سکرات موت اوراس کی سختیاں

0 0

اس بارے میں کچھ روایات نقل ہوئیں ایک اورروایت یہ ہے جسے اہل سنت نے نقل کیا ہے اوربحار الانوار میں یہ روایت موجود نہیں ہے ، تعجب کی بات ہے کہ ہماری کتابوں بالخصوص بحار الانوار جس میں اس موضوع سے متعلق تمام روایات کو نقل کیا ہے لیکن اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے ، اہل سنت کی اکثر کتابوں جیسے صحیح بخاری ،صحیح ترمذی،سنن نسائی ،سنن ابن ماجہ میں یہ روایت نقل ہے کہ عایشہ کہتی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آخری اوقات میں تھے توایک برتن میں پانی بھرکرسامنے رکھا ہواتھا ”فجعل یدخل یدیہ فی الماء فیمسح بہما وجہہ” آپ اپنے مبارک ہاتھوں کواس میں ڈالتے تھے اورہاتھ کواپنے مبارک چہرے پرپھیراتے تھے ” ویقول لا الہ الا اللہ ” ساتھ میں لا الہ الا اللہ کے ذکر کو پڑھتے تھے ” ان للموت سکرات” موت کی سکرات اورسختیاں ہیں یعنی یہ سختیاں پیغمبر اکرم صلی  اللہ علیہ وآلہ سے بھی مربوط ہے ۔

ایک اورروایت جو صریح ہی ہے ؛ حاکم نے مستدرک میں محمد بن عایشہ سے نقل کیا ہے ”رایت رسول اللہ وہوبالموت وعندہ قدح فی ماء و ہو یدخل یدہ القدح ” پهلے کی روایت کی طرح ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس برتن میں اپنے مبارک ہاتھوں کو ڈالتے تھے اور اپنے چہرہ مبارک پر پھیراتے تھے”ثم یقول” اس کے بعد فرماتے:” اللہم اعنّی علی سکرات الموت” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمارہے تھے :اے خدا موت کی مشکلات میں میری مدد فرما، ہم یہاں یہ نہیں بتاسکتے کہ اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کو درس دینا چاہتے تھے، ایسا نہیں ہے بلکہ موت کی اپنی ذاتی شدت اورسختیاں ہیں ،موت کی ذاتی کچھ حالات ہیں جو انسان سے جدا نہیں ہو سکتیں ، یہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، انبیاء اور اولیاء اور دوسرے افرادسب کے لئے بھی۔

اس بارے میں ایک اور روایت یہ ہے : «الموت تصفّي المؤمنين من ذنوبهم فيكون آخر ألمٍ يصيبهم» [1]موت پاک و صاف کرنے والا ہے اورمومنین کے گناہوں کو دھو لیتا ہے «فيكون آخر ألم» موت ان کی آخری درد اورالم ہے «يصيبهم كفارةُ آخر وزرٍ بقي عليهم» ان کے جو گناہ ہے ان کا کفارہ ان کی یہی موت ہے جو ان پر واقع ہوتی ہے یعنی موت میں یہ حقیقت ہے۔

ایک اور روایت[2] میں امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں «ما من الشيعة عبدٌ يقارف أمراً نهيناه عنه فيموت»  شیعہ ان کاموں کو انجام نہیں دیتے جن سے ہم انہیں منع کیا ہے «فيموت حتّي يبتلي ببليةٍ» پھروہ مرجاتا ہے اورکسی بلاء میں مبتلا ہوتا ہے «تمحصّ بها ذنوبه» یہ بلاء ان کی تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے «ذمّا في مالٍ و إما في ولدٍ و إما في نفسه حتّي يلقي الله عزوجل و ماله ذنبٌ»اس بلاء اورسختی کی وجہ یہ ہے کہ یہ مومن جب خدا سے ملاقات کرنا چاہتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہ ہو «و إنّه ليبقي عليه الشيء من ذنوبه فيشدّد به عليه عند موته» موت کے وقت اس پر بہت سختی ہوتی ہے یعنی اس کی جان نکلتے ہوئے اسے بہت مشکل ہوتی ہے موت کی یہ سختی اسے پاکیزہ کرتا ہے اوراسے پاک وصاف کرتا ہے۔

