح کے بجاے پیر دھوئے ؟!! اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔
پھر لوگ اس نبی(ص) کو کیسے تسلیم کریں گے جو کہ انھیں قرآن کی طرف بلایا ہے اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے بے شک یہ قرآن سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے اور پھر خود اس کے برعکس عمل کرتا ہے؟! کیا یہ معقول ہے کیا اسے دانشور افراد قبول کریں گے؟!
کیا نبی(ص) سے جھگڑالو، مشرک اور منافق یہ نہ کہیں گے جب آپ(ص) خود اس کے خلاف  عمل کرتے ہیں تو ہمیں اس پر عمل کرنے کے لئے  کس منہ سے  کہتے ہیں؟ اس وقت نبی(ص) ہکا پکا رہ جائنگے

اور ان کےاعتراض کو رد کرنے کے لئے کوئی جواب نہیں بن سکے گا۔ اسی لئے ہم اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے جس کو عقل اور نقل دونوں رد کرتی ہیں اور جو بھی قرآن و سنت سے تھوڑا سا واقف ہے وہ بھی  اس کی تصدیق نہیں کرے گا۔
لیکن اہل سنت والجماعت جو کہ در حقیقت بنی امیہ کے حکام اور ان کا اتباع کرنے والے ہیں جیسا کہ گذشتہ صفحات میں آپ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنے گمراہ پیشواؤں کے اجتہاد ات اور  راویوں کو صحیح بنانے کی وجہ سے احادیث گھڑیں اور انھیں سے دین و شریعت کے احکام نکالے اور نص کے مقابلہ میں اجہادات کے لئے ایک علت بھی ڈھونڈ نکالی اور وہ یہ کہ نبی(ص) خود بھیایسا ہی کیا کرتے تھے، آپ(ص) بھی تو قرآن کی نص کے مقابلہ میں اجتہاد کرتے تھے اور قرآن کی جس آیت کو  چاہتے تھے منسوخ کردیتے تھے، اس طرح بدعتی لوگ جھوٹ اور  بہتان کی وجہ سے نصوص کی مخالف کرنے میں رسول(ص) کے پیرو کاربن گئے۔( کیونکہ آپ بھی ںصوص کی  مخالفت کرتے تھے۔ اور  آج  اہل سنت بھی مخالفت کرتے ہیں۔)
گذشتہ بحثوں میں ہم قوی حجتوں اور ٹھوس دلیلوں سے یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ بنی(ص) نے ایک روز بھی اپنے رائے سے کوئی بات نہیں کہی بلکہ آپ وحی کا انتظار  کرتے تھے اور خدا کے حکم  ایک روز بھی اپنی رائے سے کوئی بات نہیں کہی بلکہ آپ وحی کا انتظار کرتے تھے اور خدا کے حکم کے مطابق عمل کرتے تھے جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:
آپ حکم خدا کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ  کریں : ( نساء ۱۰۵،۔ صحیح بخاری ج۸ ، ص۱۴۸۔)
کیا اس بات کا کہنے والا اپنے پروردگار کا مبلغ نہیں ہے:
اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو جن لوگوں کو  ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے وہ کہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کیجئے یا اس کو بدل دیجئے ۔ آپ کہہ دیجئے میں اسے اپنے اختیار سے نہیں بدل  سکتا میں صرف اس  حکم پر عمل کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی کی جاتی ہے میں

