دہشت گردي اور سنت نبوي

0 0

آج جس چيز كو ‘ٹرر’ كے نام سے جانا جاتا ہے اسكي دو ہزار سال پراني تاريخ ہے اور معتبر تاريخي كتب كے مطابق پہلي عيسوي صدي ميں اسكي شروعات مذہبي جذبات كے تحت انتہا پسند يہوديوں كے سيكاري نامي فرقہ نے كي ہےليكن اسكے بعد سے آج تك اس قسم كے اقدامات،ہدف، طريقۂ كار، جذبہ اور اسميں استعمال ہونے والے وسائل كي بنا پر كافي مختلف اور پيچيدہ رہے ہيں۔حتي كہ تاريخ اسلام سے متعلق سني اور شيعہ كتب ميں پيغمبر اسلام كي طرف كچه ايسي نسبتيں دي گئي ہيں جن كي وجہ سے بعض كو يہ شبہ ہونے لگا ہے كہ شايد نبي كريم بهي (نعوذ باللہ) دہشت گردي كے مرتكب ہوۓ ہيں۔

شيعہ و سني حضرات كي معتبر كتابوں سے يہ بات ثابت ہوتي ہے كہ نہ صرف يہ كہ شريعت اسلامي ميں ‘فتك’ ‘ارهاب’ اور ‘اغتيال’ جيسے الفاظ كے ذريعہ دہشت گردي كي ممانعت كي گئي ہے بلكہ نبي كريمہميشہ سماجي مفيد اقدامات اور سارے مہاجرين و انصار كے درميان عقد اخوت كے ذريعہ ميل و محبت برقرار ركهنے كي كوشش كرتے تهےحتي كہ يہوديوں خصوصا تين بڑے قبيلوں، بني قينقاع، بين قريظہ، اور بني نضير كے درميان اتحاد و ہمدلي كي فضا كو برقرار ركهنے اور تمام مسلمان و غير مسلمان شہريوں كو امن و سكون فراہم كرنے پر بہت زور ديتے تهے۔

اگر چہ چند روايتوں ميں نبي كريم  كے دور ميں بعض مخالف يہوديوں كو قتل كئے جانےكے واقعات موجود ہيں، ليكن اگر غور كيا جاۓ توسمجه ميں آتا ہے كہ ان روايتوں كے ضعيف ہونے كے علاوہ انميں مذكور اقدامات كو براہ راست بني كريم كي ذات گرامي كي طرف منسوب نہيں كيا جاسكتا ہے۔ بلكہ ان اقدامات پر دہشت گردي يا دہشت گردانہ اقدامات كا عنوان ہي صادق نہيں آتا ہے۔لہذا مذكورہ اقدامات كے بارے ميں، جنگي كاروائيوں اور اصول جنگ كے دائرہ ميں تحقيق كي جاني چاہئے۔

دور پيغمبر ميں مخالفين كو قتل كرنا كامل جائز اقدام تها، ليكن پيغمبر اسلام  نے اخلاقي قوانين اور شرعي ممانعت كے ذريعہ، دہشت گردانہ طريقوں سے كسي بهي انسان كے قتل پر پابندي عائد كردي۔

مشكل الفاظ: ٹرر (دہشت گردي)، مدينہ كا معاہدہ، مدينہ كے يہودي، معاہدہ كي خلاف ورزي۔

مقدمہ:

اس مقالہ ميں سنت نبوي كي روشني ميں دہشت گردي كے موضوع كي تجزيہ و تحليل كرنے كي كوشش كي گئي ہے۔ سب سے پہلے ايك اصلي اور بنيادي سوال جسكي طرف ہر مرحلہ ميں متوجہ رہنا ضروي ہے وہ يہ ہے كہ دہشت گردي اور دہشت گردانہ اقدامات كے بہ نسبت نبي كريم ﷺ كا موقف كيارہا ہے؟ كيا دور پيغمبر ميں اس قسم كے اقدامات خود آپكے ذريعہ يا آپكے حكم سے كبهي انجام پاۓ ہيں؟كيا آج كے دور ميں خاص طور پر موجودہ قانوني و سياسي زبان ميں آج سے چودہ سو برس پہلے رونما ہونے والے واقعات كا عصري قوانين اور اقدار كي روشني ميں تجزياتي مطالعہ كرنا صحيح ہے؟ ماضي بعيد كے واقعات خصوصاً مدينہ كے عہد شكن يہوديوں كے خلاف كئے گئے اقدامات كي كيونكر جانچ كي جائے گي؟

خصوصا ‘مدينہ معاہدہ’ كے خلاف ورزي كرنے والے يہوديوں سے متعلق تاريخي حقائق كي كيسے جانچ كي جاسكتي ہے۔ اگر روايتوں كو صحيح مان ليا جاۓ تو كيا دور پيغمبر اكرمﷺ ميں انجام پانے والے ان اقدامات كو دہشت گردي كہا جاسكتا ہے؟ ياشرعايہ جائز اقدامات تهے؟ اس قسم كي روايتوں كي سند كے اعتبار سے كيا حيثيت ہے جو پر تشدد اقدامات كو نبي كريم ﷺ كي طرف نسبت دے رہي ہيں؟ يہ روايتيں كسي حد تك صحيح ہوسكتي ہيں اور ان پر كتنا اعتبار كيا جاسكتا ہے؟ شيعہ و سني حضرات كا ان روايتوں كے مقابل ميں كيا رد عمل ہے؟

ان سوالات كے پيش نظر دہشت گردي كے سلسلہ ميں سنت نبوي كي تحقيق سے پہلے دہشت گردي كے مفہوم اور اسكے حدود كو سمجهنا ضروري معلوم ہوتا ہے۔ لہذا بطور خلاصہ دہشت گردي كے مفہوم اور اسكے حدود كو بيان كيا جارہا ہے۔

۱۔ دہشت گردي كا مفہوم

لفظ ‘ترور’ موجودہ فارسي زبان ميں بولا جانے والا يہ لفظ انگريزي كے لفظ ‘Terror’ سے مشتق ہے۔ يہ لفظ لاطيني زبان كے لفظ ‘Ters’ سے ليا گيا ہے جو خود اصل ميں لفظ ‘Ter’ سے مشتق ہے جو كہ فريب و دهوكہ دہي كے معني ميں استعمال ہوتا ہے۔(۱) اسي لفظ سےمشتق انگريزي زبان ميں يہ دو لفظ ‘Terrible’ ‘Terribleness’ (خوفناك) بہ كثرت استعمال ہوتے ہيں۔(۲)

ايسا محسوس ہوتا ہے كہ فارسي زبان كا لفظ ‘ترس’ (ڈر) بهي لاطيني لفظ ‘Ters’سے ہي ليا گيا ہے۔ البتہ اسكے بر عكس بهي ممكن ہے۔

۲۔ دہشت گردي كي تعريف

دہشت گردي كي مختلف تعريفين بيان ہوئي ہيں اور ہر تعريف ميں ايك خاص نكتہ كي طرف اشارہ كيا گيا ہے جو كہ تعريف بيان كرنے والے كي ذہنيت اور فكر كي عكاسي كررہا ہے۔ يہاں پر ان ميں سے بعض مناسب تعريفوں كو ذكر كيا جارہا ہے:

برٹينكا نامي انسائيكلو پيڈيا ميں دہشت گردي كي تعريف يوں كي گئي ہے: سياسي اہداف كے پيش نظر، ايك منظم اور سوچي سمجهي سازش كے تحت، حكومتوں، عوام يا افراد كے خلاف، انجام ديا جانے والے غير متوقع پر تشدد اقدام يا زور و زبردستي كو دہشت گردي كہا جاتا ہے۔(۳)

اس تعريف ميں دہشت گردي كو ايسے اقدام كے عنوان سے پہچنوايا گيا ہے جسميں جان بوجه كر اور سوچي سمجهي سازش كے ساته ايك غير متوقع پرتشدد اقدام انجام ديا جاتا ہے ۔

اس كام كے دو ہدف ہوسكتے ہيں:

۱۔ دہشت گردي كا نزديكي اور براہ راست ہدف قرار پانے والے وہ لوگ ہوتے ہيں جنكے خلاف يہ دہشت گردي انجام دي جاتي ہے۔

۲۔ دہشت گردي كےحقيقت ميں كچه سياسي اہداف يا وہ مخاطبين ہوتے ہيں، دہشت گردي كے ذريعہ جن تك اپني آواز كو پہونچانا مقصود ہوتاہے۔ اس تعريف ميں نزديكي ہدف سے مراد حكومت، عوام(خصوصاً عوامي اجتماعات) يا كوئي خاص فرد ہوسكتاہے۔

