عورت کی منزلت

پہلا باب: اسلامی ثقافت میں

اسلامی نقطہ نگاہ پر توجہ دینے کی ضرورت

جب دنیا کے فکری میدان پر نظر دوڑائی جاتی ہے اور پھر اسلامی نقطہ نگاہ کا جائزہ لیا جاتا ہے تو صاف صاف یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسانی معاشرہ اسی وقت مرد و زن کے رابطے کے سلسلے میں مطلوبہ منزل اور نہج پر پہنچ سکتا ہے جب اسلامی نظریات کو بغیر کسی کمی و بیشی کے اور بغیر کسی افراط و تفریط کے سمجھا اور درک کیا جائے اور انہیں پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس وقت مادہ پرست تہذیبوں میں عورت کے سلسلے میں جو طرز عمل اختیار کیا گيا ہے اور جو سلسلہ چل رہا ہے وہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے اور وہ عورت کے مفاد اور حق میں ہے نہ معاشرے کے فائدے میں۔

 

اسلام کی خواہش ہے کہ عورتوں کا فکری، علمی، سیاسی، سماجی اور سب سے بڑھ کر روحانی و معنوی نشو نما اپنی منزل کمال پر پہنچ جائے اور ان کا وجود انسانی معاشرے اور کنبے کے لئے، ایک اہم رکن کی حیثیت سے، آخری حد تک ثمر بخش اور مفید ثابت ہو۔ تمام اسلامی تعلیمات منجملہ مسئلہ حجاب کی بنیاد یہی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی جب اچھے اور برے انسانوں کی مثال دینا چاہتا ہے تو دونوں کے سلسلے میں عورت کا انتخاب کرتا ہے۔ ایک مثال زوجہ فرعون کی ہے اور دوسری مثال حضرت نوح و حضرت لوط علیھم السلام کی بیویوں کی ہے۔ ” و ضرب اللہ مثلا للذین آمنوا امرئۃ فرعون” اس کے مقابلے میں برے، نگوں بخت، منحرف اور غلط سمت میں بڑھنے والے انسان کی مثال کے طور پر حضرت نوح اور حضرت لوط کی ازواج کو پیش کرتا ہے۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرد بھی موجود تھے، ایک مثال مرد کی دے دی ہوتی اور ایک مثال عورت کی دی ہوتی۔ لیکن نہیں، پورے قرآن میں جب بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ” ضرب اللہ للذین آمنوا” یا ” ضرب اللہ للذین کفروا” تو دونوں کی مثال عورتوں کے ذریعے پیش کی جاتی ہے۔

 

عورت کے سلسلے میں اسلام کا طرز سلوک

عورت کے ساتھ اسلام اور اسلامی جمہوری نظام کا سلوک مودبانہ اور محترمانہ ہے، خیر اندیشانہ، دانشمندانہ اور توقیر آمیز ہے۔ یہ مرد و زن دونوں کے حق میں ہے۔ اسلام مرد و زن دونوں کے سلسلے میں اسی طرح تمام مخلوقات کے تعلق سے حقیقت پسندانہ اور حقیقی و بنیادی ضرورتوں اور مزاج و فطرت سے ہم آہنگ انداز اختیار کرتا ہے۔ یعنی کسی سے بھی قوت و توانائی سے زیادہ اور اس کو عطا کردہ وسائل سے بڑھ کر کوئی توقع نہیں رکھتا۔ عورت کے سلسلے میں اسلامی نقطہ نگاہ کو سمجھنے کے لئے اس کا تین زاویوں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

 

اول: ایک انسان ہونے کی حیثیت سے روحانی و معنوی کمالات کی راہ میں اس کا کردار؛ اس زاویے سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تاریخ میں جس طرح بہت سے با عظمت مرد گزرے ہیں، بہت سی عظیم اور نمایاں کردار کی حامل خواتین بھی گزری ہیں۔

 

دوم: سماجی، سیاسی، علمی اور معاشی سرگرمیاں؛ اسلام کے نقطہ نگاہ سے عورتوں کے لئے علمی، اقتصادی اور سیاسی فعالیت اور سرگرمیوں کا دروازہ پوری طرح کھلا ہوا ہے۔ اگر کوئی اسلامی نقطہ نگاہ کا حوالہ دے کر عورت کو علمی سرگرمیوں سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اقتصادی فعالیت سے دور رکھنے کے در پے ہے یا سیاسی و سماجی امور سے لا تعلق رکھنے پر مصر ہے تو وہ در حقیقت حکم خدا کے خلاف عمل کر رہا ہے۔ عورتیں، جہاں تک ان کی ضروریات و احتیاج کا تقاضا ہو اور جسمانی توانائی جس حد تک اجازت دے، سرگرمیاں انجام دے سکتی ہیں۔ جتنا ممکن ہو وہ سیاسی و معاشی و سماجی امور انجام دیں، شریعت اسلامی میں اس کی ہرگز مناہی نہیں ہے۔ البتہ چونکہ جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورت مرد سے نازک ہوتی ہے لہذا اس کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ عورت پر طاقت فرسا کام مسلط کر دینا اس کے ساتھ زیادتی ہے، اسلام اس کا مشورہ ہرگز نہیں دیتا۔ البتہ اس نے (عورت کو ) روکا بھی نہیں ہے۔ حضرت امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام سے منقول ہے کہ آپ فرماتے ہیں:

 

” المرآۃ ریحانۃ و لیست بقھرمانۃ” یعنی عورت پھول کی مانند ہے “قہرمان” نہیں۔

 

“قہرمان” یعنی با عزت پیش کار اور خدمت گار۔ آپ مردوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: عورتیں تمہارے گھروں میں گل لطیف کی مانند ہیں ان کے ساتھ بڑی ظرافت اور توجہ سے پیش آؤ۔ عورت آپ کی خادمہ اور پیش کار نہیں ہے کہ آپ سخت اور طاقت فرسا کام اس کے سر مڑھ دیں۔ یہ بہت اہم بات ہے۔

 

یہ جو بعض افراد شادی سے پہلے شرط رکھ دیتے ہیں کہ عورت ملازمت پیشہ ہو، اس کی اپنی آمدنی اور کمائی ہو، بالکل غلط ہے۔ البتہ خلاف شریعت تو نہیں ہے لیکن اسلام اس چیز کا مشورہ ہرگز نہیں دیتا۔ اسلام نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جس کو اساس بناکر ہم عورت کو معاشی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روک دیں لیکن دوسری طرف اسلام نے یہ بھی نہیں کہا ہے کہ عورت کو محنت شاقہ اور طاقت فرسائی کی متقاضی سیاسی و سماجی و معاشی سرگرمیوں میں لگا دیا جائے۔ اسلام کا نظریہ اعتدال پسندانہ ہے۔ یعنی عورت کے پاس اگر فرصت ہے، بچوں کی پرورش اس کی راہ میں حائل نہیں ہو رہی ہے، اس میں شوق و دلچسپی اور جسمانی طاقت و توانائی بھی ہے اور وہ سماجی، سیاسی اور معاشی امور میں حصہ لینا چاہتی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن یہ کہ اسے مجبور کر دیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ جاؤ جیسے بھی ممکن ہو روزگار تلاش کرو اور یومیہ اتنا کام کرو تاکہ اس آمدنی سے گھر کے خرچ کا کچھ بوجھ تم اٹھاؤ، تو یہ مناسب نہیں ہے۔ اسلام نے عورت کو ہرگز اس کا حکم نہیں دیا ہے۔ اسے عورت کے ساتھ ایک طرح کی زیادتی قرار دیتا ہے۔

 

میں خاندانوں سے یہ سفارش کروں گا کہ وہ اپنی لڑکیوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیں۔ یہ نہ ہو کہ کوئی ماں باپ دینداری کے جذبے کے نام پر اپنی لڑکی کو اعلی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیں! نہیں، دین نے ہرگز یہ بات نہیں کہی ہے۔ دین کی نظر میں تعلیم کے لحاظ سے لڑکے اور لڑکی میں کوئي فرق ہی نہیں ہے۔ اگر لڑکا اعلی تعلیم حاصل کرتا ہے تو لڑکی بھی اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو چاہئے کہ تعلیم حاصل کریں، علم کی منزلیں طے کریں، معلومات میں اضافہ کریں۔ اپنی اہمیت اور مقام و منزلت سے آگاہ ہوں اور اپنی قدر و قیمت کو سمجھیں، تاکہ انہیں یہ پتہ چلے کہ عورت کے سلسلے میں عالمی استکبار کے پروپیگنڈے کتنے کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں۔ تعلیم کے ذریعے ان چیزوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔

 

