اسلام اور تعلیم

0 0

 

دین اسلام میں علم دانش کی بے پناہ فضیلت اور اہمیت کا قائل ہے یہا ں تک کہ حکم ہوا: اطلب العلم من المہد الیٰ اللحد

لکھنے والے آیت اللہ انصاریان

کتاب اور کتب بینی کی اہمیت

( گہوارہ سے لیکر قبر تک علم حاصل کرو ) اسی طرح پیغمبر اسلام مزید فرماتے ہیں کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے  ۱ طالب علم خدا کے خاص لطف و عنایت کا مستحق بنتا ہے 

اسلام میں لکھنے اور تعلیم و تعلم کی جتنی فضیلت بیا ن کی گئی ہے ( اس سلسلے میں فراوان آیا ت اور روایا ت موجود ہیں ) کہیں اور نظر نہیں آتی جس سے اس دین کے نزدیک علم حاصل کرنے کی کیا اہمیت ہے واضح ہوتی ہے ۔

تالیف و تصنیف کی اہمیت :

کتاب یعنی کچھ ایسے اوراق کا منظم مجموعہ جس میں علمی مسائل اور محقین کے نظریات درج ہوں کتاب بشری علوم کی محافظ افکار و نظریات کی پاسبان ، دو سروں تک ان کے نقل و انتقا ل کا سامان اور قوموں کی تہنیت و ثقافت کی امین ، آئینہ دار و تاریخ ، اسلاف کی روداد بیان کرنےوالی ایک بیش قیمت شئی کا نام ہے ۔

ائمہ اطہار  نے بغیر کسی قید و شرط صرف لکھنے کے فعل پر بہت زیادہ تر غیب دلائی ہے اور دوسری روایات میں ایسے قیمتی نکات کی طرف اشارہ کیاہے جو کسی تالیف یا تصنیف کی قدر و قیمت بڑھا دینے کے باعث بنتے ہیں ۔

اس موضوع سے متعلق رسول خدا  فرماتے ہیں: علم دانش کو قید کر لیا کرو اور اسکی حفاظت کرو عرض کیا گیا یا رسول اللہ  علم کو کیسے قید کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : لکھنے کے ذریعے۔  اس روایت میں رسول گرامی  نے بغیر کسی قید وشرط لگائے صرف لکھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح امام جعفر صادق  فرماتے ہیں :احتفظو بکتبکم فانکم سوف تحتاجون الیھا ۔ 

اپنی لکھی ہوئی باتوں کی خوب حفاظت کرو کہ عنقریب تمہیں اس کی ضرورت ہوگی ۔ امام  نے مزید فرمایا : لکھو اور اپنی معلومات اپنے بھایﺅ ں کے درمیا ن منتشر کرو اور جب موت کا وقت آجائے تو اپنی کتابوں کو فروخت نہ کرو نہ ہی انھیں برباد ہونے دو بلکہ اپنی اولاد کے لئے بطور ارث چھوڑ جاﺅ کیونکہ فتنہ و آشوب کا ایسا زمانہ آنے والا ہے جب لوگ صرف اپنی کتابوں سے مانوس ہوں گے اور اسی سے سکون حاصل کریں گے۔  

ایسے ہی دسیو ں دوسری حدیثوں میں علم کو لکھ کر محفوظ کر نے کے لئے بہت ترغیب دلائی گئی ہے جسکی بنیاد پر نہ جانے کتنی تالیفات و تصنیفات منظر عام پر آئیں لکھنے اور نسخہ برداری کا رواج عام ہوا متعدد کتب خانہ اور تالیف وتصنیف کے مراکز قائم ہوئے ترویج علم کے بہت سے ادارہ عالم وجود میں آئے علمی مرکز وں کی مدد ، کتب بینی کا شوق او رکتابوں کو وقف کرنے کا رواج عام ہوا ۔

تالیف و تصنیف اقوال زریں کے آئینہ میں :

انصار میں سے ایک پیغمبر اکرم  کی خدمت میں آیا کرتا تھا اور اصحاب کے ساتھ نشستوں میں شامل ہوا کرتا تھا وہ رسول اکرم  کی باتوں کو نہایت غور سے سنتا اور اس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی آنحضرت  کے اقوال اسے سرور بخشتے گویا وہ رسول  کی باتوں کا عاشق تھا لیکن وہ حدیثوں کو حفظ نہیں کر پاتا تھا لہٰذا ایک روز پیغمبر اکرم  کی خدمت میں اپنے کمزور حافظہ کی شکایت کرنے لگا رسول اللہ  نے اس سے کہا : میری ان باتوں کو یاد کرنے اور محفوظ رکھنے کے لئے اپنے ہاتھو ں کا سہارا لو ۔ اور اپنے دست مبارک سے لکھنے کا اشارہ کیا۔  ۵

امام حسن مجتبیٰ  نے ایک روز اپنے تمام فرزندوں اور بھانجے و بھانجیوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے فرمایا : اگرچہ ابھی تم سب اپنے خاندان کے چھوٹوں اور بچوں میں شمار ہوتے ہو لیکن امید ہے کہ آئندہ اپنے خاندان کے بزرگ اور اپنی قوم کے رہبر بنو لہٰذا تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے اور اگر تم میں سے کوئی ایسا ہو جو علمی باتوں کو اچھی طرح حفظ نہیں رکھ پایا تو اس پر فرض ہے کہ ان باتوں کو لکھ کر محفوظ کر لے اور لکھے ہوئے اوراق کو گھر میں بحفاظت رکھے اور اسکی نگہداری کرے۔  