ايك تعريف يہ كي گئي ہےكہ دہشت گردي اس منظم تشدد يا تشدد كي دهمكي كو كہتے ہيں جس كا مقصد براہ راست نشانہ بننے والے يا اس قسم كي كاروائي كي ذريعہ مخاطب قرار ديے جانے والے افراد ميں خوف و دہشت پيدا كرنا يا انہيں اپنے جابرانہ اقدام كے ذريعہ نقصان پہنچانا ہو۔(4)

اس تعريف ميں باقاعدہ طور غير منظم تشدد كو دہشت گردي سے خارج كيا گيا ہے اور پر تشدد اقدامات كے دو ہدف فرض كئے گئے ہيں۔

‘Encarta’ نامي انسائيكلوپيڈيا ميں بهي دہشت گردي كي اس طرح تعريف كي گئي ہے: “سياسي تحولات كے مقصد سے خوف و دہشت پيدا كرنے اور اسكو ذريعہ بنانے كو دہشت گردي كہا جاتا ہے۔”

دوسري جانب چونكہ دہشت گردي ملكي اصول و ضوا بط كي ضد ہے اور اس ميں قانون شكني كي صفت پائي جاتي ہے لہٰذا اسے حكومت، عوام يا خواص كے خلاف تشدد يا تشدد كي دهمكي كا ايساغير قانوني استعمال كہا جا سكتا ہے جس كے ذريعہ خاطي اپنے اہداف تك پہنچنا چاہتے ہيں۔

۳۔ عربي تہذيب ميں لفظ ‘ٹرر’ كا مفہوم

عربي زبان ميں ان اقدامات كي توصيف كيلئے جنہيں دہشت گردي كہا جاتا ہے، تين لفظ ‘فتك’ ‘ارهاب’ اور ‘اغتيال’ استعمال ہوتے ہيں۔ اسلام سے پہلے عربي كتب ميں يہ الفاظ استعمال ہوتے رہے ہيں۔ ليكن موجودہ دور كي عربي ميں لفظ ‘فتك’ كا استعمال نہيں ہوتا ہے۔ لفظ ‘اغتيال’ كا استعمال متوسط ہے ليكن اسكے مقابل ميں لفظ ‘ارهاب’ كافي زيادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس زمانے ميں عربي كے فقہي اور قانوني كتب اور خصوصا بين الاقوامي حقوق كي بحثوں ميں لفظ ‘دہشت گردي’ اور دہشت گردانہ اقدامات كي ترجماني كيلئے يہي لفظ استعمال ہوتا ہے۔

شيعہ اور سني كتابوں ميں چونكہ يہ تينوں الفاظ بہ كثرت استعمال ہوۓ ہيں لہذا سنت نبوي ميں دہشت گردي كے موضوع كے متعلق تحقيق سے پہلے اختصار كے ساته مذكورہ الفاظ كے معني و مفہوم كي وضاحت ضروري معلوم ہوتي ہے۔

الف) فتك:

مرحوم علامہ مجلسي بحار الانوار ميں جوہري كے حوالہ سے يوں تعريف كرتے ہيں:” و قال الفتك : أن يأتي الرجل صاحبه و هو غار غافل حتي يشد عليه فيقتله و في الحديث قيد الايمان الفتك ، لايفتك مؤمن” فتك سے مراد يہ ہے كہ كوئي شخص اپنے پاس بيٹهے ہوۓ شخص كو اس انداز سے قتل كردے كہ وہ قاتل كي نيت سے آگاہ نہ ہو۔ روايت ميں ہے كہ ايمان ‘فتك’ كو انجام دينے كي اجازت نہيں ديتا ہے اور مومن ‘فتك’ انجام نہيں ديتا ہے۔(۵)

مجمع البحرين ميں بهي قاموس (عربي لغت) كے حوالہ سے جوہري كے بيان كردہ سے مشابہ معني ذكر ہوۓ ہيں۔ البتہ فرق يہ ہے كہ مجمع البحرين ميں ‘فتك’ كے معني كو قتل كرنے ميں محدود نہيں كيا گيا ہے بلكہ چهپ كر كسي كو زخمي كرنے كو بهي ‘فتك’ كے دائرہ ميں قرار ديا ہے۔ طريحي كہتے ہيں: “۔۔۔ انتهز منه فرصه فقتله او جرحه مجاهره او اعم “(۶) اس قول ميں ‘فتك’ كي دو خصوصيات بيان ہوئي ہيں: پہلي خصوصيت يہ ہے كہ اس ميں ‘فتك’، قتل كے علاوہ كسي كو زخمي كرنے پر بهي صادق آتا ہے اور دوسري خصوصيت يہ ہے كہ ‘فتك’ كي انجام دہي كا طريقۂ كار بيان ہوا ہے كہ اسميں مخفيانہ طور پر حملہ كي شرط قرار نہيں ديا گيا ہے بلكہ علانيہ طور پر بهي ہوسكتا ہے۔

عربستان ميں دور جاہليت ميں يہ كام بہت رائج تها ليكن پيغمبر اسلام  نے اس كو ممنوع قرار ديا۔ علامہ مجلسي نے بحارالانوار ميں پيغبر اكرم  كے ذريعہ اس اقدام كو منع كئے جانے سے متعلق متعدد روايتيں نقل كي ہيں كہ كسي كو قتل كر نے كے مقصد سے ناگہاني طور پر يا چهپ كر اقدام كرنا ايك مذموم فعل ہے اور اسكي ممنوعيت كي وجہ انسان كا ايمان ہے۔ يعني مومن انسان كي اخلاقي صفات اور اسلامي تعليمات اسے ايسا مذموم فعل انجام دينے كي اجازت نہيں ديتي ہيں۔(۷)

ب) الغول (اغتيال):

اغتيال عربي زبان ميں ‘غول’ سے ليا گيا ہے اور اسكے معني كسي كو فريب ديكر ہلاك كرنا يا قتل كرنا ہيں اس طرح كہ مقتول متوجہ نہ ہوسكے۔ قواعد الاحكام كے مصنف كے دعوے كے مطابق لفظ ‘اغتيال’ كافرذمي (يہودي، عيسائي) كي طرف معاہدہ كي خلاف ورزي كي صورت ميں اسكو قتل كرنے كے لئے استعمال ہوا ہے اور ايسي صورت ميں انكو قتل كرنا جائز ہے۔(۸

صاحب اقرب الموارد نے ‘اغتيال’ كے معني كسي كو دهوكہ ديكر اور تنہائي ميں ليجاكر قتل كردينا بتاياہے۔(۹) 

ج)ترور (ٹرر) فارسي زبان ميں

فرہنگ عميد (فارسي لغت) ميں’ترور’ (Terror)كے معني بہت زيادہ ڈر اور خوف و ہراس ، بيان ہوۓ ہيں۔ سياست كي اصطلاح ميں Terror سے قتل،مخالفين كو ختم كرنااور لوگوں كے درميان خوف ودہشت كاما حول پيدا كرنا مراد ليا جاتاہے۔ اور ٹرريسٹ ہر اس شخص كو كہتے ہيں جو دہشت گردي انجام دے , اسكي حمايت كرے،قتل و غارتگري انجام دے، اپنے ہدف تك پہنچنے كيلئے كسي انسان كو چهپ كر قتل كرے يا لوگوں كے درميان خوف و ہراس كا ماحول ايجاد كرے۔ ٹرريزم (دہشت گردي) ان افراد كا شيوہ ہوتا ہے جو كسي حكومت كا تختہ پلٹنے يا حكومت كرنے جيسے سياسي اہداف تك رسائي كے لئے انسانوں كو قتل كرنے ، دهمكي دينے يا كسي بهي ذريعہ سے ان كے درميان خوف و ہراس ايجاد كرنے كو جائز جانتے ہيں۔(۱۰) فارسي كي دہخدا نامي لغت ميں ملتاہے: لفظ ‘Terror’(ٹرر) فرانسوي زبان سے ليا گيا ہے اور اس سے ‘اسلحہ كے ذريعہ كسي كا سياسي قتل’ مراد ليا جاتاہے۔ موجودہ عربي ميں لفظ ‘ٹرر’ كيلئے ‘اہراق’ كي لفظ استعمال ہوتي ہے۔ اور فرانسوي زبان ميں اس لفظ سے خوف و دہشت مراد ليا جاتا ہے۔