سوم: عورت کو خاندان اور کنبے کی ایک رکن کی حیثیت سے دیکھنا۔ یہ سب سے اہم اور با ارزش ہے۔ اسلام میں مرد کویہ اجازت نہیں ہے کہ عورت سے جبر و اکراہ کا برتاؤ کرے اور اس پر کوئي چیز مسلط کر دے۔ خاندان کے اندر مرد کے لئے محدود حقوق رکھے گئے ہیں جو در حقیقت بڑی حمکت آمیز بات ہے۔ یہ حقوق جس کے سامنے بھی رکھے اور بیان کئے جائیں، وہ اس کی حمایت او تائید کرے گا۔ اسی طرح عورت کے لئے بھی خاندان کے اندر کچھ حقوق رکھے گئے ہیں اور ان میں بھی بڑی مصلحت اندیشی پوشیدہ ہے۔ مرد و زن دونوں کے اپنے مخصوص جذبات، مزاج، اخلاق اور خواہشات ہیں۔ وہ دونوں اگر اپنے اپنے جذبات اور خواہشات کے مطابق صحیح طور پر عمل کریں تو گھر میں بڑا اچھا ہم آہنگ اور ایک دوسرے کے لئے سازگار جوڑا وجود میں آ جائے گا۔ اگر مرد زیادتی کرتا ہے تو توازن بگڑ جاتا ہے، اسی طرح عورت کوئی زیادتی کرے تو اس سے بھی توازن ختم ہو جاتا ہے۔ اسلام گھر کے اندر مرد اور عورت کو دروازے کے دو پلوں، چہرے کی دو آنکھوں، محاذ زندگی کے دو مجاہدوں اور ایک دوکان میں کام کرنے والے دو رفقائے کار کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ ان میں ہر ایک کا اپنا مزاج، اپنی خصوصیات، اپنی خصلتیں ہیں۔ جسمانی لحاظ سے بھی، روحانی لحاظ سے بھی، فکری لحاظ سے بھی او جذبات و خواہشات کے اعتبار سے بھی۔ یہ دونوں صنفیں اگر ان حدود اور معیاروں کی پابندی کرتے ہوئے جس کا تعین اسلام نے کیا ہے ایک ساتھ زندگی بسر کریں تو ایک مضبوط، مہربان، با برکت اور انتہائی کارآمد کنبہ معرض وجود میں آئے گا۔

 

اسلام ان مردوں کو جو اپنی جسمانی یا مالیاتی قوت کے بلبوتے پر عورتوں سے اپنی خدمت لیا کرتے تھے، عورتوں کو بسا اوقات اہانت اور تحقیر کا نشانہ بناتے تھے، ان کی حدود دکھائیں اور عورت کو اس کی حقیقی منزلت پر پہنچایا اور بعض چیزوں کے لحاظ سے اسے مرد کے برابر قرار دیا۔ “ان المسلمین و المسلمات و المؤمنین و المؤمنات” مسلمان مرد، مسلمان عورت، عبادت گزار مرد، عبادت گزار عورت، شبوں میں عبادت کرنے والے مرد اور راتوں کو جاگ کر عبادتیں کرنے والی عورتیں۔ معلوم ہوا کہ اسلام میں یہ تمام معنوی و روحانی مقامات اور اعلی انسانی درجات مرد اور عورت کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے عورتیں بھی مردوں کے برابر ہیں۔ جو بھی اللہ کے لئے کام کرے گا “من ذکر او انثی” خواہ وہ مرد ہو کہ عورت ” فلنحیینھ حیاتا طیبۃ” (ہم اسے پاکیزہ زندگی عطا کریں گے)

 

اسلام نے بعض مقامات پر عورتوں کو مردوں پر ترجیح تک دی ہے۔ مثال کے طور پر ایک مرد اور ایک عورت کسی بچے کے ماں باپ ہیں اور یہ بچہ دونوں کا ہے لیکن اولاد کے لئے ماں کی خدمت کرنا زیادہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اولاد کی گردن پر ماں کا حق زیادہ ہے اور ماں کے تعلق سے اولاد کے فرائض زیادہ سنگین ہیں۔ پیغمبر اسلام نے اس سوال کے جواب میں کہ ” من ابر” میں کس کے ساتھ بھلائی اور نیکی کروں؟ فرمایا ہے کہ “امک” یعنی اپنی ماں کے ساتھ۔ آپ نے دوبارہ اس کی تکرار کی اور تیسری بار بھی یہی جملہ دہرایا۔ جب پوچھنے والے نے چوتھی دفعہ یہی سوال کیا تب آپ نے فرمایا کہ ” اباک” یعنی اپنے باپ کے ساتھ۔ بنابریں خاندان میں بچوں پر ماں کا حق زیادہ ہے اور ماں کے تعلق سے بچوں کے فرائض بھی زیادہ ہیں۔ البتہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ لوگوں کو بعض دیگر افراد پر (بے سبب) ترحیج دے دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں بہت زیادہ محنت و مشقت کرتی ہیں۔ یہ عدل الہی کا تقاضا ہے۔ جس کی زحمتیں زیادہ ہیں اس کا حق بھی زیادہ ہے۔ چونکہ (ماں) زیادہ مشقتیں برداشت کرتی ہے اس لئے اس کی قدر و منزلت بھی بالاتر ہے۔

 

یہ سب عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ مالیاتی امور میں، کنبے کے حق کے سلسلے میں، خاندان کی سرپرستی کے سلسلے میں اور گھر کے امور کو چلانے کے تعلق سے اسلام کی روش بڑی متوازن روش ہے۔ ان امور میں بھی اسلامی قانون نے ایسا بندو بست کیا ہے کہ مرد یا عورت کسی پر بھی ذرہ برابر ظلم و زیادتی نہ ہو۔ اس نے مردوں کے حقوق بھی معین کر دئے ہیں اور عورتوں کے حقوق کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ ایک چیز مرد کے پلڑے میں ڈالی ہے تو دوسری چیز عورت کے پلڑے میں رکھی ہے۔ جو لوگ صاحب نظر ہیں اگر وہ غور کرتے ہیں تو ان حقائق کو باقاعدہ محسوس بھی کرتے ہیں اور انہوں نے کتابوں میں یہ چیزیں لکھی بھی ہیں۔

 

اسلام کی نظر میں جنس یعنی مرد یا عورت ہونا موضوع بحث نہیں بلکہ ارتقاء انسانی پر گفتگو کی گئی ہے، اخلاق انسانی کو موضوع گفتگو بنایا گيا ہے، صلاحیتوں کو نکھارنے کی بات کی گئی ہے، ان فرائض کی بات کی گئی ہے جن کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے مزاج سے آشنائی ضروری ہے۔ اسلام مرد اور عورت دونوں کے مزاج کو بخوبی پہچانتا ہے۔ اسلام کی نظر میں سب سے اہم ہے توازن کا برقرار رہنا، یعنی انسانوں بشمول مرد و زن، کے درمیان عدل و انصاف کی مکمل پابندی۔ حقوق کی برابری موضوع گفتگو ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض مقامات پر عورتوں اور مردوں کے سلسلے میں احکام مختلف ہوں۔ بالکل اسی طرح، جس طرح عورت اور مرد کے مزاج بعض خصوصیات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں مرد اور عورت سے متعلق زیادہ سے زیادہ حقائق فطری خصائل اور طینت اور نفسیات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

 

اسلامی معاشرہ اور عورت

اسلامی جمہوریہ ایران میں عورت سے توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ عالمہ ہو، سیاسی شعور رکھتی ہو، سماجی سرگرمیاں انجام دے، تمام شعبوں میں سرگرم عمل ہو۔ گھر میں مالکہ کا رول ادا کرے، شوہر اور بچوں کی نگہداشت اور اولاد کی تربیت کا ذمہ سنبھالے۔ گھر کے باہر عفت و طہارت و پاکدامنی کا مظہر ہو۔ ایران کے معاشرے میں اسلامی نظام ایسی عورتوں کو دیکھنا چاہتا ہے۔ یعنی عورت گھر کے اندر بچوں کی پرورش کرنے والی اور شوہر کے لئے سکون و چین کا سامان فراہم کرنے والی اور شوہر کے وجود سے سکون حاصل کرنے والی ہو، گھر کے باہر کی فضا میں اپنی پاکدامنی و عفت کی حفاظت کرتے ہوئے تمام سیاسی، علمی، سماجی اور دیگر شعبوں میں موجود رہے۔ اگر یہ ہدف پورا کرنا ہے تو اس کی اولیں شرط حجاب ہے۔ حجاب کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ حجاب کے بغیر عورت وہ بے فکری اور اطمینان خاطر حاصل نہیں کر سکتی جس کے ذریعے وہ ان منزلوں کو طے کر سکے۔

 

اسلامی معاشرے میں اور مسلمانوں کی زندگی کے اصلی بہاؤ میں مسلمان عورت کی خاص حرمت و وقار ہے اور اس کا مظہر حجاب ہے۔ جو (خاتون) حجاب میں ملبوس رہتی ہے، اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں بھی وہ عورتیں زیادہ معزز اور قابل احترام ہوتی تھیں جو با حجاب رہتی تھیں۔ حجاب وقار کی علامت ہے۔ حجاب پہننے والی خواتین کا خاص احترام کیا جاتا ہے۔ اسلام تمام عورتوں کے لئے اسی حرمت و عزت کا خواہاں ہے۔

 

اسلامی حدود

سماجی سرگرمیوں کے سلسلے میں اسلام نے کچھ حدود معین کی ہیں جن کا تعلق عورت یا اس کی سرگرمیوں کی اجازت سے نہیں ہے بلکہ یہ مرد اور عورت کے اختلاط سے سے مربوط ہیں۔ اسلام اس سلسلے میں بہت محتاط ہے۔ اسلام کا کہنا ہے کہ ہر جگہ اور ہر مقام پر، سڑک پر، ادارے کے اندر، دوکان کے اندر مرد اور عورت کے ما بین ایک حد بندی ہونی چاہئے۔ مسلمان مرد و عورت کے بیچ حجاب اور ایک معینہ حدبندی رکھی گئی ہے۔ عورت اور مرد کا ملنا جلنا، مردوں کے آپسی اختلاط اور عورتوں کے باہمی اختلاط کی مانند نہیں ہے۔ اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ مرد بھی اس کا لحاظ کریں اور عورتیں بھی اس کی پابند رہیں۔ مرد اور عورت کے روابط اور ملنے جلنے کے سلسلے میں اگر اس احتیاط کو ملحوظ رکھا جائے تو سماجی میدان میں جو کام اور جو امور مرد انجام دیتے ہیں عورتیں بھی، اگر ان کے پاس جسمانی توانائی دلچسپی اور فرصت ہے، انجام دے سکتی ہیں۔

 

