اھل بیت کی محبت کا تقاضا / حدیث ثقلین

0 0

محبت اہل بیت (ع) کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ایک عادی یا معمولی محبت کی طرح نہیں ہے جیسے ہم کو کسی سے محبت ہوجاتی ہے بلکہ محبت اہل بیت ان کی پیروی اور ان کے دامن سے متمسک رہنے کا مقدمہ ہے۔

 اس میں اور عام محبت میں فرق ہے جیسا کہ امام شافعی نے ایک ہزار دوسو سال قبل انحرافات و خلط ملط شدہ عقائد کے بارے میں خبر دار کیا تھا کہ 

و لما رایت الناس قد ذهبت بهم 

مذاهبم فی اظهر الغی و الجهل 

رکبت علی اسم اللہ فی سفن النجاۃ 

و هم آل بیت المصطفی خاتم الرسل 

و امسکت حبل اللہ و هو ولائهم

امام شافعی کہتے ہیں جب میں نے دیکھا کہ لوگ اپنے اعتقادات کی بنا پر جہل و نادانی کے سمندر میں غرق ہو رہے ہیں اور سرگردان ہیں تو میں خدا کا نام لیکر نجات کی کشتیوں پر سوار ہو گيا کہ اس سمندر میں نہ ڈوبوں یہ نجات کی کشتیاں رسول اسلام خاتم الانبیاء (ص) کے اہل بیت ہیں میں نے ان نجات کی پر سوار ہوکر خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور یہ رسی اہل بیت کی ولایت ہی ہے امام شافعی اس طرح ہمیں سمجھانا چاہتے ہیں کہ اہل بیت کو حاشیے پر مت رکھو وہ متن قرآن میں ہیں۔

میں یہ نہیں سمجھتا ہے الکتاب و العترۃ (حدیث) میں واو عطف کا ہو بلکہ میری نظر میں واو معیت کے معنی میں ہے یعنی قرآن مع العترۃ عترت قرآن کے ساتھ ساتھ ہے اہل بیت سے متمسک رہنا قرآن سے متمسک رہنے کے معنی میں ہے ، امام شافعی کہتےہیں میں نے خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور یہی ولایت اہل بیت ہے جیسا کہ ہمیں حبل المتین قرآن سے متمسک ہونے کا حکم ملا ہے۔

قرآن کریم میں اہل بیت (ع) کے بارے میں بہت سی آیات ہیں آیۃ محبت ،آيۃ تطہیر آیۃ صلواۃ وغیرہ میں صرف اس آیت کے بارے میں گفتگو کروں گا جس کی دیگر فاصل مقررین نے بھی قراءت کی ہے ۔

ذالک الذی یبشراللہ عبادہ الذین آمنوا و عملوا الصالحات قل لا ا‌‌سئلکم علیہ اجرا الاّالمودۃ فی القربی پانچویں صدی ہجری کے مشہور عالم دین حاکم جسکانی نے اپنی کتاب شواہدالتنزیل میں لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ لما نزلت قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی نازل ہوئي تو لوگوں نے رسول اللہ سے سوال کی یہ اہل قربی کون ہیں جن کی محبت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ؟آپ (ص) نے فرمایا یہ علی و فاطمہ اور ان کے بیٹے حسن و حسین ہیں یہ میرے اہل بیت ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں جابر سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (ص) کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے مسلمان بنائيں آپ نے فرمایا کہ شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد اس کے رسول ہیں ،اس شخص نے کہا کیا آپ اس کے بدلے مجھ سے اجر و پاداش لیں گے تو آنحضرت نے لا الا المودۃ فی القربی نہیں میں تم سے صرف اپنے اہل بیت کی دوستی اور محبت کا طالب ہوں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا یہ محبت اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کا مقدمہ ہونا چاہیے۔

مزید  مفہوم تشيع

امام احمد بن حنبل نے فضائل الصحابۃ ،قرطبی نے اپنی تفسیر اور ابن جریر طبری نے اس آیت کی تفسیر میں ، حاکم نے مستدرک میں اور محب الدین طبری نے ذخائر میں ،ابن حجر نے صواعق میں سیوطی نے الدر المنثور میں اس آیت کے ذیل میں اس حدیث کو نقل کیا ہے ،میں بہت سی حدیثیں لکھ کر لایا ہوں لیکن دامن وقت میں گنجائش نہیں ہے۔

حدیث ثقلین کے بارے میں یہ عرض کروں کہ اس میں ایک صفت مشبہ اور دوسرا اسم مصدر ہے جس کے معنی عام ہیں مسلم نے اپنی صحیح میں جو صحاح ستہ میں سے ایک ہے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میں بھی بشر ہوں اور نزدیک ہے کہ خدا کا فرشتہ میرے پاس آۓ اور میں اس کی دعوت پر لبیک کہوں میں تمہارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہاہوں پہلی کتاب خدا کہ جو نور اور ہدایت ہے پس کتاب خدا کو تھام لو اور اس کی اتباع کرو اس کے بعد رسول اللہ نے قرآن کی اتباع کے بارے میں کافی تاکید فرمائی اس کے بعد فرمایا میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اپنے اہل بیت اور عترت کے بارے میں آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ تکرار فرمایا۔