وہ انقلابي حكومت جو كہ Gironde نامي رياست سے تعلق ركهنے والے لوگوں كي حكومت كے زوال كے بعد ۳۱مئي ۱۷۹۳ سے ليكر ۱۷۹۴ تك فرانس ميں قائم رہي دہشت گردي كے اصولوں پر مبني تهي اور اس حكومت كے دور اقتدار ميں كافي سارے لوگوں كو سولي پر لٹكايا گيا۔

مزید  حضرت زینب(ع) شام کیسے واپس آئیں جب قافلہ حسینی (ع) کے ساتھ مدینہ چلی گئیں تھیں؟

فارسي زبان ميں يہ لفظ اس شخص كيلئے استعمال ہوتاہے جو سياسي قتل كا مرتكب ہوتا ہے۔ فارسي زبان ميں ‘ٹرريزم’ كے ذريعہ وہ قانون مراد ليا جاتاہے جسميں سياسي قتل اور دہشت گردي كا دفاع كيا جاتا ہے۔(۱۱)

كلي طور پر يہ كہا جاسكتا ہے :’Terror'(دہشت گردي)لغت ميں ڈر ، خوف، دہشت ،كے معني ميں ہے اور سياست كي اصطلاح ميں قتل كرنے ، مخالفين كو نيست و نابود كرنے اور انكے درميان خوف و دہشت كا ماحول پيدا كرنے كو كہتے ہيں۔ ٹرريسٹ (دہشت گرد)اس شخص كو كہتے ہيں جو اپنے مقصد كے حصول كي خاطر كسي كو مخفيانہ طرز پر قتل كرديتا ہے يا معاشرہ ميں خوف و ہراس كا ماحول پيدا كرتا ہے۔

دہشت گردي ان افراد كا طريقۂ كار ہوتا ہے جو اپنے اہداف تك رسائي كي خاطر كسي بهي ذريعہ سے قتل و غارتگري،لوگوں كو خوفزدہ كرنےاور انكے درميان خوف و دہشت كا ماحول بنانے كو جائز مانتے ہيں۔ در حقيقت دہشت گردي كي تشخيص ميں طريقۂ كار كے ساته ساته اسكو انجام دينے والا كا جذبہ بهي معيار ہوتا ہے جو كسي بهي فعل كي حقيقت كو معين كرتا ہے كہ وہ فعل دہشت گردي ہے يا نہيں۔ يعني اگر كوئي فرد يا گروہ چوري يا اقتصادي فائدہ كے حصول كي خاطر كسي كو قتل كردے تو اس فعل كو دہشت گردي نہيں كہتے ہيں، كيونكہ كسي بهي فعل كو دہشت گردي اسي وقت كہا جاسكتا ہے جب وہ فعل سياسي مقصد كے پيش نظر انجام ديا جاۓ۔ مثال كے طور پر ايران ميں اسلامي انقلاب كي كاميابي كے بعد ، بعض سياسي پارٹيوں نے قتل و غارتگري كا بازار گرم كركے اور عوام كے دلوں ميں خوف و دہشت بٹهاكر ، اسلامي انقلاب كو مٹانے اور امور مملكت كو اپنے ہاته ميں لينے كي كوشش كي۔ان كے اس اقدام كو دہشت گردي اسي لئے كہا گيا چونكہ سياسي مقصد كے تحت وہ لوگ قتل و خونريزي انجام دے رہے تهے اور جو كام اس انداز سے انجام ديا جاۓ وہ دہشت گردي كا مصداق ہوتا ہے۔

دہشت گردي، قرآن و حديث كي روشني ميں

دہشت گردي اور مخفيانہ طور پر كسي كو قتل كرنے كے سلسلہ ميں متعدد روايتيں موجود ہيں جنكے مطالعہ سے يہ بات ثابت ہوجاتي ہے كہ اسلام كي نگاہ ميں دہشت گردي كي سخت مذمت كي گئي ہے اور شرعاً حرام ہے۔

۱۔ “كہہ ديجئے كہ آؤ ہم تمہيں بتائيں كہ تمہارے پروردگار نے كيا كيا حرام كيا ہے …. خبردار كسي كو اس كا شريك نہ بنانا اور ماں باپ كے ساته اچها برتاؤ كرنا ۔اپني اولاد كو غربت كي بنا پر قتل نہ كرنا كہ ہم تمہيں بهي رزق دے رہے ہيں اور انہيں بهي … اور بدكاريوں كے قريب نہ جانا وہ ظاہري ہوں يا چهپي ہوئي اور كسي ايسے نفس كو جسے خدا نے حرام كرديا ہے قتل نہ كرنا مگر يہ كہ تمہارا كوئي حق ہو .يہ وہ باتيں ہيں جن كي خدا نے نصيحت كي ہے تاكہ تمہيں عقل آجائے”(انعام،۱۵۱)

۲۔ “اسي بنا پر ہم نے بني اسرائيل پر لكه ديا كہ جو شخص كسي نفس كو …. كسي نفس كے بدلے يا روئے زمين ميں فساد كي سزا كے علاوہ قتل كرڈالے گا اس نے گويا سارے انسانوں كو قتل كرديا اور جس نے ايك نفس كو زندگي دے دي اس نے گويا سارے انسانوں كو زندگي دے دي اور بني اسرائيل كے پاس ہمارے رسول كهلي ہوئي نشانياں لے كر آئے مگر اس كے بعد بهي ان ميں كے اكثر لوگ زمين ميں زيادتياں كرنے والے ہي رہے” (مائدہ،۳۲)

ان آيات كو ديكهنے كے بعد يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ قرآني آيات ميں فتك،اغتيال يا ارهاب ‘دہشت گردي’ كے معني ميں استعمال نہيں ہوا ہے بلكہ لفظ ‘قتل’ آيا ہے جو كہ خفيہ طور پر كسي كو قتل كرنے پر بهي صادق آتا ہے۔ لہذا يہ كہا جاسكتاہے كہ انسان كسي بے گناہ كو قتل كرنے كي اجازت نہيں ديتاہے۔ مثلا سورۂ بقرہ كي ايك سو اٹهترويں آيت ميں اگرچہ قصاص كو ورثاء كا حق قرار ديا ہے ليكن پهر بهي انہيں معاف كرنے يا صرف ديت پر اكتفا كرنے كي تاكيد كرتاہے اور ديت كي ادائيگي كے سلسلہ ميں طرفين كو عدل و انصاف سے عمل كرنے كي تلقين كرتا ہے۔

اسي طرح روايات ميں بهي دہشت گردي كي مذمت كي گئي ہے۔ بطور نمونہ يہاں پر ہم چند روايتوں كو نقل كريں گے۔

۱۔ پيغمبر اكرم  نے فرمايا: ميں جب معراج پر گيا تو كچه چيزيں اور بعض مقامات ديكهنے كے بعد انكے بارے ميں سوال كيا كہ يہ سب كيا ہے؟ تو جواب ملا:يہ آخري زمانے كي علامتيں ہيں ۔ ميں نے سوال كيا كہ كون سا دور آخري زمانہ كہلائيگا؟ خداوند عالم نے فرمايا:آخري زمانہ اس وقت ہوگا جب علم ختم ہوجائيگا اور جہالت ظاہر ہوجائيگي، قاريان قرآن كي تعداد زيادہ ہوگي ليكن اس پر عمل كرنے والے كم ہونگے۔ دہشت گردي ميں اضافہ ہوگا، ہدايت كرنے والے علماء كم ہونگےاور گمراہ كرنے والے زيادہ، خيانت كرنے والوں اور شعراء كي تعداد ميں اضافہ ہوگا۔(۱۲)