کامل نمونہ

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا چھے سات سال کی تھیں کہ شعب ابو طالب کا مرحلہ در پیش ہوا۔ صدر اسلام کی تاریخ میں شعب ابو طالب بے حد سخت اور دشوار دور تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی تبلیغ دین شروع ہو چکی تھی، آپ نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا تھا۔ رفتہ رفتہ اہل مکہ بالخصوص نوجوان اور غلام، حضرت کے گرویدہ ہوتے جا رہے تھے اور اکابرین طاغوت کو محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ پیغمبر اور ان کے ارد گرد جمع افراد کو مکے سے باہر نکال دیا جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا بھی۔ ان میں سے بہتوں کو جن میں درجنوں خاندان شامل تھے خود پیغمبر اسلام اور آپ کے قریبی رشتہ دار، خود حضرت ابو طالب جبکہ حضرت ابو طالب کا شمار بزرگوں میں کیا جاتا تھا، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔ سب کو مکے سے باہر نکال دیا۔ حضرت ابو طالب کے پاس ایک چھوٹا پہاڑی درہ تھا۔ کہہ دیا گيا کہ آپ لوگ وہیں چلے جائیں۔ مکہ میں دن میں تو دھوپ کی شکل میں آگ برستی تھی لیکن رات کو کڑاکے کی سردی پڑتی تھی۔ یعنی موسم ناقابل برداشت تھا۔ ان لوگوں نے اس بیابان میں تین سال کاٹ دئے۔ کتنی سختیاں برداشت کیں اور بھوک کی شدت جھیلی! پیغمبر اسلام کی زندگی کا ایک انتہائی سخت دور یہی تھا۔ اس عرصے میں پیغمبر اسلام کی ذمہ داری صرف لوگوں کی ہدایت و رہنمائی نہیں تھی بلکہ انہیں سختیاں جھیلنے والے ان افراد کے سامنے بھی اپنے مشن کا دفاع کرنا تھا(کہ اس کے لئے اتنی سختیاں برداشت کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے)۔ ان دنوں جب پیغمبر اسلام انتہائی سخت حالات سے دوچار تھے حضرت ابو طالب، جو پیغمبر کے مددگار تھے اور ان سے پیغمبر اسلام کی امیدیں وابستہ تھیں، اسی طرح حضرت خدیجہ کبرا جو پیغمبر اسلام کی ایک اور بہت بڑی یاور و مددگار تھیں ایک ہفتے کے اندر دونوں دنیا سے رخصت ہو گئے۔! یہ بڑا عجیب سانحہ ہے، پیغمبر بالکل بے سہارا اور تنہا ہو گئے۔

 

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ایک مشیر اور ایک ماں کا کردار ادا کیا پیغمبر اسلام کے لئے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے سلسلے کہا گیا کہ آپ تو “ام ابیھا” یعنی اپنے والد کی ماں ہیں۔ یہ اسی وقت کی بات ہے۔ یعنی ایک چھے سات سال کی بچی کا یہ کردار تھا۔ البتہ یہ بھی ہے کہ عرب ماحول میں اور گرم علاقوں میں لڑکیوں کا جسمانی اور ذہنی نشونما تیزی سے ہوتا ہے اس لحاظ سے آج کی دس بارہ سالہ لڑکی کے برابر رہی ہوں گی۔ تو یہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی ہے۔ کیا ایک نوجوان لڑکی کے لئے یہ چیز نمونہ عمل اور درس نہیں ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے مسائل کے تعلق سے جلد ہی اپنی ذمہ داری کا احساس کرے، اپنے وجود میں پنہاں جوش و نشاط کے اس خزانے کو بروئے کار لاتے ہوئے باپ کے چہرے سے جو اس وقت غالبا پچاس سال کا ہو چکا ہے اور بڑھاپے کی سمت گامزن ہے غم و غصے کے غبار کو جھاڑے، یہ ایک نوجوان لڑکی کے لئے کیا بہترین نمونہ نہیں ہے؟

 

دوسرا نمونہ ہے شوہر کے تعلق سے اپنے فرائض کی ادائیگی کا ہے۔ بعض اوقات لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شوہر کے حقوق ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عورت باورچی خانہ سنبھالے، کھانا پکائے، کمرے کی صفائی ستھرائی کرے، بستر بچھائے اور گاؤ تکیہ لگائے کہ شوہر نامدار دفتر یا دکان سے آ رہے ہوں گے! اسی کو شوہر کے حقوق کی ادائیگی نہیں کہتے۔ آپ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کو دیکھئے کہ کس انداز سے شوہر کے تعلق سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ میں دس برس گزارے ان میں نو برس وہ تھے جن میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے شوہر اور زوجہ کی حیثیت سے ایک ساتھ زندگی گزاری۔ ان نو برسوں میں جن چھوٹی بڑی جنگوں کا ذکر کیا گيا ہے وہ تقریبا ساٹھ جنگیں ہیں۔ ان میں اکثر و بیشتر جنگوں میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے شرکت کی۔ اب آپ غور کیجئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا گھر میں موجود ہیں اور آپ کے شوہر مسلسل محاذ جنگ سنبھالے ہوئے ہیں۔ کیونکہ آپ کے وجود پر محاذ جنگ کی مضبوطی کا دار و مدار تھا، آپ نہ ہوتے تو محاذ کمزور پڑ جاتا۔ گھر کی مالی حالت بھی اچھی نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں آپ کی زندگی غربت و عسرت و تنگدستی میں گزر رہی تھی۔ جبکہ آپ قائد ملت کی دختر گرامی ہیں، پیغمبر کی لخت جگر ہیں اور آپ کے اندر ایک احساس ذمہ داری اور فرض شناسی بھی موجود ہے۔ بے حد مضبوط اعصاب اور قوی جذبات کی ضرورت ہے کہ انسان اپنے شوہر کو آمادہ کرے، اس کے ذہن و دل کو گھر کے مسائل و مشکلات اور بال بچوں کی فکر سے آزاد اور مطمئن رکھے، اس کی حوصلہ افزائی کرے اور بچوں کی ایسی مثالی تربیت کرے جیسی صدیقہ طاہرہ نے کی۔ آپ خود کہئے! حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السلام تو امام تھے اور سرشت و طینت امام رکھتے تھے لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا تو امام نہیں تھیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے انہی نو برسوں میں آپ کی تربیت کی تھی۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد تو آپ زیادہ دن زندہ بھی نہیں رہیں۔

 

اس انداز سے گھر چلایا، اس انداز سے شوہر کے تئیں اپنے فرائض ادا کئے اور اس انداز سے گھر کی مالکہ کا کردار ادا کیا کہ تاریخ میں پائيدار خاندانی زندگی کا محور قرار پائیں۔ کیا یہ نوجوان لڑکی، گھریلو عورت یا گھریلو زندگی شروع کرنے جا رہی خاتون کے لئے آپ اسوہ حسنہ نہیں ہیں؟ یہ بڑی اہم باتیں ہیں۔

 

 

عورت کا ملکوتی مرتبہ

چودہ سو سال سے بھی پہلے پیغمبر اسلام نے ایک ایسی بیٹی کی تربیت کی کہ یہ دختر نیک اختر لیاقت و شائستگی کی اس منزل پر پہنچ گئی کہ خدا کا رسول اس کے ہاتھوں کے بوسے لیتا ہے! حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ہاتھوں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بوسے کو جذباتی مسئلے پر ہرگز محمول نہ کیجئے۔ یہ سوچنا کہ چونہ وہ آپ کی بیٹی تھیں اور آپ کو ان سے بڑی محبت و انسیت تھی لہذا آپ ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے تھے، بالکل غلط اور سطحی فکر ہے۔

 

اس بے مثال اور گراں قدر شخصیت کا مالک اور زیور عدل و حکمت سے آراستہ پیغمبر کہ جس کے افعال و اقوال کا دار و مدار وحی و الہام پر ہے، بھلا کیسے ممکن ہے کہ جھکے اور اپنی بیٹی کے ہاتھ چومے؟ یہ نہیں ہو سکتا، یہاں مسئلہ کچھ اور ہے، یہ ماجرا ہی کچھ اور ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ دختر نیک اختر یہ خاتون جس کی دنیا سے رخصت کے وقت عمر اٹھارہ سے پچیس سال کے درمیان تھی، در حقیقت انسان کی ملکوتی بلندیوں پر فائز تھی اور ایک غیر معمولی ہستی کی مالک تھی۔ یہ ہے عورت کے سلسلے میں اسلام کا نقطہ نگاہ۔

 

