اہلِ سنت والجماعت کے ائمہ اور اقطاب(حصہ چہارم)

0 0

:  خالد بن ولید :

خالد ابن ولید ابن مغیر مخزوم سے تعلق رکھتے ہیں اور اہل سنت والجماعت انھیں سیف اللہ کہتے ہیں۔
خالد کا باپ ان مالدار اور صاحب ثروت لوگوں میں سے ایک تھا جن کی ثروت کی تھاہ مہیں تھی، عبا محمود کہتا جہے کہ وہ اپنے زمان کے تمام مشہور مالدار میں سب سے غنی تھا، اس کے پاس سونا چاندی، باغات، تجارت،زمینیں خدمت گار، کنیزیں اور غلام تھے اسی لئے ان کو وحید کہتے تھے۔ ( عبقریہ خالد عباس عقاد ص۲۴)
خالد کا باپ  ولید بنمغیرہ ہے  جس کے بارے میں قرآن کی آیت نازل ہوئی اور اسے جہنم کی آگ اور برے ٹھکانہ ڈرایا ہے۔
ارشاد ہے!
اس شخص کو چھوڑدیجئے جس کو میں نے اکیلا  پیدا  کیا ہے اور اسے بہت سا مال دیا اور نظروں کے سامنے رہنے والے لڑکے دیئے اور اسے ہر طرح کے سامان میں وسعت دی پھر اس پر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اور بڑھاؤں یہ ہر  گز نہ ہوگا۔ یہ تو میری آیتوں کا دشمن ہے ، میں عنقریب اسے سخت عذاب میں متلا کروں گا۔ اس نے غور کیا اور  تجویز کرلی تو جس طرح بھی ہو یہ مار ڈالا جائے اس نے کیونکر تجویز کی پھر سوچا سمجھا ، پھر تیوری چڑھائی اور ناک بھوں چڑھا لیا، پھر بیٹھ کر چالا گیا اور اکڑکر بیٹھا پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو  ہے ۔ جو کہ چلا آرہا ہے، یہ تو آدمی کا کلام ہے۔ تو میں اسے عنقریب جہنم میں جھونک دوں گا۔ ( مدثر ۱۱۔۲۶)
روایت ہے کہ ولید نبی(ص) کے پاس آیا اور کہا یہ نیا دین چھوڑدیجئے ہم آپ کو مال و دولت

 دیدیںگے تو خدا نے یہ آیت نازل کی۔
اور تم اس کی باتوں میں نہ آنا جو بہت قسمیں کھاتا  ہے، ذلیل ہے۔ عیب جو پرلے درجہ کا چغلخور، مال کا بخیل ، بہت بڑا گناہگار، تند مزاج اور اس کے علاوہ بد ذات بھی ہے  چونکہ مال اور بہت سے بیٹے رکھتا ہے ۔ جب اس کےسامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں، ہم عنقریب اس کی ناک پرداغ لگائیں گے۔ ( قلم ۱۰۔۱۶)
ولید کا عقیدہ تھا کہ وہ محمد(ص) سے زیادہ نبوت کا حقدار ہے چنانچہ ایک روز اس نے کہا : کیا محمد(ص) ایسے فقیر و یتیم پر قرآن نازل کردیا گیا اور مجھ جیسے قریش کے سردار نظر انداز کردیا گیا۔
اسی عقیدہ پر خالد بن ولید کی تربیت ہوئی ! اسے بھی اس اسلام اور رسول(ص) اسلام سے دشمنی تھی جس نے اس کے باپ کے خیال کو بے وقوفی کا خواب بتایا اور اس کی چولیں بلادیں۔ چنانچہ رسول اللہ(ص)  سے لڑی جانے والی جنگوں میں خالد شریک رہا۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خالد کا بھی وہی عقیدہ تھا جو اس کے باپ کا تھا۔ وہ محمد(ص) ایسے فقیر و یتیم سسے زیادہ خود کو نبوت کا حقدار سمجھتا تھا کیونکہ خالد اپنے باپ کی طرح قریش کا سردار تھا۔ اگرچہ مطلق طور پر وہ سب سے عظیم نہیں تھا۔ پس اگر خالد کےباپ پر قرآن و نبوت نازل ہوگیا ہوتا  تو خالد کو ان دونوں ( نبوت و قرآؔن میں سے  وافر حصہ ملتا جیسے جناب سلیمان (ع) نے داؤد(ع) سے میراث پائی تھی ایسے ہی خالد بھی ادشاہت و نبوت کی میراث پاتا۔ قرآن نے ان کے اعتقاد کو اس طرح بیان کیا ہے۔
اور جب ان کے پاس حق آگیا تو کہنے لگے یہ تو  جادو ہے اور ہم تو ہرگز اس کے ماننے والے ہیں ہیں اور لہنے لگے یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔( زخرف/ ۳۰۔۳۱)
پس اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اگر وہ محمد(ص) اور ان کی دعوت کے خلاف اقدام

 کرتاہے۔ چنانچہ ہم اسے غزوہ احد می پیسے کے زور پر بہت بڑا لشکر تیار کرتے ہوئے دیکھتے اور نبی(ص) کو ختم کرنے کے لئے کمین گاہ میں بیٹھتا ہے اور صلحِ حدیبیہ والے سال بھی اس نے کھیل ، کھیلنا چاہا تھا لیکن خداوندِ عالم نےاس کے منصوبہ کو ناکام بنادیا اور ہر جگہ اپنے نبی(ص) کی مدد کی۔
اور جب قریش  ے دیگر سرکردہ افراد کی طرح خالد بھی یہ سمجھ گیا کہ رسول اللہ(ص) شکست کھانے والے نہیں ہیں اور دیکھا کہ لوگ جوق در جوق  دینِ خدا میں داخل ہو رہے ہیں تب اس نے حسرت و یاس سے اسلام قبول کیا خالد نے فتح مکہ  سے چار ماہ قبل ہجرت کے آٹھویں سال اسلام قبول کیا، خالد کب مسلمان ہوا؟ وہ تو ہر موقع پر حکمِ رسول(ص)  کی مخالفت کرتا تھا فتح مکہ کےدن آپ(ص) نے قتل سے منع کیا تھا لیکن خالد تیس(۳۰)  افراد سے زیادہ کو قتل کر کے  مکہ میں داخل ہوا تھا، قتل ہونے والوں میں اکثر قریش تھے جبکہ نبی(ص) نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ کسی ایک کو بھی قتل نہ کرنا۔
اگر چہ عذر کرنے والے خالد کی طرف سےیہ عذر پیش کرتے ہیں کہ انھیں مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا تھا اور مکہ والے اسلحہ لئے ہوئے تھے۔لیکن یہ چیز نبی(ص) کے منع کرنے کے بعد  خالد کے لئے  قتل مباح نہیں کرسکتی۔ پھر خالد کسی دوسرے دروازہ سے آسکتے تھے اور بغیر قتل کے داخل مکہ ہوسکتے تھے ۔ جیسا کہ دیگر افراد نےکیا تھا، یا نبی(ص)  کے پاس کسی کو بھیج کی ان لوگوں سے قتال کےبارے میں مشورہ کرتے جو کہ داخل نہیں ہونے دےرہے تھے۔
لیکن بات یہ نہیں تھی،  بلکہ خالد نے اس نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا تھا جس جو نبی(ص) سے سن چکا تھا۔
اور یہ جوہم  نے نص کے مقابلہ میں اجتہاد کہا ہے شائستہ کلامی کی بناء پر کہا کیونکہ بعد میں اس کے بہت یارو مددگار ہوگئے تھے یا یہ کہئے کہ اس کا ایک مدرسہ قائم ہوگیا تھا  کہ جس سے صحابہ اور شریعت والے فارغ التحصیل ہوتے تھے اور بعد میں اس مدرسہ کو مکتبِ خلفا کہا جانے لگا۔
اس بات کی طرف اشارہ کردینا بہت  ضروری ہے کہ معنی میں خالد کا اجتہاد خدا و رسول(ص) کی نافرمانی ہے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ خالد نے نص کے مقابلہ میں اجتہاد کیا ۔ یہ اصطلاح وضع کی

گئی ہے اس  سے ایسا لگتا ہے جیسے کہ جائز امر ہو در حقیقت ہمیں چاہئیے تھا کہ خالد نے حکمِ رسول(ص) کی نافرمانی کی لیکن ہم نے اس کی بجائے یہ کہا کہ خالد نے نص کے مقابلہ میں اپنی رائے سے  اجتہاد کیا۔ جیسا کہ رسول(ص) نے ہمیں تعلیم دی ہے۔
” و عصی آدم ربه فغویٰ” (طہ/ ۱۲۱)
آدم(ع) نے نافرمانی کی وہ نے راہ ہوگئے اس لئے کہ خدا نے اس  درخت کا پھل کھانے سے منع کیا تھا  لیکن آدم(ع) نے اس کا پھل کھالیا ، پس ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ آدم(ع)  نے نص کے مقابلہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرلیا تھا۔
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی حد میں رہے اور کسی مسئلہ میں اپنی رائے سے یہ نہ کہے  کہ اس سلسلہ میں خدایا رسول(ص)  کی طرف سے امر  ہے یا نہی وارد ہوئی ہے کیونکہ یہ کھلا ہوا کفر ہے۔
خدا نے ملائکہ سے فرمایا تھا” اسجدوا الآدم” یہ امر ہے ” فسجدوا” انھوں نےسجدہ کیا یہ طاعت و امتثال امر ہے۔
ابلیس (لع) نے اطاعت نہیں کی اس نے اپنی رائے سے اجتہاد کیااور  کہا: میں اس (آدم(ع))  سے بہتر و افضل ہوں ، کیسے اسےسجدہ کروں ؟ یہ عصیان و سرکشی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ افضل کون ہے، آدم (ع) یا ابلیس(لع) ؟ خداوندِ عالم نے یہ فیصلہ کیا۔
” اور نہ ہی کسی ایمان دار مرد کے لئے مناسب ہے اور نہ کسی ایمان عورت کے لئے  کہ جب اللہ و رسول(ص) کسی کام کا حکم دیں تو ان کو بھی اپنے کام کا اختیار ہو”۔(احزاب/۲۶)
اسی بات کی طرف امام  جعفر صادق(ع) نے ابو حنیفہ سے گفتگو کے دوران اشارہ فرمایا تھا کہ : قیاس نہ کیا کرو کیوں کہ جب شریعت میں قیاس کیا جاتا ہے  تو مٹ جاتی ہے اور پھر سب سے پہلے ابلیس(لع) نے قیاس کیا ، جبکہ اس نے کہا میں  اس (آدم(ع))  سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے

 آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے  بنایا ہے۔
امام جعفر صادق(ع) کا ہی قول ہےکہ جب شریعت میں قیاس کیا جاتا ہے تو مٹ جاتی ہے، یہ قیاس کےباطل ہونے پر بہترین دلیل ہے  پس اگر نص کے مقابلہ میں لوگ مختلف راویوں پر  عمل کریں تو شریعت باقی نہیں رہے گی، اگر حق ان کی خواہشات کا اتباع کرتا تو زمین و آسمان تباہ ہوجاتے۔
اجتہاد کےسلسلہ میں اس مختصر بحث کے بعد ہم اپنے موضوع پر  خالد کے حالات کے تجزیہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ خالد نے ایک بار پھر حکمِ رسول خدا(ص)  کی نافرمانی کی جبکہ آپ(ص) نے اسے بنی حذیفہ کے پاس دعوتِ اسلام کے لئے بھیجا تھا اور قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔
 خالد ان کے پاس گیا، ان کےدرمیان ٹھہرا اور جب وہ اسلام کا اعلان کرچکے تو انھیں دھوکہ سے قتل کردیا۔ یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف نے جوکہ خالد کے ساتھ اس حادثہ میں موجود تھے۔ خالد پر یہ تہمت لگائی کہ اس نے اپنے چچا کا انتقام  لینے کی وجہ سے قتل عام کیا ہے۔ ( عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں قسم خدا کی خالد نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ خالد نے کہا میں نے تمھارے باپ عوف بن عوف کے عوض انھیں قتل کیا ہے۔ عبدالرحمن نے کہا میرے باپ کو عوض تم نے انھیں قتل نہیں کیا  ہے ۔  تم نے  اپنے چچا کے قصاص میں انھیں قتل کیا ہے۔ خدا آپ کو سلامت رکھے ذرا غور فرمائیے کہ خالد کو اس بات کا اعتراف ہےکہ اس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن اس اعتراف کے ساتھ میں نے عبدالرحمن کے والد عوف کے قصاص  میں انھیں قتل کیا ہے  کیا دینِ خدا میں اسے یہ ۔۔۔۔۔ کہ وہ ایک شخص کے عوض پوری قوم کو قتل کردے اور کیا یہ جائز ہے کہ ایک کافر کے بدلے ۔۔۔۔مسلمانوں کو قتل کیا جائے۔) جب رسول(ص) نےاس حادثہ کے بارے میں سنا تو خدا سے اس فعل کےمتعلق تین مرتبہ اظہار برائت فرمایا جس کا ارتکاب خالد نے کیا تھا۔
تاریخ کے صفحات کے سیاہ کارناموں  اور کتابِ خدا و سنتِ رسول(ص)  کی نافرمانی سے بھرے