۲۔ ابن ابي الحديد كي شرح نہج البلاغہ ميں ملتا ہے: جب نبي كريم  نے رحلت فرمائي اور علي عليہ السلام آنحضرت كے غسل و كفن ميں مشغول تهے، اسي دوران ابوبكر كے ہاته پر لوگوں نے بيعت كرلي۔ تبهي زبير ، ابو سفيان اور مہاجرين كي ايك جماعت نے عباس اور حضرت علي عليہ السلام كے ساته تبادلۂ خيال كے ارادہ سے تنہائي ميں ملاقات كي۔ ان لوگوں كي باتيں عوام ميں جوش پيدا كرنے اورقيام كے لئے ابهارنے والي تهيں۔ عباس رضي اللہ عنہ،نے كہا:ہم نے آپ كي باتيں سنيں اور ايسا نہيں ہے كہ اپنے ساتهيوں كي قلت كي بناپر آپ سے مدد چاہيں گے اور ايسا بهي نہيں ہے كہ كسي بد گماني كي بنا پر آپ كے نظريات كو نظرانداز كردينگے۔ ہم كو ذرا سوچنے كي مہلت ديجئے۔ اگر ہمارے لئے گناہ سے فرار كي راہ فراہم ہوئي تو ہمارے اور انكے درميان حق كي آواز بلند ہوگي ايسي آواز جو زمين كي طرح سخت اور دشوار ہوگي۔ اور اس صورت ميں ہم شرف بزرگي كے حصول كيلئے ہاته بلند كرليں گےاور جب تك مقصد حاصل نہيں ہوجائيگا نيچے نہيں كرينگے۔ اگر ايسا ہو كہ گناہ ميں پڑنے لگيں تو پرہيز كريں گے ليكن يہ پرہيز، تعداد يا طاقت كي كمي كے باعث نہيں ہوگا۔ قسم خدا كي اگر اسلام نے دهوكہ دہي پر مبني ہر قسم كي چهاپہ مار كاروائي سے منع نہ كيا ہوتا تو اتنے بڑے بڑے پتهر ايك دوسرے پر مارتے كہ انكے ٹكرانے اور گرنے كي آوازيں بلنديوں پر بهي كانوں تك پہنچتيں۔”(۱۳)

۳۔ ابو صباح كناني امام جعفر صادق عليہ السلام سے عرض كرتے ہيں:قبيلۂ ہمدان سے تعلق ركهنے والا ميرا ايك پڑوسي جسكا نام جعد بن عبد اللہ ہے، حضرت علي عليہ السلام كو گالياں ديتا رہتا ہے۔ كيا آپ مجهے اسكو قتل كرنے كي اجازت ديتے ہيں؟ آپ نے فرمايا: اسلام نے دہشت گردي كي ممانعت كي ہے۔

ان روايات كو ديكهنے كے بعد يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ ايمان دہشت گردي سے روكتا ہے اور مومن دہشت گردي انجام نہيں دے سكتا ہے۔ لہذا ہم كہہ سكتے ہيں كہ كسي كو مخفيانہ طور پر قتل كر دينا شرعا جائز نہيں ہے بلكہ حرام ہے اور اسلام نے حتي كہ محاذ جنگ پر بهي فريب اور دهوكہ دہي كو جائز نہيں قرار ديا ہے۔

دہشت گردي اور شرعي حدود كا فرق

بعض آيات و روايات كے ظاہري مفہوم سے بعض لوگوں كو قتل كرنے كي ممانعت ثابت نہيں ہوتي ہے، ليكن انہيں آيات و روايات كا اگر دقيق مطالعہ كيا جاۓ تو نتيجہ اسكے برعكس نظر آتا ہے۔

مندرجہ ذيل آيات كي روشني ميں بعض انسانوں كو قتل كرنا جائز ہے:

۱۔” اے ايمان لانے والو تمہارے اوپر مقتولين كے بارے ميں قصاص لكه ديا گيا ہے۔”(۱۴) ۲۔” بس خدا و رسول سے جنگ كرنے والے اور زمين ميں فساد كرنے والوں كي سزا يہي ہے كہ انہيں قتل كرديا جائے يا سولي پر چڑها ديا جائے”(۱۵)

قاتل، زمين پر فساد برپا كرنے والے اور جنگ كرنے والوں كے قصاص سے مراد كيا ہے؟ اور يہ كون لوگ ہيں؟

قرآني اصطلاح ميں قصاص سے قاتل كي سزا كا ايك قانون مراد ليا جاتا ہے۔ لہذا سورۂ بقرہ كي ايك سو اٹهترويں آيت ميں قصاص سے كسي كو قتل كردينا مراد نہيں ليا جاسكتاہے۔ بلكہ كسي كو عليٰ الاعلان قتل كرنا، قصاص كي ايك قسم ہے۔ اگر كوئي شخص كسي دوسرے كو جان بوجه كر بے گناہ قتل كرے تو ايسے انسان كو قتل بهي كيا جاسكتاہے يا اسكے ورثاءقاتل كو معاف بهي قتل كرسكتے ہيں اور اسكو صرف ديت ادا كرنے كي سزا دي جاسكتي ہے۔ لہذا قصاص معاشرہ كے فاسد اور مجرم افراد كو ختم كرنے كا ذريعہ ہونے كے ساته ساته معاشرہ كي امن و سكون كا بهي ضامن ہے۔ كيونكہ اسلامي قصاص، ‘قتل كرو تاكہ قتل و غارتگري كم ہو’ اور ‘قاتل كو معاف كرنا منع ہے’ جيسے نعروں كے مقابل ميں ہے۔(۱۶)

سورہ مائدہ كي بتيسويں آيت ميں قاتل اور فساد برپا كرنے والے كے قتل كو جائز قرار ديا گيا ہے۔فاسد اس شخص كو كہتے ہيں جو خدا و رسول كے مقابلہ ميں جنگ كرے يا معاشرہ كا امن و سكون غارت كرے۔ اس آيت ميں ايك اور نہايت اہم نكتہ كو بيان كيا گيا ہے اور وہ خدا وند عالم كے نزديك انسان كا مرتبہ ہے كيونكہ اس كے قتل كو سارے انسانوں كے قتل كے مترادف قرار ديا گيا ہے۔ اس كي يہ وجہ يہ ہوسكتي ہےكہ جب كوئي شخص كسي بے گناہ كو جان بوجه كر قتل كرديتاہے تو اسكے دل ميں دوسروں كو قتل كرنے كي جرأت پيدا ہوجاتي ہے۔(۱۷)

سورۂ مائدہ كي تينتسويں آيت ميں جو كہ صرف دور پيغبرﷺ سے مخصوص نہيں ہے، محاربين سے مراد وہ لوگ ہيں جو مسلمانوں پر تلوار كهينچتے تهے، اور انہيں جان سے مارنے كي دهمكي ديكر يا قتل كركے انكا مال و اسباب لوٹ ليا كرتے تهے۔ دوسرے لفظوں ميں يوں كہا جاسكتا ہے كہ ‘محارب’ سے مراد وہ شخص ہے جو زور و زبردستي اور اسلحہ كے ذريعہ كسي انسان كي جان و مال پر حملہ كرتاہے۔چور خواہ شہر كے باہري علاقہ ميں يہ كام انجام دے يا شہر كے اندروني علاقہ ميں، ليكن چونكہ لفظ ‘محارب’ لفظ ‘افساد’ كے ہمراہ ذكر ہوا ہے لہذا خدا سے جنگ كا مطلب، زمين پر قتل و غارتگري اور معاشرہ كے امن و سكون كا سلب كرنا ہے۔ ايسا شخص اگر جان بوجه كر كسي كو قتل كردے تو اسكي سزا قتل ہے اور اگر صرف چوري كي ہو تو اسكي سزا يہ ہے كہ اسكا ايك ہاته اور مخالف پير كاٹ ديا جاۓ۔(يعني داياں ہاته باياں پير يا باياں ہاته اور داياں پير) ليكن اگر لوگوں پر زور زبردستي كي ہے، تو اسكو جلا وطن كردياجائيگا۔(۱۸)

مذكورہ آيات اور انكي تفسير كي روشني ميں يہ بات واضح ہوجاتي ہے كہ قاتل، فساد برپا كرنے والے اور محارب كو صرف خاص شرائط كي صورت ميں امام عادل ، انكے نائب خاص يا حاكم اسلامي كي اجازت سے عليٰ الاعلان اور معاشرہ ميں امن و سكون كے ماحول كو واپس لانے كے مقصد سے ہي قتل كيا جاسكتا ہے ۔ ليكن اسكے برخلاف، دہشت گردي كا مقصد سياسي مخالفين كو سياسي اہداف تك رسائي كيلئے قتل كرنا ہوتا ہے، اور اسميں امام عادل۔۔۔ كي اجازت نہيں ہوتي ہے۔ بلكہ اكثر اوقات مخفيانہ طور پر اور معاشرہ كي پرامن فضا كو مختل كرنے كے مقصد سے يہ كام انجام ديا جاتا ہے۔(۱۹)

