تاریخ سادات

0 0

بسم اللہ الرحمن الرحیم

“انظر کیف فضلنا بعضہم علیٰ بعضٍ ولاآخرتُ اکبرُ درَجَتٍ اکبرُ تفضیلاً”

ذرا دیکھو تو کہ ہم نے بعض لوگوں کو بعض پر کیسی فضیلت دی ہے اور آخرت کے درجے تو کہیں بڑھ کرہیں اور وہاں کی فضیلت بھی تو کہیں بڑھ کر ہے۔ (سورہ ، بنی اسرائیل آیت : ۱۲) 

احدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:

“قیامت کے دن ہر حسب و نسب منقطع ہوجائے گا بجز میرے حسب ونسب کے” (بحارا الانوار جلد ۷، صفحہ ۱۴۲)

ارشاد امیر المومنین علی ابنِ ابی طالب:

” جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹادیں اُسے اُس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا” (نج البلاغہ)

سید کا لفظ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو ح

ضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد سے ہیں۔ عربی میں ان کے لئے شریف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔سید کا لفظی مطلب سردار کا ہے جو احتراماً ان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قرابت کی وجہ سے کہا جاتا ہے ۔ سادات ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی زیادہ تعداد عرب علاقوں، ایران، پاکستان، ترکی اور وسط ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ سادات عموماً اپنے نام کے آخر میں یا اپنے اجداد کے آبائی وطن یا شہرکے حوالے سےجیسے بخارایی ، شیرازی ، سبزواری ، لد ہیانوی ، ساداتِ امروہہ، ساداتِ بارہہ وغیره یا ایک لفظ لگاتے ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کس امام کی اولاد سے ہیں مثلاً نقوی امام علی نقی علیہ السلام کی اولاد سے ہوں گے۔ کاظمیوں کے جد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں۔ نیچے ایک جدول میں زیادہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔

جد امجد – — خطاب

علی علیہ السلام – — علوی

حسن علیہ السلام – — حسنی

حسین علیہ السلام – — حسینی

زین العابدین علیہ السلام – — عابدی / زیدی

محمد باقر علیہ السلام — باقری

جعفر صادق علیہ السلام – — جعفری

موسی کاظم علیہ السلام – — موسوی / کاظمی

علی رضا علیہ السلام – — رضوی

محمد تقی علیہ السلام – — تقوی

علی نقی علیہ السلام — نقوی/بخارایی

3- برصغیر کے زیدی سادات

زیدی سادات بارہہ:

سادات باہرہ زیدی سادات اپنے آپ کو کہتے تھے یعنی وہ افراد جو امام زین العابدین(ع) کے فرزند زید شھید کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ،لیکن اب سادات بارہہ ایک علاقہ کے نام سے مشھور ہو گیا ہے جو ضلع مظفر نگر(یو پی،ھندوستان) کے چند گاؤں پر مشتمل ہے جن میں ککرولی ،جانسٹھ ،سندھاولی ،سمبھلہیڑہ ،قوال ،بہڑہ ، بہاری ،میرانپور ،وغیرہ شامل ہیں ،سادات بارہہ کی بڑی اور مشھور بستیوں میں ککرولی نمایاں حیثیت رکھتی ہے ککرولی میں شیعہ آبادی تقریباً ۲۰۰۰ ہے جن میں سادات اور غیر سادات دونوں شامل ہیں اور تقریباً۴۰۰۰ سنی المسلک اور ۴۰۰۰ ھندو افراد پر ککرولی کی آبادی مشتمل ہے ۔ ککرولی میں دو انٹر کالج اور متعدد اسکول ہیں ۔ ککرولی میں سات امام بارگاہ اور چند مساجد ہیں ۔ یہاں کی شیعہ بڑی اور با علم ھستیوں میں کرنل بشیر حسین زیدی ،مولانا نظر محمد صاحب ، مولانا باقر حسنین صاحب تھیں ۔ اور فی الحال موجودہ علماء میں مولانا نعمت علی صاحب ، مولانا فیروز حیدر صاحب ،ریاض حیدر قمی صاحب وغیرہ ہیں ۔ معززین ڈاکٹر ضیاء عالم صاحب ، ماسٹر سلیم صاحب ،مشرف حسین عرف مسّن صاحب ،غلام حیدر عرف چنگا صاحب،غلام حر صاحب وغیرہ یہاں کے برجستہ بزرگواران میں سے ہیں ۔