 پڑے ہیں ایک محقق کے لئے زمانۃ ابوبکر میں خالد کے یمامہ والا واقعہ کا مطالعہ کافی ہے۔
اس نے مالک نویرہ او ر ان کی قوم کو فریب دیا اور انھیں بے چارگی کی حالت میں قتل کردیا جب کہ وہ سب مسلمان  تھے اور  اسی حادثہ کے بعد فورا ہی مالک بن نویرہ کی زوجہ سے خالد نے نکاح کیا اور اس سلسلہ میں شریعتِ اسلام اورعرب کی مروَت کا قطعی پاس و لحاظ  نہ کیا۔یہاں تک احکام کو زیادہ اہمیت نہ دینے والے عمر بن خطاب نےبھی اس فعلِ قبیح پر  خالد کو شرزنش کی اور اسے دشمنِ خدا کہا اور سنگسار کردینے کی دھمکی دی۔
محققین غیر جانب دار ہوکر تنقیدی نظر اور بصیرت کی نگاہوں سے تاریخ کا مطالعہ فرمائیں اور مذہبی عصبیت کو ایک طرف رکھ دیں ۔ تو حقیقت تک پہونچ جائیں گے ۔ کیونکہ احادیثِ نبی(ص) کو بیان کرنے والے جھوٹے افراد بھی ملتے ہیں ۔ کیونکہ اہل سنت والجماعت یعنی بنی امیہ اپنی طرف سے حدیث گھڑا کرتے تھے اور تاریخی حادثات کو محو کردیتے تھے تاکہ تحقیق کرنے والے حقیقت تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
اور ان میں سے کوئی بھی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ : خالد کے لئے تو رسول خدا(ص)  نے فرمایا ہے۔” مرحب سیف اللہ” اس جھوٹی حدیث کو ان نیک سرشت اور سادہ لوح مسلمانوں نے نقل کردیا جو کہ حسنِ ظن رکھتے ہیں اور بنی امیہ کے مکرو فریب  سے واقف نہیں ہیں اور اس کے بعد خالد کے ہر ایک حقیقت جر مبنی فعل کی تاویل کرتے ہیں اور اس کے لئے عذر تراشی  کیا کرتے ہیں ۔اس سلسلہ میں ایک مثال ملاحظہ فرمائیں : نبی(ص)  کے چچا ابوطالب(ع) کے بارے میں ایک ضعیف قول ہے کہ وہ ( معاذ اللہ) کافر مرے اور نبی(ص) نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ ابوطالب(ع) کی پنڈلیوں تک آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور اس طرح ان کےدماغ کو اذیت دی جائے گی۔
اس جھوٹی حدیث کی بنا پر اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ابوطالب(ع)  مشرک تھے اور وہ جہنم میں ہیں۔ اس حدیث  کے بعد وہ کسی بھی ایسی عقلی تحلیل کو قبول نہیں کرتے جو انھیں حقیقت تک پہنچا دے اور اسی حدیث کی وجہ سے وہ ابو طالب(ع) کی پوری زندگی اور دعوتِ اسلام کے سلسلہ

 میں اپنے بھتیجے کی حمایت اور راہِ اسلام میں ان کے جہاد کا بالکل ختم کردیتے ہیں جب کہ ابوطالب(ع) نے اپنے بھتیجے کی اتنی حمایت کی کہ آپ  کی قوم  آپ کے دشمن ہوگئی اور آپ اپنے بھتیجے کے ساتھ مکہ کے غار میں تین سال تک قید رہنے پر راضی ہوگئے کہ جہاں درختوں کے پتے کھا کر زندگی گزاری۔ لیکن اہلِ سنت والجماعت ان کے دلیرانہ موقف  کو چاٹ  جاتے ہیں  اور نبی(ص) کو تبلیغ کی نصرت کےسلسلہ میں ان کےاعتقادی اشعار کو ہضم کرجاتے ہیں اور ہر اس فعل پر خاک ڈالدیتے ہیں جو نبی(ص) نے اپنے چچا کے لئے انجام دیا تھا۔ انھیں غسل دیا ، اپنے کرتے کا کفن دیا، ان کی قبر میں اترے اور جس سال ابوطالب(ع)  کا  اتنقال ہوا اس کا عام الحزن قرار دیا اور فرمایا : قسم خدا کی قریش کی جرت میرے چچا ابوطالب(ع) کے مرنے کے بعد بڑھی ہے  بے شک میرے خدا نے مجھے وحی کے ذریعہ بتایا  ہے کہ اب مکَہ سے نکل جاؤ تمھارا مددگار مرچکا ہے۔ پس اسی روز مکہ سے ہجرت کی۔
دوسری مثال ابوسفیان  ابنِ حرب معاویہ کے باپ کی لیجئے کہا جاتا ہے کہ وہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا اور نبی(ص) نےاس کے بارے میں فرمایا جو ابوسفیان کے  گھر میں داخل ہوجائے گا اس کے لئے امان ہے۔
اس حدیث کی بنا پر  کہ جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی فضیلت ہے۔ اہلِ سنت والجماعت  کا عقیدہ ہے کہ ابوسفیان مسلمان ہوگیا تھا اور وہ جنت میں ہے اس لئے کہ اسلام ما قبل کے  کے گناہوں معاف کردیتا ہے۔
اسی حدیث کی وجہ سے وہ کوئی ایسی عقلی تحلیل و تجزیہ قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہوتے جو انھیں حقیقت تک پہنچادے اور اسی حدیث کی وجہ سے وہ ابوسفیان کے تمام افعال سے چشم پوشی کرلیتے ہیں جو  کہ اس نے رسول(ص) اور تبلیغِ اسلام کے خلاف انجام دیئے تھے۔ اور اس کی بھڑکتی ہوئی تمام جنگوں کو فراموش کو دیتے ہیں اور محمد(ص) کے خلاف اس کی ساری سازشوں کو یکسرہ بھولا دیتے ہیں اور  نبی(ص) سے سارے بغض و حسد کو کالعدم تصور کرتے ہیں۔ جب کہ ابوسفیان اس وقت اسلام لایا جب لوگوں نے آکر اس سے کہا یا اسلام لے آؤ ورنہ تمھاری گردن ماردی جائے گی ۔ اس پر  ابوسفیان نے کہا: اشهد ان

 ان لا اله الله، لوگوں نے کہا: اشهد ان محمَد رسول الله بھی تو کہو تب اس نےکہا : میرے باطن میں ایک چیز ہے جو مجھے کلمہ پڑھنے سے روکتی ہے۔
اور جب مسلمان ہونے کے بعد نبی(ص) کے ساتھ بیٹھا تو اپنے دل میں کہا : انھوں نے کس چیز کے ذریعہ مجھ پر غلبہ حاصل کیا ہے؟ تو نبی(ص)  نے فرمایا : اے ابوسفیان میں نے اللہ کی مدد سے تم پر غلبہ پایا ہے۔
ہم نے اسلامی واقعات میں سے یہ دو مثالیں پیش کی ہیں تاکہ محققین پر یہ بات واضح ہوجائے کہ لوگوں پر خواہشاتِ نفسانی کا کیا اثر ہوتا ہے اور کیسے ان سے حق کو  چھپا دیتا ہے اور اسی سے ہم یہ سمجھتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت نے صحابہ پر جعلی اور جھوٹی حدیثوں کا غلاف چڑھا دیا ہے جس سے وہ غافل لوگوں کی نظروں میں  مقدس  بن گئے۔ چنانچہ اہل سنت والجماعت صحابہ پر کسی ناقد  کی تنقید اور کسی ملامت گر کی ملامت سننے کو تیار نہیں ہیں۔
اور جب کسی مسلمان کا یہ اعتقاد ہو کہ رسول(ص) نےانھیں ( صحابہ کو ) جنت کی بشارت دی ہے تو اس کی بعد ان کے بارے میں کوئی بات  قبول ہی نہیں کرے گا۔ بلکہ ہر فعل کے لئے عذر تراشی کرے گا اور ان کے تمام افعال کو معمولی بنا کر پیش کرے گا اور تاویلات سے کام لے گا کیوں کہ پہلے دن سے اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا تھا۔
اس کے لئے اہلِ سنت  نے اپنے ہر ایک بزرگ کے لئے ایک لقب وضع کرلیا ہے  اور اس لقب کو رسول(ص) کی طرف منسوب کردیا ہے، اس طرح کسی کو صدیق کسی کو فاروق، کسی کو ذوالنورین کسی کو عاشق رسول(ص) ، کسی کو حورائی رسول(ص) ، کسی کو رسول(ص) کی چہیتی،کسی کو امین الامت کسی کو راویۃ الاسلام ، کسی کو کاتبِ وحی، صاحبِ نعلین، حجامِ رسول(ص) ، سیف اللہ جیسے القاب سے نوازا ہے۔
در حقیقت اللہ کے میزانِ عدل میں ان القابات کی کوئی حقیقت  و اہمیت نہیں ہے ۔ یہ  وہی اسماء ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ داد نے رکھ دیئے تھے خدا  نے اس سلسلہ میں کوئی دلیل نہیں نازل کی ہے خدا کے نزدیک نفع وضرر کا معیار اعمال ہیں۔

اور ان کے اعمال کا بہترین شاہد تاریخ ہے ۔ ان ہی اعمال کے ذریعہ ہم انسان کی شخصیت کو پرکھتے ہیں اور  اس کی قدر و قیمت معین کرتے ہیں اور اس انسان کا کوئی معیار نہیں سمجھتے جس کے لئے جھوٹ و بہتان والی چیزیں بیان کی جاتی ہیں۔
اور یہ ٹھیک وہی بات جو امام علی(ع) کا مقولہ ہے: حق کو پہچان لو، تو اسکے ذریعہ اہلِ حق خود  پہچان لئے جائیں گے۔ ہم نے تاریخ کو چھان بین کی اور خالد بن ولید کے  کارناموں سے آگاہی حاصل کی اور حق کو باطل سے جدا کرلیا۔ پس ہم خالد کو کبھی سیف اللہ نہیں کہہ سکتے بلکہ ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ اہلِ سنت سے  یہ سوال کریں کہ رسول(ص) نے کس وقت خالد کو سیف اللہ کے لقب سے نوازا تھا؟ آیا فتح مکہ کے روز جب اس نے اہل مکہ کو قتل کیا تھا، جبکہ رسول(ص) نے کسی کو بھی قتل کرنے سے منع کیا تھا؟ یا اس وقت سیف اللہ کہا تھا جب اسے زید بن حارثہ والے سریہ میں روانہ کیا تھا اور فرمایا تھا کہ زید کے قتل ہوجانے پر جعفر بن ابی طالب(ع) علم دار ہوں گے اور جعفر کے قتل ہونے پر عبداللہ بن رواحہ علم سنبھالیں گے چنانچہ چوتھے نمبر پر  خالد کو فوج کا سپہ سالار مقرر کیاتھا اور جب تین افراد کے قتل ہوجانے پر  خالد  نے کمانڈری سنبھالی تو  باقی فوج کو لیکر میدانِ کارزار سے فرار کر گیا؟!
کیا اس وقت سیف اللہ کہا تھا جب خالد آپ(ص) کے ساتھ غزوہ حنین میں بارہ(۱۲) ہزار کے لشکر کے ضمن شریک تھا اور رسول(ص) کو میدان کا رزار میں تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ صرف(۱۲) افراد رہ گئے تھے۔ جبکہ خداوندِ عالم کا ارشاد ہے :
جو شخص جبگ کے روز کفار کی طرف سے پیٹھ پھیرے گا وہ یقینا خدا کے غضب کا نشانہ بنے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔(انفال/۱۶)
یہ خصوصیت سیف اللہ (خالد) کو کیسے فرار کی اجازت دے سکتی ہے؟ یہ بات تو بہت ہی تعجب خیز ہے!

میرا عقیدہ ہے کہ زمانہ رسول(ص) میں خود خالد بھی اس لقب سے نہیں واقف تھے اور نہ رسول(ص) نےانھیں اس لقب سے نوازا تھا ہاں ابوبکر نے  خالد کو یہ لقب اس وقت دیا تھا جب انھٰیں اپنے مخالفین کی سرکوبی کے لئے بھیجا تھا  اور انھوں نے ابوبکر کے حکم کو عمل جامہ پہنا دیا تھا ۔چنانچہ عمر نے اس حرکت پر خالد کو سرزنش کی اور ابوبکر سے کہا یقینا خالد نے ظلم کیا ہے اور یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا ورنہ خالد انھیں اچھی طرح جانتے تھے۔ اس پر ابوبکر نے کہا : خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک ہے۔ اس نے تاویل کی تھی خطا ہوگئی ( یہ ہے سیف اللہ کے لقب کا مبداء)
طبری نے ریاض النضرہ میں روایت کی ہے کہ بنی سلیم اسلام سے پھیر گئے تھے اس لئے ابوبکر نے خالد بن ولید کو ان کے پاس بھیجا۔ خالد نے انھیں جمع  کر کے جلادیا ، شدہ شدہ یہ خبر عمر ابن خطاب تک پہنچی وہ ابوبکر کے پاس آئے اور کہا اس شخص کو دور کرو  جو خدا  کا عذاب دیتا ہے۔
ابوبکر نے کہا: قسم خدا کی میں اس تلوار کو ہرگز نیام میں نہیں رکھوں گا ۔ جس کو خدا نے اپنے دشمنوں کے لئے کھینچ رکھی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود نیام میں رکھ لے۔ اس کے بعد خالد کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دیا۔
یہیں سے اہل سنت والجماعت نےخالد کو اللہ کی شمشیر برہنہ کہنا شروع کیا یہ الگ بات ہے کہ خالد نے حکمِ رسول(ص) کو ٹھکرا کر اور سنت کو دیوار  پر مار کر لوگوں کو آگ میں جلادیا۔
بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ رسول(ص) نے فرمایا : آگ کا عذاب خدا کے علاوہ کوئی کسی کو نہیں دے سکتا۔ آپ(ص) ہی کا قول ہے ۔ آگ کےذریعہ کو ئی عذاب نہیں دے سکتا ہاں اس کا  رب اس کے ذریعہ عذاب دے گا۔ ( صحیح بخاری جلد۴،ص۳۲۵)
یہ بات ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ابوبکر نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا اے کاش میں فجاۃ سلمی کو نہ جلاتا!
اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اے کاش ابوبکر عمربن خطاب سے یہ پوچھتے اور کہتے، جب تم جانتے تھے کہ آگ کا عذاب صرف خداہی دے سکتا ہے اور کسی کو آگ سے عذاب دینے کا حق نہیں ہے تو آپ