مزید  دیباچہ کربلا جناب مسلم بن عقیل(ع) کی شہادت کا دن

ب) پيغمبر اكرم 

لہذا مجموعي طور پر نبي كريم  كے ذريعہ كعب بن الاشرف اور قبيلۂ بني نضير كے يہوديوں كو قتل كرنے كے سلسلہ ميں جاري كردہ فرمان كو كسي بهي عنوان سے دہشت گردي نہيں كہا جاسكتا ہے كيونكہ اسميں دہشت گردي كي علامتيں نہيں پائي جاتي ہيں۔ دوسرے لفظوں ميں يوں كہا جاسكتا ہے كہ نبي اكرم  حاكم اسلامي تهے اور چونكہ حاكم اسلامي كو قضاوت كا بهي اختيار حاصل ہوتا ہے۔ لہذا نبي كريم اپنے اس عہدہ كي بنا پر، اسكا جرم ثابت ہونے كے بعد اسكو قتل كرنے كا عليٰ الاعلان حكم ديا ہے اور قتل كے طريقہ كو بهي بيان كيا ہے۔اس مقام پر ايك اور قابل غور نكتہ يہ ہے كہ كوئي بهي شخص كسي كو اپنے تشخيص كي بنا پر قتل نہيں كرسكتا ہےبلكہ پہلے اسكے لئے ضروري ہےكہ كوئي ايسا باصلاحيت مرجع ہو جسكي صلاحيت كي عقلا اور شرعا تائيد كي گئي ہو مثلا نبي كريم كي ذات مبارك، اور وہ كسي كے مجرم ہونے كي تائيد كرے اور پهر ايك فرد يا كئي افراد ملكر اسكے حكم كو عملي جامہ پہنائيں۔(۲۰) بني اكرم  نے كعب كے مجرم ہونے كي بنا پر ہي اسكو قتل كرنے كا حكم صادر كيا تها۔ ليكن اسكا جرم كيا تها؟ اسكا جرم يہ تها كہ نبي اكرم  اور مسلمانوں نے يہوديوں كے ساته صلح اور ميل و محبت كے ساته زندگي گذارنے كا معاہدہ كيا تها ليكن وہ معاہدہ كي خلاف ورزي كي اور رسول اللہ  كے دشمنوں سے ملحق ہوگيا، اس نے دشمنوں كي مالي اور نفسياتي طور پر مدد كي ، انكے لئے سپاہي بهي فراہم كئے، ان كو مسلمانوں پر حملہ كرنے كي تشويق كي اور مسلمانوں كے خلاف اعلان جنگ كيا۔(۲۱) اسكے علاوہ وہ مسلمان عورتوں كو بهي ستاتا رہتا تها، انہيں آزار و اذيت ديتا تها۔ جنگ بدر كے خاتمہ اور مشركين كي شكست كے بعد اس نے مكہ كا رخ كيا اور جنگ ميں ہلاك ہونے والوں كے گهروں ميں جاكر قريش كے مردوں اور عورتوں كو جمع كركے انكے مقتولين كي شان ميں اشعار سنانا شروع كئے اور اسكے ذريعہ انكے جذبات كو خوب بهڑكايا تاكہ نتيجتا وہ لوگ جوش ميں آكر مسلمانوں سے بدلہ لينے كے لئے اٹه كهڑے ہوں۔ قريش كے خلاف اسكے بعد لڑي جانے والي جنگيں كعب كي انہيں حركتوں كا نتيجہ تهيں۔ انكےعلاوہ وہ نبي كريم  كي بارے خرافات مشہور كرتا اور افواہيں پهيلاتا اور اسلامي اصول پر اعتراض كيا كرتا تها۔

ج) ائمہ طاہرين عليہم السلام

ائمہ طاہرين عليہم السلام كي سيرت كے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے كہ آپ حضرات نے بهي بعض افراد كو قتل كرنے كا حكم ديا ہے۔ مثلاً اسحاق انباري سے روايت ہے: امام محمد تقي عليہ السلام نے مجه سے فرمايا:ابو السمهري پر خدا كي لعنت ہو ، ہم كو جهٹلاتا ہے وہ يہ سب كيا كرتا رہتا ہے؟ اسكا دعويٰ ہے كہ وہ اور ابن ابي زرقاء ميرے لئے تبليغي امور انجام ديتے ہيں۔ ميں تمہيں گواہ بناتا ہوں كہ ان لوگوں سے اظہار برائت كرتا ہوں۔ وہ دونوں فريبكار اور ملعون ہيں۔ اے اسحاق! ہميں اسكے شر سے نجات دو۔ خداوندعالم تمہيں جنت ديكر سكون عطا كريگا۔ ميں نے عرض كيا: ميري جان آپ پر قربان ہو، اسكو قتل كرنا كيا ميرے لئے جائز ہے؟ تو آپنے فرمايا: وہ دونوں دهوكہ باز ہيں، ميري اورتمام مسلمانوں كي زندگي انكي وجہ سے خطرہ سے دچار ہے۔ لہذا مسلمانوں كيلئے ان دونو ں كو قتل كرنا جائز ہے۔ اسكو ملأ عام ميں قتل مت كرنا كيونكہ اسلام ملأ عام ميں قتل كو پسند نہيں كرتا ہے۔ چونكہ اگر ملأ عام ميں قتل كروگے تو اسكے لئے لوگوں كے دل ميں رحم اور محبت پيدا ہوگي ، لوگ بهي سوال كرينگے كہ آخر اسكو كيوں قتل كيا تو تمہارے پاس مناسب جواب نہ ہوگا اور اپنے اس اقدام كا دفاع نہ كرسكوگے ، نتيجتاً ايك كافر كي بنا پر مومن كا خون بہايا جائيگا۔ لہذا اسكو مخفيانہ طور پر قتل كرنا ہي صحيح ہے۔(۲۲)

امام محمد تقي اور امام علي نقي عليہما السلام اور ديگر ائمہ حضرات كے اس قسم كے اقدامات كو بهي دہشت گردي نہيں كہا جاسكتا ہے كيونكہ اگر چہ ظاہري طور پر ائمہ طاہرين عليہم السلام كو حاكميت حاصل نہيں تهي ليكن ان حضرات ميں فتويٰ دينے كي صلاحيت تهي اور مقام قضاوت پر بهي فائز تهے۔ ان حضرات نے بهي رسول اكرم  كے مانند كسي فرد كا جرم ثابت ہونے كے بعد ہي اسكو قتل كرنے كا حكم ديا ہے۔ البتہ يہ حكم مخفيانہ طور سے انجام ديا گيا بالكل اسي طرح جيسے بعض وجوہات كي بنا پر كسي مجرم كو مخفيانہ طور پر كوڑے لگاۓ جاتے ہيں۔(۲۳) اس مقام پر ايك سوال پيدا ہوتا ہے كہ امام علي نقي عليہ السلام نے كيوں فارس بن حاتم كو اور امام محمد تقي عليہ السلام نے ابو السمهري كو قتل كرنے كا حكم ديا ؟ اسكا جواب يہ ہے:

اول: حاتم جهوٹ بولتے ہوۓ خود كو امام علي نقي عليہ السلام كا نمائندہ بتاكر لوگوں سے خمس و زكات وصول كيا كرتا تهااور اسكو خود ہي استعمال كرليتا تها۔ جبكہ وہ نمائندہ امام تها اور نہ ہي شرعي رقومات كو استعمال كرنے كا حق ركهتا تها۔ اسكے علاوہ وہ جهوٹي روايتيں بهي لوگوں كے درميان مشہور كيا كرتا تها اور امام عليہ السلام كا نام كا استعمال كرتے ہوۓ لوگوں كو دهوكہ ديا كرتا تها۔ ظاہر ہے ان حالات ميں امام كے سامنے لوگوں كو آگاہ كرنے اور اس سے دور كرنے كا اسكے علاوہ كوئي اور طريقہ نہيں تها۔(۲۴)

دوم:اس نے امام علي نقي عليہ السلام كے سلسلہ ميں غلو كرنا شروع كيا اور امام عليہ السلام كے حوالہ سے شيعوں كے درميان نئي نئي بدعتيں رائج كرديں۔ اس طرح اس نے شيعوں كے عقائد كو تباہ كرديا۔ اپنے ان كاموں كي بنا پر شيعي سماج كيلئے وہ ايك بڑا خطرہ شمار ہوتا تها۔(۲۵)

سوم: وہ ايك گمراہ انسان تها۔(۲۶) اگر چہ صرف فريبكاري اور گمراہي كي سزا موت نہيں ہے، ليكن اگر امام معصوم كسي شخص كي گمراہي اور دهوكہ دہي كي صفت كي تشخيص دے تو امام كے حكم سے اس شخص كو علني يا مخفيانہ طور پر موت كي سزا دي جاسكتي ہے۔ كيونكہ ايسے انسان كا وجود معاشرہ كے امن و سكون كے لئے بڑا خطرہ ہوتاہے۔ حالانكہ دہشت گردي كے حوالہ سے اگر بات كي جاۓ تو دہشت گردانہ اقدام معاشرہ كے امن و سكون كے لئے خطرہ ہوتا ہے۔

