دین کا تبصرہ حسد کے بارے میں

0 0

ارشاد خدا وند عالم ھے:” لا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “ (۱) اور خدا نے جو تم میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ھے اس کی ھوس نہ کرو ۔ یہ صحیح ھے کہ انسان فطری طور سے حصول نفع کا خواھش مند ھے لیکن یہ خواھش حدود و قوانین شرع کے اندر ھونی چاھئے ۔ اسی طرح اسے اصول آزادی سے ھم آھنگ ھونا چاھئے اور انسانی معاشرہ اس کو درست بھی سمجھتا ھو ۔

اسی لئے اگر خدا نے کسی کو کسی نعمت سے نوازا ھے تو کسی دوسرے شخص کو اپنی فطرت ِ منفعت طلبی اور اپنی حس بد خواھی کی تسکین کے پیش نظر اس سے اس نعمت کو چھین لینے کا حق نھیں ھے ۔ بلکہ اس کو چاھئے کہ اپنے حصول آرزو کی خواھش کے لئے عاقلانہ روش اختیار کرے اور جس طرح خدا نے حکم دیا ھے اسی دائرے کے اندر تلاش و جستجو کرے ۔ اور فضل خدا وند عالم سے دعا کرے تاکہ راستے کی مشکلات کو دور کر کے اس کو مقصد تک پھونچا دے ۔

اگر حاسد اپنی فکری صلاحیتوں کو نا مناسب جگھوں پر صرف نہ کر کے خدا پر بھروسہ کر کے اپنے معقول مقاصد میں خرچ کرتا اور راستوں کے خس و خاشاک کو دور کر کے پائے استقلال کو منزل مقصود کے لئے رواں رکھتا تو اس کے گھر میں نیک بختی کا سورج چمک کے رھتا ۔

ائمھٴ معصومین علیھم السلام سے اس خطرناک صفت کے بارے میں بھت سی روایات منقول ھیں اور ائمھٴ علیھم السلام نے ھم کو اس صفت سے ڈرایا ھے اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کی طرف توجہ فرمائیے جس میں ارشاد فرمایا ھے:   ۔ ۔ ۔ ۔  دل کا نابینا ھونا اور فضل خدا کا انکار کرنا حسد کی اصل ھے اور یہ دونوں ۔ کوری ٴ دل و انکار نعمت ۔ کفر کے بازو ھیں ۔ اسی حسد کی وجہ سے اولاد آدم(ع) حسرت ابدی کے چالہ میں گر پڑی اور اس طرح حاسد ایسے مھلکہ میں پڑ گیا جس سے قیامت تک نجات نا ممکن ھے ۔ ( ۲)

حسد کی ایک علت گھر کا برا ماحول بھی ھوا کرتا ھے۔ جو ماں باپ اپنے کسی ایک بچے سے مھر محبت کرتے ھیں اور دوسرے کی طرف توجہ بھی نھیں کرتے اس دوسرے بچے کے دل میں ایسی گرہ پڑ جاتی ھے جس کا نتیجہ حقارت و سر کشی کی صورت میں ظاھر ھوتا ھے اسی وجہ سے بچے کے دل میں حسد پیدا ھو جاتا ھے جو بڑے ھونے پر اس کی بد بختی و سیاہ روزی کا باعث ھوتا ھے اسی طرح جس معاشرے کی بنیاد عدل و انصاف پر نھیں ھوتی جھاں نسلی و قومی تعصب ھوتا ھے وھاں لوگوں کے دلوں میں خود بخود سر کشی کا جذبہ پیدا ھو جاتا ھے ۔ اور ان کے دلوں میں آتش حسد بھڑک اٹھتی ھے ۔

مزید  امام حسین (ع) کو تشویش کس بات کی تھی

اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ھے: اپنے بچوں کے درمیان عطیہ و بخشش میں مساوات کا برتاؤ کرو ۔(۳ ) اور یہ صرف اس لئے فرمایا کہ ان کے دلوں میں حسد پیدا نہ ھو ۔

پروفیسر بر ٹر انڈر اسل نے ایک کتاب کے حوالے سے اس فصل کا ایک حصہ لکھا ھے جس میں پوشیدہ قلبی گناھوں سے بچنے کا طریقہ لکھا ھے چنانچہ وہ لکھتے ھیں: ( لوسی ) کو ایک چھوٹی سی کاپی دی گئی کہ تمھارے خیال میں جو بھی آئے اس کو اس میں لکھو ۔ اور صبح کو ناشتے کے وقت لوسی کے والدین نے ایک گلاس لوسی کے بھائی کو ایک کیسیٹ لوسی کی بھن کو دیا اور لوسی کو کچھ نہ دیا چنانچہ اس نے اپنی کاپی میں لکھا ھے : اس وقت میرے دل میں ایک برا خیال آیا اور وہ یہ کہ اس کے والدین اس کے بھائی بھن کے مقابلے میں ا سکو بھت کم چاھتے ھیں ۔ 