نے رسول (ص) کی قفات کے بعد کل یہ قسم کیوں کھائی تھی کہ قسم خدا کی میں زہرا(س) کے مکان کو مع مکینوں کے جلادوں گا؟! اگر علی(ع) تسلیم نہ ہوئے ہوتے اور اپنی جماعت کو گھر سے نکلنے کا حکم نہ دیا ہوتا تو تمہاری مراد پوری ہوجاتی۔
بعض اوقات مجھے شک کشمکش میں مبتلا کردیتا ہے اور میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ کہ عمر کا ابوبکر سے جھگڑنا بعید ہے اور میں ان کی اور ان کی نزاع کی طرف ملتفت نہیں ہو پاتا ہوں۔
حقیقت میں یہ عجیب بات ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ابوبکر عمر کا مقابلہ نہیفں کرتے تھے اور ان سے قیل و قال کی ان میں ہمت نہیں تھی اور یہ تو بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ ابوبکر عمر سے کہتے تھے آپ سے میں نے کہا تھا اس کام کے لئے ۔مجھ سے آپ قوی ہیں لیکن آپ نے مجھ پر  زبردستی  کی اور ایک بار جب مولفۃ القلوب سے ابوبکر کا سفارش نامہ لے کر عمر نے اس پر تھوکا او ر پھاڑ ڈالا تو وہ شکایت کے لئے ابوبکر کے پاس  گئے اور کہا: خلیفہ آپ ہیں یا عمر؟ تو ابوبکر نے کہا وہی ہیں۔
اسی لئے میں کہتا ہوں شاید خالد کے افعالِ قبیحہ کے متعلق جھگڑنے والے علی بن ابی طالب(ع) تھے لیکن اولین مؤرخین اور راویوں نے آپ(ع) کا نام ہٹا کر عمر کا نام رکھ دیا جیسا کہ بعض ایسی روایات وارد ہوئی ہیں کہ جن کی سند ابی زینب  یا کسی اور شخص کی طرف دی ہے اور راویوں کی مراد علی(ع) ہیں۔ لیکن انھوں نے اس کی صراحت نہیں کی۔
یہ فقط احتمال ہی نہیں ہے یا ہم بعض مؤرخین کا قول قبول کرلیں کہ عمر بن خطاب خالد سے بر ہم تھے یہاں تک اسے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے  تھے کیوں کہ اس نے خون بہایا تھا لیکن خالد نے اپنی کامیابیوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرلی اور یہ کہاجانے لگا زمانہ جاہلیت میں خالد عمر سے لڑ گئے تھے اور انھیں مغلوب کردیا تھا اور ان کی ایک ٹانگ توڑ دی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ جب عمر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے خالد کو معزول کردیا لیکن ان پر سنگسار والی حد جاری کہ کی جیسا کہ پہلے دھمکی دی تھی۔
اگر چہ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب  مغلوب الغضب اور سختی و شدت میں دونوں  برابر تھے ہر ایک بد مزاج تھا ہر ایک سنتِ نبی(ص) کے خلاف عمل کرتا تھا اور نبی(ص) کی حیات میں اورمرنے کے بعد بھی نبی(ص)

مزید  موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ید بیضا

کی نافرمانی کرتا تھا، اسی طرح دونوں کو نبی(ص) کے وصی سے عداوت تھی ہر ایک ان کو ( خلافت سے ) دور رکھنے کے لئے کوشاں تھا اور نبی(ص) کی وفات کے بعد خالد نے علی(ع) کے خلاف ابوبکر و عمر کا ساتھ دیا۔( ملاحظہ فرمائیں احتجاج طبرسی) لیکن خدا نے ان سے نجات دی اور اس کا امر پورا ہونے والا ہے۔
خالد بن ولید کی شخصیت کی مختصر تحقیق کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی کہ اہل سنت والجماعت جب کا نام گنگنایا کرتے ہیں ان میں سے اکثر سنتِ نبوی(ص) سے دور ہیں اور یہ ان ہی کی اقتدا کرتے ہیں جنھوں نے سنت کی مخالفت کی اور اسے پسِ پشت ڈال دیا اور حرام و حلال کے سلسلہ میں نہ کتابِ خدا کی پروا کی اور نہ سنتِ رسول(ص) کا خیال رکھا۔
۱۰ :ابوہریرہ دوسی :

ابوہریرہ ان صحابہ میں سے ہیں جو بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ ابن سعد نے اپنی طبقات میں ترتیب قائم کی ہے اور ابوہریرہ کو نویں یادسویں طبقہ میں رکھا ہے۔
یہ ہجرت کے ساتویں سال کے آخر میں رسول(ص) کی خدمت میں پہنچے تھے اسی لئے مؤرخین کہتے ہیں، ابوہریرہ تین سال سے زیادہ نبی(ص) کے ساتھ نہیں رہے۔ ( صحیح بخاری ج۴ ص۱۷۵۔) بعض مؤرخین کہتے ہیں ابوہریرہ کو صرف دو سال نبی(ص) کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا کیونکہ نبی(ص) نے انھیں ابن حضرمی کے ساتھ بحرین بھیج دیا تھا اور رسول(ص)  کے انتقال کے وقت وہ بحرین ہی میں تھے۔
ابوہریرہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو اپنی شجاعت یا جہاد کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں اور نہ ہی زیرک و دور اندیش مفکرین سے ان کا تعلق ہے اور نہ ہی حافظ فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ قرت اور لکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ رسول(ص) کے پاس اپنا پیٹ بھرنے کے لئے آئے تھے جیسا کہ خود انہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے اور نبی(ص)  نے بھی یہی سمجھا تھا چنانچہ انھیں اہل صفہ میں داخل کیا اور جب بھی نبی(ص) کے پاس صدقے میں کھانے والی چیزیں آتی تھیں تو آپ اہل صفہ کے پاس بھیجدیتے تھے اور  جیسا کہ ابوہریرہ خود بیان کرتے ہیں کہ انھیں بہت زیادہ بھوک لگتی تھی اس لئے وہ صحابہ کے راستہ میں کھڑے ہوجاتے تھے ، ان سے گفتگو کرتے ہوئے چلے جاتے تھے تاکہ وہ انھیں گھر لے جائیں اور کھانا کھلائیں۔
لیکن یہ شخص نبی(ص) سے احادیث نقل کرنے میں مشہور ہوگیا اور صرف انکی بیان کی ہوئی احادیث کی تعداد چھ ہزار تک پہونچ گئی ۔ میں محققین کی توجہ اس چیز کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ، ایک تو ابوہریرہ رسول(ص) کے ساتھ بہت کم رہے پھر ایسی احادیث اور واقعات بیان کئے  جن کے وقوع کے وقت وہ ہرگز موجود نہیں تھے۔
بعض محققین نے خلفائے راشدین ، عشرہ مبشرہ ، امہات المؤمنین اور اہل بیت طاہرین(ع)  کی بیان کردہ احادیث کو جمع کیا ہے لیکن ان سب کی بیان کی ہوئی احادیث ابوہریرہ کی بیان

کی ہوئی احادیث کا عشرِ عشیر بھی نہیں ہیں ۔ ( باوجودیکہ ان میں حضرت علی(ع)  شامل ہیں جوکہ تیس(۳۰) سال تک رسول اکرم(ص)  کے ساتھ رہے ہیں۔)
یہیں سے ابوہریرہ پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور انھیں حدیث گھڑنے والا، جھوٹا ، تدلیس کرنے والا کہا جانے لگا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پہلے راوی ہیں جو اسلام میں متہم ہوئے۔
لیکن اہل سنت والجماعت انھین ” راویۃ الاسلام ” کے لقب سے نوازتے ہیں ، بے پناہ انکا احترام کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ احتجاج کرتے ہیں  ۔ شاید ان میں سے بعض کا عقیدہ ہےکہ ابوہریرہ  علی(ع) سے بڑے عالم تھے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں خود ابوہریرہ کی بیان کردہ ایک حدیث بھی ہے، کہتے ہیں :
میں نے  رسول(ص) سے عرض کی میں آپ(ص) سے بہت سی حدیثیں سنتا ہوں لیکن  میں بھول جاتا ہوں ۔ رسول(ص) نے فرمایا: اپنی ردابچھاؤ، میں نے بچھادی، پھر چلو کی طرح آپ(ص) نے اسے مس کیا اور مجھ سے فرمایا : اسے سمیٹ لو میں نے سمیٹ لی پھر اس کے بعد میں حدیث نہیں بھولا۔ ( صحیح بخاری ج۱ ص۳۸ ۔ کتاب العلم ، باب حفظ العلم، ایضا ج۳ ص۲۔)
ابوہریرہ رسول(ص) سے بہت حدیثیں نقل کرتے  تھے یہاں تک کہ ایک روز عمر ابن خطاب  نے انھیں درہ سے مارا اور کہا بہت حدیثیں بیان کرنے لگے ہو اور رسول(ص) پر جھوٹ باندھتے ہو۔ واقعہ یوں ہے کہ ابو ہریرہ نے یہ روایت نقل کی کہ: خدا نے زمین و آسمان کو سات روز میں خلق کیا ہے ۔ جب عمر کو اس کی اطلاع ملی تو انھوں نے ابوہریرہ کو بلایا اورکہا : ذرا پھر وہ سات روز والی حدیث سناؤ، انہوں نے شروع کردی۔ بس پھر کیا تھا عمر کو درہ برسنے لگا اور کہا : خدا نے کہتا  ہے کہ میں نے چھ روز میں زمین و آسمان پیدا کئے ہیں اور تم نے کہتے ہو کہ سات روز میں پیدا کئے ہیں ۔ ابوہریرہ  نے کہا : حضور میں نے یہ حدیث کعب الاحبار سے سنی تھی۔ عمر نےکہا : جب تک تم حدیثِ نبوی(ص) اور کعب الاحبار کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرسکتے اس وقت تک حدیث بیان نہ کرنا۔ ( ملاحظہ فرمائیں محمود ابوریہ المصر کی ابوہریرہ۔)

اسی طرح روایت ہے کہ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا: آگاہ ہوجاؤ سب سے زیادہ ابوہریرہ نے رسول(ص) پر جھوٹ باندھا ہے ۔( شرحِ ابن ابی الحدید ج۲ ص۶۸۔)
ایسے ہی ام المؤمنین عائشہ نےمتعدد احادیث کے بارے میں ابوہریرہ کے  جھٹلایا جبکہ انکی نسبت رسول(ص) کے طرف دیتے تھے۔ایک مرتبہ عائشہ نے انکی بیان کردہ حدیث کی تردید کی اور کہا: تم نے رسول(ص) سے یہ حدیث کب سنی تھی؟ ابوہریرہ  نے کہا: آپ کو حدیث رسول(ص) سے کوئی مطلب نہیں تھا ، آپ تو اپنے سرمے ، آیئنہ اور خضاب کرنے میں مشغول رہتی تھیں،لیکن جب عائشہ کو تکذیب پر اصرار ہوا اور انہوں نے اس کو ہوادی تو مروان بن حکم نے اس میں مداخلت کی اور کہا اس حدیث کی صحت کو بیان کرو تب ابوہریرہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ(ص)  سے نہیں سنی بلکہ فضل بن عباس سے سنی تھی۔ ( صحیح بخاری ج۲ ص۲۳۲ باب الصائم یصبح جنباء و موطاء مالک ج۱ ص۲۷۲۔)
خصوصا اس روایت میں تو انھیں ابن قتیبہ نے بھی متہم کیا ہے اور کہا ہے: ابوہریرہ نے فضل ابن عباس کی موت کے بعد اس حدیث کو انکی طرف منسوب کیا تھا تاکہ لوگوں کو یہ باور کرادیں کہ انھوں نے مرحوم سے سنی ہوگی۔ ( سیر اعلام النبلاء ۔ ذھبی۔)
ابن قتیبہ اپنی کتاب ” تاویل مختلف الحدیث ” میں تحریر کرتے ہیں کہ : ابوہریرہ کہا کرتے تھے کہ رسول(ص) نے ایسے ایسے فرمایا: جبکہ وہ حدیث کسی اور سے سنی تھی۔
اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب ” اعلام النبلاء ” میں روایت کی ہے کہ : یزید ابن ابراہیم نے شعب بن حجاج سے سنا کہ وہ کتہا ہےکہ : ابوہریرہ حدیث میں تدلیس کرتے ہیں۔
اور ابنِ کثیر کی ” البدایۃ والنہایۃ” میں منقول ہے کہ : یزیر ابن ہارون نے سنا کہ اس  سلسلہ میں شعبہ کہتے ہیں کہ : ابوہریرہ حدیث میں تدلیس کرتے تھے۔ یہ بھی روایت ہے کہ وہ رسول(ص) اور کعب الاحبار  کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرپاتے تھے۔
ابو جعفر اسکافی کا کہنا ہے : ابوہریرہ ہمارے علما کے نزدیک مشکوک ہیں اور اس کی بیان کردہ احادیث مقبول نہیں ہے۔( شرح ابنِ ابی الحدید ج۴ ص۶۸۔)

اور ابو ہریرہ نے اپنی حیات ہی میں صحابہ کے درمیان یہ شہرت حاصل کرلی تھی کہ ، وہ جھوٹ بولتے ہیں، تدلیس کرتے ہیں اور اکثر گھڑی ہوئی احادیث بیان کرتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض صحابہ اس سلسلہ میں ان کا مذاق اڑاتے تھے اور جو چاہتا تھا ان سے احادیث گھڑ والیتا تھا۔
روایت ہےکہ قریش میں سے ایک شخص نے نیا جبہہ پہنا اور اس پر فخر کرتے ہوئے ابوہریرہ کے پاس سے گذرا اور ان سے کہا : اے ابوہریرہ تم نے رسول(ص) سے بے شمار احادیث سنی ہیں : کیا تم نے میرے اس  جبہ کے بارے میں بھی کوئی حدیث سنی ہےؕ
ابوہریرہ نے کہا میں نے ابوالقاسم (ص) کو فرماتے ہوئے سنا ہے؟!
تم سے پہلے ایک شخص تھا جو کہ اپنے لباس پر فخر کرتا تھا،خدا نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور قیامت تک وہ اسی حالت میں رہےگا۔ قسم خدا کی میں نہیں جانتا شاید وہ تمھارے خاندان یا جماعت سے تھا۔( البدایۃ والنہایۃ ج۸ ص۱۰۸)
اور ابوہریرہ کی روایات میں لوگ کیسے شک نہ کریں جب کہ ان میں تناقض پایا جاتا ہے۔ایک حدیث بیان کرتے ہیں پھر اس کی نقیض  بیان کرتے ہیں اور جب لوگ پہلی حدیث کے متعلق ان سے سوال و جواب کرتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لیتے ہیں یا حبشی زبان میں بڑبڑانے لگتے ہیں۔ ( صحیح بخاری ج۳۱ باباالاہانہ۔)
اور لوگ انھیںدروغ گوئی اور حدیث گھڑی والا کیسے نہ کہتے جب کہ انہوں نے خود کہا میں اپنے ترکش سے حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے نبی(ص) کی طرف منسوب کردیتا ہوں۔
بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کی ہے کہ ابوہریرہ  نے کہا: نبی(ص) نےفرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جو غنی دے اور دینے والا لینے والے سے بہتر ہے پہلے اپنے اہل و عیال کوشکم سیر کرو، عورت کہتی ہے یا مجھے شکم  سیر کردیا طلاق دے دو،  غلام کہتا ہے مجھے کھانا کھلاؤ کام لو اور بیٹا کہتا  ہے مجھے مرتے دم تک کھانا کھلاؤ ۔ لوگوں نے پوچھا : اے ابوہریرہ تم نے یہ حدیث رسول(ص) سے سنی ہے؟!ابوہریرہ نے کہا: نہیں یہ اپنی جیب سے بیان کی ہے۔ ( صحیح بخاری ج۶، ص۱۹۰ باب وجوب