رسول اكرم  اور ائمہ طاہرين عليہم السلام كي سيرت كے مطالعہ سے پتہ چلتا ہےكہ انہوں نے حاكم اسلامي يا قاضي كي حيثيت سے صرف ايسے افراد كو قتل كرنے كا حكم صادر كيا ہے جو افراد مكمل طور سے فساد و تباہي كا جرثومہ اور لوگوں كي ضلالت اور گمراہي كا سبب تهے۔ ان سب كے باوجود رسول اكرم  اور ائمہ معصومين عليہم السلام اس بات كيلئے حاضر نہيں تهے كہ تنہائي ميں بيٹه كر كسي كو قتل كرنے كا حكم صادر كريں يا ان كے قتل كرنے والوں كو اسكے واقعہ كو بيان كرنے روكيں ياكسي ديني اور سياسي اہداف تك رسائي كيلئے اس كام ميں جلد بازي سے كام ليں يا لوگوں ميں خوف و دہشت كا ماحول پيدا كرنے كے مقصد سے كهبي دہشت گردي كے اصولوں كا سہارا ليں۔ البتہ اس بنيادي نكتہ كي طرف توجہ ركهنا ضروري ہے كہ غير مسلموں كے درميان ابتداۓ اسلام ميں بد معاش مخالفين كا دہشت گردي كے ذريعہ قتل، ايك عام بات تهي۔ جبكہ آج كے دور ميں چونكہ حكومتيں آپس ميں سلامتي كے معاہدہ كرتي ہيں اور ہم جديد دور ميں زندگي گذار رہے ہيں لہذا دہشت گردي كے ذريعہ كسي كو قتل كرنے اجازت نہيں ہے۔ يقينا نبي اكرم  اور معصومين عليہم السلام بهي آج كے اس ترقي يافتہ زمانے ميں زندگي گذاررہے ہوتے تو وہ بهي حكومتوں كے درميان انجام پانے والے دہشت گردي مخالف معاہدوں كي پابندي كرتے۔ ليكن ديني قوانين ميں بعض مخصوص حالات كيلئے جدا حكم ديا گيا ہےجسكي بنا پر مجرم كو فوراً سزادينا ضروري ہوجاتا ہے اور اس صورت ميں قاضي كي طرف رجوع كرنا بهي ضروري نہيں رہ جاتا ہے بلكہ ہر فرد پر لازم و ضروري ہوجاتا ہے كہ جيسے ہي اس خطاكار انسان كو ديكهے قتل كردے۔ اور وہ جرم مثلا سب النبي ہے، جسكا مطلب يہ ہے كہ كوئي شخص نعوذ باللہ نبي اكرم ، معصومين عليہم السلام يا صديقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا صلوات اللہ عليها كي توہين كرے يا گستاخي كرے۔ ليكن يہي مسئلہ ايسے معاشرہ ميں جہاں اسلامي حكومت ہو ، عليٰ الاعلان حاكم اسلامي كے حكم سے ہي انجام ديا جانا چاہئے نہ كہ مخفي طور پر، مثلا سلمان رشدي كے قتل كا فتويٰ امام خميني نے حاكم شرع اور قاضي كي حيثيت سے عليٰ الاعلان صادر كيا تها۔(۲۷)

اسلام ميں دہشت گردي كي ممانعت كي مثاليں

اسلام اور اسلامي انقلاب كي تاريخ ميں ايسي متعدد مثاليں مل جائينگي جنكے ذريعہ دہشت گردي كي ممانعت كو ثابت كيا جاسكتا ہے۔ يہاں پر ہم چند نمونے پيش كرتے ہيں:

۱۔ مسلم بن عقيل عبيد اللہ كو قتل كرنے سے باز رہے:

اپنے ساتهي كي پيشكش كے مطابق طے پايا كہ مسلم پردہ كے پيچهے چهپ جائيں اور جيسے ہي ابن زياد آۓ تو اپنے ساتهي كي ذريعہ مخصوص اشارہ (پاني كا مطالبہ)ہوتے ہي اسكو قتل كرديں۔۔۔ ابن زياد آيا اور ان لوگوں كے ساته بيٹه كر باتيں كرنے لگا۔ ليكن جب ساتهي نے پاني كے مطالبہ كے ذريعہ مسلم كو متوجہ كرنا چاہا تو مسلم اس منصوبہ پر عمل درآمد كے لئے باہر نہيں آۓ۔ ساتهي نے دوبارہ متوجہ كرانے كي كوشش كي ليكن پهر بهي مسلم نہيں آۓ۔ اسي اثناء ميں ابن زياد(لعنۃ اللہ عليہ) خطرہ كو محسوس كركے ہاني سے دريافت كرتا ہے كہ كيا بات ہے، وہ كيا كہہ رہا ہے؟ ہاني نے جواب ديا كہ اسكو بخار ہے اور ہذيان بك رہا ہے۔ ليكن عبيد اللہ بن زياد جو كہ خطرہ كو محسوس كرچكا تها،فوراً ہي وہاں سے چلا گيا۔ ابن زياد كے جانے كے بعد اس ساتهي نے مسلم سے سوال كيا كہ آخر منصوبہ كے مطابق كيوں عمل نہيں كيا؟ تو انہوں نے جواب ديا:۔۔۔۔ امير المومنين علي عليہ السلام كي اس روايت كي بنا پر جو انہوں نے رسول خدا  سے نقل كي ہے كہ ايمان كسي انسان كو مخفيانہ طور پر قتل كرنے سے روكتاہے۔(۲۸)

۲۔ ايك معتبر حديث ميں نقل ہوا ہے كہ ابو صباح كناني نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے عرض كي:ميرا ايك پڑوسي ہے جو امام علي عليہ السلام كو برا بهلا كہتا رہتا ہے۔ آپ مجهے اسكو قتل كرنے كي اجازت ديتے ہيں؟ آپ نے فرمايا:كيا تم كام كي صلاحيت ركهتے ہو؟ ميں نے كہا: قسم خدا كي اگر آپ اجازت ديں تو كمين گاہ ميں بيٹه جاؤنگا اور جيسے ہي موقع غنيمت سمجهوں گا، تلوار سے اسے قتل كردونگا۔ تو امامنے فرمايا: اے ابو صباح يہ كام دہشت گردي ہے اور رسول اللہ ﷺ نے دہشت گردي كي ممانعت كي ہے۔(۲۹)

۳۔ اسلامي انقلاب كے مؤرخ جناب سيد حميد روحاني صاحب امام خميني كے سلسلہ سے ايك واقعہ نقل كرتے ہيں:”نجف ميں ہم لوگ امام خميني كے ہمراہ تهے۔ ہم لوگ سوچا كرتے تهے كہ سيد مہدي ہاشمي واقعا ايك مجاہد اسلام ہے اور ساواك (پہلوي حكومت كي خفيہ پليس) نے نے بلاوجہ اس پر آيت اللہ شمس آبادي كے قتل كا الزام لگايا ہے۔ امام خمينيؒ سے ہم نے كہا: سيد مہدي اس وقت جيل ميں ہے، ممكن ہے اسكو موت كي سزا دے دي جاۓ۔ كيا آپ اجازت دينگے كہ ہم چند لوگ پيرس كے كسي چرچ ميں جاكر احتجاجاً بيٹه جائيں تاكہ حكومت سيد مہدي ہاشمي كو آزاد كردے؟ امام خميني نے نہايت غصہ كي حالت ميں ہم پر ايك نگاہ ڈالي اور فرمايا: تم لوگ ايك قاتل كيلئے بهوك ہڑتال پر بيٹهكر احتجاج كرنا چاہتے ہو؟ (۳۰)

مزید  تقلید

جناب حميد روحاني صاحب، حسن علي منصور كو دہشت گردانہ طور پر قتل كرنے كے متعلق امام خميني سے كئے گئے سوال كے بارے ميں كہتے ہيں:امام خميني قاعدتا دہشت گردي كے مخالف تهے اور انكي دليل يہ تهي كہ ممكن ہے اس كے بعد اس سے بهي بدتر افراد اقتدار ميں آجائيں۔ دوسري وجہ يہ تهي كہ دہشت گردي كے نتيجہ ميں بے گناہوں كے مارے جانے بهي امكان رہتا ہے اور معاشرہ ميں خوف و دہشت كا ماحول پيدا ہوتا ہے۔

