شناخت قرآن

قرآن  کریم

”الحمد اﷲ الّذی انزل علی عبدہ الکتاب و لم یجعل لہ عوجاً قیماً لینذر باساً شدیداً من لدنہ ویبشّر المؤمنین الذّین یعملون الصّالحات انّ لھم اجراً حسناً(١) ” و ” تبارک الذّی نزّل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا ”(٢) ”یھدی بہ اللّہ من اتّبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظّلمات الی النّور باذنہ و یھدیھم الی صراط مستقیم (٣)”

والصّلوۃ و السلام علی رسول اﷲ الّذی ارسلہ ”شاھداً و مبشراًو نذیراًوداعیاالی اللّہ باذنہ و سراجاً منیراً (٤)”و بعثہ لیتمّم مکارم الاخلاق فی نفوس المؤمنین و یزکّیھم و یعلّمھم الکتاب والحکمۃ و یأمرھم بالمعروف وینھاھم عن المنکرویحلّ لھم الطّیبّات ویحرّم علیھم الخبائث ویضع عنہ من اصرھم و الاغلال التّی کانت علیھم ۔وعلی آلہ الاخیار والائمۃ الابرار الّذین اذھب اللّہُ عنھم الرّجس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)سورئہ کہف آیت ١   

(٢) سورئہ فرقان آیت ١

(٣) سورئہ مائدہ آیت ١٦

(٤) سورئہ احزاب آیت ٤٦و٤٧

وطھّرھم تطھیراً۔

قرآن مجید ،خداوند متعال کاسب سے عظیم تحفہ ہے پیغمبراکرم ؐپراس کے نزول کے ذریعے انسا ن کو اس سے نوازا ہے ، قرآن و ہ نورہے جودلوں کو جلا بخشتاہے، وہ موعظہ ہے جوانسان کو خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے اور”وہ راہنما چراغ ہے جو سعا دت کی بہترین راہ کی ہدایت کرتاہے ”(١)

” جو اس کی قیادت میں چلے اس کو جنّت کی طرف لے جایے اورجس نے اس سے منہ پھیر لیا اس کو جہنّم رسیدکرے”(٢)

قرآن میں انسان کی تمام ضروریّات کو بیا ن کیا ہے(٣) اس کی تعلیمات وہ گوار ا سر چشمہ ہے جوعلماء کی پیاس بجھاتاہے اور فقہاء کے دلوں کی بہارہے(٤ ) وہ نور ہے جو ہر گزنہ بجھے وہ شمع ہے جس کی لوکبھی ختم نہ ہواور وہ سمندر ہے جس کی گہرائیوں تک کسی کی رسائی نہیں ہے (٥) صاحبان فہم وشعور کیلیے معرفت کا اُبلتاچشمہ ہے جس کے دقیق نکتوں کی انتہاء نہیں ہے(٦) اوراس کے عجیب حقائق کبھی پرانے نہیں ہوتے (٧) جس کے حقائق سے کبھی علماء کاجی نہیں بھرتا ۔(٨)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١)”وھو الدلیل یدل علی خیر سبیل”

(٢)”من جعلہ امامہ قادہ الی الجنۃ ومن جعلہ خلفہ ساقہ الی النار”

(٣)”ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شی”نحل/٨٩

(٤)”جعلہ ریاً لعطش العلماء و ربیعا لقلوب الفقہائ”علی علیہ السلام نہج البلاغہ/خ١٩٣

(٥)”نورلا تطفأ مصابیحہ و سراج لا یخبو توقدہ و بحر لا یدرک قعرہ”علی نہج البلاغہ/خ١٩٣