زیدی سادات سا ڈھورہ :

ساڈھورہ بھارت کے ضلع انبالہ کا ایک قصبہ ہے جہاں تقسیم ہند سے پہلے زیدی سادات کی اکثریت آباد تھی۔ محرم الحرام میں عزاداری کا گڑھ ہونے کی وجہ سے اس چھوٹے سے شہر کی بہت شہرت تھی۔ تقسیم ہند سے پہلے سادات ساڈھورہ کے بزرگ سید عزادار حسین زیدی، سید علمدار حسین زیدی، سید علی نقی نشاط الواسطی زیدی محلہ واسطیان میں عزاداری کے روح رواں تھے، جبکہ سید علی اختر ترمزی، سید محمد عیسی ترمزی، سید محمد الیاس ترمزی اور حکیم سید خضر عباس ترمزی محلہ سوانیان میں عزاداری کے فروغ میں پیش پیش رہے۔ تقسیم کے بعد سادات ساڈھورہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے نواح میں واقع اکال گڑھ میں مقیم ہوئے۔ اکال گڑھ آج کل علی پور چٹھہ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں پر انجمن سادات ساڈھورہ کے پلیٹ فارم سے محرم الحرام کا مرکزی جلوس اور دیگر مجالس وغیرہ منعقد کی جاتی ہیں۔

زیدی سادات سامانہ

سامانہ نہایت قدیم بستی ہے مگر وثوق سے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب آباد ہوئی اور اس کے ابتدائی نام کیا تھے۔ البتہ یہ بات تاریخ کی معتبر اور مستند کتابوں سے بھی ثابت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی فاتحانہ آمد سے قبل بھی یہ بستی بسی ہوئی تھی۔ 1129ءمیں سلطان شہاب الدین محمد غوری نے تراوڑی کے میدانِ کار زار میں پرتھوی راج چوہان کو شکست فاش دینے کے بعد سامانہ میں آرام کی غرض سے قیام کیا اور یہاں پڑاﺅ ڈال کر اپنی فوجوں کو ازسر نو منظم اور اپنے بکھرے ہوئے حالات کو مربوط کیا۔ اسی طرح سلطان غیاث الدین بلبن کے زمانے میں سامانہ اس کے چچیرے بھائی شیر خان سنکر کی جاگیر تھا اور ا س کے بعد بلبن کے بیٹے محمود کی جاگیر قرار پایا۔ سامانہ کا تذکرہ ”تاریخِ فرشتہ“ اور ”کیمبرج ہسٹری آف انڈیا“ میں متعدد مقامات پر آیا ہے ۔ اسی طرح سامانہ کو دِلی کے شمال میں تقریباً سومیل کے فاصلے پر حملے کی نیت سے آنے والوں کے خلاف دفاعی لائین بھی قرار دیا جاتا تھا۔ بلا شبہ سامانہ کو بنی فاطمہؑ نے آباد کیا اور وقتی مصلحتوں کے پیشِ نظر اس نوآبادی کو کسی معصوم کے نام گرامی سے منسوب کرنے کے بجائے حضرت امام محمد تقی  کی زوجہ محترمہ حضرت “سمانہ خاتون ” کے نام سے منسوب کردیا۔ چنانچہ سید ابوالفراح واسطی کے فرزندانِ ارجمند سامانہ کے ہی گردو نواح میں سکونت پذیر ہوئے تھے ۔ چار میں سے تین بستیاں تو صفحہ ہستی پر موجود نہیں البتہ سامانہ سے تقریباً تیس میل کے فاصلے پر چھت کی بستی موجودہ بنوڑ سے متصل 1947ء تک قائم تھی۔ یہ بات الگ ہے کہ چھت میں کوئی سادات آباد نہیں تھے بلکہ اس سے دو ڈیڑھ میل کے فاصلے پر بنوڑ میں سادات کی بہت بڑی آبادی تھی۔ اس سے قریباً دوسو سال بعد شہاب الدین غوری، ترا وڑی کے میدان میں پرتھوی راج چوہان کے ٹڈی دل لشکر کو شکست دے کر سامانہ میں آرام کی غرض سے کچھ عرصہ مقیم رہا۔ (بحوالہ کیمبرج ہسٹری آف انڈیا، جلد سوئم)۔