ابن بصیر نے نقل کیا کہ میں نے امام جعفر صادق کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ ( دینی حقائق کو) لکھو کیونکہ تم ان معارف کو سوائے لکھ کر ( صرف اپنے حافظہ کی بنیاد پر ) محفوظ نہیں رکھ سکتے اور لکھے بغیر انکی حفاظت نہیں ہوسکتی۔  

پیغمبر اسلام  نے فرمایا : ہے کہ جس وقت مومن اس دنیا سے سامان سفر باندھتا ہے اگر اپنی معلومات کا لکھاہوا ایک ورق بھی چھوڑتا ہے تو یہ ورق آتش جہنم سے اس کی حفاظت کرے گا اور خداوند عالم اسکے لکھے ہر حرف کے عوض دنیا کے طول و عرض سے بڑا ایک شہر جنت میں اسے عنایت کرے گا۔  

مذکورہ باتیں علم ودانش ،علماء اور انکی تالیف و تصنیف کی فضیلت میں ائمہ اطہار  کی کہی گئی ساری باتوں کا عشر عشیر ہیں قلمبند کرنا چاہیں تو دفتر کے دفتر کھولنا پڑیں گے بہر حال اس بحث کو ایک منزل تک پہونچانے کے لئے آیئے شیعوں کی سب سے معروف اور معتبر کتاب یعنی اصول کافی کی صرف فہرست بندی پر نگاہ کرلیںجو آیات و روایات کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہے ۔

شیعہ مذہب کی سب سے اہم کتاب اصول کافی میں علم کی فضیلت پر متعدد باب موجود ہیں ۔ خود مولف مرحوم شیخ کلینی  جنھوں نے ناقابل برداشت صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنی عمر مبارک کے ۰۲ برس صرف کئے اور یہ عظیم تالیف پیش کی اس بیش قیمت کتا ب کے مفید مقدمہ میں دین کی نگاہ میں حصول و علم آگہی اور اسکی ترویج کی قدر قیمت اور ضرورت کو بیان کیا ہے ۔

ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ انسان کو حیوان پر ملنے والی فضیلت اسی علم و آگہی کے طفیل ہے اسلام کسی بھی قسم کی جہالت کو برداشت نہیں کرتا ہے اگر جہالت و نادانی جائز ہوتی تو انسانی کاندھوں پر کوئی ذمہ داری نہ ڈالی جاتی کوئی کتاب کسی پیغمبر پر نازل نہ ہوتی بلکہ کوئی نبوت کے مرتبہ پر مبعوث نہ ہوتا لہٰذا کہنا پڑے گا کہ انبیاءکی بعثت اور شریعتوں کے نزول کا فلسفہ انسانیت کو جہل و نادانی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر علم وآگہی کی روشنی میںپہچانا ہے یہی دین خدا کا مقصد اور اسکی روح ہے اللہ کا دین ابتدا میںانسان کو میدان تعقل و تفکر میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے اور اس میدان میں آگے نکل جانے کی ترغیب بھی، جس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ دین خدا نے علم وآگہی کو کس قدر زیادہ اہمیت دی ہے ۔

لہٰذا ا س پر روشنی ڈالنے کے لئے آئیے صرف ایک کتاب الکافی کی فہرست بندی پر نگاہ ڈالی جائے اور صرف علم و دانش کی فضیلت سے متعلق ابواب کا عنوان دیکھ لیا جائے اس کتاب کا ہر باب مختلف روایات پر مشتمل ہے ۔

۱۔ علم کی اہمیت وضرورت اور اس پر تشویق :

۲۔ باب : علم کی تعریف اور علماءکی فضیلت 

۳۔باب: عالم ( جو علم حاصل کر چکے ہیں) اور متعلم (جو ابھی علم کے دور سے گذر رہے ہیں ) کا اجر ۔

۴۔باب: علماءاور دانشمندوں کی قدر و قیمت 

۵۔باب: علماءو دانشمند وں کی منزلت 

۶۔باب: علماءو دانشمندوں کے فقدان کا نقصان ۔

۷۔ باب : علماءاور دانشمندوںکے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے فوائد 

۸۔باب: علماءسے گفتگو کرنے کی اہمیت 

۹۔باب: حصول علم او راس کے نشر کرنے کی ترغیب 

۰۱۔ باب :ناجانتے ہوئے بولنے کی مذمت 

۱۱۔ باب: جہل کی بنیاد پر عمل کی مذمت 

۲۱۔باب: حصول علم کے لئے تک و دو کا وجوب 

۳۱۔باب کتاب ، تالیف کتاب اور اسکی حفاظت اور نشر علم کی اہمیت ۔

مصنف کتاب ان ابواب کو تفصیل کے ساتھ ترتیب دیا پھر ان کے بعد باب ۔توحید کو جگہ دی ، اس مقام پر اسلامی تربیت کے نظام کی ایک ہلکی جھلک دکھائی دیتی ہے ابتدا عقل و خردکی اہمیت سے ہوئی پھر تعقل و تفکر کا صحیح طریقہ اور اسکے لئے ضروری عناصر کی نشاندہی کی گئی پھر مرحلہ آیا کہ خدا کو با بصیرت ہو کر پہچانا جائے اور اسکے بعد رہنماﺅں کی معرفت پیش نظر آئی (باب الحجہ) اور معرفت کے یہ بنیادی مراحل طے کرنے کے بعد کتاب میں انسانی زندگی کے دوسرے پہلوﺅں سے گفتگو کی گئی خود علم کی ان فضیلتوں کا بیان اور اسکی حفاظت بغیر تالیف و تصنیف کے ممکن نہیں ہے ۔