اسلامی قوانین میں عورت کی حمایت

خاندان کے سلسلے میں اسلام کے احکامات اتنے درخشاں اور قابل فخر ہیں کہ انسان ان اسلامی احکام کا مشاہدہ کرکے عزت و وقار کا احساس کرتا ہے۔ خاندان اور کنبے کی تشکیل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں شریک زندگی کے انتخاب کے سلسلے میں اسلام کے جو قوانین اور احکامات ہیں وہ عورت کے لئے مددگار ہیں۔ چونکہ بعض مرد، عورتوں کے ساتھ ظلم و جارحیت و زیادتی کرتے تھے اور سختی سے پیش آتے تھے اس لئے اسلام نے اس ظلم اور اس زیادتی پر روک لگائی۔ جب ایک کنبہ تشکیل پاتا ہے تو اسلام کا کہنا یہ ہے کہ کنبے کے اندر شوہر او زوجہ ایک دوسرے کے شریک زندگی ہیں، انہیں ایک دوسرے سے محبت آمیز برتاؤ کرنا چاہئے۔ مرد کو کوئی حق نہیں کہ وہ بیوی کے ساتھ زیادتی کرے اور اس پر جبر کرے، اسی طرح عورت کو بھی حق نہیں ہے کہ مرد کے ساتھ زیادتی کرے۔ کنبے اور خاندان کے اندر مرد اور عورت کے تعلقات اور روابط کے سلسلے میں اسلامی احکامات اور ضوابط بڑی ظرافت اور باریک بینی کے ساتھ معین کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے عورت اور مرد کے مزاج کو بنیاد بنا کر، اسلامی معاشرے کے مفادات کی مناسبت سے اور مرد اور عورت کی بھلائی اور اچھائی کے مطابق ان اصولوں، ضوابط اور احکامات کا تعین فرمایا ہے۔ مرد کو صرف چند امور میں یہ حق ہے کہ عورت کو حکم دے اور عورت پر لازم ہے کہ اس حکم کی تعمیل کرے۔ مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کو بغیر اجازت گھر سے باہر جانے سے روک دے، البتہ اس کے لئے ضروری ہے کہ عقد کے موقع پر اس سلسلے میں کوئی شرط نہ رکھ دی گئی ہو۔ اگر کوئي شرط نہیں رکھی گئی ہے تو مرد کو یہ حق ہے کہ روک دے۔ یہ در حقیقت احکام الہی کے بے حد ظریف اسرار میں سے ایک ہے۔ یہ حق صرف شوہر کو دیا گيا ہے، حتی باپ کو بھی یہ حق نہیں دیا گيا ہے۔ باپ اپنی بیٹی کو اس کا پابند نہیں کر سکتا کہ جب بھی وہ باہر جانا چاہے تو پہلے اس سے اجازت حاصل کرے۔ والد کو یہ حق نہیں دیا گيا ہے۔ اسی طرح بھائی کو بھی اپنی بہن کے سلسلے میں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ لیکن شوہر کو زوجہ کے سلسلے میں یہ حق حاصل ہے۔ البتہ عورتوں کو یہ حق ہے کہ وہ نکاح کے وقت شرط عقد کے طور پر کچھ شرطیں رکھوا لیں۔

 

دو ثقافتوں کا ٹکراؤ

یہ اسلامی ثقافت نہیں ہے جسے اپنے موقف کا دفاع کرنا ہے، دفاع تو مغرب کی انحطاط پذیر ثقافت کو کرنا چاہئے۔ عورتوں کے سامنے جو بات ہم پیش کرتے ہیں اس کا کوئي بھی با شعور اور منصف مزاج انسان منکر نہیں ہو سکتا۔ ہم عورت کو عفت، عصمت، حجاب، مرد و زن کی حد سے زیادہ آمیزش سے اجتناب، انسانی وقار کی حفاظت، غیر مردوں کے سامنے سجنے سنورنے سے گریز کی دعوت دیتے ہیں۔ کیا یہ بری چیزیں ہیں؟ یہ تو مسلمان عورت کے وقار کی ضمانت ہے، یہ عورت کے عز و شرف کی بات ہے۔ جو لوگ عورت کو اس انداز کے میک اپ کی ترغیب دلاتے ہیں کہ گلی کوچے کے لوگ اسے ہوسناک نظروں سے دیکھیں، انہیں اپنے اس نظرئے کا دفاع کرنا چاہئے کہ انہوں نے عورت کو اتنا کیوں گرا دیا ہے اور اس کی اس انداز سے تذلیل کیوں کر رہے ہیں؟! ان کو اس کا جواب دینا چاہئے۔ ہماری ثقافت تو ایسی ثقافت ہے جسے مغرب کے بھی با شعور افراد اور اچھے انسان پسند کرتے ہیں اور اسی انداز سے زندگی گزارتے ہیں۔ وہاں بھی باعفت و پاکیزہ صفت خواتین اور وہ عورتیں جو اپنی شخصیت کو اہمیت دیتی ہیں کبھی بھی غیروں کی ہوسناک نگاہوں کی تسکین کا ذریعہ بننا پسند نہیں کرتیں۔

 

مغربی ثقافت کٹہرے میں

عورت کے مسئلے میں مغربی ثقافت کا سختی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ یہ ایک واجب عمل کا درجہ رکھتا ہے۔ مغرب عورتوں کی توہین و تذلیل کر رہا ہے۔ عورت کو اس کے مقام و مرتبے سے نیچے گرا رہا ہے۔ ان کی یہ بات سراسر جھوٹ ہے کہ ” ہم تو دونوں صنفوں کو مساوی اور برابر سمجھتے ہیں” ہرگز ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کا فریب اور سیاسی و ثقافتی حربہ ہے۔ اس طرز عمل کے ذریعے عورت کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے، خیانت کی جا رہی ہے۔ اسلام کا کہنا ہے کہ عورت مناسب لباس اور حجاب کے ذریعے اپنے وقار اور اپنے عز و شرف کی حفاظت کرتی ہے، خود کو اس (گھٹیہ اور پست) منزل سے بلند تر کرتی ہے جہاں دنیا کے بے راہرو مرد اسے پہنچانا چاہتے ہیں، یہ بے راہرو مرد ہر زمانے اور ہر علاقے میں پائے جاتے رہے ہیں۔ قرآن میں عورتوں سے کہا گيا ہے کہ ” فلا تخضعن بالقول” خضوع نہ کرو۔ خضوع کرنے کا مسئلہ ہے۔ مرد کے سلسلے میں عورت کا انداز خاضعانہ اور خاکسارانہ نہیں ہونا چاہئے۔ مرد اور عورت کے اندر فطری اور قدرتی امور جو ہیں وہ اپنی جگہ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مرد کے مقابلے میں عورت کی خاکساری اور حقارت آج مغرب میں باقاعدہ دیکھی جا سکتی ہے۔ عورت کو پست اور حقیر بنانا دینا چاہتے ہیں۔ ویسے وہ یہ کام کر چکے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اب اسے حقارت میں مبتلا کرنے جا رہے ہیں۔ اس خاص روش کے تحت آمد و رفت میں عورت کو مرد کے آگے کر دیا جاتا ہے اور یہ اصرار ہوتا ہے کہ خاتون، مرد سے آگے چلے لیکن یہ تو ظاہری صورت ہے، حقیقت اور باطن اس کے بالکل بر عکس ہے۔ بڑی حیرت ناک بات ہے کہ عورتوں کے سلسلے میں اپنے ان بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود ان تمام ریاکارانہ اور جھوٹے تکلفات کے باوجود، جو عزت افزائی اور توقیر کے نام پر انجام پاتے ہیں جو در حقیقت توہین آمیز حرکتیں ہوتی ہیں، گھروں کے اندر شوہر اور بیوی کے تعلقات اور روابط کا وہ عالم ہے کہ خدا کی پناہ! یہ باتیں سن کر اور اس حقیقت سے آگاہ ہوکر انسان ایران کے قدیم رجعت پسند خاندانوں کے زن و شوہر کے روابط کو یاد کرنے لگتا ہے۔ عورت کی پٹائی، مار مار کر اس کے جسم کو سیاہ کر دینا، کسی معمولی سی بات پر عورت کو قتل کر ڈالنا، یہ سب مغرب میں معمول کی باتیں بن چکی ہیں۔

 

دوسرا باب: مغربی ثقافت میں عورت کا مقام

 

عورت اور مغربی فن و ادب

عورت کے مزاج سے آشنائی اور اس صنف نازک سے برتاؤ کی نوعیت کے سلسلے میں مغرب والے ہمیشہ افراط و تفریط سے کام لیتے آئے ہیں۔ بنیادی طور پر عورت کے سلسلے میں مغرب کا نقطہ نگاہ عدم مساوات اور عدم توازن پر مبنی نقطہ نگاہ ہے۔ مغرب والے جو نعرے بازی کرتے ہیں اور جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں وہ کھوکھلے ہیں، حقیقت کے عکاس نہیں ہیں۔ مغرب کی سرزمین پر عورت کے سلسلے میں وہ نظریہ اور ایسی فکر پائی جاتی ہے کہ جس کا سرچشمہ اور جس کی جائے پیدائش وہی یورپ ہے۔ اگر کہیں اور یہ فکر پہنچی ہے تو یورپ ہی سے پہنچی ہے۔ ان نعروں کے آئينے میں تو مغربی ثقافت کا ادراک نہیں کیا جا سکتا۔ مغربی ثقافت سے آشنائی اور واقفیت چاہئے تو مغربی ادب میں اسے تلاش کیجئے۔ جو لوگ یورپی ادب، یورپی اشعار، یورپی ناولوں، افسانوں اور ڈراموں سے واقف اور آگاہ ہیں، وہ بخوبی جانتے اور محسوس کرتے ہیں کہ مغربی ثقافت میں قرون وسطی سے لے کر بعد کے ادوار تک اور حتی بیسویں صدی کے وسط تک عورت دوسرے درجے کی مخلوق سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس کے بر خلاف وہ جو بھی دعوے کرتے ہیں سراسر جھوٹ ہے۔ شیکسپیئر کے معروف انگریزی ڈراموں میں اور دیگر مغربی ادبی تخلیقات میں عورت کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کے لئے کس زبان کا استعمال کیا جاتا ہے؟! مغربی ادب میں مرد، عورت کا مالک، آقا اور حاکم ہے۔ اس ثقافت اور اس فکر کے کچھ اثرات آج بھی باقی ہیں۔ اہل یورپ نے عورت پر معاشی امور، صنعتی سرگرمیوں اور اس جیسے دیگر شعبوں میں ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا ہی، ادب میں بھی انہوں نے عورت پر ظلم کیا ہے۔ ناولوں میں، افسانوں اور داستانوں میں، مصوری کے نمونوں میں اور دیگر فنکارانہ تخلیقات میں دیکھنا چاہئے کہ عورت کو کس نظر سے پیش کیا گیا ہے؟ کیا عورت سے متعلق اعلی اقدار اور مثبت و تعمیری پہلوؤں کو قابل اعتناء سمجھا گیا ہے؟ کیا وہ لطیف جذبات اور وہ مہر و الفت سے معمور مزاج جو اللہ تعالی نے عورت کو ودیعت کیا ہے، وہ مامتا، وہ بچوں کی تربیت ، پرورش اور نگہداشت کا جذبہ، توجہ کا مرکز بنا ہے یا شہوانی پہلو جسے وہ عشق کا نام دیتے ہیں؟ در حقیقت یہ لفظ کا غلط استعمال ہے، یہ عشق نہیں شہوت پرستی ہے۔ عورت کو یہ ترغیب دینے اور ان عادتوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک صارف مخلوق بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دست و دل باز صارف اور سستی اور کم اجرت پر دستیاب مزدور۔ مغربی داستانوں اور یورپی اشعار میں آپ کو بہت ملے گا کہ شوہر مزاج اور عادت کے اختلاف کی بنیاد پر اپنی بیوی کو قتل کر دیتا ہے اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے! بیٹی کو اپنے باپ کے گھر میں کسی بھی انتخاب کا حق نہیں دیا گيا ہے۔ ان کے ڈراموں میں جو چیز نظر آتی ہے وہ یہی ہے۔ کوئی لڑکی ہے جس کی جبرا شادی کروائی جا رہی ہے۔ کوئی عورت ہے جسے اس کے شوہر نے قتل کر دیا ہے۔ کوئی خاندان ہے جس میں عورت پر شدید مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ جو چیزیں نظر آتی ہیں وہ اسی طرح کی اور اسی انداز کی ہیں۔ یہ مغربی ادب ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک یہی ماحول تھا، اگرچہ انیسویں صدی کے اواخر سے عورتوں کی آزادی کے نام سے کچھ تحریکیں بھی شروع ہو چکی تھیں۔