یہ روایات بھی اس مطلب کی موید ہے کہ موت ایک حقیقت ہے جس میں ذاتی طورپر سختیاں ہیں اس کا اثر یہ بھی ہے کہ جب کوئی مومن اس میں مبتلاء ہوتا ہے تو اس کا جوبھی گناہ ہو (البتہ وہ گناہیں جو وہ اوراس کے خدا کے درمیان میں ہوں اور قابل بخشش ہوں) اسےبخش دیا جاتا ہے اس بارے میں آپ نے دیکھا کہ بہت ساری روایات موجود ہے ،البتہ کچھ دوسری روایات بھی ہیں کہ روایات کی دو قسمیں ہیں ، روایات کو صحیح طرح سمجھنا چاہئے تا کہ معلوم ہوسکے کہ ان کو آپس میں کیسے جمع کریں ۔

مزید  تحريف عملي و معنوي قرآن کريم ، ايک جائزہ

ایک اورروایت یہ ہے[3] «قال علي بن الحسين زين العابدين (ع) امام صادق علیہ السلام امام سجاد سے نقل کرتا ہے کہ امام سجاد نے اسے خدا وندمتعالی سے حدیث قدسی کے طور پر نقل کیا ہے «قال الله عزوجل ما من شيءٍ أتردّد عنه مثل تردّدي عن قبض روح المؤمن»اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں کہیں بھی ایسے حیرانی میں نہیں پڑتا ہوں جیسا مومن کے قبض روح کے وقت ہوتا ہے،اسی طرح روایت ٢٥ میں ہے«وما ترددت عن شيءٍ كترددّي في موت المؤمن» اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ خدا حیران وسرگردان ہوتاہوبلکہ یہ کنایہ ہے کہ گویا ایسا ہے«إني لأحبّ لقائه و يكره الموت»میں اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہوں اوراسے موت سے نفرت ہے ،اس روایت میں ہے «يكره الموت و أنا أكره مساعته»اسے موت سے نفرت ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اسے اذیت کروں«فإذا حزره أجله الذي لا يأخّر فيه بعثت إليه بريحانتين من الجنة تسمّي إحداهما المسخيّه و الاُخري المنسيه فأما المسخيه فتسخيه عن ماله»جب مومن کا اجل آپہنچتا ہے بہشت سے اس کے لئے دو پھول بھیجا جاتا ہے کہ ایک کا نام مسخیہ ہے اور دوسرا منسیہ ، مسخیہ کیا ہے «‌فتسخيه عن ماله، سخوت نفسي عن الشيء‌أي تركته و لم تنازعني إليه نفسي»مسخیہ کسی چیز سے دل اچکنا ہے ،خداوند متعالی فرماتا ہے کہ میں ایک پھول کواس کے سامنے سے گزراتاہوں کہ یہ پوری طرح دنیا کے مال و دولت سے دل اچک لے ،اور منسیہ کیا ہے ؟ منسیہ دنیا کے کاموں کو فراموش کر لینا ہے ،ایک اور روایت میں ہے ”المنسیة فانہا تنسیہ اہلہ و مالہ” منسیہ کی وجہ سے اہل وعیال اور بچوں کو بالکل فراموش کر لیتا ہے ۔