حضرت علی علیہ السلام ایک جگہ حسد کے اس نقصان کا ذکر فرماتے ھیں جو بدن سے متعلق ھوتا ھے چنانچہ ارشاد فرمایا: مجھے حاسدوں سے اس بات پر بھت تعجب ھوتا ھے کہ اپنے جسموں کی سلامتی سے غفلت کیوں برتتے ھیں ۔( ۴)

ڈاکٹر فرانک ھور# کھتا ھے: نفسانی احساسات کے مصائب و آلام پر اپنے افکار و ذوات سے دور کردو ۔ اس لئے کہ یہ چیزیں روحانی ابلیس ھیں ۔ یہ ابلیس صرف انسان کے فکری نظام ھی کو درھم برھم نھیں کرتے بلکہ جسم کے اندر زھریلے خلایا کو تقویت پھونچاتے ھیں اور اسی کے ساتھ جسم کو ضرورت سے زیادہ ضرر پھونچاتے ھیں ۔ یہ دوران خون کو سست کر دیتے ھیں ، اعصاب کو کمزور کر دیتے ھیں ، روحانی و جسمانی نشاط کو شکست وریز میں مبتلا کر دیتے ھیں ، زندگی کے ھدف و مقصد کو ختم کر دیتے ھیں فکر کو کمزور کر دیتے ھیں ۔ اس لئے انسان پر واجب ھے کہ ان دشمنوں کو اپنے گھر کے ماحول سے نکال دے کیونکہ یہ سمّ قاتل ھیں ۔ ان کو انسانی زندگی سے دور قید کر دینا چاھئے اور جو ایسا کرے گا وہ دیکھے گا کہ اس کا ارادہ قوی ھو گیا اور وہ اپنی قوت ارادی کے سھارے مشکلات حیات پر قابو پالے گا ۔( ۵)

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : حسد جسد کو فنا کر دیتا ھے ۔( ۶) دوسری جگہ فرماتے ھیں : حسد سے بچو یہ انسانی روح کو معیوب کر دیتا ھے ۔ (۷)

ایک علم النفس کا ماھر کھتا ھے: بھت زیادہ حسد نفسانی آلام میں سے ھے یہ نفس کو بھت تکلیف پھونچاتا ھے اس کو غلطی پر آمادہ کرتا ھے ۔ اس پر بھت ظلم و ستم کرتا ھے ۔ آپ یہ جان لیجئے کہ حاسد کے بھت سے اعمال خود اس کے ارادے سے سر زد نھیں ھوتے بلکہ عفریت حسد کے حکم سے انجام پاتے ھیں ۔(۸) امام زین العابدین علیہ السلام مقام دعا میں فرماتے ھیں: خدا یا میرے سینے کو حسد کی بیماری سے محفوظ رکہ تاکہ میں کسی کی خوش بختی و نیک بختی کو حسرت کی نگاہ سے نہ دیکھوں ،مجھے حسد سے اس طرح دور رکہ کہ ھمیشہ دوسروں کی سعادت و سلامت کا خواھشمند رھوں اور عین اس حال میں مجھے اس کی بھی توفیق دے کہ جب تیری دینی و دنیاوی نعمتوں کو دوسروں میں دیکھوں اور وہ سب پارسا و پرھیز گار ھوں، کشادہ رو ،کشادہ دست ھوں ، مھربان و مالدار ھوں تو تجھ سے اور تیری ذات اقدس سے ان کے لئے بھتر سے بھتر ترکی خواھش کروں ۔ صرف تیری ذات سے جو یگانہ و یکتا و بے ھمتا ھے ،تمنا رکھتا ھوں ۔

مزید  یہاں مزید سپنوں کی سرزمین نہيں رہی

ھم کو یہ چاھئے کہ پلید و پست قسم کی وہ تمنا ئیں جو انسان کی زندگی کو تلخ کر دیتی ھیں ان کو اپنی روحانی ترقی و تکامل کی راہ میں سد سکندری نہ بننے دیں ۔ اور اپنے افکار و خیالات کو بلند مقاصد اور اعلیٰ صفات کی طرف مرکوز رکھیں کیونکہ شائستہ تمنائیں ھی انسان کو ایک نہ ایک دن اس کے نیک مقاصد تک پھونچا دیتی ھیں ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : نیک خصائل ،اچھے صفات ، شیریں کلامی ، اور بلند مطالب کی طرف رغبت پیدا کرو کہ ان کی عظیم جزا اور اچھا نتیجہ تم ھی کو ملے گا ۔ ( ۹)

