قرآن مجید۔۔۔۔تاابد رہنے والی کتابْ اللہ

0 3

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کی دلیل ارباب ِعقل ودانش ،حقیقت پسند اور حق کے طلب گار کے لیے آپ کے ظاہر ی اور باطنی کمالات پاکیزہ اخلاق،علم وحلم کامل ومکمل ہدایت ،غیر معمولی صلاحیتیں ہمہ گیر تعلیمات اور عظیم الشان کارنامے ہیں۔ جو شخص بھی تعصب وعناد سے ہٹ کر حق اور حقیقت کا طلب گار بن کر کم قلیل فہم وفراست سے کام لیتے ہوئے انصاف کی نظر سے دیکھے گا۔وہ یقیناً اس حقیقت کوماننے پر مجبور ہو گا کہ حضور پْر نور ،رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ عر ب ،جہاں نہ کوئی تہذیب تھی نہ کوئی تمدن نہ کوئی مدرسہ نہ کوئی مکتب اور نہ ہی کوئی خانقاہ ،نہ اخلاق وکردار، نہ معاشرت ومعاملات ،نہ کوئی حکومت اور نہ ہی کوئی قانون، بلکہ ہرقبیلہ خود مختار اور خود پرست تھا۔ہر طرف جہالت و ضلالت کی گھٹاٹوپ آندھیاں چل رہی تھیں ،کفر شرک کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی بگاڑ آسمان سے باتیں کر رہا تھا۔ایسے غلیظ اور گندے ماحول میں مکة المکرمہ کے اندر بی بی آمنہ کے گھر حضرت محمد اپنے نور نبوت کے ساتھ تشریف لاتے ہیں۔بچپن سے لے کر جوانی اور پھر چالیس سال تک کا زمانہ ایک مثالی انداز میں گذارا ،آپ کی ہر ادا قابل رشک تھی ،ذہانت و فطانت ،علم و حلم ،امانت ودیانت ،اخلاق مروت اور مجد شرافت میں آپ اپنی مثال آپ تھے۔پوری قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان خداد اد خوبیوں اور صلا حیتوں کی وجہ سے گرویدہ تھی ،اہل مکہ آپ کو ”الصادق الامین ” کے نام سے پکارتے تھے۔با لآخر جب آپ نے انتہائی عبقری اور غیر معمولی مثالی زندگی گذارتے ہوئے ساری قوم میں اپنی سیادت اور بے مثال و بے مثیل متاثر کن شخصیت کا سکہ بٹھاکرزندگی کے چالیسویں سال میں قدم رکھا تو آپ کی زبان مبارک سے حیرت انگیز کلام نکلنا شروع ہوا ،ایسا فصیح و بلیغ ،دلکش ودلنشین کلام کہ فصحائ عرب باوجود اپنی زبان آوری اور خطابت وشاعری کے میدان کے شہ سوار ہونے کے اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔اہل عرب کا ادنیٰ سے ادنیٰ بھی بڑے بڑے مجموعہ میں کھلبلی مچادیتا تھامگر آپ کے سامنے زانوے عاجز ٹیک دیتا۔اور ٹیکتے بھی کیوں نہیں مقابلہ ایسے کلام سے تھا جو ہمہ گیر ہدایت و تعلیمات اور علوم ومعارف پر مشتمل ایسا بحر ِ ناپید کنا ر ہے کہ بڑے بڑے عبقریوں اور صاحبانِ علم ودانش کے لئے اس کا بدل تو درکنار ،ربانی ہدایات اور احکامات کی حکمتوں کو سمجھ لینا بھی ایک بڑا کمال تھا پھر بھی عجب و تکبر کی بنیاد پر کفارمکہ کہنے لگے ”اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا قرآن پیش کر سکتے ہیں ”اللہ تعالی نے اپنے محبوب کی زبانی ان کفار مکہ کو کہلا بھیجا کہ ”لاو اس جیسا قرآن اگر تم سچے ہو ”یہ چیلنج بلا واسطہ اہل مکہ کو تھا مگر بالواسطہ تمام منکرین قرآن کو۔اللہ نے اس چیلنج کے بعد منکرین قرآن کو ایک مہلت اور دی مگر ان سے جب اس کا بھی جواب نہ بن سکا اور نہ بن سکتا تھا تو کلام الٰہی نے ان کو اور عاجز کرنے کے لئے تخفیف کے ساتھ پھر مخاطب کیا اور فرمایا ” کیا وہ کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن کریم کو گھڑ لیا ہے۔کہہ دیجئے ،تم بھی اس کی شان میں صرف دس سورتیں بنا کر لے آو اور اپنی مدد کے لئے اللہ کے سوا جس کو چاہو بلا سکتے ہو اگر تم سچے ہو۔(پ ٢١ سورہ ہود ع ١)مگر جب وہ اس میں بھی ناکام ونامراد ہوئے تو مزید سہولت دیتے ہوئے کلامِ الٰہی مخاطب ہوا کہ ”کہہ دیجئے اچھا اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لے آو اور اپنی مدد کے لئے اللہ کے سوا جس کو چا ہو بلا لو۔(پ ١١سورہ یونس ع٨)جب اس کا بھی جواب نہ بن سکا تو اللہ تعالی نے قرآن حکیم کے اعجاز اور کائنات ِ انس وجن کے عجز کو ہمیشہ کے لئے ظاہر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ” کہہ دیجئے اگر انسان و جن سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی کتاب لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے ،خواہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے معین مددگا ر بھی کیوں نہ ہوں۔(پ٥١سورہ بنی اسرائیل ع٩)