مزید  حضرت علی المرتضیٰ۔۔۔۔ شمعِ رسالت کا بے مثل پروانہ

سامانہ میں سادات کے چار محلے صدیوں سے آباد تھے جن کی اپنی اپنی مساجد اور امام بارگاہیں تھیں۔ یہاں بڑے زور و شور سے مراسم عزاداری کا انعقاد ہوتا اور ارد گر د کے علاقوں میں آباد مسلم اور غیر مسلم بھی بڑی عقیدت سے ان مراسم میں شریک ہوتے۔ شہر کے مشرقی حصے میں رضوی سادات اپنے مورث اعلیٰ میر امان اللہ کے مزار کے گرد و نواح میں آباد تھے۔ ان کے مغرب میں بخاریوں کا محلہ تھا جس میں نقوی صاحبان آباد تھے۔ محلے کے مرکز میں ان کے جدِ اعلیٰ کا مزار ، امام بارگاہ اور مسجد تھی۔ ان کی کربلا علیحدہ تھی جو انہی کے محلے کے مشرق میں موجودہ منڈی اور محلے کے درمیان واقع تھی۔ محلہ بخاریاں کے مغر ب میں زیدی سادات آباد تھے۔ انہی کے محلے میں ان کے مورث اعلیٰ مخدوم سید فرید الدین المعروف دادا پیرکا مزار ہے۔ مزار سے ملحق مسجد و امام بارگاہ آج بھی محکمہ اوقاف کے زیر انتظام محفوظ ہیں۔ یہ مزار آج بھی شہر کے مغربی حصے کی آخری عمارت ہے جبکہ امام مشہد علی صاحب کا مزار سامانہ کے جنوب مغربی سرے پر واقع ہے۔ البتہ صرف بڈولی ضلع مظفر نگر کے مولانا سید نادر علی زیدی الواسطی ”محلہ رضویاں“میں آباد ہوئے تھے۔اسی طرح ”محلہ امام گڑھ“ میں دو خاندان رضویوں کے بھی آباد تھے جو کہ سید محمد حسن وکیل اور سید جعفر حسین کے گھرانوں پر مشتمل تھے۔

زیدی سادات لدھیانہ :

شجرہ ہا ئے نسب جو مرتب کیے گۓ ہیں ان کے مطابق اس خاندان کے ایک بزرگ سیدجو سادات بھوریاں بھی کہلاتے تھے شاہان وقت کے ظلم و ستم تنگ آکر سر زمین عراق کو خیر آباد کہنے کے بعد پہلے ایران پھر زاہدان اور افغانستان سے ہوتے ہوۓ وارد ہند ہمۓ اور اچ شریف میں قیام کیا۔ یہ خاندان وادی ہہران اور اچ سے نقل مقانی کر کے پرست کرنال کے پڑوس میں ایک بستی میں تقریباُ تین سو سال پہلے آ کر آباد ہوا ۔ برست میں سید بڈ ا کے سات واسطوں کے بعد اس خاندان کے مورث اعلی سید علی مردان زیدی قرار پاۓ۔ جن کے بیٹے سید امیر حسین جو میرے دادا کے دادا تھے اور برطانوی فوج میں صوبیدار تھے اپنے خاندان کےافراد کے ساتھ برست سےنقل مقانی کرکے 1860ء میں اندون پنجاب کی تحصیل لدھیانہ آکر آباد ہوۓ۔ ان کی خاندانی شرافت اور لیاقت کی وجہ سے ان بیٹے وزیر حسن کی شاد ی مقامی کاظمی سادات رئیس لدھیانہ میں ہوئی ۔