ڈاکٹر ماردن کھتا ھے: اگر تم نے اپنے افکار کو مخصوص اوصاف کے حصول پر مرکوز رکھا تو آخر کاران اوصاف تک پھونچکر رھو گے کیونکہ فطری موجودات فطری افکار کا نتیجہ ھیں ۔ اگر تم کاھلی و عیاشی کی آرزو میں رھو گے تو آخر میں کاھل و عیاش ھو جاؤ گے ۔ اور اگر تمھارے سر میں سود ا ھو اور ھر چیز تمھاری نظر میں تیرہ و تار ھی نظر آئے تو تم بھت ھی تھوڑی مدت میں اس سے نجات پا سکتے ھو اور اس کا طریقہ یہ ھے کہ اپنی فکرکو بدل دو یعنی دنیا کی وہ چیزیں جو نشاط آور ھیں ،مسرت بخش ھیں ، ان کے بارے میں غور و فکر کرنے لگو ، اگر اچھے اخلاق کی تمنا ھے تو ان کے بارے میں بڑے صبر و تحمل سے سوچو اور تم اپنے اس استقلال مزاجی کی وجہ سے اپنے ذھن کو اچھے اوصاف سے متصف ھونے پر آمادہ کر لو گے اور پھر تمھاری رسائی وھاں تک ھو جائے گی اور جن صفات کو بھی تم حاصل کرنا چاھو ان کی تکرار کی صرف فکر ھی نہ کرو بلکہ ان کو اپنی پیشانیوں پر لکہ لو اپنے میں عزم کر لو اور سب سے کھتے پھرو کہ تم ان چیزوں کو حاصل کرنا چاھتے ھو تو ایک قلیل مدت کے بعد تم دیکھو گے کہ تمھارے افکار تم کو ان مقاصد کی طرف اس طرح کھینچیں گے جیسے مقناطیس کو لوھا کھینچتا ھے ۔(۱۰ )

مزید  امامت کی بحث کا آغاز

ڈاکٹر مان کھتا ھے: اصول علم نفس میں ھے جسے ھم نے بعض مواقع پر دیکھا بھی ھے اور تجربہ بھی کیا ھے کہ کسی عمل کے بارے میں سوچنے کا نتیجہ یہ ھوتا ھے  کہ پھلے تو وہ بھت ھی خفیف صورت میں انجام پاتا ھے مثلاً اگر ھم مٹھی باندھنے کے بارے میں غور کرنے لگیں تو دونوں ھاتھوں کے عضلات تھوڑے سے تن جاتے ھیں اور اعصاب مٹھی باندھنے کے لئے آمادہ ھو جاتے ھیں، جس کو آپ اس دقیق حساب کرنے والے آلہ کے ذریعہ تجربہ بھی کر سکتے ھیں ،جس کو دو کالو  لومیتر کھتے ھیں ۔ آپ کو بعض ایسے لوگ بھی ملیں گے جن کے محض ارادہ کرنے پر ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے ھو جاتے ھیں اور بعض لوگوں نے اس کی مشق بھم پھونچائی ھے کہ اپنے ھاتھوں کی بعض رگوں کو سکوڑ لیں ۔ اس کا طریقہ یہ ھے کہ وہ اپنے ذھن کو اس بات پر متمرکز کر دیتے ھیں کہ ان کے ھاتہ برف میں پڑے ھوئے ھیں اور اس سوچ کا نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ ان کی رگیں اسی طرح سکڑ جاتی ھیں ۔ جیسے جب ھاتھوں کو واقعی برف میں رکہ دیا گیا ھو ۔ کچھ لوگ ھیں جو اپنی آنکھوں کی پتلیوں کو چھوٹی اور بڑی کر لیتے ھیں وہ لوگ یہ کرتے ھیں کہ اپنی فکر کو ایک مرکز پر محدود کر کے اپنے کو باربار تلقین کرتے ھیں اور پھر وہ پتلی اسی طرح ھو جاتی ھے جیسا کہ وہ چاھتے ھیں ۔

حقائق کا سمجھ لینا ھمارے افکار و ارادوں میں بھت زیادہ موثر ھے یہ خواھشات ھی ھیں جو ھمارے افکار پر پردہ ڈال کر قوت ادراک میں تاریکی پیدا کر دیتی ھیں ۔ بھتر طریقہ یہ ھے کہ سب سے پھلے آئینہ فکر و عقل کو تقویٰ سے صیقل کیا جائے تاکہ حقائق و واقعیات کو اس میں مشاھدہ کیا جا سکے ۔ اس کے بعد قوی ارادہ اور مسلسل مجاھدات کے ذریعے حسد اور زھر آلود خواھشات کو دل سے نکال کر پھینک دیں اور بغض و کینہ کی زنجیروں کو توڑ دیں تاکہ روح غم کی قید سے آزاد ھو سکے ۔ اور برے صفات کی جگہ خیر خواھی و اچھے صفات متحقق ھو سکیں ۔

حوالے

۱۔سورہ ٴ نساء/ ۳۲

۲۔مستدرک الوسائل ج/۲، ص/ ۲۲۸

۳۔نھج الفصاحة ص/ ۳۶۶

۴۔غرر الحکم ص/ ۴۹۴

۵۔پیروزی فکر

۶۔غرر الحکم ص/ ۳۲

۷۔ غرر الحکم ص/ ۱۴۱

۸۔ روانکاری

۹۔غرر الحکم ص/ ۳۵۵

۱۰۔پیروزی فکر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.