مزید  مفہوم تشيع

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں و بیاں ہے کہ قرآن جیسی کتاب لانے کا چیلنج صرف عرب کے فصحائ و بلغائ ،شعرائ وادبائ ہی کو نہیں تھا بلکہ ہر اس شخص کو ہے جو قرآن کے مْنَزَّل ِمنَ اللہ ہونے کا منکر ہے خواہ وہ شاعر وخطیب ہو ،کاہن وجادوگر ہو۔ انشائ پرداز وادیب ہو ،عصری و سائینسی علوم وفنون کا ماہر ہو ،تحقیق وانکشاف کے میدان کا شہ سوار ہو یا اور کوئی چھوٹا بڑا ہو۔غرض تمام علوم وفنون کا ماہر و قادر قرآن کریم کی ایک سورت لانے سے عاجز و معذورہے۔ابدالآباد تک کوئی مخلوق ایسا حوصلہ نہ کرسکی اور نہ ہی کرسکتی ہے۔قرآن حکیم ہی وہ مقدس کتاب ہے ،جس میں تہذیب واخلاق ،تمدن و معاشرت ،حکومت و سیاست،معرفت وروحانیت ،تزکیئہ نفوس ،تنویر ِقلوب ، وصول الی

اللہ اور تنظیم و رفاہیت ِ خلائق کے وہ تمام قوانین وطرق موجود ہیں جن سے آفرینش عالم کی غرض پوری ہوتی ہے۔غرض اہل عر ب اپنی فصاحت و بلاغت شعر و خطابت میں مہارت کے باوجود قرآن کے چیلنج کو ردنہ کر سکے۔کافروں نیقرآن کو کبھی جادو کبھی کہانی اور کبھی اسا طیرالاولینکہا مگر ہر بات کے آگے منھ کی کھانی پڑی اور ہر سوال کا جواب سن کا خائب و خاسر ہوئے۔یہ بات صبح قیامت تک کے انسانوں کے لئے ایک روشن مثال ہے کہ عرب جن کی مادری زبان ہی عربی ہے وہ اس قرآن کی نظیر اور مثال پیش کرنے سے قاصر رہے۔ قرآن کریم کو مٹانے اور دبانے میں ہر وہ ممکن کوشش کی جو ان کے بس میں تھی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔توپھر آج کے انسان سے کیسے ممکن ہے کہ وہ دنیا سے قرآ ن کریم کو مٹا سکے۔

مزید  وہ احادیث جو حضرت معصومہ(س) سے منقول ہیں

یہ ان لوگوں کی بھول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کریم کو نعوذباللہ نقصان پہنچاکر دنیا سے قرآن کو مٹا دیں گے۔ ٧٥٨١ئ میں انگریز اس کا ناکام تجربہ کر چکا ہے۔٧٥٨١ئ میں انگریزنے ہندوستان کے اندر ایک وقت میں 14ہزار قرآن کریم اور ایک ایک دن میں 8080علمائ کرام کوزندہ آگ میں جلایا جانے گیا۔ مگر پھر بھی وہ دنیا سے قرآن اور قرآن کے ماننے والوں کو مٹا نہ سکا تو آج ایسا کیسے ممکن ہے۔باطل کے باطل ہونے کی یہی پہچان ہے کہ وہ حقیقت سے ا نحراف کرتے ہوئے عوارضات میں پھنستا جاتا ہے۔

تمام مسلمانوں کو اس بات کی گذارش کی جاتی ہے کہ وہ قرآن کریم کی روزانہ کم ازکم ایک پارہ تلاوت کیا کریںاور پھر اللہ سے حالات کے سدھار کے لئے دعا مانگا کریںکہ اللہ پاک سے ساری دنیا میں اور خاص کر اپنی ریاست کے امن وامان کے لئے ضروری دعا کیا کریں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.