حقیقی عارف

0 4

کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جومعرفت خدا وندی کے اعلی درجات پر فائز ہونے کے دعویدار ہیں لیکن معرفت خدا کی بو بھی ان کے پاس سے نہیں آتی۔ خدا کی شناخت کا ذرہ بھی ان کے دل میں نہیں ہوتا ۔ وہ صرف دعوی کرتے ہیں ا ور الفاظ بولتے ہیں۔ ہمیں بہت ہوشیار رہنا چاہیے کہ کبھی ایسے افراد کا دھوکا نہ کھا جائیں۔ گفتار معیار نہیں ہے رفتار معیار ہے۔ اس کے کردار اور اعتقاد پر نگاہ کرنا چاہیے کہ وہ کس قدر شرعی  احکام و دستورات کا اور اسلامی تعلیمات کا پابند ہے؟ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا اس کی گفتار اس کی رفتار کے ساتھ موافق ہے؟

واقعی عارف ظاہری ناز و نخروں کو دوست نہیں رکھتا۔ وہ کبھی بھی اس بات کی خواہش نہیں کرتا کہ  سب دنیا والے یہ جان لیں کہ میں خدا شناس ہوں۔ اور خدا تک پہنچا ہوں۔ واقعی عارف کو ظاہری بناؤ سنگار ،قیافہ ،لباس ا ور گدی کومرتب کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔وہ کسی بھی لباس میں ہو سکتا ہے ۔ ممکن ہے آپ کے محلہ کا کوئی درزی، کوئی دوکاندار جس نے کبھی بھی عارف ہونے کا نام تک نہ لیا ہو اور آپ بھی اس کو نہ جانتے ہوں لیکن وہ اولیاء خدا اور مقربان درگاہ الٰہی میں سے ہو۔ دفاع مقدس کے محاذ پر بہت سارے ایسے شہداء اور جنگ لڑنے والے تھےجو عرفان کے بلند مقامات پر فائز تھے وہ لوگ جنہوں نے ساٹھ سال عبادتوں اور ریاضتوں میں گزارے تھے وہ بھی ان مقامات تک نہیں پہنچے تھے۔ انہوں نے سوسالہ راستے کو ایک رات میں طے کر لیا تھا ۔ حقیر اس سن و سال اور سفید ڈاڑھی کے ساتھ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ ان کے پیروں کی خاک ہوں۔ عارف ہونا اور عرفانی مقامات تک پہنچنا کسی خاص گروہ یا طائفہ کی ملکیت نہیں ہے۔ ہر محکمہ  کے افراد  عالم، ڈاکٹر، انجینیر،پڑھے لکھے ، جاہل ،تاجر، کسان سب کے سب اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہیں۔

عارف ہونا، نام سے نہیں ہے۔ اور ضروری نہیں ہے کہ حتمی طور پر کوئی اس کا نام ہی عارف رکھے تاکہ وہ عرفان کی طرف بڑھے۔ بہت سارے ایسے علماء کہ جنہیں ہم صرف حلال و حرام کا فتویٰ دینے اور شرعی احکام میں تخصص رکھنے کے عنوان سے پہچانتے ہیں لیکن در حقیقت وہ عرفان کے عظیم مقامات پر فائز ہوتے ہیں۔ عرفان کو لوگوں کی رفتار، ان کے اعمال اور کردار میں تلاش کرنا چاہیے۔ نہ ان کی باتوں اور خوبصورت قیافہ و لباس میں۔ آئمہ (ع) کہ جو معنوی مقامات کے چوٹیوں اور عرفان کی عروج پر تھے اپنی رفتار و گفتار سے واقعی عرفان کو ہمیں تعلیم دیا ہے۔ بہت ساری دعاؤں میں کہ جو ان بزرگوں سے نقل ہوئی ہیں ان میں عرفان  واقعی کی خصوصیات و صفات کو بیان کیا ہے۔ مناجات شعبانیہ کو اس سلسلے میں ایک آشکار انمونہ  کے طور پر جانا جاسکتا ہے کہ جو نہایت عظیم مطالب کے حامل ہیں۔ اور  امیر المومنین  اور باقی آئمہ (ع)  انہیں پڑھنے کے پابند تھے۔ ان مناجات کے ایک حصے میں ذکر ہوا ہے :