۴۔ اسلامي انقلاب كے بعد بهي امام خميني كي زندگي ميں ايك بهي موقع ايسا نہيں آيا جب انہوں نے كسي كو دہشت گردانہ كاروائي كي اجازت دي ہو۔ بلكہ اگر كوئي بهي شخص ايسي حركت انجام دينا چاہتا تها ، تو اسكي شديد مخالفت كرتے تهے۔ آپ دہشت گردوں كے طريقۂ كار كے متعلق فرماتے ہيں:” كبهي بهولے سے بهي نہ سوچنا كہ يہ لوگ طاقت كے دم پر اس قسم كے كام انجام دے رہے ہيں، كسي مقام پر بم دهماكہ كردينا، كوئي بہادري نہيں ہے كيونكہ يہ كام تو كوئي چهوٹا بچہ بهي كرسكتا ہے كہ كسي جگہ پر ايك بم لے جا كر ركهدے اور اسي بم كے ساته خودوہ بهي ختم ہوجاۓ۔ يہ طاقت نہيں ہے بلكہ حد درجہ كي كمزوري ہے۔ ميرے نظر ميں ابن ملجم (خدا اس پر لعنت كرے) ان لوگوں سے زيادہ بہادر تها كيونكہ وہ اپنا كام كرنے كيلئے كم از كم خود آيا اور لوگوں كي نگاہوں كے سامنے اس نے اپنا كام انجام ديا۔ ان لوگوں ميں اس خبيث كے برابر بهي مردانگي نہيں پائي جاتي ہے۔ يہ لوگ چوروں كي طرح كام كرتے ہيں اور خود كو كبهي ظاہر ہونے نہيں ديتے ہيں۔ ميں سمجهتا ہوں كہ عباس آقا اصلي مرد تها جس نے پارليمنٹ كے نزديك ايران كے صدر اعظم (امين السلطان) كو سات گولياں ماريں اور قتل كيا ، اور بعد ميں خود بهي گرفتار ہوگيا، ليكن يہ لوگ نامرد ہيں ۔ يہ جو لوگ يہاں سے فرار كر گئے ہيں اور دوسرے ملكوں سے حكم ديتے ہيں كہ لوگوں كو چپكے سے پكڑليں اور پهر قتل كرديں، يہ نامردوں اور بزدلوں كا طريقہ ہے۔”(۳۱)

اتني ساري مثالوں كے بعد اب ہم كہہ سكتے ہيں كہ ہماري اسلامي شخصيات كي زندگي ميں كہيں بهي دہشت گردي كي كوئي جگہ نہيں ہے كيونكہ دہشت گردي ايمان اور اسلام كے ساته تضاد ركهتي ہے۔

نتيجہ

مختلف زبانوں ميں دہشت گردي ، خوف و ہراس پهيلانے والے ، غير قانوني ، خفيہ اور لوگوں كے درميان وحشت پهيلانے والے ايسے اقدام كو كہا جاتا ہے، جو كہ مخالفين كوقتل كركےيا زور زبردستي كے ذريعہ تو كبهي خطرناك وسائل كے سہارے ان سے منسوب جگہوں پر توڑ پهوڑ مچاكر انجام ديا جاتا ہے جبكہ قرآن نے خفيہ طور پر كسي انسان كو قتل كرنے كي منع كيا ہے، بے گناہ اور ناحق كسي انسان كے قتل كو جائز نہيں كہتا ہے، نيز ايسے افراد كا خون بہانے كو جائزنہيں قرار ديا ہے جن كا خون محترم ہے۔

مختلف روايتوں ميں ‘دہشت گردي’ كو ظہور امام زمانہ  كي علامت اور اسلام و ايمان كے مخالف بتايا گيا ہے اور اسلام كي نگاہ ميں دہشت گردي ايك باطل فعل ہے۔

اگرچہ قرآن كريم ميں بعض مقامات پر بطور قصاص يا روي زمين پر فساد برپا كرنے والے اور خدا ورسول كے خلاف جنگ كرنے والے كو قتل كرنے كي اجازت دي گئي ہے ليكن كسي بهي جگہ پر امام معصوم عليہ السلام ، نائب امام يا حاكم اسلامي كي اجازت كے بغير ، مخفيانہ طور پر كسي كو قتل كرنے كي اجازت نہيں دي گئي ہے جيسا كہ دہشت گردي ميں ہوتا ہے۔ اسكے علاوہ اسلامي حدود، دہشت گردي كے برخلاف معاشرہ ميں امن و سكون كي فضا ايجاد كرنے ميں اہم كردار كرتے ہيں۔

رسول اكرم  نے بعض مقامات پر كچه افراد كو قتل كرنے كا حكم ديا ہے۔ مدينہ ميں بہت سارے ايسے بهي تهے جو مسلمانوں كي توہين كيا كرتے تهے، انكے دشمنوں كي مدد كيا كرتے تهے، معاشرہ كا امن و سكون غارت كرتے تهے، مسلمانوں كي عورتوں كي عزت و آبرو كو نشانہ بناتے تهے اور رسول اكرم  كے ساته كئے گئے عہد و پيمان كے بهي پابند نہيں تهے، ظاہر ہے رسول اكرم  اگر ايسے افراد كو قتل كرنے كا حكم ديں تو اسے كسي بهي صورت ميں دہشت گردي نہيں كہا جاسكتاہے۔ كيونكہ دہشت گردي مخفيانہ طور پر انجام دي جاتي ہے، اسكي خاصيت يہ ہے كہ عوام ميں خوف و دہشت پيدا كرتي ہے اور دہشت گردي كا شكار ہونے والا كسي طرح كي قانوني چارہ جوئي كے بغير ہي قتل ہوجاتا ہے۔ ليكن رسول اكرم  اور ائمہ عليہم السلام نے منصب قضاوت پر ہوتے ہوۓ علني طور پر ان لوگوں كے قتل كا حكم صادر كيا ہے۔ دہشت گردي كے برخلاف اس قسم كے اقدامات معاشرہ ميں امن و سكون كے اضافہ كا سبب ہوتے ہيں۔ لہذا نبي كريم  كي سيرت طيبہ ميں كہيں بهي دہشت گردي كاروائي كا سراغ نہيں ملتا ہے۔بلكہ نبي كريم  سے نقل شدہ متعدد روايتوں ميں ‘ٹرر'(دہشت گردي) كي ممانعت كي گئي ہے۔ وہ رسول جو نبي رحمت ہو كيسے كسي انسان كو بغير كسي حساب و كتاب كے قتل كرنے كي اجازت دے سكتا ہے۔(۳۲)

معصومين عليہم السلام كي سيرت ميں بهي بعض ايسے واقعات مل جائينگے جب آپ حضرات نے بعض افراد كو دهوكہ بازي، بدعت ايجاد كرنے ، مكاري، لوٹ مار ، جهوٹي روايتيں گڑهنے ، معصومين عليہم السلام كي شان ميں غلو ، شيعوں پر تہمت لگانے ، مسلمانوں كے عقائد تباہ و برباد كرنے، گمراہي، بد معاشي اور معاشرہ كي تباہي كا سبب ہونے كي بنا پر ، قتل كرنے كا حكم صادر كيا ہے۔ معصومين عليہم السلام كے ان اقدامات كو بهي دہشت گردي كے زمرہ ميں نہيں ركها جاسكتا ہے كيونكہ ائمہ معصومين عليہم السلام نے منصب قضاوت پر ہوتے ہوۓ ايسے مجرمين كو موت كي سزا دي ہے جن كے بعد لوگوں نے گمراہي ،جهوٹي تہمتوں اور عقائد ميں ناروا بدعتوں كے داخل ہونے سے نجات پائي ہے اور مسلمان خواتين كي عزت وآبرو محفوظ ہوئي ہے۔ اسي كے بالمقابل دہشت گردي كے نتيجہ ميں انسان فكري طور پر گمراہ ہوتا ہے، عمومي چين و سكون غارت ہوجاتاہے اور لوگ كے درميان امن و سلامتي كے بجاۓ تشدد رائج ہوجاتاہے۔

 

حوالہ جات:

۱۔ فرهنگ خاص علوم سياسي،(خصوصي لغت براي سياسيات )حسين علي زاده، ناشر: روزنه، تهران، ۱۳۷۷ ص ۲۷۴۔ 