(٦)”و ینا بیع العلم و بحورہ”۔۔۔۔۔۔”و علما لمن وعی ”علی نہج البلاغہ/خ١٩٣

(٧)”لا تحصی عجائبہ ولا تبلی غرائنہ”رسول اکرم اصول کافی/٢/٥٩٨

(٨)”ولا ینقضی عجائبہ ولا یشبع منہ العلمائ”علی تفسیر عیاشی

ان آیات اور احادیث سے ،جو کچھ اس خدا کی کتاب کے بارے میں، ہم نے سنا ، وہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ہمارا یہ وظیفہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ قرآن مجید پر غور و فکر کریں اور اس کی گہرائیوں میں غوطہ ور ہوں اور اس کے خالص اور انمول تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں اگر آیات اور احادیث میں قرآن مجید کی قرأت ،قرآن مجید کا احترام اور اس سے مانوس ہونے کی اتنی زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے تو اس کی وجہ ہی یہی ہے کہ ان کی وجہ سے انسان قرآن کی تعلیمات سے آگاہ ہو اور اس کے دستورات اور فرامین پر عمل کرے، جس کے پہلی شرط قرآن مجید میں غور و فکر کرنا ہے ۔

قرآن مجید میں بہت سے موارد میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے نزول کا مقصد ہی اس کی آیات میں غور و فکر کرنا ہے تاکہ اس طرح ہم اپنی بصیرت میں اضافہ کریں اور” لعلّھم یتفکّرون’ ‘ (١)،لعلّکم تعقلون (٢) اور” لیدّبرّوا آیاتہ” (٣)جیسی تعبیرات کے ذریعے لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ قرآن مجید کی آیات میں غور کریں تاکہ اس طرح ا س کے الہی انوار سے بہرہ مند ہوں۔

قرآن مجید انسانی علوم اور بشری تعلیمات کا ایک مکمّل مجموعہ ہے کہ جس میں تاریخ ، قانون،سیاسیات،علم التعلیم،عقائد،احکام اور عمرانیات وغیرہ کے بارے میں مطالب موجود ہیں اور ان سب کے بارے میں اپنا خاص نقطہ نظر پیش کیا ہی یہ علمائے اسلام کا وظیفہ ہے کہ وہ غور و فکر اور صحیح مطالعہ کے ذریعے ان مندرجہ بالا علمی موضوعات میں قرآن مجید کا مخصوص نقطہ نظر کا انکشاف کریں اور معاشرہ خاص طور پر نوجوان نسل کو ان سے آگاہ کریں جوعصرحاضر میں ایران کے اسلامی انقلاب کی پیدا کردہ عظیم لہروں کی وجہ سے پہلے سے زیادہ اسلامی تعلیمات کے لئے تشنہ ہیں ۔اور چاہتے ہیں کہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(١) سورئہ نحل آیت ٤٤

(٢) سورئہ یوسف آیت ٢

(٣) سورئہ ص آیت ٢٩

مندرجہ بالا موضوعات اور ان کی طرح کے دوسرے موضوعات کے بارے میں قرآن مجید کے نقطہ نظر سے آگاہ ہوں خوش قسمتی سے آج کل اس بارے میں عظیم اقدامات ہوچکے ہیں اور قرآن مجید کے تعلیمات کو بیان کرنے ،چھاپنے اور ان کی اشاعت کے سلسلے میں بہت عمدہ کام ہو چکے ہیںاگرچہ قدیم زمانے سے ، علماء اور مفسرین نے ،کثرت سے تفاسیر مختلف انداز میں ،لکھ چکے ہیں جن میں سے اکثر مفصّل ہیں اور جن میں مختلف جہات سے قرآن مجید کی آیات کا جائزہ لیا جا چکا ہے لیکن ان مندرجہ بالا موضوعات کے بارے میں خاص طور پر اعتقادات اور اخلاق میں قرآنی تعلیمات کا اس طرح جائزہ لینا جس میں ہر ایک مذکورہ بالا موضوعات کا مفصل مطالعہ ہو اور اس کا مختلف جھات اور جوانب سے اور اس کے مختلف مسائل کا ممکنہ حد تک جائزہ لیا گیا ہو ایک جدیداقدام ہے۔

