35حیوانات کا نام قرآن مجید میں آیا ہے

0 0

 

۔سلوی۔ بٹیر = وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَ‌زَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

 

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے {بقرہ/۵۷}،

 

۔بعوض۔ مچھر = إِنَّ اللَّـهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِ‌بَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُ‌وا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَ‌ادَ اللَّـهُ بِهَـٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرً‌ا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرً‌ا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ

 

اللہ اس بات میں کوئی شرم نہیں محسوس کرتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی کمتر کی مثال بیان کرے. اب جو صاحبانِ ایمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب پروردگار کی طرف سے بر حق ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ یہی کہتے ہیں کہ آخر ان مثالوں سے خدا کا مقصد کیا ہے. خدا اسی طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دے دیتا ہے اور گمراہی صرف انہیں کا حصّہ ہے جو فاسق ہیں {بقرہ/۲۶}

 

۔ذباب ۔ مکھی= يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِ‌بَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ

 

انسانوں تمہارے لئے ایک مثل بیان کی گئی ہے لہذا اسے غور سے سنو-یہ لوگ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر آواز دیتے ہو یہ سب مل بھی جائیں تو ایک مکھی نہیں پیدا کرسکتے ہیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے ہیں کہ طالب اور مطلوب دونوں ہی کمزور ہیں {حج/۷۳}،

 

۔نحل۔ شہد کی مکھی = وَأَوْحَىٰ رَ‌بُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ‌ وَمِمَّا يَعْرِ‌شُونَ

 

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے {نحل/۶۸}،

 

۔عنکبوت ۔مکڑی = مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَاور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنالئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے کہ اس نے گھر تو بنالیا لیکن سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہوتا ہے اگر ان لوگوں کے پاس علم و ادراک ہو {عنکبوت/۴۱}،

 

۔ جراد۔ٹڈی = فَأَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَ‌ادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُ‌وا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِ‌مِينَ پھر ہم نے ان پر طوفان ,ٹڈی ,جوں ,مینڈک اور خون کو مفصل نشانی بناکر بھیجا لیکن ان لوگوں نے استکبار اور انکار سے کام لیا اور یہ لوگ واقعا مجرم لوگ تھے {اعراف/۱۳۳}، ۔ھدھ۔دہد ہد = وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ‌ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَ‌ى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ

مزید  امام جعفر صادق اورفکری جمود سے مقابلہ

 

اور سلیمان نے ہد ہد کو تلاش کیا اور وہ نظر نہ آیا تو کہا کہ آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہوگیا ہے {نمل/۲۰}،

 

۔غراب۔کوا = فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَ‌ابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْ‌ضِ لِيُرِ‌يَهُ كَيْفَ يُوَارِ‌ي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَ‌ابِ فَأُوَارِ‌يَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ

 

پھر خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا کہ اسے دکھلائے کہ بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے گا تو اس نے کہا کہ افسوس میں اس کوّے کے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھاَپا دیتا اور اس طرح وہ نادمین اور پشیمان لوگوں میں شامل ہوگیا {مائدہ/۳۲}،

 

۔ابابیلابابیل ۔=وَأَرْ‌سَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرً‌ا أَبَابِيلَ اور ان پر اڑتی ہوئی ابابیل کو بھیج دیا ہے {فیل/۱}،

 

۔نمل۔چیونٹی =حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ یہاں تک کہ جب وہ لوگ وادئی نمل تک آئے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ چیونٹیوں سب اپنے اپنے سوراخوں میں داخل ہوجاؤ کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو {نمل/۱۸}،

 

۔فراش۔تتلی = يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَ‌اشِ الْمَبْثُوثِ

 

جس دن لوگ بکھرے ہوئے پتنگوں کی مانند ہوجائیں گے {قارعہ/۴}،

 

۔قمل۔جوں =فَأَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَ‌ادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُ‌وا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِ‌مِينَ

 

پھر ہم نے ان پر طوفان ,ٹڈی ,جوں ,مینڈک اور خون کو مفصل نشانی بناکر بھیجا لیکن ان لوگوں نے استکبار اور انکار سے کام لیا اور یہ لوگ واقعا مجرم لوگ تھے {اعراف/۱۳۳}

 

۔قردہ۔بندر = وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَ‌دَةً خَاسِئِينَ

 

تم ان لوگوں کو بھی جانتے ہو جنہوں نے شنبہ کے معاملہ میں زیادتی سے کام لیا تو ہم نے حکم دے دیا کہ اب ذلّت کے ساتھ بندر بن جائیں {بقرہ/۶۵}،

 

۔بغال۔ خچر =وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ‌ لِتَرْ‌كَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

 

اور اس نے گھوڑے خچر اور گدھے کو پیدا کیا تاکہ اس پر سواری کرو اور اسے زینت بھی قرار دو اور وہ ایسی چیزوں کو بھی پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے {نحل/۸}،

 

۔غنم، نعجہ، ضان و معز۔ گوسفند = وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّ‌مْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ‌ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ‌ وَالْغَنَمِ حَرَّ‌مْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُ‌هُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والے جانور کو حرام کردیا اور گائے اور بھیڑ کی چربی کو حرام کردیا مگر جو چربی کہ پیٹھ پر ہو یا آنتوں پر ہو یا جو ہڈیوں سے لگی ہوئی ہو …. یہ ہم نے ان کو ان کی بغاوت اور سرکشی کی سزادی ہے اور ہم بالکل سچےّ ہیں {انعام/۱۴۳-۱۴۶}،

مزید  امام حسین (ع) کا پیغام عالمِ انسانیت کے نام

 