لدہیانہ

سنتا ہوں مرکز، علماء لدبیانہ ہے جن کی گلی گلی میں انہیں کا فسانہ ہے

کیوں آستاں غیر پر اس کو جھکاؤں میں یا رب یہ سر ہے اور ترا آستانہ ہے

جب ہم محمدربی کے غلام ہیں کیا غم اگر خلاف ہمارے زمانہ ہے

خدا وند کریم کی منشا کا تقاضا تھا کہ سید علی محمود موسوی اور سید علی مردان زیدی کی اولاد آگے چل کر ایک مشترک خاندان کی بنیاد رکھیں اور اس حکمت خداوندی کے تحت باہمی شادیوں کی صورت میں ان خاندانوں کا بخوبی ملاپ ہوا۔ 

سید تصدق حسین کی شادی حافظ مو لوی سید محمد حسین کی دختر نیک اختر سید ہ رضیہ بیگم سے انجام پائی۔ حافظ مو لوی سید محمد حسین ایک بزرگ ،دیندار اور نیک سیرت انسان تھے ۔آپ کی پوری زندگی اسلام کے لئے وقف تھی۔آپ نے لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کی ۔ اس طرح اس شادی نے خاندان امام زین العابدین علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاندانی اشتراک کی بنیاد رکھی۔آپ کی اولاد میں سید منظور حسین ، سید ظہورحسین ، سید اعجاز حسین اور سیدہ حمیدہ خاتون شامل ہیں۔ آگے چل کر ان اولاد میں سید منظور حسین زیدی سے ذکیہ بیگم کاظمی دختر الطاف حسین کاظمی سے انجام پائی ۔ الطاف حسین کاظمی ان کے والد دوسرے بھائیوں میں شریف حسین ،شبیر حسین ،عاشق حسین ،حامد حسین،عباس حسین اورسجاد حسین شامل تھے ان کے والد کا نام خورشید علی کاظمی تھا جن کا تعلق بھی لدہیانہ کے معروف سادات خاندان سے تھا اور پھر ان کے بیٹے سکندر عباس زیدی نے مہ جبین کاظمی دختر مصطفی علی کاظمی ریئس لدہیانہ سے شادی کر کے اس خاندانی اشتراک کی روایت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ مزید آگے بڑھایا۔

مزید  25 شوال المکرم؛ رئیس مذہب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا یوم شہادت

 

حوالہ جات:

1: ابوالاحسان ہاشمی ،مؤلف بزم مشاہیر ،یکم اگست 1968۔

2: غلام حسن محرمی ،تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف

3: سید اشتیاق علی زیدی، ترتیب و تالیف جدید ، تذکرہ و شجرہ زیدی سادات سامانہ

4: حسین کریمان، سیرہ و قیام زید بن علی، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، چاپ یکم، تہران- ۱۳۸۲

5: سید ابوفاضل رضوی اردکانی، «شخصیت و قیام زید بن علی»، دفتر تبلیغات اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۷۵

6: سید عبدالرزاق کمونہ حسینی، «آرامگہ ہای خاندان پاک پیامبر و بزرگان صحابہ و تابعین»، انتشارات آستان قدس رضوی، چاپ دوم، ۱۳۷۵

7: دکتر محمد جعفری ہرندی، «فقہا و حکومت»، انتشارات رئزنہ، چاپ اول، ۱۳۷۹

8: حضرت آیت اللہ العظمی منتظری، «مبانی فقہی حکومت اسلامی»، ترجمہمحمود صلواتی، موسسہ کیہان، چاپ اول، ۱۳۷۶

9: دکتر محمد جواد مشکور، «فرہنگ فرق اسلامی»، انتشارات آستان قدس رضوی، چاپ چہارم، ۱۳۸۶

10: زینب متقی‌زادہ، «جغرافیای سیاسی شیعیان منطقہ خلیج فارس»، موسسہ شیعہ شناسی، چاپ اول، ۱۳۸۴

11. دکتر محمد جعفری ہرندی، “کتاب فقہ و فقہاً، دانشگاہ آزاد اسلامی واحد بابل، چاپ دوم، ۱۳۷۴

12: محمد ابوزہرہ، الامام زید، دارالثقافہالعربیہ للطباعہ، ۱۳۷۸ قمری.

