اخلاق کی جاودانی

 

١۔مسئلہ کی وضاحت: ناقص بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا، چوری کرنا، قومی برتری پر اعتقاد رکھنا وغیرہ بعض گذشتہ معاشرے میں جائز مانا جاتا تھا اور اُنھیں اخلاق کے خلاف شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ آج معاشرے کی اکثریت ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانتی ہے۔اس زمانے میں بھی مختلف تہذیبیں اخلاقی فضائل ورذائل کے بارے میں متعدد قسم کے نظریات رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ بعض معاشرے ”چند بیویوں، ، کے ہونے کو جائز اور حجاب کو ضروری جانتے ہیں، اکثر عیسائی تہذیبوں میں ”چند بیویوں، ، کا ہونا غیر اخلاقی بات اور حجاب کو غیر ضروری جانا جاتا ہے۔

اس طرح کی حقیقتوںپر توجہ کر نے سے ہم اخلاق سے متعلق ایک اہم سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ کیا اچھی اور بری اخلاقی عادتیں اور خصلتیں آفاقی و جاودانی ہیں ؟ اخلاقی عدالتوں نے انسانوں کی ظاہری اور باطنی صفتوں کے لئے جن احکام کو صادر کیا ہے کیا وہ عالمی اور ابدی اعتبار رکھتی ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کیا اخلاقی خوبیا ں اور برائیاں مطلق اور عام ہیں یا نسبی خصوصیتیں رکھتی ہیں اور تنہا کسی خاص دور اور زمانہ یا خاص مکان و معاشرہ اور مخصوص حالات کے لئے اعتبار اور معنی رکھتی ہیں ؟ 

٢۔ بحث کی تاریخ: اس بحث کی شروعات قدیم یونان کے زمانہ تک پہنچتی ہے اور مغربی ملکوں کے جدید علمی زمانہ میں بھی یہ سوال اخلاقی فلسفیوں کے لئے ایک بنیادی سوال بن گیا ہے۔ اسلامی مکاتب میں اخلاق کے نسبی رجحان کو اشعری متکلمین کے یہاں پایاجا سکتا ہے، اگرچہ ان لوگوں نے اشیاء کے عقلی وذاتی حسن وقبح 

سے انکار کرنے میں ” اخلاقی نسبیت”(Ethical relataivity)کی اصطلاح سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ لیکن یہ بحث موجودہ زمانہ میں مسلمان دانشوروں کے علمی حلقوں میں بھی ایک بلند درجہ رکھتی ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر بحث کی گئی ہے۔

٣۔ موضوع کی دینی اہمیت: اُن آثار کے علاوہ جو اس بحث کے نتیجوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آگے بیان کئے جائیں گے یہ موضوع مسلمانوں کے سب سے زیادہ بنیادی و کلیدی عقیدوں اور اعتقادی و ایمانی ارکان میں سے کسی ایک سے بہت زیادہ نزدیکی رابطہ رکھتا ہے۔ اسلام کا مکمل اور خاتم ہونا اور نتیجةً اس کا عالمی اور جاودانی ہونا ایسی خصوصیت ہے کہ اسے گذشتہ و حال کے کٹگھروں سے آزاد کرتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ، گذشتہ وآئندہ کے ادیان سے بشر کے بے نیاز ہونے کو بیان کرتا ہے، اخلاق کا جاودانی ہونا اس بات کی تاکید ہے کہ جغرافیائی موقعیت، تاریخی ادوار، زمان و مکان کے حالات، دینی تعلیمات اور منجملہ ان کے اخلاقی احکام اس کو اپنے زیر اثر قرار نہیں دیتے ہیں مگر ان مجازو بہترراستوں سے جسے دین نے خود معین کیا ہے۔

وہ مبانی و نظریات جو نسبیت کو اچھائیوں اور برائیوں کے دائرہ میں قبول کرتے ہیں، اسلام کے کمال اور خاتمیت کی معقول تفسیر کے سلسلہ میں ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ اس بناء پر مذکورہ اصل کی پابندی، اخلاقی مفاہیم میں ثبات واطلاق کے اثبات کی مرہونی ہے۔ یہ بات ثابت ہو نا چاہئے کہ اخلاقی موضوعات کی ابتدائی طبعیت ہمیشہ ایک حکم رکھتی ہے اور جغرافیائی اختلاف زمانہ کا گذر، تہذیبوںکا اختلاف، ایک اخلاقی موضوع کے اچھائی یا برائی سے متّصف نے میں کوئی اثر نہیںرکھتا ہے۔ 

اس کے علاوہ مذکورہ سوال کا جواب دینے کا ہمارا طریقہ اخلاق کے سلسلہ میں ہمارے نظریہ کو بھی بیان کرے گا اور اخلاقی تحقیقات کے تانے بانے پر بہت اثر ڈالے گا اور نہ صرف اخلاقی اچھائی اور برائی کے سلسلہ میں ہمارا فیصلہ بدل جائے گا بلکہ اخلاق میں بحث کے طریقے، اس کے منابع اور یہاں تک کہ اخلاقی احکام کے مخاطبین کے حدود کو بھی بیان کرے گا۔