 النفقیہ علی الاہل والعبال ۔)
ملاحظہ فرمائیے ابوہریرہ  حدیث کی ابتداء کس طرح کرتے ہیں : نبی(ص) نے فرمایا: اور جب لوگوں نے استفسار کیا  تو مجبورا اعتراف کیا وہ ابوہریرہ کی جیب سے ہے!
یہ جھوٹ اور داستانوں سے لبریز ابوہریرہ کو مبارک ہو۔ واضح رہے ابوہریرہ کو معاویہ اور  بنی امیہ کے زمانے میں فروغ ملا، وہ حدیثوں سے عزت و اموال جاہ عظمت کمارہے تھے، اسی لئے معاویہ نے انھیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا تھا اوران کے  لئے  عقیق کا قصر بنایا تھا اور اس شریف عورت سے انکی شادی کرائی تھی جس کے ابوہریرہ غلام تھے۔
ابوہریرہ معاویہ کا مقرب وزیر تھا اس نبا پر نہیں کہ ان کا کوئی فضل و شرف تھا وہ عالم تھے بلکہ معاویہ کو ان کے پاس ایسی حدیثیں ملی تھیں جنکی اسے ضرورت تھی اور انکی نشر و اشاعت معاویہ کے لئے مفید تھی جبکہ صحابہ علی(ع) پر لعنت کرنے کے سلسلہ میں عذر کرتے تھے اور اسے برافعل سمجھتے تھے تو اس وقت ابوہریرہ گھر میں بیٹھ کر علی(ع) پر سب و شتم  کرتا تھا اور شیعوں کے درمیان بھی اس سے نہیں چوکتا  تھا۔
ابن ابی الحدید نے روایت کی ہے کہ ، جب ابوہریرہ عام الجماعت میں معاویہ کے ساتھ عراق آیا تو مسجد میں گیا جب اس نے اپنے استقبال کرنے والوں کی کثرت دیکھی تو دو زانوں بیٹھ کر پھر اپنے سر پر مار کر کہا اے عراق والو! کیا تم یہ سمجھتے  ہو کہ میں رسول(ص) پر جھوٹ باندھتا ہوں اور خود کو آگ میں جلاتا ہوں ، قسم خدا کی میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم عبر سےشور کے درمیان مدینہ ہے۔ پس جس نے بھی اس میں کوئی حادثہ کیا اس پر خدا اور اس کے ملائکہ اور  تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اورمیں گواہی دیتا ہوں کہ اس میں علی(ع) نے حادثہ کیاہے۔
جب معاویہ کو یہ خبر ملی تو اس نے ابوہریرہ کو  انعام و اکرام سے نوازا اور مدینہ کا گورنر مقرر کیا ۔ ( شرح ابن ابی الحدید ج۴ ص۶۷۔)دلیل کے طور پر ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ وہ معاویہ کی طرف سے مدینہ کا گورنر تھا اور اس

میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آزاد محققین ہر اس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے جس کو خدا و رسول(ص) کو دشمن اور ولی خدا و رسول(ص) کا عدو گورنر بنائے گا۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ابوہریرہ اس بلند مقام پر ایسے ہی فائز نہیں ہوا اور اسے اسلام کے دارالحکومت مدینہ کی گورنری ایسے ہی نہیں مل گئی تھی بلکہ اس  کے لئے معاویہ اور بنی امیہ  کے حکام کی خدمت کی تھی۔ پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو حالات بدل دیتی ہے۔ جب ابوہریرہ مدینہ آیا تھا تو اس وقت اس کے پاس شرگاہوں کو چھپانے کے لئے فقط ایک اونی چادر تھی اور زندگی گذارنے کے لئے بھیک مانگتا تھا۔
جب ایسا شخص اچانک مدینہ منورہ کا گورنر بن جائے اور اسے ایک دم عقیق کے محل میں رہائش مل جائے اور اس کے پاس اموال و خدمت گار اور غلاموں کی بہتات ہوجائے اور کوئی اس سے بغیر اجازت بات نہ کرے۔
یہ سب کچھ ان کے کشکول کی برکت تھی، آپ کے لئے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ آپ آج بھی وہی حالت دیکھتے ہیں، تاریخ اپنے کو دہراتی ہے، آج بھی ایسے گمنام اور جاہل لوگ ہیں جنہوں نے حاکموں کا تقرب حاصل کیا، کسی پارٹی سے منسلک ہوئے تو وہ بارعب حاکم و سردار بن گئے۔ ۔۔۔ دنیا ان کے اشارہ پر ناچتی ہے اور ٹھہرتی ہے و سیر و سیاحت کرتے ہیں ، انکے قبضہ بے حساب مال رہتا ہے، ایک سے ایک کاران  کے استعمال میں رہتی ہے۔ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو بازاروں میں نہیں ملتیں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود حسنِ کلام  سے عاری ہوتے ہیں، بلاغت سے تو ان کا کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ وہ پیٹ  کے علاوہ زندگی کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے ، ابوہریرہ کی طرح  انکے پاس بھی جیب ہے، اگرچہ دونوں میں فرق ہے لیکن مقصد دونوں کا ایک ہی ہے یعنی حاکم کو خوش رکھنا اور اس کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیئے  اس کی ترویج کرنا اور  اس کے دشمنوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا۔
ابوہریرہ عثمان بن عفان ہی کے زمانہ سے امویوں کو دوست رکھتے تھے اور وہ انھیں محبوب

سمجھتے تھے پس عثمان کےبارے میں انکی رائے مہاجرین و اںصار میں سے تمام صحابہ کے خلاف تھی۔ وہ ان  صحابہ کو کافر کہتے تھے جو قتلِ عثمان میں شریک تھے اور انکی عداوت پر متفق تھے۔
بےشک انہوں نے علی بن ابی طالب(ع)  پر قتلِ عثمان  کی تہمت لگائی تھی اور مسجد کوفہ میں جو حدیث ابوہریرہ نے بیان کی تھی کہ علی(ع)  نے مدینہ میں حادثہ کیا  ہے اور ان پر نبی(ص) ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے جیسا کہ حدیث سے آشکار ہے۔
اس لئے ابن سعد اپنی طبقات میں تحریر کرتے ہیں کہ جب سنہ۹ھ میں ابوہریرہ کا انتقال ہوا تو عثمان کے بیٹے ان کا جنازہ لے کر بقیع تک پہنچے کیونکہ عثمان کے متعلق ابوہریرہ کے نظریہ کا بھرم رکھنا تھا۔ ( طبقات ابنِ سعد ج۲ ص۶۷۔)
بے شک خدا کی مخلوق کے مختلف حالات ہوتے ہیں ۔ قریش کے سردار عثمان بن عفان مسلمانوں کے خلیفہ  جب کو اہل سنت والجماعت ذوالنورین کہتے ہیں ، جن سے ملائکہ کو شرم آتی ہے وہ بھیڑ  کی طرح ذبح کئے جاتے ہیں ۔ قتل سے موت واقع ہوجاتی ہے، نہ غسل دیا جاتا ہے نہ کفن یہاں تک کہ تین روز تک دفن بھی نہیں ہونے دیا جاتا  اورپھر یہودیوں کے قبرستان میں دفن کئے جاتے ہیں۔
اور اوہریرہ عزت کی موت مرتے ہیں جب کہ وہ گمنام تھے کوئی ان کے قوم و قبیلہ سےبھی واقف نہیں تھا اور قریش سے انکی کوئی قربت  نہ تھی۔ ان کا جنازہ عہد معاویہ کے حکام خلیفہ سابق کی اولاد اٹھاتی ہے اور بقیعِ رسول(ص) میں دفن کرتے ہیں۔
ابھی آپ ہمارے ساتھ ابوہریرہ کا جائزہ لیں تاکہ سنتِ نبوی(ص) کےسلسلہ میں ان کے موقف سے آشنا ہوجائیں۔
بخاری نے صحجیح میں ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے رسول(ص) کی دو حدیثیں یاد کی تھیں ایک تو میں نے نشر کردی لیکن اگر دوسری کو بیان کرتا تو میرے حلقوم پر تلوار چل جاتی۔ ( صحیح بخاری، ج۱ ص۳۸، باب حفظ العلم۔)

گذشتہ صفحات میں ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ ابوبکر اور عمر نے لکھی ہوئی سنتِ رسول(ص) کو ںذر آتش کردیا تھا اور محدثین کو نقل کرنے سے منع کردیا تھا۔ ابوہریرہ ایسی چیز  کو بیان کررہے ہیں جو مخفی تھی اور اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ یہ وہی بیان کررہے ہیں جس کی خلفاء اجازت دیتے ہیں۔اس بنیاد پر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ ابوہریرہ کے پاس دور کیسے تھے ایک انھیں بیان کرنے پر ابھارتا تھا چنانچہ ایک انھوں نے بیان کردی یعنی  ایک حدیث ہم سے بیان کردی اور جس میں حاکموں کی مصلحت تھی اسے مخفی رکھا ۔ لیکن جو دوسری حدیث ابوہریرہ نے مخفی رکھی اور اپنا گلاکٹ جانے کے خوف سے بیان نہیں کی وہ نبی(ص) کی صحیح حدیث تھی۔اگر ابوہریرہ ثقہ ہوتے  تو وہ نبی(ص) کی حقیقی حدیثوں کو نہ چھپاتے اور اوہام وجھوٹ کو ظالموں کی تائید میں بیان نہ کرتے جبکہ وہ جانتے تھے کہ بینات کو چھپانے والے پر خدا لعنت کرتا ہے۔بخاری نے خود ابوہریرہ ہی کا قول نقل کیا ہے : کہتے ہیں ،لوگوں کا کہنا ہے کہ ابوہریرہ  بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتاہے ۔ اگر قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی۔
إِنَّ الَّذينَ يَكْتُمُونَ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ وَ الْهُدى‌ مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللاَّعِنُون
” بے شک جو لوگ ہمارے نازل کئے ہوئے واضح بیانات اور ہدایات ” ہمارے بیان کردینے کے بعد بھی” کو چھپاتے ہیں ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔”
اور ہمارے مہاجرین بھائی تو بازاروں میں خرید فروخت میں مشغول رہتے تھے اور انصار برادران اپنے مالی امور میں لگے رہتے تھے او ابوہریرہ نے اپنا پیٹ بھرنے کی وجہ سے نبی(ص) کے ساتھ رہنا اپنے لئے لازم کر لیا تھا۔چنانچہ وہ اس وقت حاضر رہتے تھے جب وہ ( مہاجرین و انصار) حاضر نہیں ہوتے تھے اور وہ اس چیز کو حفظ کرتے تھے جس کو دوسرے حفظ نہیں کرتےتھے ۔ ( صحیح بخاری، ج۱ ،ص۳۷، باب حفظ  العلم)پس ابوہریرہ کیسے کہتے ہیں کہ اگر قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک بھی حدیث بیان نہ کرتا

جب کہ خود ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے رسول(ص) سے دو چیزیں سنی تھیں ان میں سے ایک بیان کردی ہے اور دوسری کو مخفی رکھے ہوئے ہوں ، اگر اسے بیان کردوں تو  میرا  سرقلم کردیا جائے ۔ کیا اس سے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ابوہریرہ نے حق چھپایا  ہے جب کہ کتابِ خدا میں حق چھپانے والے کی مذمت میں دو آیتین موجود ہیں۔؟!
اور جب نبی(ص) نے اپنےاصحاب کے لئے یہ فرمایا تھا کہ: تم اپنے اہل کی طرف پلٹ جاؤ اور انھیں سکھاؤ ، تعلیم دو، ( صحیح بخاری ج۱ ص۳۰۔) نیز فرمایا : اکثر پہچانے والے سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتے ہیں۔
بخاری نے ہدایت کی ہے کہ نبی(ص) نے عبدالقیس کے وفد کو ایمان اور علم کی حفاظت پر ابھارا اور ( کہا ) اپنے بعد والوں کو اس کی خبر دینا۔( صحیح بخاری، ج۳ص۳۰۔)
کیا ہمیں اور دیگر محققین کو یہ سوال کرنے کا  حق ہے کہ ایک صحابی کو حدیث نبی(ص) بیان کرنے کے سلسلہ میں قتل کیوں کیاجاتا ہے اور اس کے گلے پر تلوار کیوں رکھی جاتی ہے؟!
ضروری ہے کہ اس حدیث میں کوئی ایسا راز پوشیدہ ہے جس کے فاش ہونے کو صحابہ دوست نہیں رکھتے ہوں گے اور ہم اپنی کتاب” فاسئلوا اہل الذکر” میں اس راز کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور وہ راز حضرت علی(ع) کی  خلافت کے لئے نص ہے۔
اور پھر ابوہریرہ پر ملامت کیوں نہیں کی جاسکتی جب کہ انکی قدر قیمت معلوم ہوچکی ہے اور وہ خود اپنے متعلق کہہ چکے ہیں کہ جو حدیث نبی(ص) کو چھپائے گا اس  پر خدا  اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔
لیکن ملامت کے مستحق اہل سنت والجماعت ہیں جو ابوہریرہ کو راوی سنت کہتے ہیں جب کہ ابوہریرہ کو اس بات کا اعتراف ہے کہ انھوں نے حدیث نبی(ص) کو چھپایا، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انہوں نے حدیث میں تدلیس کی ہے اور جھوٹی حدیث بیان کی ۔ وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نبی(ص) اور دیگر لوگوں کی حدیثوں میں تمیز نہیں کرپاتے۔
یہ سب حدیثیں اور اعترافات صحیح ہیں جو کہ صحیح بخاری اور دیگر صحاحِ اہلِ سنت میں منقول

