قرآن ميں قلب (دل کی اهمیت)

0 1

قلب كى لفظ قرآن اور احاديث ميں بہت زيادہ استعمال ہوئي ہے اور اسے ايك خاص اہميت قرار دى گئي ہے_ ليكن يہ خيال نہ كيا جائے كہ قلب سے مراد وہ دل ہے جو انسان كے دائيں جانب واقع ہوا ہے اور اپنى حركت سے خون كو انسان كے تمام بدن ميں پہچاتا ہے اور حيوانى زندگى كو باقى ركھتا ہے يہ اس لئے كہ قرآن مجيد ميں قلب كى لفظ كى طرف ايسى چيزيں منسوب كى گئي ہيں كہ جو اس قلب كے جس صنوبرى سے مناسبت نہيں ركھتيں مثلاً

فہم اور عقل:قرآن فرماتا ہے كہ ”كيوں زمين كى سير نہيں كرتے تا كہ ايسا دل ركھتے ہوں كہ جس سے تعلق كريں_

عدم تعقل و فہم:قرآن فرماتا ہے كہ ”ان كے دلوں پر مہر لگادى گئي ہے اور وہ نہيں سمجھتے_”

قرآن فرماتا ہے كہ ”انكے پاس دل موجود ہيں ليكن وہ نہيں سمجھتے اور آنكھيں موجود ہيں

ليكن وہ نہيں ديكھتے _

ايمان: قرآن فرماتا ہے كہ ”خداوند عالم نے ان كے دلوں ميں ايمان قرار ديا ہے اور اپنى خاص روح سے ان كى تائيد كى ہے_

كفر و ايمان: قرآن فرماتا ہے_ ” جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں ركھتے ان كے دل انكار كرتے ہيں اور تكبر بجالاتے ہيں”_

نيز فرماتا ہے_ ”كافر وہ لوگ ہيں كہ خدا نے ان كے دلوں اور كانوں اور آنكھوں پر مہر ڈال دى ہے اور وہ غافل ہيں _

نفاق:

قرآن فرماتا ہے كہ ” منافق اس سے ڈرتے ہيں كہ كوئي سورہ خدا كى طرف سے نازل ہوجائے اور جو كچھ وہ دل ميں چھپائے ہوئے ہيں وہ ظاہر ہوجائے _

ہدايت پانا:

قرآن ميں ہے كہ ”جو شخص اللہ پر ايمان لے آئے وہ اس كے دل كو ہدايت كرتا ہے اور خدا تمام چيزوں سے آگاہ ہے _

نيز خدا فرماتا ہے كہ ”گذرے ہوئے لوگوں كے ہلاك كردينے ميں اس شخص كے لئے نصيحت اور تذكرہ ہے جو دل ركھتا ہو يا حقائق كو سنتا ہو اور ان كا شاہد ہو _

اطمينان اور سكون: قرآن ميں ہے كہ ”متوجہ رہو كہ اللہ كے ذكر اور ياد سے دل آرام حاصل كرتے ہيں_اور نيز فرماتاہے _ خدا ہے جس نے سكون كو دل پر نازل كيا ہے تا كہ ان كا ايمان زيادہ ہو_

اضطراب و تحير: خدا قرآن ميں فرماتا ہے ”فقط وہ لوگ جو اللہ اور قيامت پر ايمان نہيں ركھتے اور انكے دلوں ميں شك اور ترديد ہے وہ تم سے جہاد ميں نہ حاضر ہونے كى اجازت ليتے ہيں اور وہ ہميشہ شك اور ترديد ميں رہيں گے_

مہربانى اور ترحم: قرآن ميں ہے ” ہم نے ان كے دلوں ميں جو عيسى عليہ السلام كى پيروى كرتے ہيں مہربانى اور ترحم قرار ديا ہے_ 

نيز خدا فرماتا ہے كہ ”اے پيغمبر خدا ہے جس نے اپنى مدد اور مومنين كے وسيلے سے تيرى تائيد كى ہے اور ان كے دلوں ميں الفت قرار دى ہے _

مزید  حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ شادی

سخت دل: قرآن ميں خدا فرماتا ہے ” اے پيغمبر اگر تو سخت دل اور تند خو ہوتا تو لوگ تيرے ارد گرد سے پراگندہ ہوجاتے _