 

تہذیب سے پرے

رومی ثقافت میں اور چیزوں کے سلسلے میں نرمی برتی جاتی ہے لیکن دو تین چیزوں میں کوئی نرمی نہیں ہے۔ ان میں سے ایک جو شاید سب سے اہم بھی ہے، مرد اور عورت کے بیچ معینہ حد بندی کا ہونا ہے(اس کی ان کے ہاں ہرگز اجازت نہیں ہے)۔ یعنی نام نہاد جنسی آزادی کے مقابلے میں ضبط نفس (انہیں ناپسند ہے)۔ اس مسئلے میں یہ ثقافت بہت سخت گیر واقع ہے۔ دوسری باتوں پر وہ اتنے حساس نہیں ہیں۔ ان لوگوں کے خیال میں رجعت پسند وہ ہے جو اسی ( حد بندی یا حجاب) کو بنیاد بنا لے۔ اگر کسی ملک میں عورتیں خاص حدود کی پابندی کرتے ہوئے مردوں سے ایک دوری بنائے رہتی ہیں تو اسے خلاف تہذیب کہا جاتا ہے! ان کی بات بھی صحیح ہے کیونکہ ان کی تہذیب کا ڈھانچہ اسی رومی تہذیب کے ویرانے پر کھڑا کیا گيا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن اقدار کی رو سے دیکھا جائے تو یہ غلط ہے۔ اس کا بر عکس رخ درست ہے۔

 

مغربی معاشروں میں عورت کی مظلومی

مغرب کے (نام نہاد) مہذب معاشرے میں عورت، مردوں کی تسکین ہوس کا سامان ہے، ایک آزاد شخصیت کی مالک نہیں جو دوسروں کی منشاء کی پابند رہے بغیر اپنی مرضی کے مطابق اپنا کام کر سکے۔ ایک ایسی مخلوق ہے جسے اپنا رہن سہن ایسا رکھنا ہے کہ گلی کوچے کے مردوں کے من کو بھائے انہیں دیدہ زیب لگے، وہ اپنی رفتار و گفتار اور عادات و اطوار میں غیر اور اجنبی مردوں کی پست حرکتوں کو تحمل کرے۔ سماجی حلقوں میں عورت کی حالت یہ ہے۔ البتہ کچھ استثنائات بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر حالات یہی ہیں۔ عورت کو کسی قسم کی عزت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ جہاں کسی مزدور سے کام لینے کا معاملہ آتا ہے ان کی نظر میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رہ جاتا، مالک کے مفاد کے مطابق عورت سے جم کر محنت کروائی جاتی ہے۔ یعنی روزمرہ کے سخت کوشی کے کاموں میں صنف نازک سے تعلق رکھنے کے باعث عورت کا جو لحاظ کیا جانا چاہئے وہ ہرگز نہیں کیا جاتا، لیکن جب مرد، عورت کو اپنی ہوس کی تسکین کے سامان کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے مرد کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، اس کے پاس وسائل ہیں اور عورت کے پاس اپنے دفاع کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

 

فیشن، انحراف اور لغزش کی تمہید

میرے خیال میں فیشن، مردوں کے سامنے حد سے زیادہ سجنا سنورنا اور نئے نئے روپ میں آنے کی خواہش معاشرے کے بہکنے اور عورت کے بھٹکنے کی ایک بہت بڑی وجہ اور سبب ہے۔ مغرب والے عورت کو ایک ایسی مخلوق میں تبدیل کر دینے کے لئے جو ان کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہو، تواتر کے ساتھ نئے نئے فیشن ایجاد کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان (عورتوں) کے دلوں، ذہنوں اور آنکھوں کو انہی ظاہری اور سطحی چیزوں میں مصروف رکھیں۔ جو کوئی بھی ان چیزوں میں کھو گیا وہ کہاں اور کب اعلی اور حقیقی اقدار کو سمجھ سکتا ہے؟ اسے ان (اقدار) تک رسائی کی فرصت ہی نہیں ملے گی۔ جس عورت کا سارا ہم و غم اور فکر یہی ہے کہ جیسے بھی ہو خود کو مردوں کے لئے پر کشش بنائے، اسے کب اس کا موقع مل سکتا ہے کہ اخلاقی پاکیزگی کے بارے میں سوچے اور غور کرے؟ یورپی سامراجیوں کو ہرگز گوارا نہیں ہے کہ تیسری دنیا کے سماجوں میں عورتیں روشن خیال اور بلند اہداف والی ہوں، جو خود تو بلند اہداف کی سمت گامزن ہوں ہی، اپنے شوہر اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ آگے بڑھائیں۔ اسلامی معاشرے کی نوجوان لڑکیاں بہت ہوشیار اور محتاط رہیں تاکہ مغربی فکر اور مغربی ثقافت کے اس بے حد خطرناک اور غیر مرئی جال کو دیکھ لیں، پہچان لیں، اس سے خود کو محفوظ رکھیں اور عورتوں کو اس سے دور رکھیں۔

 

مغربی ثقافت میں عورتوں کی آزادی کی حقیقت

مغرب میں جو سب سے بڑے دعوے ہیں ان میں سب سے پہلے نمبر پر عورتوں کی آزادی کا نعرہ ہے۔ لفظ آزادی کے معنی بہت وسیع ہیں۔ اس کا اطلاق قید سے رہائی پر بھی ہوتا ہے اور اخلاقیات سے خود کو الگ کر لینے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ اخلاقیات بھی ایک طرح کی حدبندی اور پابندی ہے، اس کا اطلاق اس دباؤ سے چھٹکارے پر بھی ہوتا ہے جو سرمایہ دار کی طرف سے استحصال سے عبارت ہوتا ہے اور وہ کم اجرت پر عورت سے کام لیتا ہے، اس کا اطلاق ان قوانین اور ضوابط سے آزادی پر بھی ہوتا ہے جو شوہر کے تعلق سے بیوی پر کچھ فرائض اور ذمہ داریاں عائد کر دیتے ہیں۔ آزادی کی یہ تمام قسمیں تصور کی جا سکتی ہیں۔ عورت کے سلسلے میں جو یہ نعرے ہیں ان میں بہت سے مطالبات ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اس آزادی کا کیا مطلب ہوا؟

 

بد قسمتی سے مغربی دنیا میں آزادی سے جس چیز کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے وہ آزادی کا وہی غلط اور ضرر رساں مفہوم ہے۔ یعنی خاندانی حدود و قیود سے آزادی، مرد کے ہر طرح کے اختیار سے مکمل آزادی، حتی شادی، خاندان کی تشکیل اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داری سے بھی آزادی، ان جگہوں پر جہاں عارضی شہوانی ہدف ان چيزوں سے ٹکرانے لگے۔ مغرب میں جو مسئلہ بڑے شد و مد سے اٹھایا جاتا ہے اس میں حمل ساقط کرنے کی آزادی کا مسئلہ بھی شامل ہے، یہ بڑا ہی سنگین مسئلہ ہے۔ یہ بظاہر تو معمولی اور چھوٹی بات ہے لیکن فی الواقع یہ بے حد خطرناک اور ہولناک مضمرات والی بات ہے۔ یہ وہ نعرہ اور مطالبہ ہے کہ مغرب میں جو بہت عام ہے، چنانچہ اسے عورتوں کی آزادی کی تحریک کا نام دیا جاتا ہے۔ سراپا جہالت سامراجی و استکباری نظام کی یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ اس خام خیالی میں ہے کہ عورت کی قدر و قیمت کا دار و مدار مردوں کے لئے سجنے سنورنے اور پر کشش لگنے میں ہے کہ گندی نگاہیں اسے دیکھیں، محظوظ ہوں اور اس کی تعریف کریں۔ دنیا میں مغرب کی جانب سے عورت کی آزادی کی جو بساط بچھائی گئی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ عورت کو مردوں کی نطروں کے سامنے لایا جائے تاکہ ان کی ہوس اور شہوت پرستی کے جذبے کو تسکین ملے۔ مرد ان سے لذت حاصل کریں اور عورتیں مردوں کی لذت کا سامان فراہم کریں۔ یہ عورت کی آزادی ہے؟ مغرب کی جاہل و غافل و گمراہ ثقافت میں جو لوگ انسانی حقوق کے دفاع کے دعوے کرتے ہیں وہ در حقیقت عورت کے حق میں سب سے بڑے ظالم ہیں۔