مزید  تقلید

 اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے قیامت کے دن عذاب کا خوف ہے۔( یونس۔۱۵)
کیا خدا نے نبی(ص) کو اپنی طرف ایک جھوٹی نسبت دینے کے سلسلے میں سخت تہدید نہیں کی تھی؟ جیسا کہ ارشاد ہے:
اگر پیغمبر  ہماری طرف سے کوئی بات گھڑ لیتا تو ہم اس کے ہاتھ کاٹ لیتے اور پھر یقینا ہم اس کی گردن اڑا دیتے اور تم میں سے مجھے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔(الحاقہ۴۳تا ۴۷۔)
یہ ہے قرآن اور یہ ہیں بنی(ص) جہنوں نے قرآن پیش کیا۔ لیکن اہل سنت والجماعت ، علی ابنِ ابی طالب(ع) اور اہلبیت” علیہم السلام” سے شدید عداوت کی بنا پر ہر چیز میں ان کی مخالفت کرتے ہیں یہاں تک کہ علی(ع) اور ان کے شیعوں کی مخالفت ان کا شعار بن چکی ہے  خواہ ان  کے نزدیک سنتَ نبی(ص) ثابت بھی ہو۔( ہماری مراد اوائل کے وہ افراد جنہوں نے علی(ع) اور آپ(ص) کے بعد آپکی اولاد سے دشمنی رکھی اور مذہب اہل سنت والجماعت کی بنیاد رکھی۔)
امام علی(ع) کے متعلق یہ مشہور تھا کہ آپ(ع) سنتِ رسول(ص) کو زندہ رکھنے کے لئے اخفاتی نمازوں میں بھی بسم اللہ۔۔۔ بآواز بلند پڑھے تھے۔بعض لوگوں نے کہا نماز  میں بسم اللہ۔۔۔۔ پڑھنا مکروہ  ہے اسی طرح ہاتھ باندھنا یا کھولنا اور دعائے قنوت وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق نماز پنجگانہ سے ہے۔
اور اسی لئے انس بن مالک گریہ کررہے تھے اور  کہہ رہے تھے: قسم خدا کی آج میں ایک چیز بھی ایسی نہیں دیکھتا جس پر رسول(ص) عمل کرتے تھے۔ لوگوں نے کہا : اور یہ نماز ؟ مالک نے جواب دیا: اس میں بھیتم بہت سی رد و بدل کی ہے۔(بخاری۔ج۱ ص۷۴)
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت ان اختلافات پر خاموش رہتے ہیں کیوں کہ  ان ہی سلسلہ میں مذاہت اربعہ کے درمیان اختلاف ہے لہذا اس میں اہل سنت کو کوئی

 جرم  معلوم نہیں ہوتا بلکہ اس اختلاف کو رحمت قرار دیتے ہیں۔
لیکن اگر شیعوں سے کسی مسئلہ میں اختلاف ہوجائے تو پھر قیامت آجائے گی ، ان پر  طعن و تشینع کی بوچھار ہوجائے گی  اور رحمت ، زحمت میں بدل جائے گی۔ وہ صرف اپنے ہی ائمہ کی راویوں کو قبول کرتے ہیں اور عترتِ طاہرہ(ع) کے ائمہ کو علم و عمل اور فضل  وشرف میں ان کے برابر نہیں سمجھتے ہیں۔
جیسا کہ ہم پیروں کے دھونے کے سلسلہ میں بیان کرچکے ہیں باوجودیکہ انکی کتابیں گواہی دے رہی ہیں کہ قرآن میں مسح واجب ہے اور یہی سنتِ بنی(ص) سے ثابت ہے۔ ( طبقات الکبری ابن سعد ج۶ ص ۱۹۱۔) لیکن اس سلسلہ مین شیعوں کی بات قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ انھیں تاویل کرنے والے اور دین سے خارج بتاتے ہیں۔
اور دوسری مثال کہ جس کا ذکر ضروری ہے وہ نکاح متعہ ہے جس کا حکم قرآن میں نازل ہوا ہے اور نبی(ص) کے زمانہ میں اس پر عمل ہوا ہے لیکن اہل سنت متعہ کو حرام قرار دینے والے عمر ابن خطاب کے اجتہاد کی برت کے لئے جھوٹی حدیثیں گھٹ لیںاور انھیں نبی(ص) کی طرف منسوب کردیا ہے اور اس نکاح کو مباح سمجھنے والے شیعوں پر طعن و تشنیع کرنے لگے، متعہ کی حلیت پر شیعوں کے پاس علی(ع) کا قول موجود ہے اور خود اہل سنت کی صحاح بھی گواہی دے رہی ہیں کہ صحابہ نے زمانہ نبی(ص) اور عہد ابوبکر میں نیز ایک مدت تک عمر کی خلافت کے دور میں متعہ کیاہے، اس  بات کو بھی بیان کررہی ہیں کہ متعہ کے حلال ہونے اور حرام ہونے کے سلسلہ میں صحابہ کے درمیان اختلاف ہے۔
ایسے موارد کے لئے کہ جہاں جھوٹی حدیثوں سے انھوں نے نصِ قرآنی کو منسوخ کیا ہے ، بہت سی ثالیں ہیں جس میں سے ہم نے صرف دو مثالیں مذہب اہل سنت سے پردہ ہٹانے اور قارئین کی اطلاع کے لئے پیش کی ہیں کہ وہ قرآن پر حدیث کو مقدم کرتے ہیں اور صریح طور پر کہتے ہیں کہ سنت قرآن پر حاکم و قاضی ہے۔

