طاغوت سے مقابلہ

اگر ہم پوري تاریخ کا مطالعہ کریں تو باخوبي اس بات کا مشاہدہ کریں گے کہ دین کے بد ترین دشمن ،طاغوتي طاقتیں رہي ہيں ’’الذین امنو ایقاتلون في سبیل اللہ والذین کفروایقاتلون في سبیل الطاغوت ‘‘قرآن ميں طاغوت اور اللہ ،طاغوت اور دین ایک دوسرے کے مد مقابل قرار پائے ہيں، جب بھي آپ قرآن کا مطا لعہ کریں گے تو اس ميں اول سے آخر تک طاغوت سے مقابلہ نظر آئے گا۔ طاغوتي، وہي دولت اور طاقت کے بھوکے کردار ہيں کہ جو ایسے سر کش اور بے لگام ہيں کہ دین کي ان سرحدوں کو جو انساني طمع (لالچ ) ا

طاغوت سے مقابلہ

گر ہم پوري تاریخ کا مطالعہ کریں تو باخوبي اس بات کا مشاہدہ کریں گے کہ دین کے بد ترین دشمن ،طاغوتي طاقتیں رہي ہيں ’’الذین امنو ایقاتلون في سبیل اللہ والذین کفروایقاتلون في سبیل الطاغوت ‘‘قرآن ميں طاغوت اور اللہ ،طاغوت اور دین ایک دوسرے کے مد مقابل قرار پائے ہيں، جب بھي آپ قرآن کا مطا لعہ کریں گے تو اس ميں اول سے آخر تک طاغوت سے مقابلہ نظر آئے گا۔ طاغوتي، وہي دولت اور طاقت کے بھوکے کردار ہيں کہ جو ایسے سر کش اور بے لگام ہيں کہ دین کي ان سرحدوں کو جو انساني طمع (لالچ ) اور خود خواہي کو کنٹرول کرنے کیلئے بنائي گئي ہيں، کو قبول کرنے کیلئے تیار نہيں ،وہ ان سرحدوں کو توڑنا چاہتے ہيں یعني دین کے حکم (تقويٰ )کے مقابلہ ميں آتے ہيں ،انساني تاریخ کي ابتدا سے آج تک یہي دیکھا گیا ہے کہ استکبار۔۔۔ یعني تجاوز، یعني انسانیت کي حدود کو توڑنا ،اور دوسرے انسانوں کي حدود ميں داخل ہونا ۔۔ ۔یہي استکبار۔۔۔ ادیان کا اصلي دشمن رہاہے لہذا جہاں بھي دینداري کا پرچم بلند ہوا تو اس کے سامنے دولتمندوں اور طاقتوروں کي ایک لمبي اور مضبوط صف نمودار ہوگئي۔ گذشتہ دور ميں جہاں کہيں بھي دین کي دعوت اور دین کا پرچم حقیقي معنوں ميں میدان عمل ميں آیا، اس کے سب سے پہلے اوربڑے دشمن دنیا پرست، دولتمند اور طاقتور افراد ہيں ، یہ وہي لوگ ہيں جو اس بات کیلئے تیار نہيں کہ دین، انساني خود پرستي کي خواہشات اور انساني سر کشي کو کنٹرول کرے، کسي بھي (انساني و اخلاقي) حد کے نہ پہلے قائل تھے اور نہ اب قائل ہيں۔



source : tebyan

تبصرے
Loading...