الٰہی و الحقنی بنور عزک الابھج فاکون لک عارفا و عن سواک منحرفا و منک خائفا مراقبا (مفاتیح الجنان، اعمال مشترک ماہ شعبان)

بار الھا! مجھے اپنی عزت کے نور کی روشنی سے منور فرما تاکہ تیرا عارف اور پہنچاننے والا بن سکوں اور تیرے غیر سے روگرداں رہوں اور تجھ سے ڈرتا رہوں۔

دعا کے اس حصے میں خدا وند متعال سے یہ چاہتےہیں کہ ہمیں عرفانی مقام سے قریب فرما۔ “فاکون لک عارفا”۔ عارف ہونے کی علامت کیا ہے؟ سب سے پہلی اوراہم علامت اس کی یہ ہے کہ “عن سواک منحرفا” اگر کوئی حقیقت میں عارف باللہ ہے تو وہ کبھی بھی غیر خدا سے دل وابستہ نہیں کرے گا۔ غیر خدا سے ہمیشہ اس کا دل روگرداں رہتا ہے۔ وہ کبھی بھی مرید بنانے اور ڈھنگوسلہ بازی کرنے کے چکر میں نہیں رہتا۔ اس کے لیے فرق نہیں کرتا کہ کوئی اس کا مرید بنے یا نہ بنے۔ عارف واقعی وہ  ہےجس کے لیے خدا کے علادہ کچھ بھی مہم نہیں ہے۔ اس کے سامنے جواہرات کا ڈھیر خاک کے ذرہ کے برابر  ہوتا ہے۔

مزید  تاریخی مثالیں

حقیقی عارف کی دوسری علامت یہ ہے کہ ” و منک خائفا مراقبا” وہ صرف خدا سے خوف کھاتا ہے اور ہمیشہ اس کی توجہ خدا کی طرف رہتی ہے اور ہمیشہ ہوشیار ہے کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا دے۔

حقیقی عرفان اور واقعی عارف اس طرح کے ہوا کرتے ہیں۔ عرفان اور خدا کا قرب نام و نمود نہیں چاہتا۔ ایسا نہیں کہ اگر کسی کو عارف نہ کہا گیا، لوگوں نے اسے صوفی نہ کہا یا اس طرح کے القاب سے نہ نوازا تو وہ عرفان سے محروم ہے۔ بہت سارے ہمارے بزرگ عارف کا لقب نہیں رکھتے تھے لیکن اگر کوئی سچے عرفان کی تلاش میں ہے تو اسے ان کے پاس تلاش کرے۔ بہت سارے ایسے علماء کہ جنہیں ہم فقیہ، فلسفی، یا محدث کے نام سے جانتے ہیں لیکن وہ صاحب کرامت تھے اور مقام شہود پر فائز تھے۔ لیکن چونکہ ظاہری اعتبار سے عرفانی رنگ و روپ نہیں رکھتے تھے لوگوں کے درمیان کوئی عارف ہونے کی حیثیت سے انہیں نہیں جاتنا تھا۔ اتفاق سے ایسے افراد پر اطمینان کرنا مدعیان عرفان کی  بہ نسبت زیادہ بہتر ہے ۔البتہ مورخین نے ان میں سے بعض بزرگوں کو ان سے کرامات کے ظاہر ہونے کی وجہ سے انہیں عرفا میں سے شمار کیا ہے۔ لیکن وہ اپنے زمانے میں عارف ہونے  کے عنوان سے مشہور نہیں تھے۔ جیسے مقدس اردبیلی، شیخ انصاری  کہ جنہوں نےان افراد کی نسبت جو عرفان میں نام و نمودرکھتے ہیں کئی زیادہ قرب الی اللہ کے مقامات کو حاصل کیا ہے۔

