خيموں کي حالت

0 0

ايسي خوفناک صورتحال کي وجہ سے بچوں نے رونا شروع کر ديا – شمر کے خيموں پر حملے کي وجہ سے عورتوں کو خيموں سے باہر آنا پڑا – امام نے اھل حرم کو بڑے آرام سے واپس آنے کي دعوت دي – شمر اور اس کے سپاہيوں کے دور ہو جانے کے بعد خواتين آہستہ سے خيموں ميں واپس آ گئيں – سورج سر پر تھا اور ميدان ميں گردو غبار چھائي ہوئي تھي- امام کے ساتھيوں ميں سے ( جز بني ھاشم ) چند ہي باقي رہ گۓ تھے مگر يہ چند افراد بھي ايمان ، معرفت اور پوري بصيرت کے ساتھ شمر کي فوج کے سامنے

ايسي  خوفناک صورتحال کي وجہ سے بچوں نے رونا شروع کر ديا – شمر کے خيموں پر حملے کي وجہ سے عورتوں کو خيموں سے باہر آنا پڑا – امام نے اھل حرم کو بڑے آرام سے واپس آنے کي دعوت دي – شمر اور اس کے سپاہيوں کے دور ہو جانے کے بعد خواتين آہستہ سے  خيموں ميں واپس آ گئيں –  سورج سر پر تھا اور ميدان ميں گردو غبار چھائي ہوئي تھي- امام کے ساتھيوں ميں سے ( جز بني ھاشم )  چند ہي باقي رہ گۓ تھے مگر يہ چند افراد  بھي ايمان ، معرفت اور  پوري بصيرت کے ساتھ شمر کي فوج کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار کي مانند کھڑے تھے – بني ھاشم ميں سے کوئي بھي شہادت کے رتبے کو نہيں پہنچا تھا – وہ سب کے سب پہاڑ بن کر امام کي پاسداري کر رہے تھے –

مزید  کیوں بعض قرآنی آیات متشابہ ھیں؟

کربلا اپنے عروج کو پہچ چکا تھا – اقامت نماز کے ليۓ وقت نزديک  آ گيا تھا – امام کے ساتھيوں کي يہ چھوٹي سي جماعت خود کو امام کي امامت ميں  اپني آخري نماز کے ليۓ تيار کر رہي تھي –

نماز ظھر عاشورا ، نماز کے شھداء اور نماز کے بعد

عاشورا کے يہ ستارے تپتے آسمان کے نيچے بڑي جرات  اور دليري کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے – ميدان ميں ہيبت ، گردو غبار اور شمشيروں کا شور تھا  اور ميدان کے چپے چپے ميں  شہداء کا  لہو اور جسم کے ٹکڑے ديکھے جا سکتے تھے –

اس موقع پر ابو تمامھ عمرو بن عبداللہ صائدي   ابا عبداللہ عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوا اور کہنے لگا –

ميري جان آپ پر فدا ہو : دشمن لحظہ بہ لحظہ قريب آ رہا ہے – خدا کي قسم ! ميں آپ کي جان کي حفاظت کروں گا يہاں تک کہ اپني جان آپ کے قدموں ميں نچھاور کر دوں – ميرا دل کرتا ہے کہ خدا کا ديدار کروں ، اس وقت جب ميں اپني نماز ميں اقامت کي حالت ميں ہوں –

ابا عبداللہ الحسين عليہ السلام نے سر اٹھايا اور آسمان کي طرف ديکھا – گردو غبار کے پيچھے سورج آسمان کے وسط ميں وقت ظہر کي گواہي دے رہا تھا – امام عليہ السلام نے ابوتمامھ کي طرف منہ کيا اور فرمايا “

“تم نے مجھے نماز کي ياد دلائي ، خدا تمہيں نماز گزاران اور ذاکروں ميں جگہ دے – “

ہاں ! يہ تو وقت نماز ہے –

مزید  اصحاب سبت،سنيچر كى چھٹي اوربنى اسرائيل كى نافرماني

امام نے پھر فرمايا !

” ان دشمنوں سے کہو کہ ہم سے ہاتھ اٹھا ليں تاکہ ہم نماز پڑھ ليں “

ابو مختنف کہتا ہے کہ

امام نے ابوتمامھ سے فرمايا کہ اذان کہو !

اور پھر عمر سعد سے مخاطب ہو کر بولے ! افسوس ہے تم پر اے سعد کے بيٹے –

کيا تمہيں اسلام کے قوانين ياد ہيں ؟ کيوں جنگ کو نہيں روک  رہے ہو تاکہ  دونوں اطراف نماز پڑھ ليں اور پھر جنگ کي طرف واپس آئيں – “

دشمن کا ردعمل

امام  کي فوج کي طرف سے نماز کے ليۓ اعلان امان کے ساتھ حصين بن تميم نے فرياد لگائي – ” يہ نماز قابل قبول نہيں “

حبيب بن مظاھر نے جواب ديا !

تم يہ ادعا کر رہے ہو کہ خاندان پيغمبر اسلام کي نماز قبول نہيں ہو گي اور خمّار ميں ( حمار يا ختار ) قبول ہو گي ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.