٤۔اطلاق اور نسبیت کا مفہوم: اخلاقی مطلق پسندی سے مراد اس عقیدہ پر زور دینا ہے کہ اخلاقی اصول و تعلیمات، ا خلاقی موضوعات کی ذات اور ان کے حقیقی آثار ونتائج کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز سے وابستہ نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی موضوع کے اچھے یا برے ہونے کی جو چیزیں سبب بنتی ہیں صرف موضوع کی ذات میں موجود عناصر کا مجموعہ اور اس پر پڑنے والے واقعی آثارہیں نہ کہ اس سے باہر کے حالات و حوادث۔جیسے کسی سماجی، اجتماعی، ثقافتی، اقتصادی زندگی کے حالات یا فاعل کے ذوقی ونفسیاتی حالات۔ا س بناء پر بوڑھوں کی مناسب طریقہ سے دیکھ بھال کرنا، ابتداء سے پرہیزگار و پاک دامن رہنا اور اخلاقی لحاظ سے دوسروں کی عزت کی حفاظت کرنا اگر ایک پسندیدہ عمل مانا گیا ہے تو اصولی طور پر ہر زمان ومکان میں اور ہر فاعل کے ذریعہ تمام حالات میں اسے سراہا گیا ہے اور اخلاقی بھی مانا گیا ہے مگر یہ کہ حالات کا بدل جانا عمل کی ماہیت میں تبدیلی کا سبب قرار پائے یا قدروں کے درمیان کش مکش کا سبب بن جائے۔ (١) 

نسبیت یعنی ایک شئے کا اس کے اصلی آثار اور ذات سے خارج و متغیر امر یا امور سے وابستہ ہونا۔اس بناء پر ایک اخلاقی مفہوم کی نسبیت خواہ فضیلت ہو یا رذیلت اس طرح سے ہے کہ ایک باطنی صفت یا ظاہری رفتار پر اس کا صادق آنا یا نہ آنامعلوم ہو اور وہ صفات (باطنی یا ظاہری ہوں) اپنے اصلی آثار اور حقیقت سے خارج اور متغیّر عناصر سے وابستہ ہوں۔ جیسے اس صفت کا حامل انسان یا اس رفتار سے مربوط فاعل، وہ سماج جس میں وہ انسان زندگی گذار رہا ہے اور جس میں وہ قاعدہ و طریقہ پایا جاتا ہے، اور اس زمانہ کے حالات۔ مثلاًبوڑھوں سے متعلق رفتار، اخلاقی لحاظ سے ہمیشہ ایک حکم نہیں رکھتی۔ یا مختصر شراب پینا یا حجاب کی پابندی نہ کرنا، عیسائی سماج میں زندگی بسر کرنے والے کے لئے ایک اخلاقی برائی شمار نہیں کی جاتی لیکن اسلامی سماج میں زندگی گذارنے والے کے لئے ایک برا اور اخلاق کے خلاف عمل مانا جاتا ہے۔ (٢) 

ایک موضوع کو اخلاقی اچھائی یابرائی سے متّصف ہونے کے اعتبار سے موضوع کی ذات اور اس کے اصلی آثار سے باہر کس متغیّر چیز کے تابع قرار دیا جائے اس کے لئیاخلاقی نسبت پسندی کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: 

ایک کلی تقسیم کی بناء پر (٣) وہ لوگ جو اخلاقی اصول کو سماجی تہذیب کی تبدیلی کے تابع قرار دیتے ہیں وہ نسبیت قرار دادی (4) کے طرفدار ہیں اور وہ لوگ جو اسے انسان کی خواہش اور انتخاب کے تابع قرار دیتے ہیں، نسبیت ذہنی (5) کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو اخلاقی اصول کے لئے عینی وخارجی اصل اور مبدأ کے قائل ہیں وہ اصالت عین (6) کے طرفدار ہیں۔ 

…………………………………

١۔ رجوع کیجئے: اسی کتاب میں اخلاقی قدروں میں تزاحم اور ترجیح کا معیار اور سوالات وجوابات کی طرف (صفحہ ٦٧ پر) ۔

٢۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی: المیزان، ج: ١، ص: ٣٧٦، ٣٧٧۔

٣۔ رجوع کیجئے: لوئس پویمن۔ نقدی برنسبیت اخلاقی، ترجمہ فتح علی۔ ( بحوالۂ مجلّہ نقد و نظر، ش ١٣، ١٤، ص٣٢٦) 

Objectivsm. ۔6 Subjectivism. ۔5 Conventional. ۔4

دوسری تقسیم کے لحاظ سے اخلاقی نسبیت پسندی کی قسموں کو مندرجہ ذیل طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔علم حیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول، انسان کی متغیر زندگی کے حالات کے تابع ہیں۔

٢۔علم سماجیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول اس سماج کے متغیر حالات کے تابع ہیں جس میں انسان زندگی گذار تا ہے۔

٣۔ علم نفسیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی مفاہیم، انسان کے متغیر نفسیاتی حالات اور اس کے ذوق وشوق، رغبت وسلیقہ کے تابع ہیں۔ اس طرح کی قسم کو کبھی ذوقی نسبیت پسندی یا (نظریۂ اصالت وجود) {Egzistansialism} اگز سٹنسیا لیسٹی بھی کہتے ہیں۔ 

٤۔ تہذیب وثقافت کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی فضائل و رذائل اخلاقی سماج کے آداب و رسوم کے پابند ہیں۔

٥۔ مادہ پرستی کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: کسی صفت یا رفتار کی اچھائی یا برائی کا معیار، انسانوں کے درمیان مادی لحاظ سے برابری اور مساوات کو ایجاد کرنے اور امکانات کو مساوی لحاظ سے تقسیم کرنے کے سلسلہ میں اس کی تثیرو کار کردگی کو قرار دیا گیا ہے۔ (١)

 

 

١۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: موافق و مخالف اگزسٹنسیالیزم، ترجمہ: سعید عدالت نژاد، نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، ش١٣۔١٤، ص: ٣٠٠تا٣٢٣۔

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.