مزید  رجعت عقلی اور نقلی نقطہ نظر سے

کتاب قلم فرسائی کا نتیجہ ہوتی ہے ایسا قلم جو اگر صحیح ہاتھوں میں ہو تو خدا اسکی قسم کھاتا ہے ۔نون و قلم کی قسم اور اسے لکھے جانے والے چ۔ یزوں کی  خدا وند عالم نے انبیائؑ اور ائمہ  کو اپنے دوسروں بندوں پر فضیلت دی ہے اور انکے مقام کو بلندی عطاکی ہے اور انکے بعد بقیہ انسان اپنے کردار و عمل کے مطابق ایک دوسرے سے برتری حاصل کرتے ہیں ۔چنانچہ ابتدا میں سارے انسان مساوی ہیں لیکن انکے اعمال انکی قدر وقیمت معین کرتے ہیں با فضیلت لوگوں کی صف میں علماءاور مصنفین کو ممتاز مقام حاصل ہے لہٰذا انبیاء و ائمہ  سے بعد انکا درجہ سب سے بلند ہے کیونکہ دیگر انسان ان کے علوم اور انکی تالیف سے استفادہ کرکے اپنی زندگی کے امور منظم کرتے ہیں معنویات ، اخلاقی اقدار انھیں کے دم پر بقا پاتے ہیں ان ہی علماءو دانشوروں کے نظریات اور تالیف کے طفیل شہر آباد ہوتا ہے انسانوں کو گمراہی سے بچنے کے لئے روشنی ملتی ہے انسانی معاشرہ کا ہر فرد اپنے صنف کے علماءانکی تالیفات اور معارف کے نشر و اشاعت کا محتاج ہے۔

اقسام کتاب:

پہلے ہی بیان کیا جاچکا ہے کہ ہمارے مذہب میں بغیر کسی قید و شرط کے کلی طور سے لکھنے پر ترغیب دلائی گئی ہے لیکن ہر گز اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر قسم کی کتا ب پڑھنے کے قابل ہو ۔یا ہر طرح کی کتابوں کا مطالعہ مفید ہے۔ کلی طور سے کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔

۱۔ منفی مضامین کی حامل کتابیں :

بعض کتابوںمیں باطل باتیں بے بنیاد عناصر اور توہمات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ایسی کتابوں کے لکھنے والے خداکے خوف اور انسانی اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی گمراہ کن باتیں لکھ دیتے میں جو دوسرے انسان کی گمراہی کا سبب بنتی ہے اور الٰہی فیوضات وہدایات کے تزول میں حارج ہو جاتی ہیں ۔

اور پھر انسان گمراہی کی گہری کھائی میں گرتا چلاجاتاہے ۔اسلام نے ایسی کتابوں کو ،کتب ضالہ ،کا عنوان دیاہے۔  اورایسی کتابوں کی تصنیف خرید وفروش اور مطالعہ کو حرام قرار دیاہے اس بابت فقہا ومجتہدین عظیم الشان نے فقہی اعتبار سے بڑے گہرے مطالب بیان کئے ہیں ۔

محققین اور صاحبان علم صرف اس صورت میں ایسی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں جب کہ ان کتابوں میں درج باطل باتوںکاجواب دینامقصودہو ۔

اگر ایسے بے لگام مصنفین ایسی کتابیں منظر عام پر لاتے تو باطل باتیں اس قدر رواج نہ پاتیں اور انسانیت اتنازیادہ گمراہ نہ ہوتی تاریخ کے دامن میں نہ جانے کتنے ایسے لوگ مل جائیں گے جو ایسی باطل باتوں اور گمراہ کن شبھات کے بھینٹ گر صراط مستقیم سے ہٹ گئے۔ ایسی کتابوں کی نشر واشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لینے والے ان کتابوں کی بدولت گمراہ ہونے والوں کے گناہوں میں شریک مانے جائیں گے اس مصسدین نے اپنی کتابوں کے ذریعہ باطل افکار کو ہوادیکر انسانیت پر بڑا ظلم کیاہے ۔

۲۔ مثبت مضامین کی حامل کتابیں :

وہ کتابیں جو انسان کی اجتماعی یا انفرادی زندگی کے کسی پہلو پر روشنی ڈالتی ہیں اور انکا ہدف انسانیت کی ترقی بنے منبث کتابیں شمار کی جاتی ہیںان کے مطالعہ میں وقت صرف کرنا مفید ہے ۔

چاہے یہ کتابیں ایسے علوم سے متعلق ہو ں جو دینوی حیات میں انسان کی معین ثابت ہونے میں یا منفی مضامین پر مشتمل کتابیں۔ بعض کتابوںمیں باطل باتیں بے بنیاد عناصر اور توہمات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ایسی کتابوں کے لکھنے والے خداکے خوف اور انسانی اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی گمراہ کن باتیں لکھ دیتے میں جو دوسرے انسان کی گمراہی کا سبب بنتی ہے اور الٰہی فیوضات وہدایات کے تزول میں حارج ہو جاتی ہیں ۔

اور پھر انسان گمراہی کی گہری کھائی میں گرتا چلاجاتاہے ۔اسلام نے ایسی کتابوں کو ،کتب ضالہ ،کا عنوان دیاہے

 اورایسی کتابوں کی تصنیف خرید وفروش اور مطالعہ کو حرام قرار دیاہے اس بابت فقہا ومجتہدین عظیم الشان نے فقہی اعتبار سے بڑے گہرے مطالب بیان کئے ہیں ۔

محققین اور صاحبان علم صرف اس صورت میں ایسی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں جب کہ ان کتابوں میں درج باطل باتوںکاجواب دینامقصودہو ۔

