عرفانی مقامات کو حاصل کرنے کا راستہ

0 0

خدا وند عالم حدیث قدسی میں اپنے بندے کو مخاطب کر کے ارشاد فرما رہا ہے:

یاابن آدم انا غنیّ لا افتقر اطعنی فیما امرتک اجعلک غنیّا لاتفتقر، یا ابن آدم انا حیّ لا اموت اطعنی فیما امرتک اجعلک حیّا لاتموت یاابن آدم انا اقول للشئ کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشئ کن فیکون۔[1]

اے فرزند آدم! میں ایسا غنی اور بے نیاز ہوں جو کبھی محتاج اور فقیر نہیں ہو سکتا۔ میرے حکم کی اطاعت کر میں تجھے بھی ایسا بے نیاز بنا دوں گا جو کبھی محتاج نہیں ہو گے۔ اے فرزند آدم! میں ایسا زندہ ہوں جسے کبھی مجھے موت نہیں آسکتی۔ تو میرے حکم کی اطاعت کر میں تجھے بھی ایسا زندہ بنا دوں گا کہ تجھے کھبی موت نہیں آئے گی۔ اے فرزند آدم! میں جب کسی چیز سے  کہتا ہوں ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے تو میرے ہر حکم کی اطاعت کر ،تجھے بھی ایسی قوت عطا کروں گا کہ تو بھی جس چیز سے کہےگا ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔

راستے کی تلاش

عرفان کی دو قسمیں ہیں :عرفان نظری اور عرفان عملی۔ اگر پروردگار عالم کی عقلی دلائل و براہین یا عینی شواہد و نشانیوں سے معرفت حاصل کی جائے تو اسے عرفان نظری کہتے ہیں اور اگر باطنی کشف و شہود اور سیر و سلوک کے راستے سے اسے پہچاننے کی کوشش کی جائے تو اسے عرفان عملی کہا جاتا ہے

عرفان عملی خدا وند عالم کی اس معرفت اور شناخت کو کہا جاتا ہے جو بلا واسطہ حاصل ہو۔وہ معرفت جو انسان اپنے دل  و جان کے ذریعے اور اپنے پورے وجود کے  ساتھ حاصل کرتا ہے اور اس کے ذریعےخدا کو پاتا ہے۔ نہ وہ معرفت جو دلیل اور استدلال کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہی معرفت ہے جسے آیات اور روایات میں ” تدرکہ القلوب بحقائق الایمان “[2] سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس معرفت کے بہت سارے مراتب اور مقامات ہیں اور خدا وند عالم کے بعض مخلص بندے جیسے پیغمبر اسلام [ص] اور آئمہ اطہار(ع) اس معرفت کے بلند ترین مقامات پر فائز ہیں۔

مزید  میلاد النبی ؐ اور ہفتہ وحدت کی اہمیت و افادیت

بہر حال “عرفان” اپنے عام اور کلی معنی میں ایک ایسا فطری رجحان ہے جسے صاحبان شریعت نے ” قرب الہٰی” کے نام سے یاد کیا ہے جو تمام انسانوں کی سرشت اور جبلت میں قرار دیا گیا ہے۔

یہ فطری رجحان ( یعنی خدا کی تلاش اور اس کا قرب حاصل کرنا) انسان کی اصلی خصوصیت ہے اور در حقیقت ایسی حس ہے جو انسان کو بلند ترین مقصد اور عالی ترین انسانی کمال کی طرف راغب کرتی ہے اس وجہ سے فطری تمائلات اور رجحانات میں سے سب سے زیادہ قیمتی چیز یہی حس خدا جوئی ہے۔

اس اصل کو کہ معرفت خدا کا حاصل کرنا ممکن ہے قبول کرنے کے بعد یہ بحث سامنے آتی ہے کہ کیسے اس معرفت کو حاصل کیا جائےاور اس بلند ترین مقام پر قدم رکھا جائے؟ کن مراحل کو طے کیا جائے تاکہ اس حقیقت نورانی کو پا سکیں؟ در حقیقت، عرفان میں بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ کن راستوں سے خدا کی معرفت حاصل کی جائے؟ اگر چہ بعض لوگوں نے اپنی کم عقلی کی بنیاد پر یہ گمان کر لیا کہ ایسی معرفت کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں پر اس اصل کو مسلم قرار دیتے ہوئے  کہ اس معرفت کا حاصل کرنا انسان کے لیے نہ صرف ممکن ہے بلکہ انسانی خلقت کا مقصد ہی اس معرفت کوحاصل کرنا ہے، ہم ذیل میں معرفت خدا کے حاصل کرنے کے راستوں اور انکی خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔

[1]عدۃ الداعی،ص ۲۹۱

[2] نہج البلاغہ، خطبہ،۱۷۸

مزید  ماہ صیام کے پانچویں دن کی دعا:تشریح و تفسیر

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.