کیا یہ روایت موت کی سختیوں کی نفی کرتا ہے ؟ مثلاً جو شخص دنیا سے جارہا ہے سو فیصد مومن ہے کہ کوئی گناہ انجام نہیں دیا ہے یا معصومین علیہم السلام یا وہ حضرات جو تالی تلو معصوم ہیں ،کیا اس روایت کے مطابق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے لئے موت کی کوئی سختی نہیں ہے ،بلکہ خدا بہشت سے دو پھول بھیج دیتا ہے اور ان کی قبض روح ہوجاتی ہے ،کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا موت کی سختیوں کو نفی نہیں کرتا ہے یعنی اگرچہ ان کے قبض روح کے لئے بہشت سے دو پھول بھیجا جاتا ہے ،لیکن ان کے بعد اس کا قبض روح شروع ہوتا ہے ،قبض روح کی سختی اور مشکل اپنی جگہ پر ہے ! یہ دونوں احتمال ہے لیکن آگے روایات کے جمع بندی کے وقت بیان کریں گے کہ حقیقت کیا ہے ۔

بعد والی روایت[4] یہ ہے«قيل للصادق جعفر بن محمد عليهم السلام صف  لنا الموت» امام صادق علیہ السلام سے عرض ہوا کہ ہمیں موت کی تعریف کیجئے «قال للمؤمن كعطي بطيب يشمّه” فرمایا مومن کے لئے ایک بہترین خوشبو ہے جسے وہ سونکھتا ہے ،وہی ریحانہ ! «فينعث لتيبه»عرب نیند کی ابتداکوجو کہ بہت ہی اچھی ہوتی ہے اسے نعاث کہتے ہیں ،اس خوشبو کی وجہ سے اس مومن کے لئے ایک اچھی نیند آجاتی ہے«و ينقطع التعب و الألم عنهن» اسے کوئی درد نہیں ہوتا ، لیکن «والكافر كالسع الافاعيل و لدع العقارب و أشد»کافر جب دنیا سے جاتا ہے تو ایسا ہے جیسا کوئی بچهو اسے ڈس رہا ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ۔

چھٹی روایت میں ایک اورجملہ ہے جو پچاسویں روایت میں نہیں ہے «فإنّ قوماً يقولون إنّه أشد من نشرٍ بالمناشير و قرضٍ بالمقاريض و رزخٍ بالاحجار وتدوير قطب الأرحيه علي الاحداب» امام سے عرض ہوا کہ لوگ کہتے ہیں کہ موت اتنا سخت ہے کہ گویا اسے چکی کے پتھر کے نیچے رکھا گیا ہو ،ایسا ہے جیسے انسان کی پٹائی ہو رہی ہو ،ایسا  ہے جیسے اسے قینچی سے کاٹ رہا ہو اور ٹکڑاٹکڑا کر رہا ہو«قال كذلك» امام نے فرمایا جی ہاں ! ایسا ہی ہے «هو علي بعض الكافرين و الفاجرين» یہ بعض کافروں اور فاجروں کے لئے ہے «علي ترون منهم من يعاين تلك الشدائد فذلكم الذي هو أشد من هذا لا من عذاب الآخرة فإنّه أشد من عذاب الدني»اس کے بعد فرماتا ہے «و في المؤمنين أيضاً من يكون كذلك» مومنین کی بھی دوقسمیں ہیں ،بعض مومنین کو مرتے وقت سختیاں ہے اور بعض کے لئے موت کے وقت سختی نہیں ہے ! «و في المؤ«نين و الكافرين من يقاصي عند سكرات الموت هذه الشدائد»مومنین میں سے بعض کو مرتے وقت ایسی سختیاں ہیں «فقال ما كان من رائحةٍ من مؤمن هناك فهو آجلٌ ثوابه»جس مومن کو جان کنی میں آسانی ہوئی اسے اعمال کے ثواب کو جلدی دے دیا ہے «و ما كان من شديدةٍ» اورجس مومن کو سختی ہوئی ہے «فتمحيصه من ذنوبه ليرد الآخرة نقيّاً نظيفاً مستحقاً لثواب الأبد لا مانع له دونه» اسے گناہوں سے آزاد کیا ہے تا کہ پاک و پاکیزہ قیامت میں وارد ہو جائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ثواب کا مستحق ہو اور اس کے لئے کوئی مانع باقی نہ رہے ۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ کافربھی ایسا ہے ،ممکن ہے کہ کوئی کافربھی بغیر کسی سختی کے جان دے دیں «وما كان من سهولة هناك علي الكافر» نہ زندگی میں کوئی سختی دیکھے اورنہ مرتے وقت «فاليوفي أجر حسناته في الدنيا ليرد الآخرة  و ليس له إلا ما يوجب عليه العذاب»کبھی اس طرح کی سوال کرتے ہیں کہ کافروں کو بہت ساری نعمتیں دی ہیں اوراتنے آسایش،فرماتا ہے کہ  اگران لوگوں نے کوئی اچھا کام کیا ہو ،کسی کی کوئی خدمت کی ہو یا اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ کوئی نیکی کیا ہو ،خدا ان کی اجر کو اسی دنیا میں دے دیتا ہے تا کہ جب یہ آخرت میں وارد ہو جائے تو «ليس له إلا ما يوجب عليه العذاب» ان کے لئے عذاب کے علاوہ کچھ نہ ہو ،«وما كان من شدةٍ علي الكافر هناك فهو ابتداء عذاب الله له بعد نفاد حسناته»اور دنیا میں کافر کوسختی ہوتی ہے تو یہ اس کی نیکیاں ختم ہونے کے بعد اللہ کی عذاب کی ابتدا ہے۔

