2022 - 11 - 28 ساعت :
اخلاقیات اور تعلیم

ازدواجی زندگی کو تشکیل دینے کی بہترین عمر

2021-08-01 078

 

            شادی کرنے اور ازدواجی زندگی کو تشکیل دینے کا واضح تعین کرنا تو ممکن نہیں ہے مگر سائنس نے دریافت کیا ہے کہ 20 سال کے بعد شادی کرلینا درمیانی عمر میں نیند کا معیار بہتر اور ذہنی تناﺅ سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیاہے، مینی سوٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں آگاہ کیاگیا ہے کہ نوجوانی میں شادی کرنا موت سے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔
            بر وقت شادی کے مختلف فوائد کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں سامنے آچکے ہیں مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نوجوانی میں شادی کرنا درمیانی عمر میں ذہنی بے چینی، تناﺅ سے تحفظ دیتا ہے،تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کا تعلق خوشگوار اور اچھا ہو۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ جلد شادی کرنے سے 37 سال کی عمر میں نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے ورنہ اس عمر میں نیند کا معیار خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد جوڑے کے رویے کافی حد تک مشترک ہوجاتے ہیں جبکہ ان کی صحت پر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،انہوں نے مزید بتایا کہ جب ذہنی تناﺅ کا کم سامنا ہو اور نیند کا معیار اچھا ہو تو جسم کی مشین کام بھی بہتر کرتی ہے جس کا نتیجہ اچھی صحت کی شکل میں نکلتا ہے۔
            قارئین کرام کمال کی بات یہ ہے کہ  اسلام  ان تمام تحقیقات سے۱۴۰۰سال پہلے ہی بر وقت شادی کی تاکید کرچکاہے، جس پر کئی احادیث و روایات موجود ہیں، امام رضا علیہ السلام اسکی اہمیت کے بارے میں حدیث قدسی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: کہ ایک مرتبہ جبرئیل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئے اور عرض کی: اے محمد خدا نے آپ کو سلام پہنچایا ہے ا ور فرمایا ہے: جوانی کی عمر درخت پر ایک پھل کے مانند ہے، میوہ جب پک جاتا ہے تو اس کی واحد دوا اسے درخت سے توڑلینا ہے ورنہ سورج اور ہوا اسے خراب کردیتے ہیں، لڑکا لڑکی بھی جب جوان ہوجائے تو شادی کے علاوہ کوئی اور دوا نہیں ہے ورنہ گمراہی اور فساد اسکے دامن گیر ہوجائے گی، یہ پیغام موصول ہوتے ہی رسول خدا ممبر پر گئے لوگوں کو جمع کیا اور خدا عز و جل کا یہ پیغام لوگوں تک پہونچایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات
(۱)بحار الانوار، ج۱۰۰، ص۳۷۱، مجلسی، محمد باقر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، بی تا۔

شجاعت علی

Loading...
  • ×
    ورود / عضویت