قرآنی چراغ اور آئینے

0 2

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ حدیث ثقلین کے مطابق، قرآن و عترت (اہلبیت) یہ دونوں الٰہی امانتیں موحدین کی ہدایت کے راستے میں ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ ہیں کہ ایک سے تمسک کرنے اور دوسرے کو چھوڑنے سے نزول قرآن کا مقصد، جو کہ انسانوں کی ہدایت ہے، پورا نہیں ہوتا۔

حضرات ائمۂ معصومین  ٪ وہ چراغ ہیں جو اس الٰہی منبع سے نور اخذ کرتے ہیں اور سعادت کے طلبگار افراد کی راہ زندگی کو روشن کرتے ہیں کیونکہ قرآن اور اس کی حقیقت آپ حضرات ہی کے پاس ہے۔ یہی ذوات مقدسہ ہیں جو متشابہات کو محکمات کی طرف واپس لے آتے ہیں، راہ کو بیراہی و سرگردانی سے جدا کرتے ہیں اور لوگوں کو کمال و سعادت کے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ لوگوں کو بھی چاہئے کہ قرآن کے معارف کو فقط آپ ہی حضرات  سے حاصل کریں اور ان پر عمل کریں۔

حکمت الٰہی اسی بات کی مقتضی ہے اور سنت الٰہی اسی بات پر قائم ہے کہ لوگ اہلبیت ٪ کے وسیلے سے قرآن کے معارف و علوم حاصل کریں اور ان پر عمل کر کے اپنی دنیوی اور اخروی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ لہٰذا اس مقصد کے تحقق کے لئے خداوند متعال نے امامت کا ایک سلسلہ قائم کرکے معارف قرآن سے استفادہ کا راستہ سعادت کے طلبگاروں کے لئے کھلا رکھا ہے۔ اگر چہ دشمن اور دنیا پرست افراد پوری تاریخ میں اس بات کے درپے رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے ہدایت الٰہی کے نور کو جو کہ مکتب اہلبیت ٪ میںمجسم نظر آتا ہے، خاموش کردیں۔ لیکن قرآن فرماتا ہے کہ ہرگز اس کام میں کامیاب نہ ہوں گے: (یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللّٰہِ بِأَفوَاہِہِمْ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَ لَو کَرِہَ الْکافِرُونَ)١ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور خدا کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔

مزید  دو سوالوں کے جواب اکیسویں فصل

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن            پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائیگا

اسی وجہ سے حضرت علی  ـ قرآن کو اس چراغ سے تشبیہ دیتے ہیں جس کی لَو کبھی مدھم نہیں پڑسکتی اور جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔

قرآن کے معارف اتنے گہرے اور وسیع ہیں کہ جس قدر علوم اہلبیت ٪ سے آشنا لوگ اس کے اندر غور و فکر کرتے ہیں ہر قدم پر ایک نیا نکتہ او رایک نئی معرفت حاصل کرتے ہیں اور چونکہ یہ آسمانی کتاب، علم الٰہی کا ایک نسخہ ہے جس قدر تشنگان حقیقت اس کی حقیقت کے آب زلال کو نوش کرتے ہیں وہ نہ صرف سیراب نہیں ہوتے بلکہ ان کی تشنگی اور بڑھ جاتی ہے اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ اولیاء خدا اور حقیقت قرآن کی معرفت رکھنے والے کوشش کرتے ہیں کہ نماز میں آیات الٰہی کی تلاوت اور ان میں تدبر و تفکر کے ذریعے اپنی روح کو لطیف و پاکیزہ بنائیں اور زیادہ سے زیادہ اپنے کو الہامات خداوندی اور بیکراں معارف الٰہی کی بارش کا مرکز قرار دیں۔

قرآن ایک ایسا دمکتا آفتاب ہے جس کے معارف بے کراں اور جس کی روشنی ابدی ہے، اس لئے کہ یہ آسمانی کتاب اس گہرے سمندر کے مانند ہے جس کی تھاہ تک

…………………………………………………

(١)سورۂ صف، آیت ٨۔

پہنچنا پیغمبر  ۖ اور ائمۂ معصومین  ـ کے علاوہ کہ جن کے پاس ”علم کتاب” ہے، کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے اور جو شخص اور جو معاشرہ بھی چاہے کہ قرآن اور کلام الٰہی سے آشنا ہو اور اپنی فردی و اجتماعی زندگی کو اس آسمانی کتاب کی ہدایات کی بنیاد پر قائم اور منظم کرے، اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ پیغمبر  ۖ اور ائمہ معصومین  ٪ کی تفسیر و توضیح کی بنیاد پر قرآن سے تمسک کرے اور ان حضرات  کی سیرت و سنت کو نمونۂ عمل قرار دے۔ اس بات کی تائید کے لئے ہم صرف دو روایتوں کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