اگر ایسے بے لگام مصنفین ایسی کتابیں منظر عام پر لاتے تو باطل باتیں اس قدر رواج نہ پاتیں اور انسانیت اتنازیادہ گمراہ نہ ہوتی تاریخ کے دامن میں نہ جانے کتنے ایسے لوگ مل جائیں گے جو ایسی باطل باتوں اور گمراہ کن شبھات کے بھینٹ گر صراط مستقیم سے بٹ گئے 

ایسی کتابوں کی نشر واشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لینے والے ان کتابوں کی بدولت گمراہ ہونے والوں کے گناہوں میں شریک مانے جائیں گے اس مصسدین نے اپنی کتابوں کے ذریعہ باطل افکار کو ہوادیکر انسانیت پر بڑا ظلم کیاہے ۔

مثبت مضامین کی حامل کتابیں :

وہ کتابیں جو انسان کی اجتماعی یا انفرادی زندگی کے کسی پہلو پر روشنی ڈالتی ہیں اور انکا ہدف انسانیت کی ترقی بنے منبث کتابیں شمار کی جاتی ہیں ان کے مطالعہ میں وقت صرف کرنا مفید ہے ۔

چاہے یہ کتابیں ایسے علوم سے متعلق ہو ںجو دینوی حبات میں انسان کی معین ثابت ہونے میں یا ایسے علوم سے جو انسان کی معنویات کو تقویت پہنچاتے ہیں اور معنوی ضرورتوںکو پوری کرکے انسان کو سعادت اخروی اور کمال ابدی تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں یہی علوم تہذیب وتقاوت کی بنیاد رکھتے ہیں اور بنی نوع آدم کو شخصیت عطا کرتے ہیں۔ 

ایسی ہی کتابوں کی تعریف وتحسین سے اسلامی مصادر بھرے پڑے ہیں اور اسی قسم کی تصنیفوں کو امیرالمومنین حضرت علی نے علماءکے باغ کا نام دیا ہے آپ نے فرمایا :الکتب بسا تین العلماء۔  کتابیں علماءکے باغات ہیں ۔

مثبت کتابیں چراغ ہدایت ہیں :

مثبت پہلو رکھنے والی اسلامی کتابیں ہر دور میں قرآنی تہذیب کی بہترین مروج اور پاسبان رہی ہیں وہ تہذیب جسے نبی کریم  اور انکے پاک و طاہر اہلبیت  نے وحی کے زیر سایہ بڑی زحمتو ں سے وجود بخشا۔ 

ایسی کتابوں کے مولفین یقینا عظیم اجر کے مستحق ہیں کیونکہ انھوں نے معصوم رہنماﺅں کے بیش قیمت اقوال کو محفوظ کرلیا ۔ لوگوں تک علوم الٰہی اور معنوی پیغامات پہونچا کر انکی ہدایت کا سامان فراہم کیا ۔اس طرح انسانیت کے اعلیٰ اقدار کی حفاظت کرکے عظیم عبادت انجام دی ہے ۔ رسول اکرم  نے کسی ایک انسان کی ہدایت کے بارے میں امیر المومنین ؑ سے فرمایا : لان یھدی اللہ علیٰ یدیک رجلا خیر مما طلعت علیہ الشمس او غربت  ۔ اگر پرور دگار عالم تمہارے ہاتھوں سے کسی ایک انسان کو ہدایت دیتا ہے تو یہ تمہارے لئے ان ساری چیزوںسے بہتر ہے جس پر آفتاب طلوع ہوا اور غروب ہو ا ۔ وہ کتابیں جو بشری ہدایت کا وسیلہ بنتی ہیں ایسی بابرکت ہوتی ہیں جس سے انکے مصنفین مسلسل ماجور ہوتے رہتے ہیں انسان کےلئے ضروری ہے کہ اپنی مادی زندگی کو رونق بخشنے والے علوم کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ معنویات او ردینیات کو بھی مد نظر رکھیں ۔ اور اپنی تحقیق و جستجو میں دین کے بنیادی اصولوں سے بھر پور استفادہ کریں ۔

حضرت علی ایک خطبہ میں فرماتے ہیں : خداوند عالم نے اپنی نازل کردہ کتاب میں واضح دلیلیں پیش کی ہیں اور ایسی نشانیا ں بیان کر دی ہیں جن کے بعد عذر کا کوئی امکان نہیں بچا ہے ۔ اب روز قیامت معنویات کے میدان میں پیچھے رہ جانے والوں کےلئے کوئی بہانہ نہیں بچا ۔ اس قدر واضح آیات کی موجودگی میں انسان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔اب کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

عظیم کتابیں : 

خدا وند عالم نے جن کتابوں کو انسانیت کی ہدایت کا وسیلہ بنایا ہے تین کتابیں ہیں ۔

۱۔کتاب شریعت :کتاب شریعت سے مراد وہ تمام آسمانی کتابوں کا مجموعہ ہے جو پروردگا ر عالم نے انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے اولی العزم پیغمبروں پر نازل کی جس میں ایک کامیاب زندگی گزارنے کا مکمل نصاب موجود ہے اور سفر آخرت کےلئے زاد راہ مہیا کرنے کی پوری ہدایت بھی موجود ہے آسمان سے نازل کتابوں میں آخری پیغمبر محمد مصطفی  پر نازل کتاب قرآن مجید سب سے زیادہ فضیلت کی حامل ہے یہ باعظمت کتاب بشریت کی پوری ہدایت کا وسیلہ ہے ۔یہ کتاب تمام مادی اور معنوی رحمتوں کے نزول کا سبب ہے۔ ھدی و رحمة للمومنین۔سامان ہدایت اور ایمان لانے والو ں کےلئے وسیلہ رحمت ۔جوبھی سعادت ابدی کی طرف قدم بڑھانے کا خواہاں ہے اسکے لئے قرآن سے رشتہ جوڑنا ضروری ہے ۔ قرآن کی صحیح تلاوت اور اسکے معنی سمجھنے کےلئے اہلبیت  کے در پر آنا پڑے گا ۔