 

مغرب میں عورت کے حقوق کے دفاع کی تحریک

عورت کے حق میں ظلم و جور اور ستم و زیادتی کے اس ماحول میں جب عورتوں کے دفاع کے لئے کوئی تحریک معرض وجود میں آئے گی تو فطری طور پر وہ افراط و تفریط کا شکار ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی عشروں کے دوران عورتوں کی آزادی کے نام پر وہ فحاشی اور بے راہروی پھیلی ہے کہ خود مغربی مفکرین وحشت زدہ ہو گئے ہیں! آج مغربی ممالک میں ہمدرد، خردمند، مصلح اور با ضمیر افراد موجودہ صورت حال پر فکرمند اور تشویش میں مبتلا ہیں لیکن وہ اس پر قابو بھی نہیں پا سکتے۔ چلے تھے عورت کی خدمت اور مدد کرنے لیکن اس کی زندگی پر بہت بڑی ضرب لگا بیٹھے ہیں۔ بے راہروی، فحاشی و جنسی آزادی اور بغیر شادی بیاہ کئے مرد اور عورت کی ایک ساتھ وقت گزاری سے خاندانوں اور کنبوں کی بنیادیں تباہ ہو گئیں۔ جو مرد معاشرے میں آزادانہ اپنی ہوس کی بھوک مٹا سکتا ہے اور جو عورت معاشرے میں بغیر کسی روک ٹوک کے متعدد مردوں سے جسمانی تعلقات قائم کر سکتی ہے وہ گھر میں کبھی بھی اچھا شوہر یا اچھی بیوی نہیں بن سکتے۔ اس طرح خاندان اور کنبے کا ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا ہے۔

 

در حقیقت مغرب میں عورتوں کے حقوق کے دفاع کی تحریک، ایک طرح کی سراسیمگی اور نامعقولیت سے دوچار تحریک، جہالت پر مبنی تحریک، الہی روایات سے خالی تحریک اور مرد اور عورت کے مزاج اور فطرت سے غیر ہم آہنگ تحریک بن گئی تھی جس نے ہر کسی کو شدید نقصان پہنچایا۔ عورتوں کے لئے زیاں بار ثابت ہوئی اور مردوں کے لئے ضرر رساں بنی، زیادہ نقصان عورتوں کو پہنچا۔ اس کی تقلید اور پیروی ہرگز نہیں کی جا سکتی۔ یہ کوئی ایسی تحریک نہیں جسے کسی اسلامی ملک میں زیر غور لایا جائے اور اس سے کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، اسے پوری طرح مسترد کر دینے کی ضرورت ہے۔

 

عورتوں پر گھروں کے اندر مظالم

آج بھی جب کوئی عورت کسی مرد سے شادی کرکے دلہن کے طور پر شوہر کے گھر جاتی ہے تو اس کا فیملی نیم تک تبدیل ہو جاتا ہے اور شوہر کا فیملی نیم اسے استعمال کرنا ہوتا ہے۔ عورت کا فیملی نیم اسی وقت تک محفوظ رہتا ہے جب تک اس نے شادی نہیں کی ہے، ادھر اس نے شادی کی اور ادھر اس کا اپنا فیملی نیم اس سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ شوہر کا فیملی نیم لے لیتا ہے۔ یہ مغربی طریقہ ہے۔ ایران میں ایسا کبھی نہیں تھا، آج بھی نہیں ہے۔ یورپی سماج میں جب عورت شادی کرکے اپنے تمام سرمائے اور اثاثے کے ساتھ شوہر کے گھر جاتی تھی اس کا جسم ہی شوہر کے اختیار میں نہیں جاتا تھا بلکہ اس کی تمام دولت اور اس کا سارا اثاثہ جو اسے اس کے والد اور گھر والوں سے ملا تھا شوہر کی ملکیت میں چلا جاتا تھا! یہ ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا مغرب والے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ چیز مغربی تہذیت میں تھی۔ مغربی تہذیب میں جب کوئی عورت شوہر کے گھر رخصت ہوکر جاتی تھی تو شوہر اس کی زندگی کا مالک ہو جاتا تھا! یہی وجہ ہے کہ مغربی اشعار اور افسانوں میں یہ چیز آپ کو جگہ جگہ نظر آئے گی کہ شوہر عادت اور مزاج کے معمولی سے اختلاف کی بنا پر بیوی کو قتل کر دیتا ہے اور کوئی اسے ملامت تک نہیں کرتا! لڑکی کو باپ کے گھر میں کسی طرح کا حق انتخاب اور اختیار نہیں تھا۔ اس زمانے میں بھی مغرب والوں کے درمیان عورت اور مرد کے تعلقات کے لئے کسی حد تک آزادی تھی لیکن شادی کا اختیار اور شوہر کے انتخاب کا حق پوری طرح باپ کو حاصل تھا۔

 

مغربی خاندانوں میں حتی اس عورت پر بھی، جو شوہر کی طرح ملازمت پیشہ ہے اور دونوں ہی ایک محدود اور معینہ وقت ہی گھر میں گزارتے ہیں، ظلم ہوتا ہے! کیونکر ظلم کیا جاتا ہے؟ صرف اس لئے کہ ان دونوں میں ایک مرد ہے اور دوسری عورت ہے۔ دو افراد ہیں، ملازمت کرتے ہیں، رات کو گھر آتے ہیں اور سو جاتے ہیں، صبح اٹھتے ہیں اور روانہ ہو جاتے ہیں۔ دونوں مرد نہیں ہیں، ایک مرد ہے اور دوسری عورت ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مرد کے ساتھ بھی زیادتی ہوتی ہے لیکن جو ظلم کا یقینی طور پر نشانہ بنتی ہے وہ عورت ہے۔ کیونکہ اس عورت کا جو شوہر ہے اس کے دوسری کئی عورتوں سے جذباتی اور جنسی تعلقات ہیں۔ بڑے گہرے، دوستانہ اور بے تکلفانہ تعلقات ہیں، اتنے ہی گہرے تعلقات جتنے اپنے کنبے کے افراد سے ہیں۔ عورت کے لئے یہ کسی گہرے زخم کی مانند ہے۔ عورت چاہتی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ گہرے جذباتی تعلقات اور روابط رکھے اور دونوں پوری دنیا میں ایک دوسرے کے لئے سب سے زیادہ قریبی اور نزدیک ہوں۔ گھر میں عورت سے سب سے پہلے جو چیز لے لی جاتی ہے وہ یہی حق ہے۔

 

عزت افزائی یا توہین

کبھی کبھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مغربی سماجوں میں کسی مخصوص انداز سے عورت کا احترام کیا جا رہا ہے۔ جیسے فلمی ستاروں، اداکاروں، مقابلہ حسن میں شریک پرکشش عورتوں کا احترام کیا جاتا ہے، یہ احترام بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی احترام کی جگہ توہین، یعنی احترام کے روپ میں تذلیل۔ انسان کی نجی اور شخصی زندگی میں اس کی بہت مثالیں ملتی ہیں اور ہر کوئی اسے دیکھ اور سمجھ سکتا ہے کہ احترام کی شکل میں توہین اور توہین کی شکل میں احترام کسے کہتے ہیں؟ احترام کے نام پر توہین، بڑی تشویشناک بات ہے۔ مرد اور عورت کے آزادانہ تعلقات کی لپیٹ میں اگر عورت آ گئی تو وہی حالت ہو جائے گی جو استبدادی شاہی دور میں تھی۔ یعنی پھر اس کے قدم عریانیت کی جانب، فیشن کے جنون کی جانب، گوناگوں انداز سے جسم کی نمائش کی جانب بڑھیں گے۔ ایک مناسب حد تک میک اپ اور فیشن کی بات تو سمجھ میں آتی ہے اور اسلام نے بھی اس کی مناہی نہیں کی ہے لیکن جب یہ سلسلہ معمول کی حدود سے تجاوز کر جائے، مقابلہ آرائی شروع ہو جائے، ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ دینے کی دوڑ شروع ہو جائے اور عورت کی شخصیت کا دار و مدار یہی بناؤ سنگار ہی ہو جائے تو یہ غلط بات اور انحرافی بات ہوگی۔ یہ عورتوں کے سلسلے میں اسلامی انقلاب کے معینہ ہدف اور سمت کے بالکل برخلاف ہے۔

 

 

مسلمان عورت کے طور طریقے کی مخالفت

ان (مغرب والوں) کو مسلمان عورتوں کی کس چیز پر سب سے زیادہ اعتراض ہے؟ اس کے حجاب پر۔ وہ مسلمان عورت کے صحیح اور مناسب حجاب کے سب سے بڑے دشمن ہیں، کیوں؟ کیونکہ ان کی ثقافت میں اس کی گنجائش نہیں اور ان کا رہن سہن کا طریقہ اسے قبول نہیں کرتا۔ یورپیوں کی فطرت ایسی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ جو بات ہمیں مناسب لگتی ہے پوری دنیا کو چاہئے اس کی تقلید کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ ان کو اس میں بھی کوئی تامل نہیں ہوگا کہ اپنی جہالت کو دنیا کے علم و معرفت پر مسلط کر دیں۔ ان کی کوشش ہے کہ معاشرے میں یورپی وضع قطع کی ہی عورت نظر آئے۔ یعنی فیشن کی دلدادہ ہو، پوری طرح صارف ہو، تمام مردوں کی آنکھوں کو پر کشش لگے اور دونوں صنفوں کے درمیان جنسی مسائل بالکل معمول کی چیز بن جائیں اور اس کے لئے عورتوں کو استعمال کیا جائے۔ مغرب والوں کی اس پالیسی اور حکمت عملی کی جہاں بھی مخالفت ہوتی ہے مغرب والے چراغ پا ہو جاتے ہیں۔ ان میں صبر و تحمل بھی نہیں ہے۔ مغرب کے یہ بڑے بڑے دعوے دار اپنے مسلمہ اصولوں کی ذرہ برابر بھی مخالفت برداشت نہیں کر پاتے۔