مزید  سلام یا حسین {ع}

اس روایت سے یہی استفادہ ہوتا ہے کہ کافروں کی بھی دوقسمیں ہیں اورمومنوں کے بھی دو قسمیں ،مخصوصاً مومنین کے قبض روح کی دوقسمیں ہیں ،ایک مومن ایسا ہے جس نے کوئی گناہ انجام نہیں دیا ہے ،یہ روایت ہے ”للمومن کاطیب ریح فیشمہ” یہ اس طرح  کے مومنین کے لئے ہے ، لیکن جس مومن نے گناہ انجام دیا ہے اسے جان دینا آسان نہیں ہے ! اسے سکرات موت کی سختیاں ہے تا کہ اس کی گناہیں دهل  جائے ،اس لحاظ سے ہم بطور کلی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مومن کے لئے جان دے دینا آسان ہے ،ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر کوئی سختی حالت میں جان دے دیں تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کی آخرت خراب ہے ،ایسا نہیں ! بلکہ یہ اسے پاک کرنے اورگناہوں سے دھونے کے لئے ہے ،اس طرح ہم مومنین کے بارے میں موجود روایات کو آپس میں جمع کر سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ مومنین کے درمیان بھی فرق ہے ۔

وہ آیات جن میں ہم نے یہ پڑھا تھا کہ کافروں کے چہروں اور سرینوں پرمارا جاتا ہے ،ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ بھی مطلق نہیں ہے،یا ان کی اطلاق کو یہ روایات تقیید کرتے ہیں ،یہ روایت تما م روایات اور آیات کو آپس میں جمع کرنے کے لئے بہترین روایت ہے ،کہ ہم یہ بتائیں کہ مومنین کے دو گروہ ہیں اورکافروں کے بھی دو گروہ ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ سارے کافروں کے قبض روح بہت شدید ہیں اور سارے مومنین کے قبض روح بہت آسان ہوں، کافروں کے قبض روح زیادہ ترشدید ہے لیکن ممکن ہے کوئی کافرہو جس نے کبھی بھی خدا کی پرستش نہیں کی ہو ،خدا کی کوئی عبادت اور بندگی نہ کی ہو ،لیکن جہاں تک اس سے ہو سکتا تھا لوگوں کی خدمت کی ہے ، س کے مقابلہ میں خدا اسے جو ثواب دیتا ہے یہی ہے کہ اسے قبض روح کو آسان بنا لیتا ہے ،لیکن اکثرکافرایسے نہیں ہیں ! مومن کے بارے میں بھی یہ بتائیں کہ ان روایات میں جو مومن ہے اس میں سارے مومنین شامل نہیں ہے ،بلکہ ان روایات میں مومن سے مراد وہ مومنین ہیں جو ہرلحاظ سے اچھا آدمی ہو ،اس کے لئے خوشبو والی پھول ہے ، روایات اورآیات کو جمع کرنے کی اس صورت کو ہم نے یہاں بیان کیا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے بارے میں جو روایت نقل کی کہ آپ اپنے مبارک چہرہ پرپانی ڈال دیتے تھے اورذکر”لا الہ الا اللہ ” کوپڑھ رہے تھے اور فرماتے تھے ”اللہم اعنی علی سکرات الموت ” اس سے وہی مطلب زیادہ استفادہ ہوتا ہے جسے ہم نے آیت کریمہ «وجاءت سكرة الموت بالحق»  سے استفادہ کیا تھا کہ موت کی اپنی ذاتی سختیاں ہیں ،یہ مطلب زیادہ قوی نظر آتا ہے کہ سکرت الموت ،موت سے جدا ہونے والی کوئی چیز نہیں ہے ؟ لیکن یہ بتا سکتے ہیں کہ اس میں مختلف درجات ہیں ،لیکن اس بات کو قبول نہیں کرسکتے کہ مومن کامل کے لئے قبض روح میں کوئی سختی نہیں ہے ،امام سجاد علیہ السلام نے جو حدیث قدسی نقل فرمایا تھا کہ بہشت سے دو پھول لا یا جاتا ہے ،لیکن یہ بھی  قبض روح کی سختیوں سے منافات نہیں رکھتا ہے ! ان دونوں پھولوں کی وجہ سے قبض روح آسان ہو جاتی ہے،لیکن سختیاں اپنی جگہ باقی ہے ،اگرچہ وہ ایک درجہ کم کی سختی ہو ۔

مزید  ایام فاطمیہ ایام دفاع ولایت

امام حسن علیہ السلام سے موت کے بارے میں سوال کیا امام نے فرمایا : «أعظم سرور يرد علي المؤمنين إذا نقلوا عن دارٍ نكد إلي نعيم الأبد»[5] دنیا کو ”دار نکد ”کہتے ہیں یعنی وہ جگہ جس کی خوشی اورعیشی کم ہو اوروہ بھی زحمتوں کے ساتھ ،مومن اس جگہ سے ابدی جگہ کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔

مومن کو معلوم ہے کہ اسے آیندہ کیاملنے والا ہے ؟ یعنی اسے قبض روح کے وقت آیندہ کودیکھتا ہے ،ایک اورروایت امیرالمومنین علیہ السلام سے ہے کہ آپ سے موت کے بارے میں سوال کیا ،تو آپ نے فرمایا : «فقال علي الخبير سقطتم هو أحد ثلاثة امور يرد عليه إما بشارة بنعيم الأبد، إما بشارة بعذاب الأبد و إما تحزينٌ و تحليل»  مومن کو بشارت دیا جاتا ہے ،لہذا جب وہ دار فانی سے دار سعادت کی طرف انتقال ہو رہا ہے تو وہ خوشحال ہے ،لیکن اس کا خوشحال ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے سکرة المو ت نہ ہو ،قبض روح کی جو ذاتی سختیاں ہیں وہ مومن حتی انبیاء کے لئے بھی ہے ۔

وصلي الله علي محمد و آله الطاهرين

[1] – بحار الانوار جلد٩ ص١٥٣

[2] – بحار الانوار ج٦ص١٥٧ روایت ١٤

[3] – بحار الانوار ،ص١٥٢ ،روایت ٥

[4] – بحار الانوار:ص١٥٢و ١٧٢ حدیث ٦ اور ٥٠

[5] – بحار الانوار :ص١٥٤ حدیث ٩

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.