ہیں۔
اہلِ سنت اس شخص سے کیسے مطمئن ہوگئے جس کی عدالت کو حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے مخدوش قرار دیا اور اسے جھوٹا بتایا اور فرمایا وہ( ابوہریرہ) رسول(ص) پر جھوٹ باندھتا ہے اس طرح عمر بن خطاب نے بھی اس پر تہمت لگائی اور مارا اور شہر بدر کرنے کی دھمکی دی ، اسے عائشہ نے بھی مطعون کیا اور متعدد بار جھٹلایا : متعدد بار صحابہ نے اسکی تکذیب کی اور اسکی متناقض حدیثوں کو رد کیا ۔ چنانچہ ایک مرتبہ ابوہریرہ نے اس کا اعتراف کیا اور دوسری مرتبہ  حبشی زبان میں بڑبڑانے لگے، بہت سے علمائے اسلام نے بھی اس کو مطعون کیا ہے اور اس پر جھوٹ اور تدلیس اور معاویہ  کے دسترخوان اور چاندی سونے کا حریص بتایا ہے۔
ان تمام چیزوں کے باوجود  ابوہریرہ  کیسے راوی اسلام بن گئے اور مسلمان ان سے دینی احکام کیسے لیتے ہیں۔؟!
بعض علماء محققین نے تاکید کی ہے کہ ابوہریرہ ہی نے اسلام میں یہودیوں کے عقائد داخل کئے ہیں اور اسرائیلیات کو اسلام میں شامل کردیا ہے جن سے حدیث کی کتابیں بھری پڑی  ہیں ، کعب الاحبار یہودی نے ابوہریرہ کے ذریعہ ایسا کیا ہے ،اسی لئے ایسی روایات ( مسلمانوں کی) کتابوں میں آگئی ہیں جن سے خد اکا مجسم ہونا اور حلول کرنا معلوم ہوتا ہے اور انبیاء کے بارے میں جتنے بھی منکر اقوال ہیں وہ سب ابوہریرہ کے بیان کئے ہوئے ہیں۔
کیا اہل سنت والجماعت اپنے راستہ ہٹ سکتے ہیں تاکہ وہ اس شخص سے واقف ہوسکیں جن سے انہوں نے سنت لی ہے اور جب وہ ہم سے سوال کریں گے تو ہم کہیں گے ، باب مدینۃ العلم اور ان کے ذریت سے ہونے والے ائمہ (ع) کے دروازہ پر آؤ ،وہی سنت کی حفاظت کرنے والے ، امت کے لئے باعثِ امان ، سفینۃ النجات ، ائمہ ہدیٰ، مصابیح الدجیٰ ، عروۃ الوثقیٰ اور حبل اللہ ہیں۔
۱۱ : عبداللہ بن عمر :

مزید  زندگی کا آغازنبوت ھے

آپ کا تعلق ان مشہور صحابہ سے ہے جن کا ان حوادث میں بڑا کردار رہا ہے جو  زمانہ معاویہ اور عہد بنی امیہ مین رونما ہوئے تھے اور اہل سنت والجماعت میں ان کے محبوب ہونے کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ عمر بن خطاب ان کے باپ ہیں ، اس لئے اہلِ سنت انھیں بڑا فقیہ اور حفاظ احادیث میں سے ایک سمجھتے ہیں ۔ امام مالک نے تو اپنے اکثر احکام میں انہی پر اعتماد کیا ہے چنانچہ اپنی کتاب” موطا” میں انہی کی احادیث بھری ہیں۔
اہل سنت والجماعت کی کتابوں کی ورق گردانی کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ عبداللہ بن عمر کی تعریف سے بھری پڑی ہیں۔
اس کے علاوہ جب ہمایک محقق کی نگاہ سے ان کا مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ وہ صدق و عدالت سے ، سنتِ نبوی(ص) سے ، فقہ سے اور شرعی علوم سے بہت دور تھے۔
وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب (ع)  کے شدید ترین دشمن تھے اس سلسلہ میں وہ غیبت کی حد تک پہونچ گئے تھے اور لوگوں کو آپ(ع) کی دشمنی کی طرف کھینچ رہے تھے۔
گذشتہ بحثوں میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے جھوٹی حدیثوں کو رواج دیا جن کا لب لباب یہ ہے کہ وہ عہد نبی(ص) میں اور آپ(ص) کے سامنے ابوبکر کو سب سے افضل قرار دیتے تھے اوران کے بعد پھر عمر کی نوبت تھی پھر عثمان کا نمبر تھا ان کے بعد سب لوگ برابر تھے ۔ ان کی یہ بات نبی(ص) سنتے تھےلیکن اس کی تردید نہین کرتے تھے۔ ( بخاری و مسلم وغیرہ)
جیسا کہ آپ جانتے ہین یہ سفید جھوٹ  ہے اس سے عقلاء کو ( بے ساختہ) ہنسی آجاتی ہے ہم حیاتِ نبی(ص) میں عبداللہ ابن عمر کو دیکھتے ہیں تو ایک نابالغ نوجوان ہیں اہل حل و عقد میں ان کا شمار نہیں ہے اور نہ ہی ان کی رائے سننے کے قابل ہے اور جب رسول اللہ(ص) نے وفات پائی تو اس وقت ان کی عمر زیادہ سے زیادہ ۱۹ سال تھی۔

پھر وہ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم عہد نبی(ص) میں (فلاں) کو فضیلت دیتے تھے؟ مگر یہ کہ یہ گفتگو ابوبکر و عمر اور عثمان کی اولاد کے درمیان ہو، اس کے باوجود یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ نبی(ص)  یہ سنتے تھے اور اس سے منع نہیں کرتے تھے، اس کی واضح دلالت اس بات پر ہے کہ یہ واقعہ جھوٹا ہے اور ان کی نیت  غلط ہے۔
اس پر ایک بات کا میں اضافہ کرتا ہوں ۔ نبی(ص) نے عبداللہ ابن عمر  کو غزوہ خندق کے سوا کسی جگہ بھی اپنے ہمراہ جانے کی اجازت نہیں دی جب کہ خندق کے بعد بھی غزوات ہوئے ہیں اور وہ اس وقت پندرہ(۱۵) سال کے ہوچکے تھے۔( صحیح بخاری کتاب الشہادات باب بلوغ الصبیان ، ج۳ ص۱۵۸)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ غزوہ خیبر میں شریک تھے چونکہ غزوہ خیبر ہجرت کے ساتھویں  سال واقع ہوا تھا اور انہوں نے اپنی دونوں آنکھوں سے حضرت ابوبکر کی ہزیمت دیکھی تھی اور اسی طرح  اپنے باپ عمر کی شکست دیکھی تھی اور اس جنگ میں رسول(ص)  کا قول بھی یقینا سنا ہوگا کہ :
کل میں اس شخص کو علم دوں گا جو  خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتا ہوگا اور خدا و رسول(ص) اس کو دوست رکھتے ہوں گے ، بڑھ بڑھ کر حملہ کرنے والا ہے ، فرار نہیں ہے، خدا نے ایمان کے لئے اس کے قلب کا امتحان لے لیا ہے۔
اور جب صبح ہوئی تو آپ نے علم قاطع الذَات، مفرَق الجماعات، مفرَج الکبریات، صاحب کرامات، اسداللہ الغالب علی بن ابی طالب(ع) کو علم دیا۔حدیث رایت حضرت علی(ع) کی فضیلت بیان کررہی ہے اور تمام صحابہ سے افضل قرار دے رہی ہے اور خدا  و نبی(ص) کے نزدیک جو آپ کی عظمت تھی اسے بیان کررہی ہے اور انھیں خدا  و رسول(ص) کی محبت میں کامیاب بتارہی ہے لیکن عبداللہ بن عمر نے بغض کی بناء پر علی(ع) کو عام لوگوں میں شامل کردیا ہے۔
گذشتہ بحث میں بھی ہم یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ اہل سنت والجماعت  اپنے سید و سردار عبداللہ بن عمر کی بیان کی ہوئی اس حدیث پر عمل کرتے تھے وہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع)  ، خلفائے راشدین کی فہرست میں شمار نہیں کرتے تھے اور نہ ہی انکی خلافت کے معترف تھے، ( ہاں) احمد بن حنبل

 کے زمانہ میں آپ(ع) کو خلیفہ تسلیم کیا گیا۔ جیسا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ جب وہ ایک زمانہ میں جس میں حدیث اور محدثین کی کثرت ہوگئی تھی اور ان کی طرف  انگشتِ تہمت اٹھنے لگی تھی اور وہ اہل بیت نبوی(ص)  کے بغض و حسد کی وجہ سے خاموش تھے اور اس بات کو سارے مسلمان جانتے ہیں کہ علی(ع) سے بغض رکھنا نفاق کی سب سے بڑی شناخت ہے۔
اور جب وہ حضرت علی(ع) کو خلیفہ تسلیم کرنے پر اور انھیں خلفائے راشدین میں شامل کرنے پر  مجبور ہوگئے تو انھیں اہلِ بیت(ع) سے بھی اظہار محبَت کرنا پڑا۔
کیا کوئی سوال کرنے والا ابن عمر سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ نبی(ص) کی وفات کے بعد تمام مسلمانوں نے یا چند مسلمانوں  نے اس شخص کے بارے میں کیوں اختلاف کیا جو کہ خلافت کا مستحق تھا یا اس کے لئے اولیٰ تھا، انہوں نے علی(ع) اور ابوبکر کے بارے میں اختلاف کیا لیکن اپنے والد عمر اور عثمان کے بارے میں اختلاف نہ کیا کیونکہ انکی حکومت کے زمانہ میں ان کا بھاؤ تھا۔
اور کیا کوئی ابنِ عمر سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ جب آپ کورسول(ص) نے آپ کی رائے پر قائم رکھا ہے اور آپ ابوبکر کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے اور ابوبکر کے بعد عمر کو اور پھر عثمان کو سب سے اٖفضل سمجھتے تھے تو رسول(ص) نے اپنی وفات سے دور روز قبل ایک ایسے نوجوان کو کہ جسکی میں بھی نہیں بھیگی تھیں اور  سن کے لحاظ سے ان سب سے چھوٹا تھا ان سب کا  امیر و ولی کیوں مقرر کیا ، انھیں انکی قیادت میں جانے کا حکم کیوں دیا کیا آپ ( عبداللہ بن عمر) بھی اپنے والد کی طرح یہ کہیں گے کہ رسول(ص) نے ہذیان کہا ہے؟!
اور کیا ابن عمر سے کئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ مہاجرین و اںصار نے ابوبکر کی بیعت سے اگلے  روز فاطمہ زہرا(س) سے یہ کیوں  کہا تھا کہ : قسم خدا کی اگر آپ(س) کے شوہر ہمارے پاس ابوبکر سے پہلے آگئے ہوتے تو ہم ان علی(ع) پر کسی کو  فوقیت نہ دیتے ، یہ صحابہ کا واضح اعتراف ہےکہ وہ کسی کو بھی علی(ع) سے افضل نہیں سمجھتے تھے ، اگر ابوبکر کی بیعت میں جو کہ بے سوچے سمجھے ہوگئی تھی جلدی نہ کی گئی ہوتی تو عبداللہ بن عمر ایسے مغرور کے نظر یہ کی کیا قیمت ہوسکتی تھی جو کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے

کے بارے اصحاب کبار کی کیا رائے ہے۔؟!
اور کیا کوئی پوچھنے والا عبداللہ بن عمر سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ بزرگ صحابہ نے عمر کے قتل کے بعد علی(ع) کو کیوں خلافت کے لئے منتخب کیا تھا اور عثمان پر کیوں فوقیت دی تھی، اگر علی(ع) ابنِ عوف کی سیرت سیرتِ شیخین والی شرط کو نہ ٹھکراتے (تو علی (ع) افضل ہوجاتے یا نہیں)؟! ( تاریخ طبری ج۵، ص۴۰، تاریخ الخلفاء سیوطی، ص۱۰۴، تاریخ ابنِ قتیبہ اور اسی طرح مسند احمد ابنِ حنبل ج۱ ص۱۲۱)
لیکن عبداللہ ابن عمر اپنے باپ کے نقش قدم پر چلے۔ انہوں نے ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کے زمانہ میں عمر گذاری تھی، وہ دیکھتے تھے کہ علی(ع) کو دور کردیا گیا ہے، جماعت میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے اور نہ ہی حکومت میں کوئی منصب ان کے لئے ہے اور ان کے ابنِ عم کے انتقال کے بعد لوگوں نے ان سے اور ان کی زوجہ سیدہ رخ موڑ لیا ہے اوران کے پاس کوئی ایسی چیز  نہیں ہے جس کے لالچ میں لوگ ان کے پاس جائیں۔
اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ عبداللہ بن عمر اپنے باپ سے سب سے زیادہ قریب تھے وہ انکی بات سنتے تھے، ان کے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانتے تھے چنانچہ وہ علی(ع) سے خصوصا اور اہل بیت(ع) سے عموما بغض اور عداوت کی فضا میں جوان ہوئے ، اسی لئے وہ دن ان کے لئے بہت ہی دشوار اور غم انگیز تھا جس دن انہوں نے دیکھا کہ قتل عثمان کے بعد مہاجرین و انصار نے علی(ع) کی بیعت کرلی ہے۔ چنانچہ وہ اس کو برداشت نہ کرسکے اور اپنی چھپی ہوئی دشمنی کا اظہار کردیا اور امام المتقین ولیَ المؤمنین کی بیعت کرنے سے انکار کردیا، دشمنی کی حد ہوگئی ، عمرہ کے بہانے مدینہ چھوڑ کر مکہ پہنچ گئے۔
اس کے بعد ہم عبداللہ  بن عمر ک ودیکھتے ہیںہ وہ اپن پوری طاقت کےساتھ لوگوں کو حق کی نصرت سے باز رکھنے اور باغی گروہ” کہ جس سے خدا نے جنگ کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ حکمِ خدا نافذ ہوجائے”۔ کی مدد کرنے پر ابھار رہے ہیں ۔ پس عبداللہ بن عمر اپنے زمانہ کے مفترض الطاعت امام کی مدد نہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ اور جب علی (ع) قتل کردیئے گئے اور معاویہ بظاہر امام حسن(ع) پر غالب آگیا اور آپ(ع) سے