 

وہ دنیا کے تمام علاقوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے ہیں سوائے حقیقی اسلامی معاشروں کے۔ افریقا کے غربت سے دوچار علاقوں میں، لاطینی امریکا اور مشرقی ایشیا میں جہاں جہاں بھی قومیں آباد ہیں، وہ اپنے نقطہ نگاہ اور اپنی پسند کو یعنی وہی میک اپ، وہی صارف کلچر، وہی عورت کا کھلونا بن جانا، ان چیزوں کو وہ رائج کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا تیر صرف وہاں خطا گیا ہے جہاں اسلامی ماحول ہے۔ اس کی ایک مثال اسلامی جمہوریہ ایران کا عظیم معاشرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی زبردست مخالفت کی جا رہی ہے۔

 

اسلامی اور یورپی ثقافتوں میں عورتوں کے مالکانہ حقوق

ساٹھ ستر سال قبل تک پورے یورپ میں اور مغربی ممالک میں عورت کا وجود کسی مرد کے زیر تسلط ہی ممکن تھا۔ یا اپنے شوہر کے زیر تسلط یا کارخانے اور کھیت کے مالک کے زیر تسلط ۔ عورت کو ایسا کوئی حق حاصل نہیں تھا جو ایک مہذب معاشرے میں عورتوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اسے حق انتخاب، مالکانہ حقوق اور داد و ستد کا اختیار نہیں تھا۔ بعد میں عورت کو تجارتی میدان اور سماجی امور میں شامل کیا گیا۔ یورپ میں جو عورت کو مالکانہ حقوق دینے کا فیصلہ کیا گيا، خود یورپی ماہرین عمرانیات کی باریک بینی پر مبنی تجزیوں کے مطابق، اس کی وجہ یہ تھی کہ کارخانوں نے نئی نئی صنعت اور ٹکنالوجی کی بساط بچھائی تھی اور ان کو محنت کش مزدوروں اور کام کرنے والوں کی ضرورت تھی لیکن مزدوروں کی قلت تھی۔ مزدوروں کی قلت سے انہیں بڑی تکلیف ہو رہی تھی۔ انہوں نے عورتوں کو کارخانوں میں لانے اور اس افرادی قوت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا، ویسے عورتوں کو مزدوری بھی کم ہی دی جاتی تھی، ان لوگوں نے اعلان کیا کہ عورت کو بھی مالکانہ حقوق حاصل ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ والوں نے عورت کو مالکانہ حقوق دئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے عورت کی لغزش کا سارا سامان بھی فراہم کر دیا۔ انہوں نے عورت کو معاشرتی بہاؤ میں لاکر بے سہارا چھوڑ دیا۔ یہ عورت کے سلسلے میں مغرب اور یورپ میں پایا جانے والا ظالمانہ اور غلط طرز فکر اور طرز عمل ہے۔

 

اسلام میں ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں عورت اپنی ثروت اور اثاثے کی خود مالک ہے۔ خواہ شوہر کو یہ بات پسند آئے یا نہ آئے، باپ کو یہ چیز اچھی لگے یا اچھی نہ لگے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ اپنا سرمایہ، اپنا سامان اور اپنی وہ دولت جو اس نے جمع کی ہے، آزادانہ خرچ کر سکتی ہے، اس سے کسی کو بازپرس کا حق نہیں ہے۔ عورتوں کے معاشی حقوق کی حمایت کے لحاظ سے دنیا، اسلام سے تیرہ سو سال پیچھے ہے۔ اسلام نے یہ کام تیرہ سو سال قبل ہی کر دیا۔

 

 

تیسرا باب: اسلامی جمہوریہ ایران میں عورت کا کردار

 

ایران کی عصری تاریخ میں عورتوں کا کردار

ایران میں موجودہ دور میں اور بہت سے انتہائی اہم واقعات میں عورتوں کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ اگر گزشتہ ڈیڑھ سو سال کی تاریخ پر جو بڑی سبق آموز ہے، نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ کئی شعبوں اور میدانوں میں عورتوں کی شراکت اور ان کا کردار بہت اہم، نمایاں، موثر اور فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ منجملہ خواتین کا وہ کردار ہے جو انہوں نے مرزا شیرازی مرحوم کی قیادت میں سامراج مخالف تحریک میں ادا کیا۔ اسی شہر تہران میں عورتوں کے مظاہرے حکمراں نظام کو لرزہ بر اندام کر دینے والے مظاہرے تھے۔ معلوم ہوا کہ اسلامی انقلاب سے قبل بھی اسلامی جذبے کے ساتھ مسلمان خواتین کی نمایاں کارکردگی کی ایک تاریخ موجود ہے۔

 

 

پہلوی سلطنت میں خواتین کی صورت حال

قابل مذمت بے ضمیر شہنشاہی نظام والے معاشرے میں عورت ہر لحاظ سے واقعی بے حد مظلوم واقع ہوئی تھی۔ اگر عورت علمی میدان میں قدم رکھنا چاہتی تو اسے تقوا و دینداری اور عفت و پرہیزگاری سے خود کو الگ کر لینا پڑتا تھا۔ یونیورسٹیوں میں، تعلیمی اداروں اور علمی و ثقافتی مراکز میں ایک مسلمان عورت کے لئے ممکن نہیں تھا کہ اپنے حجاب، اپنے وقار اور اپنی متانت کو باقی رکھ سکے۔ یہ کہاں ممکن تھا کہ مسلمان خاتون تہران اور بعض دیگر شہروں کی سڑکوں پر مسلمان خاتون اسلامی متانت و وقار کے ساتھ یا حتی آدھے ادھورے حجاب کے ساتھ آسانی سے گزر جائے اور وہ مغربی فحاشی و فساد کے دلدادہ افراد کے رکیک جملوں سے محفوظ رہے؟ نوبت یہ آ گئی تھی کہ اس ملک میں عورتوں کے لئے حصول علم تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ البتہ اس میں کچھ استثنا بھی ہے لیکن اکثر و بیشتر عورتوں کے لئے علمی میدان میں وارد ہونا ممکن نہیں ہو پاتا تھا۔ اس کا ایک ہی راستہ تھا کہ وہ حجاب ترک کر دیں اور تقوی و اسلامی وقار سے خود کو الگ کر لیں۔ سیاسی میدان اور سماجی سرگرمیوں کے سلسلے میں بھی یہی صورت حال تھی۔ اگر کوئی عورت ایران میں شاہی حکومت کے دور میں کو‏ئی سیاسی یا سماجی عہدہ حاصل کرنا چاہتی تھی تو اسے حجاب، اسلامی وقار اور عفت و پاکدامنی کو فراموش کر دینا ہوتا تھا۔ البتہ اس کا اس پر بھی انحصار تھا کہ اس عورت کی صلاحیت اور اس کی اپنی حقیقت کیا ہے۔ اگر اس میں مضبوطی اور استحکام نہیں ہے تو وہ پوری طرح گہرائیوں میں گرتی چلی جاتی تھی لیکن اگر اس میں استحکام ہوتا تو خود کی کسی حد تک محفوظ رکھتی تھی لیکن سماجی ماحول کا اس پر ہمیشہ دباؤ رہتا تھا۔

 

سابقہ شاہی دور حکومت میں عورتوں کی بڑی تعداد ناخواندہ تھی اور انہیں سماجی مسائل کی کوئی شد بد نہ تھی یعنی انہیں کسی چیز کے ادراک کا موقع ہی نہیں دیا جاتا تھا، وہ ملک کے مستقبل اور تقدیر سے لا تعلق تھیں انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ عورتیں ملک کی تقدیر کے فیصلے میں شراکت کا حق رکھتی ہیں۔ یہ حالت تھی لیکن ظاہری روپ کے لحاظ سے وہ یورپی عورتوں کے جیسی تھیں بلکہ شائد مغربی اور یورپی عورتوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں۔ انہیں دیکھنے والا یہی سمجھتا کہ یہ عورت کسی یورپی ملک سے اور مغربی ماحول سے نکل کر ایران آئی ہے لیکن اگر اس سے دو جملے گفتگو کرتا تو معلوم ہوتا کہ یہ تو بالکل کورہ کاغذ یا انتہائی سطحی معلومات والی عورت ہے! عورت کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ جسم کی نمائش کرے اور دوسروں کی نگاہوں کا مرکز بنے اور اسی کو اپنی شخصیت کا معیار سمجھے۔ جبکہ یہ تو عورت کے لئے انحطاط کا عمل تھا پیشرفت کا عمل نہیں۔ کیا عورت کے ساتھ اس سے بڑی بھی کوئی زیادتی ہو سکتی ہے کہ فیشن، میک اپ، جسم کی نمائش، لباس، سونے چاندی اور گہنوں کا اس پر ملمع چڑھا دیں اور پھر اسے گوناگوں مقاصد کی تکمیل کے سامان اور حربے کے طور پر استعمال کریں۔ اسے سیاست، اخلاقیات اور تربیت کے میدان میں قدم رکھنے کا موقع نہ دیں؟ پہلوی سلطنتی دور میں یہ کام پوری منصوبہ بندی کے تحت کیا گيا۔