ترمذی جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو عرفہ میں لوگوں سے خطاب فرماتے ہوئے دیکھا آپ فرمارہے تھے اے لوگو میں نے تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑی ہیں اگر تم ان کا دامن تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ 

رسول اللہ نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو گران بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ان کا دامن تھامے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے وہ کتاب اللہ اور میری عترت اور میرے اہل بیت ہیں جناب ڈاکٹر زمانی نے فرمایا کہ بعض روایات میں “سنتی” کا لفظ بھی آیا ہے میں اس مسئلے پر بحث نہیں کرنا چاہتا لیکن جن روایات میں لفظ سنتی آیا ہے تو اصولا اہل بیت کی پیروی کرنا سنت پر عمل کرنے کا واضح نمونہ ہے اس میں کسی طرح کا فرق نہیں ہے اور نہ عترت و سنت میں کوئی تضاد ہے اس میں کسی طرح کا اختلاف بھی نہیں ہے دونوں ایک ہیں ۔

مزید  جناب فاطمہ كى معنوى شخصيت

امام شافعی کے جند اشعار ہیں وہ کہتے ہیں کہ “اے سوار جو خانہ خدا کی طرف جارہا ہے منی کے پاس رک جا اور جو لوگ عبادت خدامیں مشغول ہیں اور جو خانہ خدا کی طرف جارہے ہیں اسی طرح سے وہ حاجی جو مشعر سے منی کی طرف روانہ ہورہے ہیں ان سے بلند آوازمیں کہ دے کہ اگر محبت آل محمد (ص) رافضی کہلانے کا سبب ہے تو تمام جن و انس یہ شہادت دیں کہ میں رافضی ہوں ۔

خداوندا ہمیں ہمیشہ کے لۓ اہل بیت کے چاہنے والوں میں شمار کر اور یہ بات یاد رہے کہ اہل بیت کی دوستی کو معمولی دوستی نہ سمجھیں بلکہ یہ محبت ان کی راہ پر گامزن رہنے کا مقدمہ ثابت ہو۔

 

بشکریہ از shiainislam.com

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

حدیث ثقلین کے منابع:

صحیح مسلم بن حجاج ج 7 ص 122

ابو داؤد مسند میں

ترمذی جزء دوم ص 307 سنن، میں

نسائی در ص 30 خصائص میں

احمد بن حنبل جلد سوئم صص 14 و 17، جلد صص 26 و 59 جلد چہارم و صص 182 و 189 جلد پنجم مسند، میں

حاکم جلد سوئم صص 109 و 148 مستدرک میں

حافظ ابو نعیم اصفهانی ص 355 جلد اول حلیة الاولیاء میں

سبط ابن جوزی صفحه 182 تذکره الاولیاء میں

ابن اثیر الجزری جلد 2 ص 12 و ص 147 ج 3 اسدالغابه میں

حمیدی جمع بین الصحیحین میں

رزین جمع بین الصحاح السته میں

طبرانی کبیر میں

ذهبی تلخیص مستدرک میں

ابن عبد ربه عقد الفرید میں

محمد بن طلحه شافعی مطالب السؤل میں

خطیب خوارزمی مناقب میں

سلیمان بلخی حنفی باب 4 ینابیع الموده میں

میر سید علی همدانی مودة دوئم از مودة القربی میں

ابن ابی الحدید شرح نهج البلاغه میں

شبلنجی ص 99 نور الابصار میں

نورالدین ابن صباغ مالکی ص 25 فصول المهمة میں

حموینی فرائد السمطین میں

امام ثعلبی تفسیر البیان میں

سمعانی و ابن مغازلی شافعی مناقب میں

محمد بن یوسف گنجی شافعی باب اول صحت خطبه غدیر خم کے ضمن میں اور ص 130 کفایة الطالب باب 62 میں

محمد بن سعد کاتب ص 8 جلد 4 طبقات میں

فخر رازی در ص 113 ج 4 تفسیر آیت اعتصام کی تفسیر میں

ابن کثیر دمشقی ص 113 جلد چہارم تفسیر میں آیت مودت کی تفسیر میں

ابن عبد ربه ص 158 اور 346 جلد 2 عقد الفرید میں

ابن ابی الحدید ص 130 جزء ششم شرح نهج البلاغه میں

سلیمان حنفی قندوزی صص 18، 25، 29، 30، 31، 32، 34، 95، 115، 126، 199 و 230 ینابیع المودة میں مختلف عبارات کے ساتھ

