انسان کیلئے تاريکي اور جہالت سے نکلنے کا واحد راستہ نماز ہے

0 2

عبادات اور ان ميں بھي بالخصوص نماز کو ايک خاص اہميت حاصل ہے ۔ نماز کو دين کا ستون کہا جاتا ہے ۔ نماز اگر مکمل توجہ اور اپني تمام شرائط کے ساتھ انجام دي جائے تو نہ فقط نماز گزار کے قلب و روح کو بلکہ اس کے آس پاس سارے ماحول کو نوراني اور معطر کر ديتي ہے ۔

نماز گزار جس قدر خضوع و خشوع کے ساتھ نماز ادا کرے گا اتنا ہي خود پرستي ، خود خواہي ، خود غرضي ، حسد ، بغض ، کينہ وغيرہ جيسي صفات رذيلہ کي قيد سے آزاد ہوتا چلا جائے گا اور اتنا ہي اس کے چہرے کي نورانيت ميں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ موجودہ بشر کي تمام تر مشکلات و پريشانيوں کا سبب خدا سے دوري اور ذاتي مفاد سے وابستگي ميں اضافہ اور شدت ہے ۔ نماز انسان کو ظلمتوں اور تاريکيوں سے آزاد کراتي ہے ۔اس کے غيض و غضب اور شہوات و ہوا و ہوس کو مغلوب کر کے اسے تقرب الہي اور امور خيريہ کي طرف راغب کرتي ہے ۔

نماز سکون قلب کي باعث ہے

خدا کي طرف سے انسان پر عائد کردہ وظائف اور عبادات ميں سے نماز کو قرآن کريم نے سر فہرست قرار ديا ہے ۔ ’’ الذين ان مکناھم في الارض اقاموا الصلاۃ ‘‘۔ اگر نماز ميں سے اہداف نظام اسلامي کي مہک نہ آرہي ہوتي تو ايک اہم مقام نہ رکھتي اور اس کے متعدد و مختلف بنيادي فائدے نہ ہوتے تو قطعاً اسلام ميں نماز سے متعلق اس حد تک تاکيدات موجود نہ ہوتيں ۔

حقيقت يہ ہے کہ نماز اپني تمام افاديت اور فوائد کے ساتھ فقط ايک وظيفہ شخصي نہيں ہے بلکہ يہ فرد کے ساتھ ساتھ سارے معاشرے کو رشد و ارتقائ بخشنے ميں ايک اہم رول ادا کرتي ہے ۔ تمام واجبات ميں جس قدر تاکيد اس واجب کے لئے کي گئي ہے وہ بے مثال ہے حتي والدين پر واجب ہے کہ اپنے بچوں کو بچپنے سے ہي نماز سے آشنا و مانو س کريں ۔ يہ تمام تاکيدات صرف اور صرف اسي لئے ہيں کہ نماز فرد کے ساتھ ساتھ سارے معاشرے کو اس قابل بناتي ہے کہ معاشرہ دوسرے تمام وظائف کا بار بھي اپنے کاندھوں پر اٹھا سکے ۔ ان تمام پہلووں کے پيش نظر نماز کو اعلي ترين عمل فرض کرنا چاہيے اور صدائے حي علي خير العمل کو ايک حکمت آميز صدا تصور کرنا چاہيے ۔

مزید  حضرت فاطمہ زہراء(س) کى مظلومانہ شہادت

نماز ہي ہے جو ايثار ، اخلاص ، توکل بر خدا اور تعبد جيسي صفات انسان کے اندر پيدا کرتي ہے اور اس کو اس لائق بنا تي ہے کہ انسان دوسرے دشوار ترين واجبي امور مثلاً جہاد ، امر بالمعروف و زکات وغيرہ کي انجام دہي پورے جوش و خروش سے انجام دے سکے اور شجاعانہ طور پر اس الہي وادي ميں داخل ہو ئے ۔