 

 

ایران کے اسلامی انقلاب میں خواتین کا کردار

ایران کے اسلامی انقلاب نے عورتوں کے سلسلے میں تمام غلط نظریات اور طرز فکر پر خط بطلان کھینچ دیا اور عورتوں نے اسلامی انقلاب کے ہراول دستے کی سپاہیوں کا رول ادا کیا۔ اگر عورتوں نے انقلاب سے تعاون نہ کیا ہوتا، اس انقلاب کو قبول نہ کیا ہوتا اور اس پر ان کا یقین نہ ہوتا تو یہ طے ہے کہ انقلاب کبھی کامیاب نہ ہو پاتا۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو انقلابیوں کی آدھی تعداد تو براہ راست میدان سے یونہی مفقود ہو جاتی اور اس کے علاوہ (ان عورتوں کی میدان میں عدم موجودگی کا اثر یہ بھی ہوتا کہ) چونکہ خاتون گھر کے اندر کے ماحول پر گہرا اثر رکھتی ہے اس لئے بچے، شوہر اور بھائی پر بھی اس کا اثر پڑتا۔ تو یہ ان کا تعاون اور ان کی شراکت ہی تھی جس نے دشمن کی بنیادیں ہلا دیں اور تحریک کو حقیقی معنی میں آگے بڑھایا۔ مرد خواہ وہ شوہر ہو یا بیٹے عورتوں بشمول ماؤں اور ازواج کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ ایک غیر تعلیم یافتہ ماں کا جس کے پاس کوئی معلومات اور کوئی تجربہ بھی نہیں ہے ایسا اثر اور نفوذ ہوتا ہے جو شاگرد پر استاد اور ماتحتوں پر افسر کے اثر سے الگ ہوتا ہے۔ بچوں پر ماں کا بالکل منفرد اثر ہوتا ہے جو ماں کے بڑھاپے تک اسی طرح برقرار رہتا ہے۔ یعنی ماں جب اپنے مخصوص اثر و نفوذ کو استعمال کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو وہ اس میں کامیاب رہتی ہے۔ البتہ شائد کچھ مائیں ایسی بھی نکل آئیں جن میں جوش و ولولہ کی کمی اور استحکام کا فقدان ہو اور وہ اپنے اس اثر و نفوذ کو استعمال ہی نہ کریں۔ عموما یہی ہوتا ہے کہ بچوں پر ماؤں کا خاص اثر ہوتا ہے۔ ان کی باتیں، ان کا محبت آمیز انداز اور اسی مادرانہ شفقت کے ساتھ جو باتیں وہ کہتی ہیں وہ مخاطب فرد کے ذہن و دل میں اترتی چلی جاتی ہیں۔ جب ایران کی اسلامی تحریک، اسلامی انقلاب کے مرحلے پر پہنچ گئی اور عورتیں اسلام کے سلسلے میں اسی نظرئے کے ساتھ جو عورتوں کے درمیان رائج تھا آگے بڑھیں تو امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر اس تحریک کو عورتوں کا تعاون نہ ملا ہوتا تو انقلاب کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہ پاتا۔

 

اسلامی جمہوریہ کی تشکیل کے عمل میں اور آج تک رونما ہونے والے واقعات کے سلسلے میں ایرانی خواتین نے بعض مواقع پر مردوں کے مثل اور بعض مواقع پر مردوں سے کچھ کمتر اور بعض مواقع پر تو مردوں سے بھی بڑھ کر تعاون کیا اور اپنے اثر دکھایا۔ جنگ میں بھی اور مختلف سیاسی واقعات میں ملک کے دینی اور سیاسی مظاہروں میں بھی یہی صورت حال نظر آتی ہے۔ علم و دانش کے شعبے میں، تعمیر و ترقی کے عمل میں اور سماجی مسائل کے سلسلے میں ایرانی خواتین کا دائمی اور مربوط تعاون اور شراکت نظروں کے سامنے ہے۔ معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے عورت کا سماجی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ماضی میں عورتیں اس پہلو کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں اور اس کی جانب ان کی توجہ نہیں تھی۔

 

معاشرے میں جو سماجی سطح پر عمومی امور ہوتے ہیں عورتوں کا ان میں کوئی کردار نہیں ہوتا تھا، وہ اس تعلق سے اپنا کوئی کردار اور اپنی کوئی ذمہ داری محسوس ہی نہیں کرتی تھیں۔ دور افتادہ قریوں اور شہروں کی تمام خواتین اس انقلاب کی پاسبانی کرنے والے انسانی مجموعے میں شامل افراد کی حیثیت سے اور اس انقلاب کی ذمہ دار کی حیثت سے اپنے لئے ایک شان و منزلت کی قائل ہیں۔ اس زاوئے سے مرد اور عورت میں کوئی تفریق نہیں ہے، بلکہ بسا اوقات عورتوں میں سماجی مسائل اور امور کے تعلق سے زیادہ جوش و جذبہ اور وسیع النظری دیکھنے میں آتی ہے اور وہ اس ملک اور اس کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتی ہیں۔

 

 

اسلامی انقلاب اور عورتوں کا سماجی مقام و مرتبہ

اسلام، انقلاب اور امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے اس ملک میں آن کر عورت کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں لا کھڑا کیا اور انقلاب کا پرچم عورتوں کے ہاتھوں میں دیا۔ اس سب کے ساتھ ہی ساتھ عورتوں نے اپنے حجاب، اپنے وقار، اپنی اسلامی متانت، اپنی عفت و پاکدامنی اور دین و تقوے کی بھی حفاظت کی۔ اب ایران کی مسلمان خواتین کی گردن پر اس کے بعد کوئی حق اور فریضہ ایسا نہیں رہا جو ادا نہ ہوا ہو۔

 

اسلامی انقلاب کی برکت سے ایرانی خواتین بہت اچھے راستے پر چل پڑی ہیں۔ آج ایرانی عورت عملی میدان میں وارد ہو سکتی ہے اور معرفت و دانش کے اعلی مدارج پر فائز ہو سکتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے دین و ایمان، عفت و پاکدامنی، تقوا و پرہیزگاری، عز و وقار، سنجیدگی و متانت، اپنی عزت و حرمت اور شخصیت و تشخص کو بھی قائم رکھ سکتی ہے۔ اسی طرح عورت دینی علوم و معارف کی وادی کی بھی سیاحی کر سکتی ہے، اس کی راہ میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ اور ممانعت نہیں ہے۔ آج ایران میں عورتیں سیاست کے میدان میں، سیاسی سرگرمیوں میں، سماجی میدان میں، جہاد کے میدان میں، عوام اور انقلاب کی مدد و اعانت کے سلسلے میں، غرضیکہ گوناگوں میدانوں میں اپنی متانت و سنجیدگی کو برقرار رکھتے ہوئے، اپنے عز و وقار کو قائم رکھتے ہوئے اور اپنے اسلامی حجاب کی پابندی کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

 

 

امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی نگاہ میں عورت کی منزلت

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے انقلاب میں، خواہ وہ اس کا معرض وجود میں آنے کا مرحلہ ہو یا معرض وجود میں آ جانے کے بعد آگے بڑھنے اور جاری رہنے کی منزل، عورتوں کے کردار کو اسی طرح اسلامی معاشرے کے ارتقاء اور اس میں اسلامی و انقلابی بالغ نظری پیدا کرنے کے عمل میں عورت کے مقام کو انتہائی عظیم قرار دیا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اس حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایرانی عورت اور مسلم خاتون مغرب کی خانماں سوز ثقافت کی جگہ جگہ موجود کمند اور جگہ جگہ بچھے جال سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی مجاہدت کو پختہ ارادے کے ساتھ جاری رکھے اور کسی بھی صورت میں ان کے دام میں نہ پھنسے جنہوں نے عورت کو اپنی تباہ کن پالیسیوں اور توسیع پسندانہ اہداف کے لئے حربے کے طور پر استعمال کرنے کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ اس کے لئے دانشمندانہ باریک بینی کی ضرورت ہے جس کے ذریعے عورت کی سیاسی، سماجی، فنی اور ثقافتی شناخت اور منزلت کو سیاسی اور شخصی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے ذریعے اور حربے کی سطح تک عورت کی تنزلی اور انحطاط سے الگ کیا جا سکتے اور دونوں کے فرق کو پہچانا جا سکے۔ اس پستی اور ہر آگاہ و بیدار اور حریت پسند انسان کے مرغوب و پسندیدہ مقام و منزلت کے درمیان خلط ملط پیدا نہ ہو۔

 

امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ایرانی معاشرے میں خواتین کو کہ جو ملک میں تعداد کے اعتبار سے کل آبادی کا نصف ہیں اور حساس مواقع اور نازک موڑ پر افادیت کے لحاظ سے آدھی آبادی سے زیادہ کا کردار ادا کرتی ہیں (کیونکہ جب ماں اور بیوی کی حیثیت سے وہ میدان عمل میں آتی ہیں تو بچوں اور شوہر پر اپنے خاص اثر و نفوذ کی وجہ سے انہیں بھی اپنے ساتھ میدان میں لاتی ہیں) ان کا حقیقی مقام اور شناخت حاصل ہو۔ فرضی اور مسلط کردہ شناخت نہیں بلکہ وہی حقیقی شناخت جو نظر انداز کر دی گئی ہے اور مختلف پردوں کے نیچے دب کر رہ گئی ہے۔ آپ کی تاکید تھی کہ یہ شناخت نمایاں ہو اور ہمیشہ سب کی خاص طور پر خود خواتین کی نظروں کے سامنے رہے۔ جو درخشاں حقیقت ہے وہ انہیں باور کرائی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.