اس بارے میں خاص طور پر استاد عالی قدر اور مفکّر عظیم حضرت آیت اللہ مصباح یزدی (دام ظلہ)کا تذکرہ ضروری ہے کہ جنہوں نے قرآن سے زیادہ مانوس ہونے ،اپنی قلبی بصیرت اور محققانہ کاوشوں کی بنیاد پر قرآنی تعلیمات کے میدان میں بہت ہی مفید اور جدید علمی شہ پارے پیش کئے ہیں جن کا عمدہ حصہ اب تک چھپ چکا ہے۔

آپ قرآنی تعلیمات کے سلسلے میں اپنا خاص انداز ،خاص منصوبہ اور خاص تحقیقی ترتیب کے مالک ہیں جن کا نتیجہ ١٣٥٢ ھ ش سے آپ نے مؤسسہ در راہ حق کی تحقیقی جماعتوں کے سامنے پیش کرنا شروع کیا جس دوران اپنے مخصوص علمی نکات اور عالمانہ غور و فکر کے ساتھ مختلف علمی جماعتوں کو ان کے مختلف علمی مقامات کو ملحوط خاطر رکھتے ہوئے پڑھایا بعد میں اس کے کچھ حصے تکمیل،تدوین،اور تبویب کے بعد زیور طبع سے آراستہ ہوئے۔

قرآنی تعلیمات کا ایک اہم حصّہ اخلاقیات ہے ۔قرآن مجید کے اخلاقی تعلیمات کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔بہت سی آیات اور احادیث میں تزکیہ نفس کو قرآن مجید کے نزول اور پیغمبر اکرم ؐکے مبعوث ہونے کا اہم مقصد بتایا گیا ہے ۔ اخلاقیات کا نفسانی ملکات ،تزکیہ اور تہذیب نفس اور انسان کے انفرادی او معاشرتی کردار سے قریبی رابطہ ہے ۔انسان کا خدا سے رابطے کی نوعیت اور معاشرے کے اعضاء کے باہمی روابط کو معین کرتا ہے اس طرف فرد اورمعا شرہ دونوں کو ترقی کے اپنے شائستہ مقام تک پہنچاتا ہے ۔مختصر یہ کہ انسان کی زندگی میں اس کی انفرادی اور معاشرتی تقدیر کا فیصلہ کرنے میں وسیع اور عمیق کردار ادا کرتا ہے ۔

آپ نے قرآنی تعلیمات سے مربوط موضوعات میں سے اپنی تحقیق اور علمی جدوجہد کا ایک حصہ قرآن مجید کے اخلاقی تعلیمات کے لئے وقف کیا ہے۔ انصاف یہ ہے کہ اس موضوع میں بھی آپ دقیق علمی نکات ،نظریات اور جدید افکار کے مالک ہیں ۔آپ نے اپنی ان علمی کوششوں کی پیداوار کو ١٣٦٢ھ ش سے لیکر ١٣٦٤ ھ ش تک مؤسسہ در راہ حق کی تعلیمی اور تحقیقاتی جماعتوں کو پڑھایا جن کی کیسٹیں اور کاپیاں اب بھی موجود ہیں ۔اب جب کہ ان کی اشاعت اور زیور طبع سے آراستہ ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ فخر مجھے نصیب ہوا کہ ان کی تکمیل،تدوین اور تبویب کا کام انجام دوں ،حقیر کی اپنی علمی بے بضاعتی اور فکری اور ذہنی مختلف مصروفیات کے باوجود مکمل کوشش رہی ہے کہ جتنا ہو سکے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہ ہو لیکن اس کے باوجود یہ کام آہستہ اور دیر سے ثمر بخش ہوا ۔