خلافت چھین لی تو معاویہ  نے خطبہ دیتے ہوئے کہا: میں نے تم سے اس لئے جنگ نہیں کی کہ تم نماز پڑھو! یا روزہ رکھو اورحج  کرو، میں نے تو تم سے اس لئے جنگ کی تھی تاکہ تم پر میری حکومت قائم ہوجائے۔
اس وقت ہم عبداللہ ابن عمر کو بیعت معاویہ کے لئے  دوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں لوگوں نے متفرق ہونے کے بعد ان پر اجماع کر لیا ہے!
میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ انہوں نے ہی اس سال کا نام عام الجماعہ رکھا تھا ۔ کیوں کہ وہ خود اور بنی امیہ میں سے ان کے پیروکار اسی وقت سے اہل سنت والجماعت کہلوانے لگے تھے اور روزِ قیامت تک ایسے ہی باقی رہیں گے۔
کیا کوئی ابنِ عمر اور اہل سنت والجماعت میں سے ان کے ہم خیال سے یہ سوال کرسکتا ہے کہ تاریخ میں بھی خلیفہ پر اس طرح اجماع ہوا ہے جس طرح امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب(ع) پر ہوا تھا؟!
ابو بکر کی خلافت تو ایک اتفاقی امر تھا جس کی شر سے خدا ہی نے محفوظ رکھا اور اکثر صحابہ نے اس سے روگردانی کی تھی۔    
اور عمر کی خلافت بغیر مشورہ کےہوئی تھی بلکہ وہ ابوبکر کی رائے تھی صحابہ کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا نہ عملی لحاظ سے اور نہ قولی اعتبار سے۔
اور عثمان کی خلافت ان تین افراد کی رائے کا نتیجہہے جنہیں عمر نے منتخب کیا تھا بلکہ عمر نے اپنے استبداد سے فقط عبدالرحمن بن عوف کو مالک بنادیا تھا۔
لیکن علی(ع) کےہاتھوں پر مہاجرین و اںصار نے بغیر کسی زبردستی کے بیعت کی تھی اور آپ کی بیعت کے لئے آفاق میں خط لکھے گئے تو سوائے معاویہ کے  سب نے بیعت کرلی تھی۔ ( فتح الباری ابن حجر ج۷، ص۵۸۶)
اور مفروض یہہے کہ ابن عمر اور اہل سنت والجماعت  معاویہ بن ابی سفیان سے جنگ کرتے جس نے طاعت کو ٹھکرادیا اور خود خلافت کا خواہاںہوا جیسا کہ اہلِ سنت نے اپنی صحاح میں

 روایات نقل کی ہیں کہ رسول(ص) نے فرمایا: جب دو خلفا کی ایک ہی وقت میں بیعت کی جائے تو ان میں سے ایک کو قتل کردو۔ ( صحیح مسلم ج۶ ص۲۳، مستدرک حاکم ج۲ ص۱۲۶، سنن بیہقی ج۱ ص۱۴۴۔)
رسول(ص) نے فرمایا : جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے : جو شخص کسی امام کی بیعت کرتا ہے اگر وہ استطاعت رکھتا ہے اپنےہاتھ کی کمائی اور ثمرہ قلب اسے دینا چایئے اور  اگر کوئی دوسرا خلیفہ سے جنگ کرے تو اس کی گردن مارنا چاہیئے۔
لیکن عبداللہ بن عمر نے آیات و حدیث نبی(ص) کے اس حکم کے بر خلاف ، کہ معاویہ سے جنگ کرو اور اسے قتل کردو، کیوں کہ اس نے مسلمانوں کے خلیفہ سے جنگ کی، فتنہ کی آگ بھڑکائی ہے، علی(ع) کی بیعت سےروگردانی کی ہے، جب کہ علی(ع) کی بیعت پر تمام مسلمان متفق تھے اور عبداللہ بن عمر طاعت سے روگردان ،امام زمانہ سے جنگ کرنے والے اورنیکوکاروں کو قتل کرنے والے معاویہ کی بیعت کی تھی جو کہ ایسے فتنہ کا سبب بنی جس  کے آثار آج تک باقی ہیں۔
میرا عقیدہ تو یہہے کہ عبداللہ بن عمر ہر اس گنا ہ و جرائم اور ہلاکت میں شریک ہیں جس کا معاویہ مرتکب ہوا ہے کیوں کہ عبداللہ بن عمر نے معاویہ کی حکومت مضبوط کی اور اس کی خلافت کو مستحکم کرنے میں مدد کی جو کہخدا ورسول(ص) نے طلقاابن طلقا اور لعین وابنِ لعین پر حرام قرار دی تھی۔
اور عبداللہ ابن عمر  اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ یزید (لع) بن معاویہ کی بیعت بھی دوڑ کر کرلی، کون یزید شراب خور، فاجر ، کافر ، فاسق، طلیق ابن طلیق ، لعین ابن لعین۔
جبکہ عمر ابن خطاب کا کہنا ہے، جیسا کہ ابنِسعد نے اپنی طبقات میں لکھا ہے کہ، خلافت طلیق اور ابن طلیق اور فتح مکہ کے روز ہونے والے مسلمان کے لئے زیب نہیں دیتی۔( طبقات ابنِ سعد ج۳ ص۲۴۸۔)
پس عبداللہ اس سلسلہ میں اپنے باپ کی مخالفت کس منہ سے کرتےہیں اور پھر جب امر خلافت میں عبداللہ بن عمر کتابِ خدا اور سنت رسول(ص) کی مخالفت کرتےہیں تو یہ کوئی تعجب کی جا نہیں

کہ وہ اپنے باپ کی مخالفت کریں۔
اور کیا ہم عبداللہ بن عمر سے یہ پوچھ سکتےہیں کہ: یزید (لع) بن معاویہ کی بیعت پر کون سا اجماع ہوا تھا؟ اس کے برخلاف امت کے سرآوردہ اور مہاجرین و انصار کے بقیہ السلف کہ جن میں سے جوانان جنت کے سردار حسین بن علی(ع) ، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عباس اوران کے پیروکاروں نے یزید(لع) کی بیعت سے انکار کردیا تھا۔
بلکہ مشہور یہہے کہ شروع میں خود عبداللہ بن عمر بھی یزید(لع) کی بیعت کے مخالف تھے لیکن معاویہ جانتا تھا کہ انھیں کس طرح  اپنی طرف کھینچا جاسکتا ہے چنانچہ اس نے ایک لاکھ درہم بھیجدیئے اور انھوں نے قبول کرلئے اور جب معاویہ نےاپنے بیٹے یزید (لع)  کی بیعت کا ذکر کیا تو ابن عمر  نے کہا:کیا مجھ سے یہی چاہتےہو؟ اس صورت میں تو میرا دین بہت ہی کم قیمت ہر بک جائے گا۔
جی ہاں ! عبداللہ بن عمر نے حقیر قیمت پر اپنا ایمان بیچ دیا جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے۔وہ امام المتقین کی بیعت سے بھاگے اور باغیوں کے سربراہ معاویہ اور فاسقین کے سردار یزید(لع)  کی بیعت کرلی اور معاویہ ایسے ظالم کے گناہوں میں شریک ہوئے اسی طرح یزید(لع) کے جرائم میں خصوصا حرمتِ رسول(ص) کی ہتک اور جوانان جنت کے سردار اور عترت نبی(ص) اور صالحین کے ساتھ جو کربلا اور  واقعہ حرہ میںہوا، اس میں وہ برابر کے شریک ہیں۔
عبداللہ بن عمر نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کی کہ یزید(لع) کی بیعت کرلی بلکہ انہوں نے لوگوں کو بھی یزید(لع) کی بیعت پر مجبور کیا اور زبردستی بیعت کرائی اور جو بھی خود  کو یزید(لع) کے خلاف خروج کرنے پر تیار کرتا اسے جناب خوف دلاتے اور ڈراتے تھے۔اور بخاری نے اپنی صحیح میں اور دیگر محدثین نے تحریر کیا ہے کہ: عبداللہ ابن عمر نےاپنے بیٹوں اور  اصحاب و موالی کو جمع کیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اہل مدینہ نے یزید(لع) ابن معاویہ کی بیعت توڑ دی تھی اور کہا : ہم نے خدا و رسول(ص) کی بیعت پر اس شخص (یزید) کی بیعت کی ہے۔( کیا خدا و رسول(ص) نے فاسقوں  اور مجرموں کی بیعت کا حکم دیا ہے؟ یا  اس نے اپنے اولیاء و صالحین

کی بیعت کے لئے فرمایا ہے چنانچہ ارشاد ہےؕ ” إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ”(مائدہ /۵۵)
او ر میں نے رسول(ص) سےسنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا: جوشخص کسی کے ساتھ بدعہدی کرے گا اس کے لئے قیامت کے دن ایک پرچم بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا : اس نے فلاں کے ساتھ  بدعہدی کی ہے اور خدا کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے بعد سب سے بڑی بدعہدی یہ ہے کہ انسان خدا اور رسول(ص) کی بیعت پر کسی شخص بیعت کرے اور پھر توڑدے۔ ( اے کاش یہی بات عبداللہ بن عمر طلحہ اور زبیر سے بھی کہدیتے کہ جنہوں نے علی(ع)  کی بیعت توڑ دی تھی اور ان سے جنگ کی تھی، اے کاش اہل سنت والجماعت تقسیم رجال میں اس حدیث پر عمل کرتے اور جب  بیعت توڑ دینا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے تو طلحۃ و زبیر کے بارے میں کیا خیال ہے جنہون نے نہ صرف بیعت توڑ دی تھی، بلکہ ہتک عزت، بیکوکاروں کا قتل ، اموال کی غارت گری اور عہد شکنی کا بھی ارتکاب کیا تھا۔)
تم میں سے کوئی ہرگز یزید(لع) کی بیعت نہ توڑے اور کوئی اس امر میں تردد کا شکار نہ ہو ورنہ میرے اور تمہارے درمیان تلوار ہوگی۔ ( صحیح بخاری ج۱ ص۱۶۶، مسند احمد ج۲ ص۹۶، سنن بیہقی ج۸ ص۱۵۹)
یقینا عبداللہ بن عمر کی دوستی  سے یزید کی حکومت اور تسلط مضبوط ہوا اور ابن عمر نے لوگوں کو یزید(لع) کی بیعت پر اکسایا ۔ یزید(لع) نے ایک لشکر تیار کیا اور مسلم ابن عقبہ جیسے فاسق ترین انسان کو اس کا کمانڈر مقرر کیا اور مدینہ رسول(ص) پر حملے کا حکم دے دیا اور کہا جو تم چاہو مدینہ میں کرنا چنانچہ ابنِ عقبہ نے ہزاروں صحابہ کو تہ تیغ کیا، انکی عورتوں کو ساتھ بد سلوکی کی اور اموال لوٹ لئے، سات سو حافظ قرآن کو قتل کیا جیسا کہ بلاذری نے نقل کیا ہے اور مسلمان عورتوں سے زنا کیا ، نتیجہ میں ہزار سے زیادہ بچے پیدا ہوئے اور باقی بچ جانے والوں سے ” اس بات پر بیعت لی کہ وہ اپنے سردار یزید(لع) کے غلام رہیں گے۔

کیا ان تمام چیزوں  میں عبداللہ ابن عمر یزید(لع) کا شریک کار نہیں ہے، کیا انہوں نے اس کی حکومت کو مضبوط نہیں کیا ہے؟ اس سے نتیجہ نکالنے کا کام قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
عبداللہ بن عمر نے اسی پر اکتفا نہ کی اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور مروان بن حکم ، چھپکلی لعین، طلیق اور فاجر کی بیعت کی جس نے علی(ع) سے جنگ کی اور طلحہ کو قتل کیا اور بہت سے سیاہ کارنامے انجام دیئے۔ جیسے خانۃ خدا کو آگ لگانا اور منجنیق سے پتھر برسانا،یہاں تک کہ اس کا رکن منہدم ہوگیا، اور کعبہ کے اندر عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنا اور بہت سے اعمال ہیں جن کے ذکر سے بھی جبین (انسانی) پر پسینہ آتا ہے۔
پھر عبداللہ بن عمر بیعت کے سلسلہ میں بہت آگے نکل جاتے  ہیں اور حجاج بن یوسف ثقفی ایسے زندیق کی بیعت کرتے ہیں کہ جس  نے قرآن کا مذاق اڑایا اور کہا یہ اعراب کا  رجز ہے اور اپنے سردار عبدالملک بن مروان  کو رسول(ص)  پر فضیلت دی جس کے کرتوتوں  سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ مؤرخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس نے کل ارکان، اسلام کا پامال کردیا تھا۔
حافظ بن عساکر نے اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ حجاج کے متعلق دو اشخاص کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک نے کہا: وہ کافر ہے، دوسرے نےکہا: وہ گمراہ مومن ہے جب بات زیادہ بڑھی تو دونوں نےشعبی سے پوچھا انہوں نے کہا: وہ طاغوت پر ایمان رکھتا تھا اور خدا کا منکر و کافر تھا ۔ ( تاریخ ابن عساکر ج۴ ص۸۱۔)
یہ ہے مجرم حجاج جو کہ خدا کی حرام کردہ چیزوں پر عمل کرتا ہے جس کے متعلق مؤرخین نے لکھا ہےکہ وہ بے دردی سے قتل کرتا تھا، انسانیت سوزسزا دیتا تھا اور امت کے نیکوکار اور مخلص افراد کو خصوصا شیعیان آلِ محمد(ص) کو مثلہ کردیتا تھا۔ انھیں حجاج سے جو تکلیفیں پہنچی ہیں وہ کسی اور سے نہیں پہنچیں۔
ابن قتیبہ نےاپنی تاریخ میں تحریر کیاہے کہ حجاج نے ایک دن ستر ہزار سے بھی زیادہ

لوگوں کو قتل کیاتھا یہاں تک کہ راستوں میں خون ہی خون تھا اور مسجد کے دروازہ تک خون بہہ کر پہنچ گیا تھا۔( تاریخ الخلفاء ، ابن قتیبہ ج۲ ص۲۶۔)
ترمذی اپنی صحیح میں تحریر فرماتے ہیں : جب ان مقتول قیدیوں کو شمار کیا گیا جن کو حجاج نے قتل کیا تھا تو ان کی تعداد اکیس ہزار تھی۔ ( صحیح ترمذی ج۹ ص۶۴۔)
اور ابن عساکر نےان لوگوں کے قتل کے بعد ، جو کہ حجاج کے ہاتھ سے قتل ہوئے تھے  تحریر کیا ہے ،حجاج کی موت کے بعد اس کے قید خانے میں اسی(۸۰) ہزار افراد پائے گئے جن میں تیس ہزار عورتیں تھیں۔ّتاریخ ابن عساکر ج۴ ص۸۰)
حجاج خود  کو خدائے عزوجل سے تشبیہ دیتا تھا چنانچہ جب وہ ایک مرتبہ قید خانہ کی طرف سے گذرا اور قیدیوں کی آہ و زاری اور استغاثہ سنا تو  کہا : اسی میں خست اٹھاؤ اور مجھ سے بات نہ کرو۔
یہی وہ حجاج ہے جس کے بارے میں رسول(ص) نے وفات سے قبل ہی خبردار کیا اور فرمایا تھا: بے شک بنی ثقیف میں ایک کذاب اور ظالم ہے اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اس روایت کے راوی خود عبداللہ ابن عمر ہیں۔ ( صحیح ترمذی ج۹ ص۶۴، مسند احمد بن حنبل ج۲ ص۹۱۔)
جی ہاں ! عبداللہ ابن عمر  نے نبی(ص) کے بعد سب سے افضل انسان کی بیعت نہیں کی اور  نہ ان کی مدد کی اور نہ ہی ان کی اقتداء میں نماز ادا کی لہذا خدا نے انھیں ذلیل کیا چنانچہ جب وہ حجاج کے پاس گئے اور کہا : میں نے رسول(ص) سے سنا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا : جوشخص بغیر بیعت کے مرا وہ جاہلیت کی موت مرا، حجاج نے انھیں ذلیل کیا اور  ان کی طرف اپنا پیر بڑھادیا اور کہا اس وقت میرا ہاتھ خالی  نہیں ہے ( پیر سے بیعت کرلو) عبداللہ ابن عمر حجاج ایسے زندیق اور اس کے کارندے نجدہ بن عامر، خوارج کے سردار پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔( طبقات الکبری ابن سعد ج۴ ص۱۱۰، محلی ابن حزم ج۴ ص۲۱۳۔)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ان لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنا

مزید  اسلامی معاشرے پر یلغار

مناسب سمجھا کیوں کہ وہ ہر نماز کے بعد علی(ع) پر لعنت کرنے میں مشہور تھے۔ لہذا ابن عمر  کے کینہ کی آگ اور حسد کی تپش کے لئے وہی ماحول مناسب تھا۔ وہ علی(ع)  پر لعنت ہوتے ہوئے سنتے تھے اور ان کا قلب و جگر ٹھنڈا ہوتا تھا۔
اور اسی لئے آج اہل سنت کو یہفتوی دیتےہوئے سنتے ہیں کہ ہر نیک و بد اور فاسق و فاجر اور مومن و فاسق کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے اس سلسلہ میں ان کے پاس انکے سید و سردار اوران کے مذہب کے فقیہ عبداللہ ابن عمر کا فعل بطورِ سند موجود ہے کہ انہوں نے حجاج ایسے زندیق اور نجدہ بن عامر ایسے  خارجی کے پیچھے نماز پڑھی تھی۔
لیکن رسول(ص) نے فرمایا : اس شخص کو امام بناؤ جو کتابِ خدا کو بہترین قرائت سے پڑھتا ہو، پس اگر قرائت کے لحاظ سے برابر ہوں تو جو  احادیث رسول(ص) کوسب سے زیادہ جانتا ہو اسے پیش نماز بناؤ، اگر سنت کے سلسلہ میں بھی سب برابر ہوں تو  جو ان میں ہجرت کے لحاظ سے سابق ہے اسے پیش امام بناؤ اوراگر ہجرت کے اعتبار سے بھی سب برابر ہوں تو جو ان میں سابق الاسلام ہون ان کے پیچھے نماز پڑھو۔لیکن عبداللہ ابن عمر نے اس حدیث کو دیوار پر دے مارا۔
اور یہ چاروں صفات۔ حافظ قرآن ، حافظ سنت ، ہجرت کے لحاظ سے سابق یا اسلام کے اعتبار سے سابق ہونا ان میں سے  کسی میں یہ  صفات نہیں  پائی جاتی تھیں جن کی عبداللہ ابن عمر  نے بیعت کی اور جن کی  اقتداء میں نماز پڑھی ۔ نہ معاویہ میں ، نہ یزید میں ،  نہ مروان میں ، نہ حجاج میں اور نہ نجدہ بن عامر خارجی میں یہ صفتیں تھیں۔
اور عبداللہ بن عمر  نے اس سنتِ نبوی(ص) کے خلاف عمل کیا اور اسے دیوار پردے مارا  کیوں کہ انہوں نے عترت طاہرہ(ع) کے سردار علی(ع) کو چھوڑدیا تھا کہ جن میں یہ چاروں خصلتیں موجود تھیں اور ان کے علاوہ بہت سے صفات تھیں لیکن ابنِ عمر نے ان کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی بلکہ فساق، خوارج ، ملحدین اور دشمن خدا و  رسول(ص) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔

اور فقیہ اہل سنت والجماعت عبداللہ بن عمر نے بہت سی جگہوں پر کتابِ خدا اور سنتِ رسول(ص) کی مخالفت کی ہے ۔ اگر ہم ان سب کو جمع کریں تو اس کے لئے الگ ایک کتاب درکار ہے۔ لیکن اہل سنت والجماعت کی صحاح اور دیگر کتابوں سے بعض مثالیں نقل کردینے کو مناسب سمجھتا ہوں تاکہ وہ حجت بالغہ ہوجائیں۔
قرآن اور حدیث سے ابنِ عمر کا اختلاف :
قرآن مجید میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:
پس زیادتی کرنے والے سےاس وقت تک جنگ کرو یہاں تک کہ وہ بھی حکمِ خدا کو تسلیم کرلے۔( حجرات/۹)
رسول(ص) نے فرمایا : اے علی(ع) آپ میرے بعد ناکثین ، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کریں گے۔
پس عبداللہ ابن عمر نے نصوصِ قرآن اور سنت نبوی(ص) کی مخالفت کی اور اسی طرح مہاجرین و اںصار کے اجماع کی مخالفت کی جو کہ آپ کے ساتھ ہوکر دشمنوں سے جنگ کررہے تھے، لیکن ابنِ عمر  نے کہا : میں فتنہ میں جنگ نہیں کروں گا اور جس کو غلبہ ہوگا اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ ( طبقات الکبری ج۴ ،ص۱۱۰)
جیسا کہ ابن حجر نے تحریر کیا ہے کہ عبداللہ ابن عمر نے اپنی رائے سے جنگ میں شرکت نہ کی اور کہا یہ فتنہ ہے اگر چہ ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک جماعت حق پر ہے اور دوسری باطل پر۔ ( فتح الباری۔ ابن حجر ص۳۹)
قسم خدا کی عبداللہ ابن عمر کا عجیب قصّہ ہے جو کہ ایک طرف حق دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف باطل۔ لیکن پھر بھی باطل کے خلاف حق کی نصرت نہیں کرتے اور نہ ہی امر خدا کو  پورا کرنےکے لئے باطل سے دست بردار ہوتے ہیں اور غالب کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں خواہ باطل ہی کیوں نہ ہو۔

معاویہ کو کامیابی مل گئی اور وہ امت پر مسلط ہوگیا اور ذلیل کر کے حاکم بن بیٹھا تو ابن عمر آئے اور معاویہ کی بیعت کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھی جب کہ وہ جانتے تھے کہ معاویہ نے کیا کیا؟ اس نے وہم و گمان سے بالاتر جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
باطل پرست حکام کو کثرت کی بنا پر حق یعنی ائمہ اہل بیت(ع) پر کامیابی ملی اور طلقا و فساق، گمراہوں اور مجرمین نے طاقت اور قدرت سے امت پر حکومت قائم کریں۔
ابنِ عمر نے پورے طور سے حق کو چھوڑ دیا۔ تاریخ نےابنِ عمر کی اہل بیت(ع) سے محبت و مودت کو نہیں لکھا ہے جب کہ ان کی حیات میں پانچ ائمہ(ع) کا زمانہ گذرا ہے اور ابنِ عمر نے کسی ایک کی بھی اقتداء مین نماز نہیں پڑھی اور نہ کسی امام سے کوئی روایت نقل کی ہے اور نہ ان میں سے کسی فضیلت و فضل کا اعتراف کیا ہے۔
یہ بات ہم اس  کتاب کی فصل ” ائمہ اثناعشر” میں بیان کرچکے ہیں ۔ خلفائے اثناعشر کے بارے میں ابنِ عمر کا نظریہ یہ تھا کہ ابوبکر، عمر ، عثمان، معاویہ، یزید، سفاح، سلام، منصور، اور جابر و مہدی، امین و امیر  العصیب ہی خلیفہ تھے، کہتے ہیں بنی کعب بنی لوی میں سے ہی بارہ خلیفہ ہیں ۔ سب صالح تھے اور کوئی ان کا مثل نہیں ہے۔ ( تاریخ سیوطی، کنز العمال، تاریخ ابنِ عساکر و ذہبی۔)
جو نام ابنِ عمر نے شمار کرائے ہیں ان میں سے کوئی نام آپ نے عترت نبی(ص) میں سے ائمہ ہدیٰ (ع) کا بھی دیکھا ہے؟ جن کے متعلق رسول(ص) کا ارشاد ہے: وہ سفینۃ  نجات اور قرآن کا ہم پلہ ہیں۔؟!
یہی وجہ ہےکہ اہل سنت والجماعت کے یہاں ائمہ اطہار(ع) میں سے کسی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ائمہ اہل بیت(ع) میں سے کسی کی اقتداء کرتے ہیں۔
یہ تو تھا کتابِ خدا اور حدیثِ رسول(ص) کی مخالفت میں ابنِ عمر کا کردار اور اب کتابِ  خدا اور  حدیثِ نبی(ص) سے ابنِ عمر کی جہالت ملاحظہ فرمائیے۔

کہا جاتا ہے کہ نبی(ص) نے حالت احرام میں عورتوں کو جوتے پہننے کی اجازت دی تھی لیکن ابنِ عمر اس سے بے خبر تھے لہٰذا انہوں نے جوتے پہننا حرام قرار دے دیا۔ ( سنن ابو داؤد ج۱ ص۲۸۹، سنن بیہقی ج۵ ص۲۵، مسند احمد ج۲ ص۲۹)
عہد رسول(ص) اور ابوبکر و عمر و عثمان کے زمانہ میں یہاں تک کہ معاویہ کے زمانہ میں عبداللہ ابن عمر  اپنے کھیتوں کو کرایہ پر دیتے تھے ۔ ایک مرتبہ معاویہ کی حکومت کے آخری زمانہ میں کسی صحابی نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ اسے تو رسول(ص) نے حرام قرار دیا تھا۔( صحیح بخاری و مسلم ج۵ ص۲۱۔)
جی ہاں ! یہی ہیں اہل سنت والجماعت کے فقیہ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ کھیتوں کو کرایہ ، پر دینا حرام ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ عبداللہ ابنِ عمر  عہد نبی(ص)  سے لے کر معاویہ کے زمانہ یعنی پچاس سال تک اس کے حلال ہونے کے سلسلہ میں فتویٰ دیتے رہے ہوں گے۔
کچھ چیزوں میں عائشہ سے انکی مخالفت تھی،  مثلا انہوں نے فتویٰ دیا کہ بوسہ لینے سے وضو باطل ہوجاتا ہے یا ان  کا فتویٰ تھا اگر میت پر  زندہ لوگ گریہ کریں تو مرنے والے پر عذاب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اذان صبح کے بارے میں اختلاف یا ان کا  یہ کہنا کہ ۲۹ روز کا مہینہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت چیزوں میں دونوں کے درمیان اختلاف تھا۔
ان میں سے کچھ چیزوں کو شیخین یعنی بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ عبداللہ ابن عمر سے کہا گیا کہ ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول(ص) سے سنا ہے : جو ایک جنازہ کی تشیع کرتا ہے اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے۔
عبداللہ ابن عمر نے کہا : ابوہریرہ اکثر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ پس عائشہ نے ابوہریرہ کی تصدیق کی اور کہا : میں نے بھی رسول(ص) سے یہ حدیث سنی تھی۔ اس پر ابنِ عمر نے کہا : ہم نے بہت سے اجر ضائع کردیئے۔ (  صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اتباع الجنائز۔)
ہمارے لئے عبداللہ کے سلسلہ میں ان کے باپ ابنِ خطاب ہی کا قول کافی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ بعض تملق پسند افراد نے بستر مرگ پر دراز عمر سے کہا: آپ اپنے

 فرزند عبداللہ کو خلیفہ بنادیجئے تو  انہوں نے کہا: میں لوگوں پر اسے کیسے حاکم بنادوں جو اپنی بیوی کو طلاق دینا بھی نہیں جانتا۔
یہ ہیں ابنِ عمر ! اور پھر اپنے بیٹے کو باپ سے زیادہ کون پہچانے گا۔
لیکن جن جھوٹی حدیثوں کے ذریعہ اس نے اپنے آقا معاویہ کی خدمت کی ہے وہ بہت  زیادہ ہیں ۔ ہم مثال کے طور پر ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں۔
ابنِ عمر کہتے ہیں: رسول(ص) نےفرمایا : تمہارے پاس اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے، پس معاویہ نمودار ہوئے۔ پھر اگلے روز آپ نے فرمایا : تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے ، پس ہم نے دیکھا کہ معاویہ چلے آرہے ہیں۔ تیسرے دن پھر فرمایا: تمہارے سامنے اہل جنت میں سے ایک شخص آنے والا ہے ، پس معاویہ آئے۔
ابنِ عمر کا قول ہےکہ جب آیۃ الکرسی نازل ہوئی اس وقت رسول(ص) نے معاویہ سے فرمایا: اسے لکھ لو ، معاویہ نے کہا میں کیا لکھوں ، اس کے لکھنے سے مجھے کیا ملے گا۔ رسول(ص) نے فرمایا: جب بھی کوئی اس کو پڑھے گا تمہارے لئے ثواب لکھا جائے گا۔ نیز کہتے ہیں جب روز قیامت معاویہ کو اٹھایا جائے گا تو ان پر ایمان کی چادر پڑی ہوگی۔
لیکن میں اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ اہل سنت والجماعت نےا پنے سردار معاویہ کاتبِ وحی کو عشرہ مبشرہ میں کیوں شامل نہیں کیا،جب کہ ان کےسردار ابنِ عمر نے تین تین بار اس کی تاکید کی کہ معاویہ کو پے  درپے تین روز تک اہل جنت میں قرار دیا اور جب روز قیامت تما لوگ عریان ہوں گے اس روز معاویہ پر ایمان کی چادر پڑی ہوگی!!! پڑھئے اور تعجب کیجئے۔
یہ ہیں عبداللہ ابنِ عمر اور یہ ہے ان کا مبلغ علم اور یہ ہے انکی فقہ اور یہ ہے کتابِ (خدا) اور سنت نبی(ص) سے ان کا اختلاف ،اور یہ ہے امیرالمؤمنین اور ائمہ طاہرین(ع)  سے ان کی عداوت اور یہ ہے دشمن خدا اور دشمنِ انسانیت لوگوں سے ان کی محبت اور چاپلوسی۔