۔ذئب۔بھیڑیا = قَالُوا لَئِنْ أَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَّخَاسِرُ‌ونَ اور ان لوگوں نے کہا کہ اگر اسے بھیڑیا کھاگیا اور ہم سب اس کے بھائی ہی ہیں تو ہم بڑے خسارہ والوں میں ہوجائیں گے {یوسف/۱۴}،

 

۔بعیر و جمل۔اونٹ = إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُ‌وا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِ‌مِينَبیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور غرور سے کام لیا ان کے لئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنّت میں داخل ہوسکیں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر داخل نہ ہوجائے اور ہم اسی طرح مجرمین کو سزا دیا کرتے ہیں {یوسف/۶۵و اعراف/۴۰۔۔}،

 

۔قسورہشیر = فَرَّ‌تْ مِن قَسْوَرَ‌ةٍ جو شیر سے بھاگ رہے ہیں {مدثر/۵۱}،

 

۔خیل و جیاد {جمع جواد} و صافنات {جمع صافنہ}اسب = وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ‌ لِتَرْ‌كَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

 

اور اس نے گھوڑے خچر اور گدھے کو پیدا کیا تاکہ اس پر سواری کرو اور اسے زینت بھی قرار دو اور وہ ایسی چیزوں کو بھی پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے نحل/۸}،

 

۔بقر۔ گائے = قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَ‌ةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ‌ الْأَرْ‌ضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْ‌ثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ

 

حکم ہوا کہ ایسے گائے جو کاروباری نہ ہونہ زمین جوتے نہ کھیت سینچے ایسی صاف ستھری کہ اس میں کوئی دھبّہ بھی نہ ہو. ان لوگوں نے کہا کہ اب آپ نے ٹھیک بیان کیا ہے. اس کے بعد ان لوگوں نے ذبح کردیا حالانکہ وہ ایسا کرنے والے نہیں تھے {بقرہ /۷۰}،

 

۔عجل۔گوسالہ = وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْ‌بَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا تو تم نے ان کے بعد گو سالہ تیار کرلیا کہ تم بڑے ظالم ہو﴿٥١﴾

 

۔ثعبان۔اژدھا = فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌموسٰی علیھ السّلامنے اپنا عصا پھینک دیا اور وہ اچھا خاصا سانپ بن گیا {اعراف/۱۰۷}،

 

۔حمار و حمیرگدھا =وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ‌ لِتَرْ‌كَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

 

اور اس نے گھوڑے خچر اور گدھے کو پیدا کیا تاکہ اس پر سواری کرو اور اسے زینت بھی قرار دو اور وہ ایسی چیزوں کو بھی پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے {نحل/۸،

مزید  شب ضربت امیر المومنین(ع)، پورا ایران سوگوار

 

، خنزیرسور = إِنَّمَا حَرَّ‌مَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ‌ اللَّـهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ‌ غَيْرَ‌ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ اس نے تمہارے اوپر بس مفِدارً خونً سور کا گوشت اور جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے اس کو حرام قرار دیا ہے پھر بھی اگر کوئی مضطر ہوجائے اور حرام کاطلب گار اور ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والا نہ ہو تو اس کے لئے کوئی گناہ نہیں ہے . بیشک خدا بخشنے والا اورمہربان ہے {بقرہ/۱۷۳}،

 

۔کلب کتا = وَلَوْ شِئْنَا لَرَ‌فَعْنَاهُ بِهَا وَلَـٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْ‌ضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُ‌كْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُ‌ونَ اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان ہی آیتوں کے سبب بلند کردیتے لیکن وہ خود زمین کی طرف جھک گیا اور اس نے خواہشات کی پیروی اختیار کرلی تو اب اس کی مثال کِتّے جیسی ہے کہ اس پر حملہ کرو توبھی زبان نکالے رہے اور چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے -یہ اس قوم کی مثال ہے جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی تو اب آپ ان قصّوں کو بیان کریں کہ شاید یہ غور وفکر کرنے لگیں {اعراف/۱۷۶}،

 

۔نون و حوت۔ مچھلی = قَالَ أَرَ‌أَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَ‌ةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَ‌هُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ‌ عَجَبًا اس جوان نے کہا کہ کیا آپ نے یہ دیکھا ہے کہ جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں نے مچھلی وہیں چھوڑ دی تھی اور شیطان نے اس کے ذکر کرنے سے بھی غافل کردیا تھا اور اس نے دریا میں عجیب طرح سے راستہ بنالیا تھا {انبیاء/۸۷، کہف/۶۳}، ۔ضفادع۔مینڈک = فَأَرْ‌سَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَ‌ادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُّفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُ‌وا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِ‌مِينَ پھر ہم نے ان پر طوفان ,ٹڈی ,جوں ,مینڈک اور خون کو مفصل نشانی بناکر بھیجا لیکن ان لوگوں نے استکبار اور انکار سے کام لیا اور یہ لوگ واقعا مجرم لوگ تھے {اعراف/۱۳۳}،

 

۔فیل= ہاتھی أَلَمْ تَرَ‌ كَيْفَ فَعَلَ رَ‌بُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا برتاؤ کیاہے {فیل/۱}۔

 

اونٹ اور بھیڑ کی مختلف نسلوں کے نام لیے جا سکتے ہیں، جیسے: بحیرہ، سائبہ، جام، وصیلہ

 

مَا جَعَلَ اللَّـهُ مِن بَحِيرَ‌ةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَـٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُ‌هُمْ لَا يَعْقِلُونَ اللہ نے بحیرہ ,سائبہ ,وصیلہ اور ہام کا کوئی قانون نہیں بنایا یہ جو لوگ کافر ہوگئے ہیں وہ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں اور ان میں کے اکثر بے عقل ہیں {مائدہ/۱۰۳}

 

نوٹ اس میں کچھحیوانات حلال ہیں اور کچھ حرام اورکچھ مکروہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.