13: عبدالرزاق الموسوی المقرم، زید الشہید، نجف، ۱۳۵۵ قمری.

14: ابوالفرج الصفہانی، مقاتل الطالبین و اخبارہم، ترجمہ سید ہاشم رسولی محلاتی،

15: سید ابوفاضل رضوی اردکانی ،شخصیت و قیام زید بن علی ، دفتر تبلیغات اسلامی1375

16: زید شہید- ص۸

17: لباب الانساب- ص۹۱

18: سیرہ و قیام زید بن علی- ص۱۰

19: اعیان الشیعہ، ج ۷ ص ۱۰۷ چاپ جدید

20: مقاتل- ص۵۱

21 :دلایل الرہانیہ، غارات، ج۲، ص۸۶۰

22: زید شہید- ص۸

23: سیرہ و قیام زید بن علی- ص۱۱

24: نورالابصار، شبلنجی ص ۱۷۸

25: تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۵ / تاریخ ابن عساکر ج ۶ ص ۲۰ / شرح ابن ابی الحدید ج ۱ ص ‍ ۳۱۵

26: سید بن طاووس- ربیع الشیعہ

27: علامہ امینی – الغدیر

29: تہذیب ابن عساکر ج ۶ ص ۱۸

30: الحدائق الوریہ فی مناقب الائمہ الزیدیہ، ج ۱ ص ۱۴۳ / روض النضیر، ج ۱ ص ۵۲

31: ثورہ زید بن علی، ناجی حسن ص ۲۵

32: ارشاد ص ۱۴۸.

33: ارشاد ص ۱۴۸ / تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۲

34: مسندالامام زید، ص ۱۰ چاپ بیروت

35: الغدیر، ج ۲ ص ۲۲۱

36: سفینہ البحار ج ۱ کلمہ زید / الغدیر ج ۳ ص ۷۱ بہ نقل از عیون اخبار الرضا

37: رجال کشی، ص ۱۸۴ / الغدیر ج ۳ ص ۷۰

38: مقاتل الطالبیین ص ۱۲۹

39: مقاتل الطالبیین ص ۱۲۹

40: جامع الرواہ ج ۱ ص ۳۴۳

41: مامقانی حرف (ز) ج ۱ ص ۴۶۷

42: زید الشہید ص ۱۴

43: زید الشہید ص ۱۴

44: الخطط المقریزی، ج ۴ ص ۳۰۷ / وقایع الایام تالیف خیابانی ص ۷۱ / زید الشہید ص ۱۴

45: مقتل الحسین ج ۲، ص ۱۱۰

46: لواقح الانوار تالیف شعرانی، ج ۱ ص ۳۲

47: طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۲۴۰ / تهذیب ابن عساکر، ج ۶ ص ۱۹ / تاریخ الاسلام ذہبی، ج ۵، ص ۷۴

48: زید شہید – مرحوم مقرم

49: المواعظ و الاعتبار بذکر الخطط و الا ثار، تالیف مقریزی، ج ۲، ص ۴۳۶

50: الکشاف عن حقائق التنزیل ج ۱ ص ۴۳ تالیف زمخشری

51: تہذیب ابن عساکر ج ۶ ص ۱۸

52: البتہاین صحیفہ‌ای کہ در دست است املای امام صادق است بہ متوکل بن ہارون کهہامام آن را از پدرش و او از پدرش گرفتہ‌است و خوانندگان عزیز توجہ داشتید کہ متوکل گفت موقعی من صحیفہامام صادق را با صحیفہ زید مقایسہ کردم حتی یک حرف با ہم فرقی نداشتند