مزید  دربارِ یزید میں اثراتِ خطباتِ جنابِ زینب۴ اور جناب امام زین العابدین

چنانچہ روایات میں تلاوت قرآن کا بے پناہ ثواب بیان ہوا ہے جو کسی بھی دوسری کتاب کے مطالعہ سے میسر ہونے والا نہیں ہے ۔ امام جعفر صادق  جس گھر میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اس کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں :مسلمانوں کا وہ گھر جس میں کتاب خدا کی تلاوت کی جاتی ہے اہل آسمان کےلئے ویسے ہی درخشاں دیکھائی دیتا ہے جیسے زمین والوں کےلئے آسمان کے ستارے چمکتے ہوئے دکھتے ہیں  ۔

اور پیغمبر اکرم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس گھر میں بکثرت قرآن پڑھا جاتا ہے اسکی خیر و برکت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ گھر آسمان والو ں کےلے ویسے ہی نور افشانی کرتا ہے جیسے آسمان کے ستارے زمین والوں کےلئے نور منتشر کرتے ہیں۔ ۔

جب ایسے گھر کی اتنی عظمت ہے جس میں تلاوت کی جاتی ہے تو خود تلاوت کرنے والے کا کیا مرتبہ ہوگا اور اسکی قدر و قیمت کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایسے میں کیا یہ بات مناسب ہے کہ ایسی عظمتوں والی کتاب جس کو دوسری تمام کتابوں پر فوقیت حاصل ہے صرف مسجدوں کے طاقچوں پر گرد زدہ پڑی رہے یا گھر وں اور کتب خانوں میں محض الماریوں کی زینت بنے اور اسلام او رمسلمانوں کی فقط ایک علامت شمار کی جائے۔

کتاب کائنات :

کتاب کائنات سے مراد خلقت کے اس عظیم کارخانہ کا نظام ہے جو حکم پرور دگار سے اسکی بے پناہ قدرت کی جلوہ نمائی ہے جہاں آسانوں اور انمیں بکھری کہکشاﺅں ، ستاروں اور عجائبات سے بھری متحیر کر دینے والی دنیا ( جو خود اپنے آپ میں ایک کتاب ہے ) قادر مطلق کی خوبصورت تصنیف کا صرف ایک ورق ہے ۔اسکی ہر ایک مخلوق خود اپنے میں ایک عظیم کائنات لئے ہوئے ہیں ۔ بقول شاعر :

شنیدستم کہ ہر کوکب جہانی است جداگانہ، زمین وآسمانی است

زمین در جنب ابن افلاک مینا چو خشخاشی بود، در قعر دریا 

کتاب نفس :

کتاب نفس یعنی انسانی وجود کاعظیم کارخانہ ، خداوند عالم نے اپنی اس تصنیف میں ورق ورق پر اپنی نشانیاں نقش کر رکھی ہیں وہ اپنی اس کتاب کے بارے خود فرماتا ہے : سنریھم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق ۔ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو اطراف عالم میں اور خود انکے نفس کے اندر دکھلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ بر حق ہے ۔

خدا وند عالم نے اپنے قلم خلقت سے انسانی وجود کا ایک نایاب مرقعہ کھینچا او ر پھر اختیار نامی نایاب موتی اس کے دامن میںڈال دیا تاکہ وہ مزید کمالات حاصل کر سکے یہاں تک کہ ایسا مقام حاصل کرے جو ملائکہ کی پہونچ سے بھی دور ہو اگر انسان اپنی کتاب وجود کا اتنا ہی دقیق مطالعہ کرے جتنی ظرافت سے اس کے مصنف نے رقم کیا ہے تو یقینا اس پر حیرت انگیز اسرار رونما ہونگے ۔ امیرالمومنین  فرماتے ہیں :

 اتزعم انک جرم صغیر و فیک ا نطوی العالم الاکبر  

وانت الکتاب المبین الذی باحرفہ یظہر المضمر 

کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم ایک ناچیزشئی ہو درحا لانکہ جب خدا نے تم میں ایک عظیم کا ئنا ت خلق کی ہے تم ایک ایسی کتاب ہو کہ جسکا ہر حرف اسرارو رموز کو آشکار کر تا ہے ۔

مذکورہ تینوں کتابیں دوسری کتابوں کے بر خلاف زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ نہ فر سودہ ہو تی ہیں نہ ہی علم دانش کی تر قی ان کے مندرجات کو متاثر کر تی ہے یہی تینوں کتابیں ایسی ہیں جن کے سہارے انسان توحید تک پہنچتاہے کائنات کے متعلق ایک صحیح نظر یہ قائم کرتا ہے اور اپنی حقیقی معرفت حاصل کرتا ہے اور ان عناصرسے باخبر ہو جاتاہے جن پر انسانیت کی ترقی موقوف ہوتی ہے اور الٰہی کتابوں کا مطالعہ اسے اس دنیا کے ماورا ءعالم سے آگاہ کرتا ہے ان کتابوںکے عالم دوسرے علوم کے دانشوروں سے بڑھ کر ہیں اور ان میں سر فہرست ائمہ اطہار ہیں جوانسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں ۔

ماضی میں تحصیل علم کی مشکلیں:

جو انسان اپنی قدر و قیمت سے آگاہ ہے اور جانتا ہے کہ قیمتی وقت برباد کرنا اس کی ذات کےلئے کس قدر مضر ہے اور اسے معلوم ہے کہ گناہوں کا ارتکاب اسے ہلاکت و نابودی سے ہمکنار کر دیگا ایسا شخص راہ نجات حاصل کرنے کےلئے اپنی تمام تر قوتوں کو بروکار لائے گا اور اس راہ میں پڑنے والی ساری رحمتوں اور صعوبتوں کو برداشت کرے گا تاکہ اپنی نجات کا سامان مہیا کر سکے ۔

دور حاضر میں جہاں لائبریریوں کی فراوانی ہے اور ساتھ ہی ایسے ترقی یافتہ وسائل بکثرت موجود ہیں جو کتابوں کی جانشینی کر رہے ہیں اسی طرح ارتباط کے آسان وسائل کی موجودگی کے باوجود جن تک عام و خاص کو دسترسی حاصل ہے اکثریت نہ کتابوں میں دلچسپی لیتی ہے نہ ہی جاننے والوں سے رجوع کرنے کی زحمت اٹھاتی ہے ۔آج کے انسان نے دین و دینیات سے منھ موڑ لیا ہے اور ابدی سعادت و ابدی اخروی پر دنیا کی چند روزہ زندگی کو ترجیح دے رکھی ہے ۔

آئیے ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھیں اور مطالعہ کریں پچھلے لوگوں کی زندگی کہ وہ کتنی مشقتوں سے علوم اور معارف الٰہی تک دسترسی حاصل کرتے تھے اور کیسے خطرات اٹھا کر اہل علم سے رابطہ قائم کرتے تھے شاید یہ کام علم معارف کے سلسلے میں ہماری توجہ کا باعث بن سکے آئیے جان و مال کی بازی لگا کر دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کرنے والوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں اور انکی حالات زندگی کے بعض گوشوں پر نگاہ ڈالیں ۔صفر بن ابی دلف کا واقعہ :حضرت امام علی نقی  کے اصحاب میں صفر بن ابی دلف قابل ذکر ہیں ان سے منقول ہے کہ جب عباسی خلیفہ متوکل نے امام ہادی کوجبرا سامرا بلوایا اور امام  کو قید کر دیا تومیں امام کی خبر گیری کو بہت بے چین تھا ۔میں قید خانے کے دربان کے پاس گیا اس سے میری جان پہچان تھی اس نے میرے آنے کی وجہ دریافت کی ۔ میں بولا تمہاری خیریت دریافت کرنے چلا آیا تھا کچھ دیر بیٹھ کر بات کرنا چاہتا ہوں ۔میں چاہتا تھا کہ دروغہ زندان کے پاس کچھ دیر رکوں تو شاید امام  کی خبر مل سکے ۔ اس وقت وہاں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے میں منتظر رہا یہاں تک کہ بقیہ لوگ چلے گئے اب میں اور دروغہ زندان تنہا ر ہ گئے تھے اس نے مجھ سے ایک بار پھر میں نے وہی جواب دیا کہ صرف تم سے ملنے آیا تھا لیکن وہ بولا نہیں تم اپنے مولا علی نقی  کی خبر گیری کو آئے ہو تم کو مجھ سے ملاقات نہیں کرناہے۔ کیونکہ تمہارے امام جب یہا ں قید نہیں تھے تم کبھی مجھ سے ملنے نہیں آئے میںبولامیراحاکم متوکل عباسی ہے اس پر وہ بولاکہ متوکل ناحق ہے میرے اور تمہارے مولا علی نقی  حق ہیں تم نے سوچا کہ میں تو متوکل عباسی کا دروغہ ہوں اور اہل بیت  کی معرفت اور محبت سے بے بہرہ ۔اور امام برحق کی موجودگی میںاس نے کسی اور کو اپنا مولا بنارکھا ہے ؟پھر اسنے کہا تھوڑی دیر انتظار کرو ابھی امام کے پاس ایک حکومتی آدمی موجود ہے جب وہ چلا جائے گا تو میں تمہیں امام کی خدمت میںلے چلوں گا تاکہ انکی زیارت کرسکو اور جو کچھ کہنا یا پوچھنا ہو پوچھ سکو ۔

یہ کام یقینا جان کی بازی لگانا تھا اگر متوکل ملعون کو یہ بھنگ لگ جاتی کہ یہ دونوں شیعہ ہیں اور اپنے امام سے رابطہ رکھے ہوئے ہیں تودونوں کی موت یقینی تھی ۔

دروغہ زندان کے ایک بچہ کو آوازدی شاید یہ اسکا بیٹا تھا اور اس سے کہا اسے فلاں قیدی کے پاس لے جاﺅ جب میں امام کی خدمت میںحاضر ہو ا تو دیکھا کہ اما م ایک ٹوٹی ہوئی بو سیدہ چٹائی پربیٹھے ہیں اور پاس ہی ایک قبر کھدی ہوئی ہے متوکل نے حکم دے رکھا ہے کہ اما م کو ایک چھوٹے کمرے میں قید کیا جائے اور ایک قبر بھی آمادہ رکھی جائے یہاں تک کہ وہ کوئی حکم صادر کرے ۔میں قبر دیکھ کے خود کو قابو میںنہ رکھ سکا اور رونے لگا۔امام  نے مجھے دلاسہ دیا اور بولے کہ یہ لوگ مجھے کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتے ۔تم اس قبر کو نہ دیکھو ۔میں نے عرض کیا اے فرزند رسول  خدا کا شکریہ کہ اس نے مجھے آپکی زیارت نصیب فرمائی اب جب مجھے آپ سے ملاقات کا موقع مل گیا ہے تو میں آپ سے ایک حدیث کا معنی پوچھنا چاہتا ہوں جو رسول خدا سے نقل کی جاتی ہے میں اسکا مطلب نہیں سمجھ پارہا ہوں امام نے فرمایا :کہ حدیث بیان کرو میں نے عرض کی کہ لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم  نے فرمایا ہے : 