مزید  عہدِ جاہلیت میں عورتوں کا مرتبہ

اہل سنت والجماعت کے فقیہ اور محدث اما عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ متوفی ۲۷۶ہج کھلے لفظوں میں کہتے ہیں: سنت قرآن پر حاکم ہے جبکہ قرآن سنت پر حاکم و قاضی نہیں ہے۔
صاحب مقالات الاسلامیین ، امام اشعری جو کہ اصول میں اہل سنت والجماعت کے امام ہیں ان سے نقل کرتے ہیںکہ سنت قرآن (کے کسی بھی حکم) کو  منسوخ کرسکتی ہے اور اس کے خلاف فیصلہ کرسکتی ہے۔ جبکہ قرآن سنت کو منسوخ نہیں کرسکتا ہے اور اس کےخلاف حکم لگا  سکتا ہے۔
عبداللہ تو یہ فرماتے ہیںکہ امام اوزاعی، ( یہ بھی اہل سنت والجماعت کے  بڑے امام ہیں ) کہتے ہیں: قرآن سنت کا زیادہ محتاج ہے جبکہ سنت قرآن کی محتاج نہیں ہے۔ ( جامع بیان العلم ج۲، ص۲۳۴۔)
اہل سنت کے اقوال ان کے عقیدہ کے غماز ہیں اور یہ بات تو واضح ہے کہ ان لوگوں کے اور اہل بیت(ع)  کے اس قول میں تناقض ہے کہ حدیث کو کتابِ خدا پر پرکھو! اور اس پر تو لو! کیونکہ قرآن سنت  حاکم و قاضی ہے اور یہ بھی طبیعی ہے کہ اہل سنت ان احادیث کی تردید کرتے ہیں اورانھیں قبول نہیں کرتے ہیں۔ اگر چہ ان کو ائمہ اہل بیت(ع) ہی نے بیان کیا ہو کیوں کہ ان سے ان کے مذہب کی دھجیاں اڑتی ہیں۔
بیہقی نے دالائل النبوت میں لکھا ہے: نبی(ص) کی یہ حدیث باطل ہے۔ ” جب تمہارے پاس میری کوئی حدیث پہنچے تو تم اسے قرآن سے ملاؤ اگر قرآن کے موافق ہے تو میرا قول ہے اور اگر مخالف ہے تو میرا قول نہیں ہے” باطل ہے اور خود اپنے خلاف ہے  کیونکہ قرآن میں کوئی مفہوم ایسا نہیں ہے کہ جو حدیث کو  قرآن سے ملانے پر دلالت کررہا ہو!
عبدالبر نے عبدالرحمن بن مہدی سے نقل کرتے ہوئے اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ حدیث جو رسول(ص) سے نقل کی جاتی ہے ” تمہارے سامنے جب میری کوئی حدیث نقل کی جائے تو