”قرآن اور اخلاق” کا بنیادی موضوع انسان کے اختیاری افعال ہے جن میں ایک طرف سے بہت سے مختلف عوامل اور اسباب موثر ہیں اور ان کے مختلف منشاء ہیں یعنی بعض افعال غریزی ہیں بعض دوسرے افعال کے خوف و ہراس جیسے معنوی اور نفسانی حالات سبب بنتی ہیں ۔بہت سے موارد میں انسان کے خاص فطری رجحانات اور خواہشات خاص قسم کے اعمال اور رفتار کی پیدا ئش کے اسباب بنتی ہیں ۔آخر کار بعض موارد میں انسان کے جذباتی رفتار اور عاطفی عوامل کے زیر اثر وجود میں آتے ہیں ۔یہ احساسات اور عواطف ،خوہ انس و الفت اور محبت کی مانند مثبت ہوں یا نفرت اور کےنہ کی مانند منفی ہوں ان عوامل کو ان کے مختلف اسباب کی بنیاد پر چار گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔دوسری جہت سے انسان کے رفتار کو ایک اور لحاظ سے بھی تقسیم کر سکتے ہیں یعنی انسان کی رفتار مختلف جہات کے مالک ہونے اور مختلف موجودات سے مربوط ہونے کے لحاظ سے بھی ان کی تقسیم بندی ہو سکتی ہے۔

قرآنی تعلیمات کی اخلاقیات سے متعلق بحث میں آپ نے دوسری تقسیم بندی کو مباحث کی ترتیب میں ایک ڈھانچہ اور راہنما کے طور پر چنا ہے اور انسان کے رفتار کو کسی موجود سے مربوط ہونے کے لحاظ سے تین گروہوں میں تقسیم کیا ہے ۔

پہلا گروہ وہ اعمال ہے جو انسان خدا سے متعلق انجام دیتا ہے مثلا خدا کی طرف توجہ ،خدا سے امید ،خدا پر ایمان،خدا کا خوف،خدا کے سامنے خشوع وغیرہ جو خدا کی عبادت اور عبودیت کا منشاء بنتا ہے ۔

دوسرا گروہ وہ اعمال ہے جو حقیقت میں خود انسان سے مربوط ہے اگرچہ دوسرے درجہ پر دوسروں سے بھی مربوط ہے یا خدا سے بھی مربوط ہونا ان میں ملحوظ رکھا گیا ہے ۔

تیسرا گروہ وہ اعمال ہے جو انسان دوسروں سے متعلق انجام دیتا ہے اور ان کی بنیاد پر دوسروں سے تعلقات قائم کرتا ہے

اس مندرجہ بالا تقسیم کے تحت ”قرآن اور اخلاق” کے تین حصے ہیں اور تین موضوعات ١۔الٰہی اخلاق،٢۔انفرادی اخلاق،٣۔معاشرتی اخلاق کے تحت پیش کیا ہے ۔

البتہ کچھ مطالب اور عمومی تصورات ہیں جو حقیقت میں قرآنی تعلیمات کی رو سے فلسفہ اخلاق کا حصہ ہے جو کہ ابتداء میں الٰہی اخلاق ،انفرادی اخلاق،اور معاشرتی اخلاق کی بحث شروع ہونے سے پہلے ان کے مسائل سے چھیڑا گیا ہے اور علم اخلاق کے مسلمہ اصولوں اور اخلاقی تصورات کی خصوصیات ،قرآنی کے عمومی اخلاقی تصورات ،اسلامی اخلاقی مکتب فکر کا دوسرے مکاتب سے موازنہ اور اسلام میں اخلاقی اقدار کی بنیاد وغیرہ جیسے بہت سے دوسرے مسائل کے بارے میں تحقیق ہوئی ہے ۔

اب کتاب ”قرآن اور اخلاق ”مجموعی طور پر تین جلدوں میں چھپ جائی گی ۔اصل منصوبہ ، مندرجہ بالا تقسیم بندی اور تمھیدی مباحث کی پیش نظر چار عمومی حصوں میں تدوین ہوئی ہے ۔

خداوند متعال سے دست بہ دعا ہیں کہ وہ معاشرہ خاص طور پر نوجوان نسل میںقرآنی اخلاقی تعلیمات کا زیادہ سے زیادہ ذوق و شوق اور ان کا نفوذ ہو اور یہ امید رکھتے ہیں کہ خداوند متعال ہمارے کاموں کو اپنے لطف و کرم سے قبول فرمائے اور ہماری کوتاہیوں اور نقایص سے در گزر کرے اور ہمیں اس کام کو اپنے مطلوبہ مقصد تک پہنچانے کی توفیق عنایت فرمائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.