۲۔ فرهنگ روابط بين الملل،(لغت براۓ بين الاقوامي تعلقات)جك سي ۔ پلينو و روي آلٹن، ترجمه و تحقيق حسن پستا، و فرهنگ معاصر (جديد تہذيب)تهران، ۱۳۷۵، ص۲۴۳۔

۳۔”از نفوذ تا سد نفوذ” ،(جاسوسي سے ليكر انسداد جاسوسي تك) زيبا فرزين نيا، خارجہ سياست سے متعلق سہ ماہي ميگزين، سال ۱۱، بهار ۱۳۷۶، شماره ۱، ص ۱۱۸۔

۴۔ فرہنگ اصطلاحات معاصر ، قم ناشر: دار الاعتصام، لفظ ‘فتك’ كے ذيل ميں۔

۵۔ لسان العرب، لفظ ‘فتك’كے ذيل ميں۔

۶۔ المنجد (ترجمہ) مترجم: مصطفي رحيمي، ناشر: صبا پبليكيشن، تہران، لفظ ‘رهب’ كے ذيل ميں۔

۷۔ تفسير نمونہ، مصنفين كي ايك جماعت، ناشر: دارالكتب الكتب الاسلاميہ، ص ۵۸۴۔

۸۔ المنجد، (ترجمہ) سابق، لفظ ‘غيلہ’ كے ذيل ميں۔

۹۔ فرہنگ بزرگ جامع نوين، احمد سياح ، ناشر: اسلام پبليكيشن، تہران، لفظ ‘اغتيال’ كے ذيل ميں۔

۱۰۔ فرہنگ عميد، (فارسي لغت) لفظ ‘ترور’ كے ذيل ميں۔

۱۱۔ دہخدا، (فارسي لغت) لفظ ‘ترور’ كے ذيل ميں۔

۱۲۔ تفسير نمونہ ، اہل قلم كي ايك جماعت، سابق،ص ۵۸۶، و بحار الانوار، ج ۵۲، ص ۲۷۷۔

۱۳۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد، تحقيق: محمد ابو الفضل، ناشر: دار الحياۃ التراث العربي، بيروت، ص ۲۱۹

۱۴۔ تفسير نمونہ ، مصنفين كي ايك جماعت، سابق، ص ۶۰۲تا ۶۱۰، تفسير الميزان ، علامہ محمد حسين طباطبائي، ترجمہ: محمد باقر موسوي ہمداني، ج۱،ناشر:دفتر انتشارات اسلامي ، ص ۶۶۴، ترجمہ و توضيحات قرآن ، بہاء الدين خرمشاہي، ناشر: نيلوفر و جامي پبليكيشن، تہران، ص ۲۷

۱۵۔ تفسير نمونہ ، مصنفين كي ايك جماعت، سابق، ج۴،ص۳۶۰، و الميزان ، علامہ طباطبائي، سابق، ج۵،ص ۵۳۳۔

۱۶۔ تفسير نمونہ ، مصنفين كي ايك جماعت، سابق، ج۱،ص ۶۰۲ تا ۶۱۰، و سابق، محمد حسين طباطبائي،و سابق، ج۱،ص ۶۶۴، بہاءالدين خرمشاہي، سابق، ص ۲۷ 

۱۷۔ تفسير نمونہ ، مصنفين كي ايك جماعت، سابق، ج۴،ص ۲۵۵۔ و سابق، بہاء الدين خرمشاہي، ص ۱۱۳، و سابق،محمد حسين طباطبائي، ج۵،ص ۵۲۰، مجمع البيان، طبرسي، ترجمہ و تحقيق:محمد مفتح، ج۷، ناشر: فراہاني پبليكيشن، تہران، ص ۱۳

۱۸۔ تفسير نمونہ ، مصنفين كي ايك جماعت، سابق، ج۴،ص ۳۶۰، سابق، محمد حسين طباطبائي، ج۵، ص ۵۳۳

۱۹۔ سابق۔

۲۰۔ سنہ ۱۳۴۳ ميں ‘اسلام كي نگاہ ميں دہشت گردي’ كي عنوان سے كي گئيں آيت اللہ سعيدي كي تقرير۔

۲۱۔ دائرة المعارف اطلاعات و امنيت در آثار و متون اسلامي،(اسلامي آثار و كتب ميں سلامتي و خفيہ معلومات پر مبني دائرۃ المعارف)علي دعموش عاملي، ترجمه غلامحسين باقر مهياري و رضا گرماب دري،ناشر: دانشگاه امام حسين عليه السلام، تهران، ۱۳۷۹، ص ۲۸۰۔ 

۲۲۔ سابق، ص ۳۰۳

۲۳۔ سابق۔

۲۴۔ سابق۔ 

۲۵۔سابق۔ 

۲۶۔ سابق۔

۲۷۔ تساہل و تسامح، مصنفين كي ايك جماعت، ناشر:آفرينہ پبليكيشن، تہران، ۱۳۷۹،ص ۳۵۔

۲۸۔ مسلم بن عقيل، جواد محدثي، ناشر: دفتر تبليغات اسلامي(اسلامي تبليغات كا مركز) قم، ۱۳۷۵، ص۲۵

۲۹۔ اصول كافي،ج۷،ص ۳۷۵۔

۳۰۔ كيہان (اخبار) ۵خرداد سنہ ۱۳۶۸ شمسي، ص ۸۔

۳۱۔ امام خميني رضوان اللہ تعالي عليہ ،Capitulationمعاہدہ كےمنصوبہ ساز اور اسكو عملي جامہ پہنانے والےحسن علي منصور كو دہشت گردانہ طريقہ سے قتل كرنے پر راضي نہيں ہوۓ۔ “حسن علي منصور كے قتل كے سلسلہ ميں باوجوديكہ ‘مؤتلفہ اسلامي’ (اسلامي اتحاد) تنظيم نے اپني طرف سے امام خميني كي خدمت ميں اجازت كيلئے ايك نمائندہ كو روانہ كياتها ، ليكن پهر بهي امام خميني نے ايسا فرمان جاري كرنے سے گريز كيا اور مجبوراً اس تنظيم كے افراد نے بعض ديگر۔۔۔ افراد كي جانب رخ كيا۔ ” جناب محسن رضائي نے كيہان نامي اخبار كے خبرنگار سے گفتگو كے دوران كہا:” وہ (امام خميني ) مسلحانہ اقدامات كے مخالف تهے ، يعني وہ اپني حكمت عملي كے تحت مسلحانہ اقدام كو پسند نہيں كرتے تهے۔۔۔حتي كہ انہوں نے خسرو داد كي موت كي سزا كي بهي تائيد نہيں كي۔ ہميں ايك دوست نے جو كہ ہمارے اورامام خميني كے درميان رابطہ كا كام انجام ديتا تها ، بتايا كہ جب امام خميني سے اس كے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے سكوت اختيار كيا اور ہم نے انكي خاموشي سے اندازہ لگايا كہ وہ اس كام كے مخالف ہيں۔۔۔ امام خميني رضوان اللہ تعالي عليہ مسلحانہ كاروائي كو حكمت عملي كے طور قبول نہيں ركهتے تهے۔ چونكہ وہ اصل لڑائي كو لوگوں كے درميان ديكهتے تهے لہذا لوگوں كي بيداري پر بہت زيادہ زور ديا كرتے تهے۔”(جناب محسن رضائي صاحب كا كيہان نامي اخباركو ديا گيا انٹرويو، تاريخ:۱۹بہمن،سنہ۱۳۷۸شمسي،ص۸۔) حقيقتا امام خميني كسي بهي طرح كي فوجي كاروائي كے مخالف تهے اور معاشرہ ميں تبديلي اور عوام كو متأثر كرنے كيلئے ثقافتي امور كے قائل تهے۔ (صحيفۂ امام ، ج۱۵، ناشر: موسسۂ تنظيم و نشر آثار امام خميني،ص ۱۳۹، سنہ ۱۳۷۸شمسي

۳۲۔ اسلام دين رحمت ہے۔ درج ذيل آيات كي روشني ميں اسلام كي صفت رحمت كو واضح طور پر درك كيا جاسكتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:” كَتَبَ عَلي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ “( اس نے اپنے اوپر رحمت كو لازم قرار دے ليا ہے)۔ اسي لئے نبي كريم سے ارشاد فرماتا ہے:”اور ہم نے آپ كو عالمين كے لئے صرف رحمت بناكر بهيجا ہے”(انبياء ، ۱۰۷)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.