خلاصہ دل قرآن مجيد ميں ايك ممتاز مقام ركھتا ہے او راكثر كام اس كى طرف منسوب كئے جاتے ہيں جيسے ايمان، كفر، نفاق، تعقل، فہم، عدم تعقل، قبول حق، حق كا قبول نہ كرنا_ ہدايت، گمراہى خطاء عہد طہارت_ آلودگي_ رافت و محبت غلظت_ رعب غصہ شك ترديد_ ترحم_ قساوت_ حسرت آرام_ تكبر، حسد، عصيان و نافرماني، لغزش اور دوسرے اس طرح كے كام بھى دل كى طرف منسوب كئے گئے ہيں جب كہ دل جو گوشت كا بنا ہوا ہے اور بائيں جانب واقع ہے وہ ان كاموں كو بجا نہيں لاتا بلكہ يہ كام انسان كے نفس اور روح كے ہوا كرتے ہيں_ لہذا يہ كہنا ہوگا كہ قلب اور دل سےمراد وہ مجرد ملكوتى جوہر ہے كہ جس سے انسان كى انسانيت مربوط ہے _ قلب كا مقام قرآن ميں ا تنا عالى اور بلند ہے كہ جب اللہ تعالى سے ارتباط جو وحى كے ذريعے سے انسان كو حاصل ہوتا ہے وہاں قلب كا ذكر كيا جاتا ہے_ خداوند قرآن مجيد ميں پيغمبر عليہ السلام سے فرماتا ہے كہ ”روح الامين (جبرئيل) نے قرآن كو تيرے قلب پر نازل كيا ہے تا كہ تو لوگوں كو ڈرائے_ نيز خدا فرماتا ہے اے پيغمبر(ص) كہہ دے كہ جو جبرائيل (ع) كا دشمن ہے وہ خدا سے دشمنى كرتا ہے كيونكہ جبرائيل (ع) نے تو قرآن اللہ كے اذن سے تيرے قلب پر نازل كيا ہے_ قلب كا مرتبہ اتنا بلند ہے كہ وہ وحى كے فرشتے كو ديكھتا اور اس كى گفتگو كو سنتا ہے خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ”خدا نے اپنے بندے (محمد(ص) ) پر وحى كى ہے اور جو پيغمبر (ص) كے قلب نے مشاہدہ كيا ہے اسے فرشتے نے جھوٹ نہيں بولا_ 

مزید  حج ابراہیمی

قلب كى صحت و بيماري

ہمارى زندگى قلب اور روح سے مربوط ہے روح بدن كو كنٹرول كرتى ہے_

جسم كے تمام اعضاء اور جوارح اس كے تابع فرمان ہيں تمام كام اور حركات روح سے صادر ہوتے ہيں_ ہمارى سعادت اور بدبختى روح سے مربوط ہے_ قرآن اور احاديث سے مستفاد ہوتا ہے كہ انسان كا جسم كبھى سالم ہوتا ہے اور كبھى بيمار اور اس كى روح بھى كبھى سالم ہوتى ہے اور كبھى بيمار_ خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ ”جس دن (قيامت) انسان كے لئے مال اور اولاد فائدہ مند نہ ہونگے مگر وہ انسان كہ جو سالم روح كے ساتھ اللہ تعالى كى طرف لوٹے گا_ _

نيز ارشاد فرماتا ہے كہ ”اس ہلاكت اور تباہ كارى ميں تذكرہ ہے جو سالم روح ركھتا ہوگا_ اور فرماتا ہے كہ ” بہشت كو نزديك لائينگے جو دور نہ ہوگى يہ بہشت وہى ہے جو تمام ان بندوں كے لئے ہے جو خدا كى طرف اس حالت ميں لوٹ آئے ہيں كہ جنہوں نے اپنے آپ كو گناہوں سے محفوظ ركھا اور خدا نے ان كے لئے اس كا وعدہ كيا ہےكہ جو خدا مہربان سے ڈرتا رہا اور خشوع كرنے والى روح كے ساتھ اللہ كى طرف لوٹ آيا ہے_ 