53: این کتاب بصورت خطی بہ خط نسخ در کتابخانہ بریتانیا تحت شماره ۲۰۳ زیدیہ حفظ شدہاست، کہآن را در سال ۱۰۱۹ قمری مدون کردہ‌اند. ناجی حسن، کلیشہ صفحہ اول و آخر کتاب را در آخر ی کی از کتابہایش چاپ کردہ‌است

54: الروض النضیر ج ۱ ص ۵۸

55: مدرک بالا

56: زید الشہید تالیف مرحوم مقرم ص ۱۳ – ۱۷

مزید  علاماتِ شیعہ

57: تہذیب ابن عساکر ج ۶ ص ۱۵.

58: تہذیب ابن عساکر ج ۶ ص ۱۵.

59: روض النضیر ج ۱ ص ۶۶

60: جامع الرواہ ج ۲ ص ۳۴۰

61: جامع الرواہ ج ۱ ص ۵۳۰

62: جامع الرواہ اردبیلی ج ۱ ص ۵۰۶

63: الحدائق الوردیہ، ج ۱ ص ۱۴۹

64: ابن رشیق قیروانی، صاحب کتاب زہر الادب، مطلب فوق را در ج ۱ ص ۷۸، نقل کردہ‌است

65: ارشاد مفید ص ۲۵۱.

66: جامع الرواہ ج ۱ ص ۳۴۳ چاپ جدید

67: جال طوسی ص ۸۹ باب اصحاب علی بن الحسین

68: مقاتل الطالبیین ص ۱۲۷ / بحارالانوار ج ۴۶ ص ۳۰۹

69: تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۱۶ چاپ بیروت

70: اغانی ج ۶ ص ۱۰۰ / عقدالفرید ج ۶ ص ۴۵۰ / ثورہ زید ص ۷۸

71: تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۲۸.

72: ریاض السالکین در شرح صحیفہ سجادیہسید علی خان شیرازی اوائل کتاب

73: قواعد شہید باب امر بہ معروف و نہی از منکر

74: تنقیح المقال مامقانی، ج ۱ ص ۴۶۹ حرف (زی)

75: شرح استبصار

76: معجم رجال الحدیث ج ۷ ص ۳۵۸ چاپ نجف

77: تاریخ طبری ج ۵ ص ۴۹۱

78: تاریخ ابن اثیر ج ۵ ص ۹۲

79: مقاتل الطالبیین ص ۱۳۵

80: تاریخ طبری ج ۵ ص ۴۹۱ چاپ قاہرہ

81: مقاتل الطالبیین-ص ۱۳۵

82: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۵

83: مقاتل الطالبین- ص۱۴۷

84: الحدائق الوردیہ ج ۱ ص ۱۵۲

85: امع الرواہ اردبیلی ج ۱

86: المراجعات سید شرف الدین ص ۹۱

87: المراجعات ص ۱۲۳

88: جامع الرواہ ج ۲ ص ۲۲۸

89: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۵

90: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۸

91: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۸.

92: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۶.

93: جامع الرواہ اردبیلی ج ۲ ص ۱

94: طبقات ابن سعد، ج ۷ ص ۳۱۹.

95: تہذیب التہذیب

96: تہذیب التہذیب ج ۱۱ ص ‍ ۱۶

97: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۶

98: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۷.

99: سیرہ و قیام زید بن علی- ص۷۸

100: تاریخ طبری ج ۵ ص ۴۹۵ / کامل ابن اثیر ج ۵ ص ۹۶.

101 : تاریخ طبری ج ۵ ص ۲۹۵ / مقاتل الطالبیین ص ۱۴۴.

102: مقاتل الطالبین، ص۵۵

103: تاریخ طبری ج ۵ ص ۴۸۵ / تاریخ ابن اثیر ج ۵ ص ۹۶.

104: مقاتل الطالبیین ص ۱۳۷.

105: انساب الاشراف ج ۳ ص ۲۰۲

106: مقاتل الطالبیین ص ۱۳۷.