آج کا زمانہ الیکڑونک زمانہ ہے ۔جس کا اثر يہ ہے کہ انسان مختلف مسائل و مشکلات کا شکار ہو گيا ہے نتیجتاً بشريت کي کوشش يہ ہے کہ فردي اور اجتماعي زندگي کو مشيني حرکتوں سے ہم آہنگ کيا جا ئے ۔ صلہ رحم ، مروت ، ايثار ، محبت اور نہ جانے کتني دوسري اخلاقي صفات و اقدار اس مشيني نظام زندگي کيبھينٹ چڑھتي جا رہي ہيں ۔ گھروں ميں محبت آميز فضا آہستہ آہستہ اپني رنگت چھوڑتي جا رہي ہے ۔

گذشتہ چند برسوں سے انسانيت کا درد رکھنے والے بعض افراد اس سمت ميں متوجہ کرتے رہے ہيں ليکن افسوس ناک بات يہ ہے کہ ابھي تک کروڑوں افراد مخصوصاً جو اس جہنم ميں خود کو جلا رہے ہيں، انھيں اس سے باہر نکلنے کا کوئي راستہ نظر نہيں آرہا ہے ۔

اسي وجہ سے آج گذشتہ زمانوں سے کہيں زيادہ خدا وند کريم سے معنوي رابطہ قائم کرنے کي ضرورت ہے اور اس سلسلے ميں نماز آسان ترين اور موثر ترين ذريعہ ہے جو ہميں ان اخلاقي اور سماجي مشکلات سے باہر نکال سکتي ہے ۔

اہتمام نماز

اہتمام نماز سے مراد فقط يہ نہيں ہے کہ مومنين و صالحين حضرات نماز بجا لائيں اور بس ۔ يہ کوئي ايسا فعل نہيں ہے کہ جس پر حکومت اسلامي کي تشکيل منحصر ہو بلکہ اس سے مراد يہ ہے کہ نماز کو معاشرہ کا ايک حصہ بنا ديا جائے جہاں ہر شخص نماز کے اسرار و رموز سے واقفيت رکھتا ہو ۔ معنويت اور الہي ذکر و عبادت کي روشني و نورانيت سارے معاشرے کو روشن و منور کرے اور نماز کا وقت نزديک آتے ہي سارے مرد و زن نماز کي طرف ذوق و شوق کے ساتھ دوڑ جائيں اور دامن نماز ميں ايک طرح کا قلبي و روحي سکون حاصل کريں ۔

مزید  کربلائے کوہستان

نماز: دين کا ستون

نماز دين کا حقيقي ستو ن ہے ۔لہذا ضروري ہے کہ ہماري زندگي ميں نمازکو اس کا حقيقي مقام و مرتبہ ديا جائے ۔ دين کے سائے ميں انسان کو حيات طيبہ صرف اسي صورت ميں حاصل ہو سکتي ہے جب وہ اپنے قلب کو ياد خدا سے زندہ اور روشن رکھے کيونکہ انسان صرف اسي ذريعہ سے تمام اقسام کے فساد و شر سے مقابلہ کر سکتا ہے نیز ظاہري اور باطني شيطانوں کو مغلوب کر سکتا ہے اور يہ دائمي ذکر اور خضوع و خشوع فقط نماز کي برکت ہي سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ نماز ايک ايسي حقيقت ہے جو انسان کو اپنے نفس پر غلبہ حاصل کرنے ميں نہايت قوت و قدرت عطا کرتي ہے ۔

نماز سے بڑھ کر ايسا کوئي ذريعہ يا وسيلہ نہيں ہے جو انسان و خدا کے درميان رابطے کو مستحکم تر يا قوي تر کر سکے ۔ ايک عام انسان بھي اگر خدا کے ساتھ اپنے رابطے کو استوار کرنا چاہتا ہے تو نماز ہي سے شروعات کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہي ساتھ خدا کا ايک مقرب ترين بندہ بھي اس نماز کے ذريعہ ہي تنہائيوں اور خلوتوں ميں اپنے خدا ، اپنے محبوب سے راز و نياز کر کے دل کي دنيا کو روشن و جاويداني بناتا ہے ۔ يہ ذکر و نماز ايک ايسا خزانہ ہے جس کا کوئي خاتمہ نہيں ہے ۔ جس قدر اس سے انسيت و قربت بڑھتي جائے گي اتني ہي اس کي نور افشانيوں ميں اضافہ ہوتا جائے گا ۔