مزید  کردارِ حضرت عیسیؑ حضرت امام خمینی رحمہ اللہ کے بیانات کی روشنی میں

لا تعادوا الایام فتعادیکم ۔ دنوں سے دشمنی نہ کرو کہ وہ تم سے دشمنی کریں ۔امام  نے روایت کا معنی کیا کہ ۔جب تک زمین و آسمان اپنی جگہ پر موجود ہیں دنوں سے مراد، ہم اہل بیت ؑ ہیں ۔شنبہ رسول گرامی کانام ہے۔ اور اتوار سے امیر المومنین مراد ہیں۔ دوشنبہ سے حسن و حسین  کی طرف اشارہ ہے۔ اور منگل علی ا بن الحسین ،محمد بن علی اور جعفر بن محمد  کا دن ہے۔ اور بدھ کے دن سے موسیٰ بن جعفر ، علی بن موسیٰ اور محمد بن علی اور مجھ سے کنایہ ہے ۔جمعرات میرے فرزند حسن بن علی  سے مربوط ہے۔ اور جمعہ کادن میرے بیٹے امام زمانہ کا دن ہے ۔چنانچہ دنوں سے ہم اہلبیت  مراد ہیں جو دنیا میں عداوت رکھے گا یہ دن آخرت میں اس سے برائت کااظہار کریںگے پھر مجھ سے بولے کہ اب جاﺅ تمہارا یہاں رکنا خطرہ سے خالی نہیں ہے۔  ۴۱۔

تاریخ کے دامن میں ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں لیکن نمونہ کے طور پر یہی ایک واقعہ کافی ہے کہ ایک ایسے فاسد ماحول میں رہ کر بھی کسی طرح اپنا ایمان محفوظ رکھ سکتا ہے جہاں شیطان کی حکمرانی ہو یہاں تک کہ جو ایسے عہدہ پرہو جس پر اسے ظالموں اور مفسدوں نے بٹھا یا ہو قید خانہ کا مذ کو رہ دروغہ صرف اسکی مثال لیں جس نے صربن دلف سے کہا تھا کہ میرے مولا اور امام بھی علی نقی  ہیں ۔بلکہ تاریخ ایسے بہت سے افراد کا پتہ دیتی ہے جو ظالم اور جا بر حکومتوںمیں مختلف عہدوں پر تھے لیکن حق کی معرفت رکھتے تھے اور الٰہی احکامات کی پیروی کرتے تھے در حقیقت فاسد،خدا کے کسی بندہ پر حکمرانی کر ہی نہیں سکتا ۔

النبی اولی با لمومنین من انفسھم  ۔بے شک نبی تمام مومنین سے انکے نفس کی یہ نسبت زیادہ اولیٰ ہیں ۔یقینا ولایت کا مقام انبیائ، ائمہ طاہرین اور انکے سچے اوصیا ءیعنی فقہاءکے جامع الشرائط سے مخصوص ہے سورئہ مومن میں پروردگار عالم نے ایک ایسے شخص کی داستان بیان کی ہے جو فرعون کے دربار میں ایک اعلیٰ منصب کا مالک تھا لیکن پوشیدہ طریقہ سے حضرت موسیٰ پرسچا ایمان لے آیا تھا البتہ ان لوگوں کو خدا کی طرف سے چھوٹ ملتی تھی کہ ایسے مقامات پر اپنا نفوذ قائم رکھیں ۔

ہماری کتابوں میں موجودہے کہ جناب سکینہ  کہ حیات طیبہ ستر سال تھی آپ بنی امیہ کے خاتمہ تک زندہ تھی آپ بہت ساری ایسی خواتین سے رابطہ بر قرار کئے ہوئے تھیں جن کے شوہر حکومت کے کار ندے تھے یہ خواتین آپ کے پاس آیا کر تی تھیں آپ ان لوگوں کو معارف اہل بیت سے آشنا کر تیں ان خوا تین کے توسط جناب سکینہ نے حکومت کے بہت سے کاموں پر لگام لگادی تھی ۔اس طرح جناب سکینہ  نے بنی امیہ کا اندر سے مقابلہ کیا ۔قیامت کے دن ایسے بہت سے لوگ حجةکے عنوان سے ان لوگوں کے لئے پیش کئے جائیںگے جن کے حالات بحرانی نہ تھے نہ ہی اس پر کوئی ظالم وجابر حکمراں مسلط تھا ۔ان کا کردار یقیناحجت ہے کہ انھوں نے ظلم وجور سے بھری حکومت نے رہ کر اپنا ایمان محفوظ رکھا تھا اور دامن کردار کو اپنے ہاتھوں سے نہ جانے دیا ۔ 

کتب بینی نئی معلومات کاذریعہ : 

کتنا اچھاہو اگر انسان اہل علم سے تمسک اختیار کرے اور اپنے آپ کو جہالت کے اندھیرے سے علم کی روشنی میں لے آئے چنانچہ ہماری مجہولات لاتعداد ہیں اور ہماری معلومات کا دائرہ نہایت تنگ ہے ہم جانتے ہی کتنا ہیں ؟لہٰذا اپنی محدود معلومات پر کبھی قناعت نہیں کرنی چاہیئے ۔ انسان خود اپنے ضمیر اور پروردگار عالم کو جواب دہ ہے۔ چھوٹی سی عمر بے ہودہ اور فضول کا موں پرصرف نہیں ہونی چاہیئے۔ بلکہ ہم کو ہمیشہ کسب علم ومعرفت میں مصروف رہنا چاہیئے ۔