معمولی معیار کے ساتھ ممکن ہے ہم بعض افراد کو بہت بلند و بالا مقامات کے حامل سمجھ لیں حالانکہ خدا کے نزدیک وہ معمولی سا مقام بھی نہ رکھتے ہوں۔ ایسے ہی جیسے بہت سارے افراد خدا کے نزدیک عظیم مقام رکھتے ہیں حالانکہ بظاہر ان سے کوئی کرامت یا عرفانی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔

اس اعتبار سے کرامات اور ا س طرح کی چیزوں کا ظہور کسی شخص کے برتر ہونے کی دلیل نہیں ہے ممکن ہے کوئی شخص خارق العادہ کاموں کو انجام دینے پر قادر ہو لیکن کچھ بھی ظاہر نہ کرے۔ اتفاق سے یہ  خود ایک کمال ہے کہ انسان  فوق العادہ کاموں  کو انجام دینے کی طاقت رکھتا ہو لیکن انجام نہ دے تاکہ دوسرے اس کو نہ پہچان سکیں اور ریاکاری کا شائبہ بھی نہ رہے۔ اس بناپر ان افراد کو جن سے کسی طرح کی کرامت ظاہر نہیں ہوتی دوسروں سے کم تر شمار نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ ممکن ہے انہوں نے کچھ دکھانا نہ چاہا ہو۔

شیخ انصاری کے دو واقعے

شیخ انصاری شیعوں کے بزرگ علماء اور فقہاء میں سے تھے۔ آپ کی لکھی ہوئی کتابیں ” رسائل ” اور ” مکاسب” دسیوں سال سے حوزہ  ہائے علمیہ میں تدریس ہو رہی ہیں۔ اس اعتبار سے آپ کے بعد آنے والے تمام علماء اور فقہا نے آپ کے دسترخوان علم و فقاہت سے غذا حاصل کی ہے۔ آپ کے علمی مقام و منزلت اور فقہ و اصول میں نئی اختراعات سے چشم پوشی کرتے ہوئے آپ کی شخصیت کو جو چیز چار چاند لگاتی اور ممتاز بناتی ہے وہ آپ کا زہد و تقویٰ اور معنوی فضائل ہیں۔ شیخ انصاری وہ شخصیت ہے جن کی زندگی کے ہر گوشہ و کنارے  میں  حقیقت عرفان کو  تلاش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نہ ہی عرفان کا درس دیا نہ کوئی عرفان پر کتاب لکھی اور اپنے شاگردوں اور اپنے زمانے کے لوگوں میں عارف کے نام سے مشہور ہوئے۔ لیکن للٰہیت اور خدائی رنگ و بو ان کی زندگی میں آشکارا نظر آتا ہے۔آپ کی زندگی میں عرفانی پہلو اور اخلاقی فضائل اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا تذکرہ یہاں کرنا محال ہے۔ صرف ایک دو واقعے بعنوان مثال یہاں پر آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں:

مزید  عزاداری کا مقام و منزلت اور اس کے تقاضے

کہتے ہیں کہ جب شیخ انصاری نجف اشرف میں زندگی گزار رہے تھے ایک دن گرمی کے موسم میں گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ جنہوں نے نجف کی گرمیوں کا موسم دیکھا ہو و ہ سمجھ سکتے ہیں کہ نجف میں کس طرح کڑاکے کی گرمی پڑتی ہے۔بہر حال، شیخ انصاری اس کڑاکے دار گرمی میں پیاس کی حالت میں باہر سے آتے ہیں اور پانی طلب کرتے ہیں۔ اس زمانے میں نجف میں فریج وغیرہ تو تھے نہیں۔ لہذا گرمیوں میں آب و خوراک کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے تہہ خانے بنائے جاتے تھے  اور کوزوں  میں پانی ڈال کر ان میں رکھ دیا جاتا تھا۔ لہذا جب تک کوئی جاکر تہہ خانہ سے پانی اٹھا کر لاتا شیخ نے اس فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے دوکعت نماز پڑھنا شروع کر دی۔ تصور کریں نجف کی گرمی پچاس ڈگری کا درجہ حرارت اورشیخ بھی تھکے ہوئے درس پڑھا کر آئے تھے اور پانی طلب کیا۔ لیکن جب تک پانی لاتے اس مختصر سے وقت کو بھی انہوں نے ضایع نہیں کیا ۔ بہرصورت، شیخ جب نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے ۔ آپ کے اوپر ایسی معنوی کیفیت طاری ہو گئی کہ قرآن کے طولانی سوروں میں سے ایک سورہ کی تلاوت شروع کر دی اس بنا پر جب تک آپ کی نماز تمام ہوتی کافی وقت گزر چکا تھا۔ آخر کار جب آپ نے چاہا کہ پانی نوش فرمائیں تو وہ پانی گرم ہو چکا تھا لہذا آپ  وہی پانی پی کر اپنے روز مرہ کاموں میں مشغول ہو گئے۔