 تم اسے کتابِ خدا سے ملاؤ اگر کتابِ خدا کے موافق ہے تو وہ میرا قول ہے اور اگر کتابِ خدا کے خلاف ہے تو وہ میرا قول نہیں ہے۔ ایسی حدیث کی نسبت رسول(ص)  کی طرف دینا اہل علم کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔یہ حدیث خوارج اور زنادقہ کی  گھڑی ہوئی ہے۔
اس اندھے تعصب کو ملاحظہ فرمائیے کہ جس نے ان کے لئے علمی تحقیق او حق کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ اہل سنت والجماعت اس حدیث کے راوی ائمہ معصومین(ع) کو خوارج اور زنادقہ کہتے ہیں اور ان پر حدیث گھڑنے کا الزام لگاتے ہیں۔
کیا ہم ان سے یہ سوال کرسکتے ہیں کہ حدیث کو گھڑنے سےکہ جس میں قرآن کو ہر چیز کا مرجع بتایا گیا ہے خوارج اور زنادقہ کا کیا مقصد تھا؟؟
عقلمند او منصف مزاج انسان تو انہی زنادقہ اور خوارج کی طرف جھکے گا جو کہ کتابخداکو معظم اور محترم سمجھتے ہیں اور تشریع میں اسے پہلا مصدر  قرار دیتے ہیں۔ کیا اہل سنت واجماعت کی طرف مائل ہونا صحیح ہے جوکہ جھوٹی حدیث کے ذریعہ کتاب خداکے خلاف فیصلؒہ کرتے ہیں اور اپنی من گھڑت سے قرآن کے احکام کو منسوخ کرتے  ہیں۔
اس سلسلہ میں انھیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا یہ تو بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ کہتے ہی نہیں ہیں۔(کہف۔۵۰)
اہل سنت والجماعت ائمہ ہدیٰ ، مصابیح الدجیٰ کہ جن کو رسول(ص) نےامت کے لئے اختلاف سےامن کا باعث بتایا تھیا اور فرمایا تھا: قبائل عرب میں سے  جو قبیلہ انکی مخالفت کرے گا وہ پراکندہ ہوکر گروہ ابلیس بن جائے گا۔ زنادقہ اور خوارج کہتے ہیں ائمہ معصومین(ع) کا صرف یہ گناہ ہے کہ وہ اپنے جد کیسنت سے تمسک کئے ہوئے ہیں اور اس کے سوا ابوبکر ، عمر ، عظمان ، معاویہ ، یزیدلع اور مروان و امویوں کی بدعتوں کو ٹھکرا دیا ہے، ار چہ حکومت کی باگ دوڑ انہی مذکورہ افراد کے ہاتھوں میں تھی لہذا وہ اپنے مخالفوں  پر خوارج اور زنادقہ کہہ کر سب وشتم

 کرتے تھے ، ان سے جنگ کرتے اور پراگندہ کردیتے تھے ۔ کیا علی(ع) اور اہلبیت(ع)  پر ان کے منبروں سے اسی(۸۰) سال تک لعنت نہیں ہوئی؟؟ کیا انہوں نے امام حسن(ع) کو زہر اور حسین (ع) اور آپ(ع)کی ذریت کو تلواروں سے شہید نہیں کیا؟
اہلبیت (ع)  جن پر غم والم کے پہاڑ توڑے گئے اور بعد میں بھی ظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا انھیں چھوڑتے  ہیں اور ان لوگوں کی طرف پلٹتے ہیں۔ جو کہ اپنے کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں اور قرآن پر تولنے والی حدیث کا انکار کرتے ہیں اور ابوبکر صدیق ، اور ام المؤمنین عائشہ کہ جس سے نصف دین لیا ہے کو زندیق اور خوارج نہیں کہتے۔۔ مذکورہ خدیث کو انہوں نے شہرت دی ہے اور پھر جب کوئی ایسی حدیث ان کے پاس پہنچتی تھی کہ جس کو عائشہ نہیں جانتی تھیں تو  وہ اس حدیث کو قرآن پر تولتی تھیں اگر وہ قرآن کے خلاف ہوتی تھی اسے ٹھکرا دیتی تھیں چنانچہ عمر ابن خطاب کی بیان کردہ اس حدیث کو جھٹلادیا تھا کہ میت پر اس وقت عذاب ہوتا ہے جب اس کے خاندان میں سے کوئی اس پر گریہ  کرتا ہے: عائشہ نے کہا : تمہارے لئے قرآن کافی ہے  وہ کہتا ہے: کوئی ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ( صحیح بخاری، کتاب الجنائز باب قول النبی(ص) لعذاب المیت ببعض بکاء اہلہ علیہ( کذالک مسلم کتاب الجنائز باب المیت ، یعذب ببکاء اہلہ علیہ)
ایسے ہی عائشہ نے عبداللہ ابن عمر کی بیان کی ہوئی اس حدیث کو رد کردیا تھا کہ ، نبی(ص) اس گڑھے پر کھڑے ہوئے  جس میں جنگ بدر میں قتل ہونے والے مشرکین کو ڈالدیا گیا تھا۔ پھر ان س کچھ فرمایا: اور اس کے بعد اپنے اصحاب کی طرف ملتفت ہوئے اوور فرمایا: وہ یقینا میری باتوں کو سنتے ہیں۔
عائشہ نے کہا : کیا مردے بھی سنتے ہیں؟ نیز کہا: رسول(ص) نے یہ فرمایا تھا کہ وہ اس بات کو ضرور جان لیں گے جو  میں نے  ان سے کہی تھی پھر اس حدیث کی تکذیب کے ثبوت میںوہی حدیث پیش کی جس میں حدیث  کو قرآن کے ذریعہ پرکھنے کا حکم ہے اور پھر یہ آیت پڑھی۔