جيسے كہ آپ نے ملاحظہ كيا ہے كہ ان آيات ميں روح كى سلامت كو دل كى طرف منسوب كيا گيا ہے اور انسان كى اخروى سعادت كو روح سے مربوط قرار ديا ہے كہ جو سالم قلب اور خشوع كرنے والے دل كے ساتھ اللہ تعالى كى طرف لوٹ آيا ہو اور دوسرى جانب خداوند عالم نے بعض والوں يعنى روح كو بيمار بتلايا ہے جيسے خداوند عالم فرماتا ہے كہ ”منافقين كے دلوں ميں بيمارى ہے كہ خدا ان كى بيمارى كو زيادہ كرتا ہے_  نيز فرماتا ہے كہ ”وہ لوگ كہ جن كے دلوں ميں بيمارى ہے وہ يہود اور نصارى كى دوستى كرنے ميں جلدى كرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم ڈرتے ہيں كہ ايمان لانے كيوجہ سے مصيبت او گرفتارى موجود نہ ہوجائے _ ان آيات ميں كفر نفاق كفار سے دوستى كو قلب كى بيمارى قرار ديا گيا ہے_ اس طرح كى آيات اور سينكڑوں روايات سے جو پيغمبر (ع) اورائمہ عليہم السلام سے وارد ہوئي ہيں يوں مستفاد ہوتا ہے كہ انسان كى روح اور قلب بھى جسم كى طرح _ سالم اور بيمار ہوا كرتى ہے لہذا كوئي وجہ نظر نہيں آتى كہ دل كى بيمارى كو مجازى معنى پر محمول كيا جائے_

مزید  حضرت قاسم کی رخصتی ،جنگ اور شہادت

خداوند عالم جو روح اور دل كا خالق ہے اور پيغمبر (ص) اور آئمہ عليہم السلام كہ جو انسان شناس ہيں دل او رروح كى بعض بيماريوں كى اطلاع دے رہے ہيں ہم كيوں نہ اس بيمارى كو اس كے حقيقى معنى پر محمول كريں_ وہ حضرات جو واقعى انسان شناس ہيں كفر نفاق حق كو قبول نہ كرنا_ تكبر كينہ پرورى غصہ چغل خورى خيانت خودپسندى خوف برا چاہنا تہمت بدگوئي، غيبت، تندخوئي، ظلم، تباہ كاري، بخل، حرص، عيب جوئي، دروغ گوئي حب مقام رياكارى حيلہ بازي، بدظني، قساوت، ضعف نفس اور دوسرى برى صفات كو انسان كى روح اور قلب كى بيمارى بتلا رہے ہيں پس جو لوگ ان بيماريوں كے ساتھ اس دنيا سے جائيں گے وہ ايك سالم روح و دل خدا كے پاس نہيں جا رہے ہونگےتا كہ اس آيت مصداق قرار پاسكيں يوم لاينفع مال و لا بنون الا من اتى اللہ بقلب سليم_

دل اور روح كى بيماريوں كو معمولى شمار نہيں كرنا چاہئے بلكہ يہ جسم كى بيماريوں سے كئي گناہ خطرناك ہيں اور ان كا علاج ان سے زيادہ سخت اور مشكل ہے_ جسم كى بيماريوں ميں جسم كے نظام تعادل ميں گڑبڑ ہوا كرتى ہے كہ جس سے درد اور بے چينى اور بسا اوقات كسى عضو ميں نقص آجاتا ہے ليكن پھر بھى وہ محدود ہوتى ہيں اور زيادہ سے زيادہ آخرى عمر تك باقى رہتى ہيں_ ليكن روح كى بيمارى بدبختى اور عذاب اخروى كو بھى ساتھ لاتى ہے اور ايسا عذاب اسے ديا جائيگا جو دل كى گہرائيوں تك جائيگا اور اسے جلا كرركھ دے گا_ جو روح اس دنيا ميں خدا سے غافل ہے اور اللہ تعالى كى نشانيوں كا مشاہدہ نہيں كرتى اور اپنى تمام عمر كو گمراہى اور كفر اور گناہ ميں گذار ديتى ہے در حقيقت وہ روح اندھى اور تاريك ہے وہ اسى اندھے پن اور بے نورى سے قيامت ميں مبعوث ہوگا اور اس كا انجام سوائے دردناك اور سخت زندگى كے اور كچھ نہ ہوگا_

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.