زینب، حسین کی شیردل بہن

0 0

حق کی سربلندی اور باطل کی سرنگونی کے لئے انسان کو سر دھڑ کی بازی لگا دینی چاہئے چاہے اس راہ میں اسے کتنی ہی مصیبتوں کاسامنا کیوں نہ کرنا پڑے کیونکہ دنیا میں چاہے کہیں بھی کسی پر بھی ظلم ہو رہا ہو اور حق پامال کیا جا رہا ہو، کسی نہ کسی شکل میں آپ کا اس سے تعلق ہوتا ہے چاہے ایک انسان ہونے کے ناطے ہی سہی۔ یہ وہ درس ہے جو ہمیں اللہ نے، قرآن نے، رسول نے اور اہلبیت رسول اسلام (ص) نے دیا ہے اور اس کی سب سےبڑی مثال واقعہ کربلا ہے جب رسول کے پیارے نواسے نے خدا کے لئے، دین خدا کے لئے ، اور حق وحقانیت کے لئے اپنا سب کچھ لٹانا گوارا کیا حتی اپنا، اپنے دوستوں اوراپنے خاندان کےاٹھارہ جوانوں کےسرکٹا دیئے۔ تاکہ دنیا میں حق کا بول بالا رہے اور ظالم سرنگوں رہے۔ رسول کے پیارے نواسے کو صرف اس لئے کہ وہ ایک ظالم حکمراں کے ہاتھ پر بیعت نہيں کر رہے تھے طرح طرح کےظلم کا نشانہ بناياگیا۔ امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کوصرف تین دن کا بھوکا وپیاسا شہید ہی نہیں کیاگیا بلکہ آپ کی عورتوں اور بیٹیوں کوجو درحقیقت رسول کی نواسیاں اور بہوئيں تھیں، قیدی بنا کردیار بہ دیار پھرایا گیا تاکہ یزید کی فتح کااعلان کیاجائے اور معاذاللہ اہلبیت رسول اسلام (ص) کی توہین کی جائے۔ لیکن ایسا قافلہ جس میں رسول اسلام کی نواسیاں ہوں علی کی بیٹیاں ہوں چاہے قیدی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوں ، حالات کارخ بدل دیتی ہیں ۔ چنانچہ ایساہی ہوا اور رسول کی نواسی علی کے بیٹی فاطمہ کی لخت جگر زینب سلام اللہ علیھا نےخاص طور سے جگہ جگہ پر اپنے بیانات اور خطبات کے ذریعے نہ صرف یزید اور اس کے کارندوں کےاس پروپیگنڈے کو ناکام بنا دیا بلکہ تمام مسلمانوں پر یہ واضح کردیا کہ جنھیں کربلا میں شہید کیاگیا ہے وہ رسول کانواسہ اورعلی وفاطمہ کا نورعین تھا اور جن کی عورتوں اور بچوں کوقیدی بناياگیا ہے وہ کوئي اور نہيں بلکہ رسول کی نواسیاں اور اہل حرم ہيں۔ چاہے وہ کوفہ کا بازار ہو یا دربار عبیداللہ بن زیاد، شام کابازار ہو یا یزید بن معاویہ کا دربار، ہرجگہ علی کی بیٹی نے اپنے بھائی کی حقانیت و مظلومیت اور یزید کےظلم و جور سے پردہ اٹھایا یہاں تک کہ یزید اور یزيدیوں کو اپنے ہی دربار میں ذلت محسوس ہونےلگی اورآج کوئی بھی خود کو یزیدی کہنے کے لئے تیار نہيں ہے۔ یہ سننے اور لکھنے کی بات نہيں صرف محسوس کرنےکی بات ہے کہ وہ عورت کتنی بہادر اور دلیر ہوگی جس کاسب کچھ برباد ہوچکاہو جان سےپیارا بھائی ماراجاچکا ہو، اس کے اٹھارہ جوانوں کوشہید کیا جا چکا ہو،سب کچھ لٹ چکا ہو اور اب اسےقیدی بنا لیا گیاہو پھر بھی اس میں کہاں سےاتنی جرات پیدا ہوئی کہ قاتل کےدربار ميں کھڑی ہوکر اس پرلعنت کرے اور اس کے درباریوں کے سامنے اسےذلیل وخوار کر دے لیکن جناب زينب کا یہ کردار اور کارنامہ اتنا برجستہ اورمسلسل تھا کہ ظالم کے زرخرید مورخ بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے کہ علی کی بیٹی نے کوفہ میں حاکم کوفہ ابن زیاد اور شام میں یزید پلید کےسامنے بھرے دربار میں اپنےبھائی کی حقانیت کااعلان کیا اورظالموں کوان کے انجام سےخبردار کیا۔اسی لئے تو کہاجاتاہے کہ حسین کے بعد ، زینب حسین بن کرابھریں اور ظالم کو بتا دیا کہ ظلم کےمقابلےمیں اہلبیت کی فرد فرد حسین ہے ۔ لہذا حسین کے چاہنے والوں کو بھی چاہئے کہ زندگی کے کسی بھی مرحلےمیں ظالم کاساتھ نہ دیں اور ظلم سےسمجھوتہ نہ کریں کیونکہ ظالم کاساتھ دینا مظلوم پرظلم کےمترادف ہے۔

مزید  مسئلہ کشمیر کا حل مفاہمت یا مزاحمت؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.