نماز کے مختلف جملے اور اذکار خود اپنے آپ ميں معارف و تعليمات دين کي طرف اشارہ کرتے ہيں اور دن ميں کئي کئي بار نماز گزار کو ان تعليمات کي ياد آوري کرائي جاتي ہے ۔ نماز کو اگر اس کي تمام شرائط اور نقائص کے بغير ادا کيا جائے تو يہ نماز انسان کو روز بروز معارف و تعليمات الہي سے قريب اور آشنا کراتي ہے ۔

انسان کو ہميشہ نماز کي ضرورت

ايسي نماز جو اپني تمام تر شرائط کے ساتھ بجالائي جائے، انسان کو صراط مستقیم کي طرف ہدایت کرتي ہے، اس کے پژمردہ قلب کو جلا بخشتي ہے، اس کي نااميديوں کو يقين ميں تبدیل کرتي ہے ساتھ ہي اس کي زندگي کو باہدف بھي بناتي ہے۔ يہي وجہ ہے کہ نماز تمام حالتوںخواہ جنگ کا ميدان ہو يا گھر کا عيش و آرام، ميں واجب ہے۔ انسان ہميشہ نماز کا محتاج ہے مخصوصاًمسائل و مشکلات سے دچارہوتے وقت۔

مزید  آٹھویں امام علی ابن موسیٰ الرضا علیہ السلام

حقيقت يہ ہے کہ ابھي تک ہمارے سامنے نماز کي اہميت و منزلت صحيح و حقيقي طور پر بيان ہي نہيں ہو سکي ہے اور اسي لئے ہمارے يہاں نماز کو جو مقام ملنا چاہئے تھا نہيں مل سکا۔ علمائ کي ذمہ داري ہے کہ وہ مخصوصاً جوانوں کے سامنے نماز کے اسرار و رموز کو بيان کریں۔ انہيں نماز کي منزلت و فوائد بتائیں۔ يہ نماز ہي کا خاصہ ہے کہ ايک بچے سے لیکر ايک عالم تک نماز کي ضرورت محسوس کرتا ہے۔ حتي عرفائ بھي نماز کي ضرورت کا احساس کرتے ہيں۔ تب ہي تو ’’اسرار الصلوۃ‘‘ جيسي کتابيں لکھي گئي ہيں۔ نماز ايک ايسا سمندر ہے جسکي گہرائي کا اندازہ ابھي تک نہيں لگايا جاسکا ہے۔ اگر چہ نماز کے بارے ميں ائمہ طاہرينٴ سے متعدد روايات اور علمائے دين کے بے شمار اقوال موجود ہيں ليکن اس کے باوجود نماز کي منزلت بہت سے افراد سے ابھي تک پوشيدہ ہے حتي کہ وہ لوگ بھي جو نماز کو واجب سمجھ کر انجام ديتے ہيں ان کے لئے بھي ابھي تک نماز صحيح طور پر بيان نہيں ہو سکي ہے۔

بہر حال، نمازراہ سیر و سلوک کي طرف پہلا قدم ہے جسکو الٰہي اديان نے انسان کے حقيقي ہدف يعني کمال و خوشبختي دنيا و آخرت کي خاطر بشر کے حوالے کيا ہے۔ نماز خدا کي طرف پہلا قدم ہے۔ نماز کي اہمیت کا اندازہ اسي بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اکرم فرماتے تھے نمازميري آنکھوں کا نور ہے اور جب وقت نماز ہوتا تھا تو بلال سے کہتے تھے کہ اذان کے ذريعے ميري روح کے اطمينان و سکون کا انتظام کرو۔ انسان کے تکامل معنوي ميں جسقدر نماز موثر ہے اتني دوسري کوئي عبادت نہيں ہے۔ نماز جہاں معاشرے کو اخلاقي و معنوي صفات و کمالات عطاکرتي ہے وہيں اپني خاص شکل و شرائط کي بنا پر نماز گزار کو نظم و ضبط کا پابند بھي بناتي ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.