حقیقت میں عرفان یہ ہے یا یہ کہ کوئی شخص امریکہ، پیرس یا سویزر لینڈ کے کسی محل میں گدی نشین ہو جائے اور اپنے اطراف میں مریدوں کو مجمع لگا کر ان کے لیے دستور صادر کرے؟  انصاف سے بتائیں حقیقی عرفان کسے کہتے ہیں؟  شیخ انصاری کی زہدانہ اور سادہ زندگی نجف اشرف میں   در حقیقت عرفانی زندگی ہے یا کافر ممالک کے اندر ہر طرح کے ساز و سامان سے سجھی  دجھی بلڈنگوں کے اندر عیش و آرام سے رہنا عرفانی زندگی کا مصداق ہے؟

شیخ انصاری کی زندگی نہایت سادہ  اور معمولی تھی۔ بہت سادہ لباس زیب تن کیا کرتے تھے ۔ہمارے اساتید نے شیخ انصاری کے ہم عصر  لوگوں اور ان کے شاگردوں سے نقل کیا ہے کہ آپ کی ظاہری حالت ایسی تھی  کہ جو  آپ کو  نہیں پہچانتا تھا اگر کوچہ و گلی میں دیکھتا تو یہ سوچتا تھا کہ آپ قبرستان  میں کام کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کی حالت تھی کہ جب دنیا کے مختلف شہروں سے خمس و زکات   کے مال سے بھر ے ہوئے تھیلے آپ کے گھر میں لائے جاتے تھے اور آپ بالکل ان کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔

ہاں، حقیقی عارف شیخ انصاری جیسے ہوا کرتے ہیں کہ محض فرصت ملتے ہی اپنے معبود سے خلوت اختیار کرنے کو غنیمت سمجھ لیتے ہیں اور نماز میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اور اس حالت ایسی لذت کا احساس کرتے ہیں کہ  پیاس کو بھول جاتے ہیں۔ وہ پاکیزگی نفس، دنیا سے دوری اور مادیات  سےکنارہ کشی کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ اس کے باوجود کہ مال دنیا بہت آپ کے پاس تھا اس  کی طرف توجہ نہ کرتے ہوئے اپنے متاع قلیل پر اکتفا کیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ شیخ انصاری کے بارے میں نقل ہوا ہے دل چاہتا ہے اسے ذکر کر دوں:

آپ کے شاگردوں میں سے ایک نے نقل کیا ہے کہ ایک رات عالم خواب میں شیطان کو دیکھا جو رنگ برنگی رسیاں ہاتھ میں لئے ہوئے تھا۔ میں نے پوچھا: یہ رسیاں کس کےلیے ہیں؟ اس نے کہا: یہ رسیاں لوگوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ انہیں لوگوں کی گردنوں میں ڈال کر اپنی طرف کھینچتا ہوں۔ ان میں سے ایک مال و دولت ہے، دوسری عورت، تیسری جاہ  ومقام اور چوتھی شہوت پرستی۔۔۔ ہے میں نے ان کے درمیان ایک  ٹوٹی ہوئی موٹی رسی کو دیکھا۔ میں نے شیطان سے پوچھا :یہ رسی کیوں ٹوٹ گئی ہے؟ اس نے کہا : سالہا سال سے میں شیخ انصاری کو گمراہ کرنے اور انہیں اپنے دام میں پھنسانے کے چکر میں تھا ۔ یہاں تک کہ گزشتہ شب میں اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا اور یہ رسی میں نے شیخ انصاری کی گرد ن میں ڈال دی تھی لیکن آخر کار شیخ انصاری نے  اس رسی کو توڑ دیا اور میری ساری محنتوں پر پانی  پھیر دیا۔