مزید  نظم و انتظام، حساب و کتاب اور بردباری

حضرت امام جعفر صادق  ـ ارشاد فرماتے ہیں:

”وَ نَحْنُ قَنَادِیْلُ النُّبُوَّةِ وَ مَصَابِیحُ الرِّسَالَةِ وَ نَحْنُ نُورُ الاَنوَارِ وَ کَلِمَةُ الْجَبَّارِ وَ نَحْنُ رَایَةُ الْحَقِّ الَّتِی مَن تَبِعَہَا نَجَیٰ وَ مَن تَأَخَّرَ عَنْہَا ہَوَیٰ وَ نَحنُ مَصَابِیْحُ الْمِشْکَاةِ الَّتِی فِیہَا نُورُ النُّورِ”١۔

ہم (اہلبیت) نبوت کی قندیلیں اور رسالت کے چراغ ہیں، یعنی لوگوں کو چاہئے کہ ائمۂ معصومین  ٪ کی راہنمائی کے ساتھ نبوت و رسالت کی منزل مقصود کی طرف، کہ وہی حق کی طرف ہدایت ہے، راستہ طے کریں۔ ہم تمام نوروں کے نور ہیں، خدا کی حاکمیت ہماری ولایت کے ذریعے تحقق حاصل کرتی ہے اور ہم ہی وہ حق کا علَم ہیں کہ جو بھی اس کی پیروی کرے گا نجات حاصل کرے گا اور جو اس سے دو رہوا وہ ہلاک ہوجائے

…………………………………………………

(١)بحار الانوار، ج٢٦، ص ٢٥٩۔

گا اور ہم وہ چراغ ہیں کہ جن میں نور در نور ہے۔

ایسا ہی بیان حضرت امام زین العابدین  ـ سے بھی نقل ہوا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں:

”اِنَّ مَثَلَنَا فِی کِتَابِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الْمِشْکَاةِ والْمِشْکَاةُ فِی الْقَنْدِیْلِ فَنَحْنُ الْمِشْکَاةُ فِیہَا مِصْبَاح وَ الْمِصْبَاحُ ہُوَ مُحَمَّد  ۖ اَلْمِصْبَاحُ فِی زُجَاجَةٍ نَحنُ الزُّجَاجَةُ کَأََنَّہَا کَوْکَب دُرِّی یُوقَدُ مِن شَجَرِةٍ مُبَارَکَةٍ زَیتُونَةٍ  لاشَرقِیَّةٍ وَ لاغَربِیَّةٍ لامُنکَرَةٍ وَ لادَعْیَةٍ یَکَادُ زَیتُہَا نُوْر یُضِیئُ وَ لَو لَم تَمْسَسْہُ نَارُ نُورُالفُرْقَانِ عَلٰی نُورٍ یَہْدِْ اللّٰہُ لِنُورِہِ مَن یَّشآئُ لِوِلَایَتِنَا وَ اللّٰہُ  بِکُلِّ شَیئٍ عَلِیم بِأَن یَّہْدِْ مَن أَحَبَّ لِوِلایَتِنَا حَقّاً”١۔

حضرت  نے اس بیان میں سورۂ نور کی پینتیسویں آیت کی تفسیر پیغمبر  ۖ اور اہلبیت اور ائمۂ معصومین  ٪ سے کی ہے۔

مزید  مزدوروں اور کسانوں کو نظر انداز کرکے ہم نئے ہندوستان کی تعمیر نہیں کرسکتے !

حضرت  ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن میں ہم اہلبیت  کی مثل اس منبع کے مانند ہے جس کے ذریعے ہدایت الٰہی کا نور بندوں کے لئے راستے کو روشن کرتا ہے، ہم اہلبیت  اس شفاف آئینے کے مانند ہیں جو چراغ ہدایت کے نور کو کہ وہی نبوت کا نور ہے، بندوں کے سامنے منعکس کرتے ہیں، اس نور کا سرچشمہ نور الٰہی کا وہ شجرہ طیبہ ہے جس کی روشنی نہایت وسیع اور ناقابل انکار ہے حقیقت میں یہ نہ شرقی ہے نہ غربی، نہ تو غیر معروف ہے اور نہ متروک۔

…………………………………………………

(١)بحارالانوار، ج٢٣، ص٣١٤۔

حضرت امام زین العابدین  ـ ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبر  ۖ اور اہلبیت طاہرین  ٪ کی حقیقت اس نہایت شفاف چراغ کے مثل ہے جو شعلہ کے بغیر، نور دیتا ہے، نور قرآن اس نور پر مبتنی ہے کہ خدا جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اسے اس نور (ولایت اہلبیت ٪) کی ہدایت دیتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.