107: مقاتل الطالبیین ص ۴۰

108: انساب الاشراف ج ۳ ص ۲۰۲.

109: انساب الاشراف ج ۳ ص ۲۰۳ / مقاتل الطالبیین ص ۱۴۱ – ۱۴۲ / شرح نہج البلاغہابن ابی الحدید ج ۳ ص ۲۸۷ چاپ جدید.

110: مجالس المومنین، ص۳۴۹ / نامہ دانشوران، ج۵، ص۱۰۵ / سفینة البحار، ج۱، ص۵۷۸ / اعیان الشیعہ، ج۱، ص۲۵

111: وقایع الایام ص ۱۰۵

112: مقاتل الطالبیین)) ص ۱۴۱.

113: انساب الاشراف ج ۳ ص ۲۰۳.

114: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۱.

115: طبقات ابن سعد ج ۵ ص ۲۴۰ /مقاتل الطالبیین ص ۱۳۰

116: تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۶

117: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۲ – / انساب الاشراف ج ۳ ص ۲۰۳

118: طبری ج ۸ ص ۲۷۶

119: تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۶ / مقاتل الطالبیین ص ۱۴۲ و ۱۴۳

120: الغدیر ج ۳ ص ۷۵

121: مناقب ج ۳ ص ۳۶۰ / بحارالانوار ج ۴۶ ص ۱۹۲

122: سورہ مائدہ آیہ ۳۳

123: مقاتل الطالبیین ص ۱۴۴

124: زید الشہید ص ۱۶۳

125: زید الشہید ص ۱۶۳

126: زید الشہید ص ۱۶۳.

127: قاموس الرجال، ج ۲ ص ۲۷۴.

128: زید الشہید ص ۱۶۰.

129: زید الشہید ص ۱۶۰

130: مقاتل الطالبین، ص۵۸ / فوات الوفیات، ج۱ ص۲۱۱ / عمدہ الطالب، ص۲۴۸ / نامہ دانشوران، ج۵، ص۱۰۷ و…

131: مقاتل الطالبین، ص۵۲

132: تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۳۶

133: تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۶ / مقاتل الطالبیین ص ۱۴۲

134: تحفہ الاخبار ص ۱۱۴

135: تاریخ طبری ج ۸ ص ۲۷۷

136: شرح نہج البلاغہ ج ۲ ص ۲۱۲.

137: عمدہ الطالب ص ۲۵۸.

138: النجوم الزاہرہ فی اخبار المصر و القاہرہ ابن تغری بردی، ج ۱ ص ۲۸۱.

139: الولاہ و کتاب القضاہ کندی ص ۱۴۷.

140: زید الشہید مرحوم مقرم ص ۱۶۲

141: زید الشہید مرحوم مقرم ص ۱۵۵.

142: مراقد المعارف ج ۱ ص ۳۲۰.

143: ارشاد ص ۲۵۲.

144: مرآہ العقول ج ۱ ص ۲۶۱.

145: تنقیح المقال ج ۱ ص ۴۶۹.

146: خزاز قمی در کفایہ الا ثر

147: مجالس المؤ منین ج ۲ ص ۲۵۵.

148: بحارالانوار ج ۴۶.

149: اخباری کہ در الفاظ مختلف، و در معنا شریک باشند

150: نگاہ کنید بہ کتاب زید بن علی نوشتہ حسین کریمان- باب دوم بہ بعد

151: قواعد الشہید باب الامر بالمعروف و النہی عن المنکر)) ج ۲ ص ۲۰۷ چاپ جدید

152: رسالہ اثبات وجود الامام المنتظر

153: وسائل الشیعہ، جلد آخر، باب زاء ص ۲۰۲.

154: اصول کافی ج ۲ ص ۱۷۰ حدیث ۱۶

155: نکت البیان مرحوم سید علیخان

156: معجم الرجال الحدیث ج ۷ ص ۳۵۸ چاپ نجف

157: منہاج السنہ ج ۲ ص ۱۲۶

158: الغدیر، ج ۳ ص ۶۹

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.