مزید  اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس طالب علم اور شیخ انصاری کے شاگردکا کہنا ہے کہ میں صبح نیند سے اٹھا اور جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا تھا اس کے بارے میں سوچ کر  حیرت میں پڑ گیا  ۔ صبح جلد ی ہی میں شیخ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ کل رات کو میں نے ایسا خواب دیکھا ہے شیخ انصاری رونے لگے اور فرمایا: وہ ملعون صحیح کہہ رہا ہے ۔  کل رات وہ مجھے اپنی نیرنگیوں سے گمراہ کرنے جا رہا تھا لیکن اتفاق سے اپنے اس ناپاک ارادہ مٰیں کامیاب  بھی ہو گیا تھا۔  لیکن آخر کار کامیابی اس  کے نصیب نہیں ہو سکی ۔ میں نے عرض کیا ماجرا کیا ہے؟ فرمایا :کل رات میری زوجہ  کے ہاں وضع حمل تھا ۔اور خواتین نے تقاضا کیا کہ کچھ مقدار گھی میں اپنی زوجہ کے لیے تہیہ کروں ۔ ( بہت سارے لوگوں کے درمیان یہ رسم پائی جاتی ہے کہ جب کسی عورت کے ہاں وضع حمل ہوتا ہے  تو اس کے لیے گھی اور گندم کے آٹے سے ایک طرح کی نرم غذا تیار کی جاتی ہے جو اسکے لیے بہت مفید ہوتی ہے) لیکن میرے پاس گھی خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے میں نے خود سے کہا  کہ سہم امام کے کچھ پیسے میرے پاس موجود ہیں ان کو میں قرض کے عنوان سے اٹھا لیتا ہوں تاکہ گھی مہیاکروں ۔ اس نیت کے ساتھ کہ جیسے ہی پیسے میرے ہاتھ لگیں گے سب سے پہلے میں  اس قرض کو واپس کروں گا۔ لہذا میں گھر سے گھی  خریدنے کی نیت سے باہر نکل گیا۔ راستے میں میں سوچنے لگا کہ میں نے ایسا کام کیوں کیا ہے؟ اگر آج ہی رات کوئی دوسرا طالب علم اس مشکل سے دوچار ہو جائے اور اسے بھی میری طرح اتنے ہی پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو اس کی مشکل کو کس طر ح سے حل کیا جا سکے گا۔ میں نے خود سے سوچا کہ مجھ میں اس معمولی طالب علم میں کیا فرق ہے ۔ اس سوچنا تھا کہ میں اپنے ارادہ سے منصرف ہوا اور  گھر واپس پلٹ آیا اور ان پیسوں کو اپنی  جگہ پر رکھ دیا۔

یقینا اگر عرفان یہ ہے کہ “و منک خائفا مراقبا” کیا خوف  خدا اور خدا کی طرف توجہ شیخ انصاری یا ان کے جیسے دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں دیکھنے کو ملتی ہے یا وہ لوگ جو مدعیان عرفان ہیں؟  کیا شیخ انصاری کہ جن کے اوپر نام عارف کا لیبل نہیں ہے وہ روح عرفان سے نزدیک تر ہیں یا وہ لوگ جو صرف عرفانی باتیں کرتے اور عرفان کا دم بھرتے ہیں   اور دونوں ہاتھوں سے دنیا اور اس کی لذتوں سے چپکے ہوئے ہیں؟۔ ان کی زندگی اور ان کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انہیں دنیا اور اس کی لذتوں سے کس قدر محبت ہے اور دنیا کی محبت نے ان کے وجود کو گیر رکھا ہے ۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.