مزید  خطبہ غدير کے چند اھم نکات

اور حق ان کے تابع ہے؟
ذوالنورین بھی آپ ہی ہیں ۔ ( اہل سنت والجماعت عثمان کو ذوالنورین کہتے ہیں اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی(ص) کی دو بیٹیوں ” رقیہ اور ام کلثوم سے شادی کی تھی ، حقیقت یہ ہے کہ دونوں رسول(ص) کی ربیبہ تھیں اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ بیٹی تھیں تو بھی ان کا نورین ہونا ثابت نہیںہے ۔ نبی(ص) سے  تو ان دونوں کے سلسلہ میں کوئی حدیث نہیں فرمائی ۔ یہ نور فاطمہ(س)  کیوں نہ ہوں کہ جن کے متعلق یہ فرمایا ہے: وہ عالمین کی عورتوں  کی سردار ہیں ، پس وہ نور ہیں اور اس بنیاد پر علی(ع) کو  ذوالنورین کیوں نہیں کہتے۔) آپ حسن اور حسین ( علیہماالسلام) جوانانِ جنت کے سردار اور نور نبوت کے باپ ہیں، آپ ہی سیف اللہ ہیں چنانچہ جنگ احد میں جبریل نے آپ کی شان میں فرمایا تھا
        “لافتی الاّ علی لاسیف الاّ ذوالفقار”
حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی شمشیر خدا ہیں جس کو خدا نے مشرکین کے لئے نیام سے نکالا تھا، چنانچہ آپ نے مشکوں کے سو ماؤں کو اور ان کے جری و شجاع لشکر کو موت کے گھات اتارا اور انکی ناک رگڑدی یہاں تک کہ انہوں نے مجبورا حق کا اورار کرلیا۔ آپ(علی) اس لئے بھی شمشیر خدا  ہیں کہ آپ نے کبھی میدان جنگ سے فرار نہیں کیا اور نہ کبھی جنگ سے گھبرائے، آپ(ع) ہی نے خیبر  فتح کیا جبکہ بڑے بڑے صحابہ اسے فتح نہ کرسکے اور شکست کھا کر لوٹ آئے تھے۔
لیکن پہلی ی خلافت سے یہ سیاست چلی گئی کہ آپ کی تمام فضیلتوں کو مٹایا جائے اور ہر ایک منصب سے الگ رکھا جائے اور جب معاویہ کے ہاتھ حکومت آئی تو وہ آگے نکل گیا یہاں تک کہ علی(ع) پر لعنت اور تنقیص کا سلسلہ شروع کردیا اور اپنے ہم خیال افراد کی شان بڑھانے اور علی(ع) کے تمام القاب اور فضائل کو زبردستی دیگر صحابہ پر منطبق کرنے لگا اور اس زمانہ میں معاویہ کی تکذیب کون کرسکتاتھا اور اس سے کون ٹکر لے سکتا تھا؟ اور پھر علی(ع) پر سب و شتم اور لعنت کرنے نیز  آپ(ع) سے برت اور بیزاری کے سلسلہ میں معاویہ کی بہت سے لوگوں نے موافقت کی اور ” اہل سنت والجماعت” میں سے معاویہ کا اتباع کرنے والے نے حقائق کو الٹ کر رکھدیا چنانچہ نیکی ان کے

 نزدیک برائی اور برائی ان کے نزدیک اچھائی بن گئی اور علی(ع) اور انکے شیعہ زندیق و خوارج اور رافضی بن گئے، لہذا انہوں نے ان کا خون بہانا اور ان پر لعنت کرنا مباح سمجھ لیا اور دشمن خدا و دشمن رسول خدا(ص) اور عدوئے اہل بیت(ع) ” اہل سنت والجماعت ” بن گئے ، پڑھئے اور تعجب کیجئے اور اگر اس سلسلہ میں آپ کو کوئی شک ہے تو تحقیق اور چھان بین کر لیجئے۔
“ان دونوں کی مثال اندھے ، بہرے ، دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں، کیا غور نہیں کرتے؟( ہود آیت ۲۴)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.