ابن حجر مکی صص 75، 78، 90، 99 و 136 صواعق المحرقة میں

اور دیگر اکابر علمائے اہل سنت نے مختصر سے لفظی اختلاف کے ساتھ اس حدیث شریفہ کو شیعہ اور سنی منابع کے حوالے سے تواتر کے ساتھ رسول اکرم صلی الله علیه و آله و سلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: 

مزید  امام حسین {ع} کی عزاداری کے موجودہ کیفیت کے مراسم کہاں سے شروع ھوئے ہیں؟

“انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی لن یفترقا حتی یردا علی الحوض من توسل (تمسک) بهما فقد نجی و من تخلف عنها فقد هلک – ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا۔

میں تمہارے درمیان دو بھاری امانتیں چھوڑے جارہا ہوں جو کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتیں حتی کہ حوض کے کنارے مجھ پر وارد ہوجائیں پس جس نے ان دو کا دامن تھاما اس نے نجات پائی اور جس نے ان کی مخالفت کی وہ نابود ہوگیا ۔۔۔ جب تک تم ان دو کا دامن تھامے رہوگے میرے بعد کبھی بھی ضلالت و گمراہی کا شکار نہ ہونگے۔

 

علامه فاضل العجیلی در ذخیرة المآل ابیاتی را از امام محمد ابن ادریس شافعی نقل کرده است که وی در این ابیات بر صحت این حدیث تأکید کرده است:

قال الشافعي في مدح أهل البيت (ع): 

ولمّا رأيتُ الناس قد ذهبت بهم 

مذاهبُهم في أبحرِ الغيِّ والجهلِ 

ركبتُ على اسم الله في سفن النَّجا 

وهم آلُ بيت المصطفى خاتمِ الرُّسْلِ 

وأمسكتُ حبلَ الله وهو ولاؤهم 

كما قد أُمِرنا بالتمسكِ بالحبلِ 

إذا افترقَت في الدين سبعونَ فِرقةً 

ونَيفاً، كما قد صَحَّ في مُحكم النقلِ 

ولم يكُ ناجٍ منهمُ غير فرقةٍ 

فقُل لي بها يا ذا الرجاحةِ والعقلِ 

أفي فرَق الهُلاّكِ آلُ محمدٍ 

أم الفرقة اللاتي نجت منهمُ ؟! قُل لي 

فإن قلتَ: في الناجين، فالقولُ واحدٌ 

وإن قلتَ: في الهُلاّك، حِفتَ عن العدلِ 

إذا كان مولى القوم منهم.. فإنني 

رَضِيتُ بهم ما زالَ في ظلّهم ظلّي 

فخَلِّ عليّاً لي إماماً ونسلهُ 

وأنت من الباقين في سائرِ الحِلِّ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسناد دوسرے انداز سے

1. مصابیح السنة، البغوی‌الشافعی، ج2، ص205 (چاپ مصر)؛

2. نظم درر السمطین، الزرندی‌الحنفی، ص231؛

3. تفسیر الخازن، ج1، ص4؛

4. مشکاة المصابیح، العمری، ج2، ص255 (چاپ دمشق)؛

5. السیرة النبویة، احمدزین‌دحلان الشافعی (مفتی مکه) در حاشیه السیرة الحلبیة، ج3، ص330؛

6. الفتح الکبیر، النبهانی، ج1، ص352؛

7. مناقب علی‌بن‌ابی‌طالب(علیه‌السلام)، ابن‌المغازلی الشافعی، ص236، ح214؛

8. ذخائر العقبی، الطبری‌الشافعی، ص16؛

9. کفایة الطالب، الگنجی‌الشافعی، ص53؛

10. فرائد السمطین، الجوینی‌الخراسانی، ج2، ص268، ح535؛

11. المسند، احمد‌بن‌حنبل، ج5، ص181 (چاپ المیمنة، مصر)؛

12. مجمع الزوائد، ج5، ص195 و ج9، ص162و164؛

13. شرح نهج‌البلاغه، ابن‌ابی‌الحدید، ج6، ص375 (چاپ مصر)؛

14. تاریخ دمشق، ابن‌عساکر الشافعی، ج2، ص36، ح534و545 (چاپ بیروت)؛

15. انساب الاشراف، البلاذری، ج2، ص110، ح48؛

16. النهایة، ابن‌الاثیر، ج1، ص155 (چاپ مصر)؛

17. نهایة الارب، النویری، ج18، ص377 (چاپ مصر)؛

18. حلیة الاولیاء، ابونعیم، ج1، ص355؛

19. الاتحاف بحب الاشراف، الشبراوی‌الشافعی، ص6؛

20. الدر المنثور فی تفسیر المأثور، جلال‌الدین السیوطی، ج2، ص60.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.