کیا آج کوئی اہل سنت والجماعت میں سے ان حقائق کو قبول کرے گا کہ سنتِ محمدی(ص) صرف عترتِ طاہرہ(ع) کا اتباع کرنے والوں ہی کے پاس ہے۔ اور وہ ہے شیعہ؟
جہنمی اور جنتی دونوں برابر نہیں ہیں ( کیونکہ) جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔( حشر/۲۰)
۱۲ : عبداللہ بن زبیر

ان کے باپ زبیر بن العوام ہیں جو کہ جنگ جمل میں قتل کئے گئے تھے واضح رہے حدیثِ نبوی(ص)  میں اسے حزب الناکثین کہا گیا ہے ان کی مان بنت ابی بکر بن قحافہ ہیں ، ان کی خالہ ام المؤمنین زوجہ نبی(ص) عائشہ بنتِ ابی بکر ہیں یہ بھی امام علی(ع) کے سخت ترین دشمن اور بغض رکھنے والے تھے۔
شاید وہ اپنے جد ابوبکر کی خلافت اور اپنی خالہ ام المؤمنین عائشہ پر فخر کرتے تھے اور حسد و عداوتِ علی(ع) انھیں سے ورثہ میں ملی تھی اور اسی ماحول میں پرورش پائی تھی امام علی(ع) نے زبیر سے فرمایا تھا کہ ہم تو تمہیں بنی عبدالمطلب میں سمجھتے تھے لیکن تمھارا بیٹا، برائیوں کا پلندہ ہے اس نے ہمارے اور تمھارے درمیان جدائی ڈال دی ہے۔
تاریخ میں مشہور ہے کہ جناب نے بھی جنگ جمل میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہاں تک کہ  ایک روز عائشہ نے انھیں نماز  میں امامت کے لئے بڑھادیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ طلحہ و زبیر  کے درمیان امامت کے سلسلہ میں اختلاف ہوگیا دونوں ہی امام بننا چاہتے تھے لہذا عائشہ نے ان دونوں کو معزول کردیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی خالہ عائشہ کے پاس یہی پچاس افراد لائے تھے جنھوں نے جھوٹی گواہی دی تھی کہ یہ ( حوب) کا مقام نہیں ہے  لہذا عائشہ نے ان کےساتھ راستہ طے کیا۔
یہ وہی عبداللہ ہیں جنھوں نے اپنے باپ کو اس وقت بزدل کہا تھا اور ان پر خوف کھانے کی تہمت لگائی تھی کہ جب انھیں حضرت علی(ع) نے نبی(ص) کی یہ حدیث یاد دلائی تھی کہ تم علی(ع) سے جنگ کرو گے اور ان کے حق میں ظالم ہوگے۔ وہ میدانِ جنگ  سے پلٹ جانے پر تیار ہوگئے تھے ۔ لیکن جب بیٹے نے زیادہ  پریشان کیا تو  کہا ، خدا تجھے رسوا کرے تجھے کیا ہوگیا ہے ۔ ( تاریخ اعثم و شرحِ ابن ابی الحدید ج۲ ،ص۱۷۰)
کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے باپ کو اتنی غیرت دلائی کہ انھوں  نے علی(ع) کے لشکر پر حملہ

 کردیا اور قتل ہوگئے اور اس طرح وہ اپنے باپ کے اس قول کا مصداق قرار پائے کہ  کتنا برا لڑکا ہے۔
ہم نے اسی روایت کو منتخب کیا ہے کیونکہ یہ واقعہ زبیر کے کینہ توز نفس سے اور ان کے فرزندوں سے بہت ہی قریب ہے اور اتنی آسانی سے زبیر میدا ن جنگ سے نہیں ہٹ سکتے تھے طلحہ اور ان کے اصحاب و موالی اور وہ غلام جو بصرہ تک ان کے ساتھ آئے تھے اور ام المؤمنین اپنی زوجہ کی بہن کو جوکہ ہلاکت سے قریب تھیں انھیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اوراگر ہم یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ انھوں نے لشکر والوں کو چھوڑ دیا تھا ۔ تو بھی  لشکر والوں نے انھیں نہیں چھوڑا تھا خصوصا ان کے بیٹے عبداللہ نے جس کے ارادہ سے ہم واقف ہوچکے ہیں۔
مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہےکہ عبداللہ بن زبیر علی(ع) پر لعنت کرتا تھا کبھی کہتا تھا تمھارے پاس کمینہ اور بدبخت آگیا ہے اور اس کی  مراد علی(ع) ہوتے تھے ۔ اہل بصرہ کے درمیان اس نےخطبہ دیا اور انھیں جنگ و جدال پر ابھارا ۔ کہا: اے لوگو! علی(ع) نے خلیفہ برحق عثمان مظلوم کو قتل کیا ہے۔ پھر لشکر تیار کیا تاکہ تم پر حکومت کرے اور تمھارے شہر کو تم سے چھین لے۔ پس تم اپنے خلیفہ کے خون کا بدلہ لینے کے لئے اٹھو! اوراپنے حریم کی حفاظت کرو اور اپنی عورتوں بچوں اور اپنے حسب ونسب سے دفاع کرو، آگاہ ہوجاؤ کہ علی(ع)  اس سلسلہ میں تمھاری کوئی رعایت نہیں کریں گے ، قسم خدا کی اگر وہ تم پر فتحیاب ہوگئے تو تمھارے دین اور دنیا کو ضرور برباد کردیں گے ۔ ( شرح نہج البلاغہ ۔ ابن ابی الحدید ج۱ ص۳۵۸۔ تاریخ مسعودی جلد۵، ص۱۶۳)
عبداللہ بن زبیر کو بنی ہاشم سے بالعموم اور حضر ت علی(ع) سے بالخصوص شدید دشمنی تھی  چنانچہ اسی حسد و کینہ توزی کی بنا پر انھوں نے چالیس روز تک محمد(ص) پر بھی صلوات نہ بھیجی اور کہا مجھے صلوٰت بھیجنے سے کوئی چیز نہیں روکتی لیکن اس سے کچھ لوگوں کی ناک اونچی ہوجائے گی اس

 لئے صلوات نہیں بھیجتا ہوں۔( تاریخ یعقوبی جلد۳ ص۷ شرح ابن ابی الحدید جلد۱ ص۳۸۵)
جب انکا بغض و حسد اتنا بڑھ گیا تھا کہ انھوں نے نبی(ص) پر صلوات بھیجنا بند کردی تھی تو ان سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ لوگوں پر جھوٹ باندھیں  اور حضرت علی(ع)  پر تہمت لگائیں اور ہر بری چیز کو آپ(ع) سے منسوب کردیں چنانچہ اہل بصرہ  کے درمیان انھوں نے  جو خطبہ دیا تھا اس میں یہ بھی کہا تھا: قسم خدا کی اگر علی(ع) کو فتح ملی تو وہ ضرور تمھارے دین و دنیا کو برباد کریں گے۔
یہ عبداللہ  ابن زبیر کا کھلا جھوٹ اور عظیم بہتان ہے وہ قطعی حق کو اپنے دل میں راہ نہیں دیتے۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب(ع)  کو فتح ملی اور حزبِ مخالف کی اکثریت کو اسیر کیا گیا اور ان ہی قید ہونے والوں میں عبداللہ ابن زبیر بھی تھے۔ لیکن علی(ع) نےسب کو معاف کردیا اور آزاد چھوڑ دیا۔
اور عائشہ کو با عزت ان کے پردہ کے ساتھ مدینہ پہنچا دیا اور اسی طرح آپ(ع) نے اپنے اصحاب سے غنیمت کا مال لینے، عورتوں اور بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے سے منع کردیا اور زخمی کو قتل کرنے سے منع کیا یہاں تک کہ لشکر والوں میں سے بعض لوگوں نے آپ(ع) کو برا بھلا کہا اور آپ(ع) کے متعلق خیال آرائیاں کرنے لگے۔
پس علی(ع) محض سنتِ نبی(ص) ہیں اور آپ(ع) ہی کتابِ خدا کے عارف ہیں۔ آپ(ع) کےسوا کوئی اس سے واقف نہیں ہے۔ آپ کے لشکر میں سے بعض رذیل منافقین اکٹھا ہوکر آپ(ع) کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ان لوگوں سے جنگ کرنا ہمارے لئے کیسے مباح ہوگیا اور ان کی عورتوں کو بے پردہ کرنا کیونکر حرام ہوا؟
منافقین نے اس بات سے بہت سے فوجیوں کو بہکایا یہ الگ بات ہے علی(ع) نے کتابِ خدا سے ان پر حجت قائم کی اور ان سے فرمایا:
تم اپنی ماں عائشہ کے لئے قرعہ اندازی کرنے کو پسند کروگے اس وقت وہ

لوگ سمجھے کہ آپ(ع) حق پر ہیں اور کہنے لگے استغفراللہ یقینا ہم غلطی پر تھے۔
پس عبداللہ بن زبیر کا قول جھوٹ اور کھلا بہتان تھا۔ انھیں بغض علی(ع) نےاندھا بنا دیا تھا اور ایمان سے خارج کردیا تھا ( واضح رہے) عبداللہ بن زبیر نے اس کے بعد توبہ نہیں کی اور  ان جنگوں سے انھوں نے درس ( عبرت) لیا اور نہ نصیحت حاصل کی۔
انھوں نے نیکیوں کا مقابلہ برائیوں سے کیا اور بنی ہاشم سے اور عترت طاہرہ(ع) کے سرداروں سے ان کا بغض و حسد بڑھتا چلاگیا ۔ یہاں تک کہ بنی ہاشم کا چراغ گل کرنے کے لئے انھوں نے حتیٰ القدور کوشش کی۔
مؤرخین نے روایت کی ہے کہ وہ حضرت علی(ع) کے شہید ہوجانے کے بعد لوگوں کو اپنے امیر و خلیفہ ہونے کی دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوئے چنانچہ کچھ لوگ ان کے پاس جمع بھی ہوگئے اور ان کی شان و شوکت مستحکم ہوگئی تو انھوں نے علی(ع) کے فرزند محمد بن الحنفیہ کو اور اسی طرح  حسن بن علی(ع) اوران کےساتھ بنی ہاشم کے دیگر سترہ(۱۷) اشخاص  کو قید کر لیا اور انھیں جلانے کے لئے دروازہ پر بہت ہی لکڑیاں جمع کردی تھیں اور ان میں آگ لگادی تھی لیکن مختار کا لشکر عین اسی وقت وہاں پہنچ گیا اس نے آگ بجھائی اور انھیں آگ سے نکالا ورنہ ابنِ زبیر تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا۔( تاریخ مسعودی جلد ۵ ص۱۸۵) شرح ابن ابی الحدید جلد۴ ص۴۸۷)
مروان نے حجاج کی سرکردگی میں ابنِ زبیر سے مقابلہ کےلئے ایک لشکر بھیجا کہ جس نے  محاصرہ کر کے انھیں قتل کیا اور حرم میں سولی پر لٹکا دیا۔
اس طرح عبداللہ بن زبیر  کا قصہ تمام ہوا جیسا کہ اس سے قبل ان کے باپ کا قصہ تمام ہوا تھا دونوں ہی دنیا کے بندے اور حکومت و امارات کے حریص تھے۔ اور اپنی بیعت کرانا چاہتے تھے اسی لئے انھوں نے جنگ کی اور لوگوں کو ہلاک کیا خود بھی ہلاک ہوئے لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔

فقہ میں عبداللہ بن زبیر کا ایک مقام ہے اصل میں فقیہ اہل بیت(ع) سے بغض رکھنے والوں کا رد عمل ہے چنانچہ صیغۃ متعہ کی حرمت کے سلسلہ میں ان کا قول مشہور ہے۔
ایک مرتبہ انھوں نے عبداللہ بن عباس سے کہا ۔ اے اندھے اگر تم نے متعہ کیا تو میں تمھیں سنگسار کردوں گا۔
ابن عباس نے جواب دیا: میں تو آنکھ سے اندھا ہوں لیکن تم دل کے اندھے ہو اگر تم متعہ کی حلیت کی معرفت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے بارے میں اپنی ماں سے پوچھ لو۔ ( آنکھ کا اندھا۔ اس لئے کہ بڑھاپے میں عبداللہ بن عباس کی بھویں آنکھوں پر آگئی تھیں لیکن ابنِ عباس کا یہ کہنا متعہ کےبارے میں اپنی ماں سے پوچھنا تو یہ اس لئے کہا کہ زبیر نے اسما سے متعہ کیا تھا۔عبداللہ متعہ ہی کی اولاد ہےیہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبداللہ اپنی ماں کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کیا میں نے تمھیں ابنِ عباس کے منہ لگنے سے منع نہیں کیا تھا وہ عرب کے عیوب کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔)
ہم اس موضوع کو وسعت نہیں دینا چاہتے۔اس پر بہت بحث ہوچکی ہے ہم تو صرف عبداللہ بن زبیر کی اہل بیت(ع) سے ہر چیز کے بارے میں مخالفت کی ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مخالفت کی حد یہ تھی وہ فقہی امور میں بھی مخالفت کرتے تھے جبکہ ان میں انھیں مہارت نہیں تھی۔
افسوس ان میں ہر ایک اپنے خیرو شر کے ساتھ چلاگیا اور مظلوم امت کو خون کے دریا میں غوطہ زن اور بحر ضلالت میں غرق کر گیا امت والوں سے اکثر حق کی معرفت نہیں رکھتے  ہیں ۔ طلحہ و زبیر نے اس کی تصریح کی ہے اور اسی طرح سعد بن ابی وقاص نے بھی وضاحت کی ہے۔
لیکن تنہا وہ ذات اپنے رب کی طرف سے دلیل بنی ہوئی ہے، جس نے چشم زدن کے لئے بھی حق کے متعلق شک نہیں کیا ہے اور وہ ہیں علی ابن ابی طالب(ع) کہ جن کےساتھ ساتھ حق گردش کرتا ہے۔

قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جو آپ(ع) کی اقتدا کرتے ہیں کیونکہ رسول(ص) کا ارشاد ہے۔
اے علی(ع) قیامت کے روز آپ(ع) اور آپ(ع) کے شیعہ ہی کامیاب ہونگے۔ ( در منثور جلال الدین سیوطی۔ سورہ بینہ)
اور جو حق  کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابلِ اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی ہدایت کی جائے ۔ تمھیں کیا ہوگیا ہے اور کیسا فیصلہ کررہے ہو۔( یونس /۳۵)

تبصرے
Loading...