خدانے جو فرصت دی ہے اس کا استعمال تحقیق وجستجو میں کر ناچاہیئے ۔ کتب بینی کی عادت ڈالنی چاہیئے اپنی استطاعت کے مطابق علمی اور فکری کاموں میں مشغول رہنا چاہیئے ۔مذہبی کتابوں سے رابطہ رکھنا چاہیئے ۔ اور اپنی عمر کے بیش قیمت ایام فضیلتوں کو کسب کرنے میں گزارنا چاہیئے ۔

تضیع اوقات سے نجات 

ہم سب کے لئے مختلف مذہبی کتابوں کی طرف رجوع کرنا بہت ضروری ہے ۔دین اسلام سے متعلق لکھی گئی کتابوںکی تعداد نا قابل شمار ہے ۔ یہ گرانقدر تصانیف ہر عمر کے لوگوں کی ضرورتوں کو پوری کر سکتی ہیں ۔پیغمبر اکرم کی سوانح حیات ،انبیاء،گذشتہ کی تاریخ ، اوصیاءکے حالات، ائمہ اطہار کی سیرت ، مذہب کے بر جستہ افراد کا زندگی نامہ،انسانیت کے کام آنے والوں پر لکھی گئی کتابیں یا ایسی کتابوںکا مطالعہ ضرور کر ناچاہیئے جو انسان کی مادی یا معنوی ضرورتوں کو پورا کر نے میں مددگار ثابت ہوں ۔ چاہے اسکے جسم سے متعلق ہو یا اس کی روح کے بارے میں۔ کسی بھی صورت میں انسان کو اپنا وقت ضایع نہیں کر ناچاہیئے ورنہ قیامت میں اس سے بازپرس ہوگی ۔ کتابوںکا مطالعہ انسان کی فکر اس کے اخلاق اور نفسیات پر اچھا اثر ڈالتاہے ۔ مرحوم آیة العظمیٰ برو جردی جب ا س دنیا سے گئے تو ان کی عمر غالبااٹھاسی برس تھی اپنی عمر کے آخری ایام میں انھوں نے ایک برزگ عالم کو نصیحت کر تے ہو ئے ایک بہت دلچسپ بات کہی ۔ انھوں نے کہا تھا کہ خدا کا شکریہ ادا کرتا ہو ں کہ میں نے اپنی اٹھاسی سالہ زندگی میں ایک گھنٹہ بھی ضایع نہیں کیا۔  

انسان کے پاس عمر سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں ہے ۔والعصر ان الانسان لفی خسر ۔ 

زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے ، حصول علم سے بڑ ھ کر کوئی عمل صالح نہیں ہے اپنی زندگی کے ہرلمحہ کا صحیح استفادہ کرنا واجبات الٰہی میں سے ہے ایسے میں معارف اہلبیتؑ سے آشنائی کےلئے کتابوں کی ورق گردانی سے بڑھ کر وقت کا اور کیا صحیح استعمال ہو سکتا ہے ؟

کتاب کی اہمیت پر کچھ بولنا سورج کو چراغ دکھانا ہے اور ہم ایرانیوں کو جو دو بڑی تہذیب کے ورثہ دار ہیں ایک ایران اپنے ملک کی قدیم تہذیب جو قومی اور اپنے وطن کی ثقافت ہے اور دوسر ی بڑی تہذیب اسلامی تمدن ہے جو ہمارے عقاید اور دین سے جڑا ہوا ہے ،کتاب اورکتب خانہ کی اہمیت کا اور زیادہ انداز ہ ہوناچاہیئے کیونکہ قوموں کی تہذیب وتقاقت کتا بوں پر موقوف ہوتی ہے حسن اتفاق یہ ہے کہ ہمارا مذہب بھی کتاب پر مبنی ہے اس دنیا کا سب بڑامعجزہ ایک کتاب ہے جس کا پہلا پیغام یہ تھا کہ۔اقراء۔پڑھو۔پھر پر دگار کی سب سے پہلی تعریف ربک الاکرم ۔تمہارا پروردگار بڑے کرم والا ہے ۔سے شروع ہوتی ہے اسکے کرم کی سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ وہ وہی ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی (الذی علّم بالقلم ، تمہارا پروردگار نے انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا جو اسے نہیں معلوم تھا اور انکے لئے اسکا جاننا ضروری تھا ۔

حرف آخر :

ہمارے لئے کتاب ایک عظیم،مربی ِ،ہے جس کے زیر سایہ انسان گم شدہ حقائق تک دست رسی حاصل کرتا ہے کتاب حیات انسانی کا ایک ایسا عنصر ہے جس پر خاص توجہ دینے اور اسکا صحیح استعمال کرنے پر انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے کائنات کے حقایق اور اسرا ر اس پر واضح ہو جاتے ہیں کائنات میں معرفت اور اسکی راہ کے علاوہ بوالہوسی اور ظلمت کے سوائے کچھ نہیں ہے کیونکہ اہل علم ہی ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں یہی لوگ میں جنہوں نے اس خالی دنیا سے دل نہیں لگایا اور مادیات سے رو گردان ہو گئے یہ لوگ اپنی ساری توجہ آخرت کی طرف رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے علم و معرفت کے ذریعہ جہالت کی تاریکیوں سے نکل کے ہدایت کی پر نور وادی میں قدم رکھا ہے۔

حال دنیا را بپرسیدم من از فرزانہ ای گفت یا خوابی است یا وھمی است یا افسانہ ای

گفتمش احوال عمر ای دل بگو با کہ چیست   گفت یا برقی است یا شمعی است یا پروانہ ای

گفتمش اینان کہ می بینند چون دل بستہ اند

گفت یا کورند یا مستند یا دیوانہ ای

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.