تخریب حرم بقیع:قبروں کی تعمیر اور انکے احترام کا مسئلہ قرآن مجید کی روشنی میں – حصہ ۵

حوزہ نیوز ایجنسی| جب ہم نے قرآن مجید کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس مسئلہ کے بارے میں قرآنی نظریہ سے واقف ہونے کی کوشش کی تو بہت سی آیات ایسی دکھائی دیں جو اس مسئلہ میں قرآنی موقف کی جانب واضح اشارہ کرتی ہوئی نظر آئیں جیسے خداوند عالم کا ارشاد:

وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْہِمْ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ لَا رَيْبَ فِيْہَا۝۰ۚۤ اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَہُمْ اَمْرَہُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْہِمْ بُنْيَانًا۝۰ۭ رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ۝۰ۭ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْہِمْ مَّسْجِدًا. (سورۂ کہف؍۲۱)

’’اور اس طرح ہم نے قوم کو ان کے حالات پر مطلع کردیا تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ سچاّ ہے اور قیامت میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے جب یہ لوگ آپس میں ان کے بارے میں جھگڑا کررہے تھے اور یہ طے کررہے تھے کہ ان کے غار پر ایک عمارت بنادی جائے۔خدا ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے اور جو لوگ دوسروں کی رائے پر غالب آئے انہوں نے کہا کہ ہم ان پر مسجد بنائیں گے۔‘‘

اس آیت سے استدلال کی کیفیت یہ ہے کہ اس میں اصحاب کہف کے قصہ کی طرف اشارہ کیا گیا جب ان کے حالات اور ان کی جگہ سے لوگ واقف ہوئے تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم اس پر عمارت بنائیں گے اور بعض نے کہا کہ ہم اس پر مسجد بنائیں گے۔ آیت کا سیاق (تسلسل) ثابت کرتا ہے کہ پہلی والی گفتگو یعنی عمارت بنانے کا نظریہ کفار کا تھا اور دوسری گفتگو توحید پرستوں سے متعلق تھی اور آیت نے بلا کسی ناپسندیدگی اور انکار کے دونوں نظرئیے اور اقوال پیش کئے۔ اگر ان دونوں نظریوں میں ذرہ برابرکوئی بھی غلط اور باطل چیز ہوتی تو آیۂ کریمہ میں اس کی طرف اشارہ کیا جاتا اور کسی بھی قرینہ سے اس کے باطل ہونے کو ثابت کیا جاتا۔ قرآن مجید کی آیت میں دونوں اقوال کی تائید اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شریعت اسلامی میں یہ دونوں اقوال اور نظریات قابل قبول ہیں بلکہ آیت میں توحید پرستوں کے اقوال کو جس سیاق میں پیش کیا گیا ہے اس سے اس فعل کی مدح و ثنا کی کیفیت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ مشرکین کے قول میں بظاہر شک و شبہ پایا جاتا ہے جب کہ توحید پرستوں کے یہاں یقین اور قاطعیت سے ’لنتخذن‘ (ہم ضرور بنائیں گے) ان کی ایمانی بصیرت کی ترجمانی ہے۔ وہ لوگ صرف عمارت بنانا نہیں چاہتے بلکہ مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وہ افراد تھے جو خدا کی معرفت رکھتے تھے اور اس کی عبادت اور اس کی قربت کے لئے نماز کے قائل تھے۔

فخر رازی ’لنتخذن علیہ مسجداً‘ (ہم اس پر مسجد بنائیں گے)کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہم اس پر اللہ کی عبادت کریں گے اور اس مسجد کے وسیلے سے اصحاب کہف کے آثار کو باقی رکھیں گے۔

شوکانی کا کہنا ہے کہ مسجد قرار دینے کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان تھے جب کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ مذکورہ قوم کے حکام و سلاطین تھے اور وہ لوگ اپنے مخالفین پر غالب آئے تھے۔ پہلا والانظریہ زیادہ بہتر ہے۔

زجاجی کا بیان ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب اصحاب کہف کے واقعہ کی حقیقت سامنے آئی۔ اس وقت مومنین کو غلبہ حاصل ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ مسجدیں مومنوں سے مخصوص ہوتی ہیں۔

یہاں پر اگر صرف ہم ہوں اور آیۂ کریمہ تو اس سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آیۂ کریمہ نیک اور صالح ذوات مقدسہ کی قبروں پر تعمیر بلکہ تعمیر مسجد کونہ صرف روا بلکہ قابل مدح سمجھتی ہے جن کا مرتبہ اور شان بلند و بالا ہے اس لئے کہ وہ قرآن کریم کی خاص توجہ اور اس کی مدح و ثنا کا مرکز قرار پائے ہیں اور کتاب خدا میں ان کے ذکر سے یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ ان کی قبروں کے پاس نماز جائز ہے اور اس پر مساجد اور روضے تعمیر ہو سکتے ہیں۔

بلا شک و تردید یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انبیائے کرام اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی شان و منزلت ان نیک اور صالح جوانوں (اصحاب کہف) سے بھی زیادہ بلند و بالا ہے۔ جب اصحاب کہف کی قبروں کے پاس نماز جائز ہو سکتی ہے اور اس پر عمارت تعمیر ہو سکتی ہے تو انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے قبور مطہرہ پر بدرجۂ اولیٰ عمارت تعمیر ہو سکتی ہے اور اسے مسجد و عبادت گاہ بنایا جاسکتا ہے۔

۲۔ خداوندعالم کا ارشاد:

وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ۝۳۲ 

اور جو اللہ کی نشانیوں کا احترام کرے گا، یہ اس کے دل کے تقویٰ کی علامت ہوگا۔ اس آیۂ کریمہ سے استدلال دو باتوں کو بیان کرنے پر منحصر ہے۔

الف: شعائر کے معنی اور اس کا مفہوم کیا ہے؟

ب: کیا انبیاء و مرسلین کی قبریں شعائر ہیں اور کیا ان کی تعظیم اور ان کی عمارت کی تعمیر شعائر الٰہی کا احترام ہے۔

الف: پہلے موضوع کے بارے میں ہم عرض کریں گے کہ شعائر شعیرہ کی جمع ہے۔ شیخ طوسیؒ نے مجمع البیان میں کہا ہے کہ شعائر کے معنی اعمال کے لئے ایک خاص مقام اور شعائر اللہ یعنی اللہ کی نظر میں وہ خاص مقامات ہیں جنہیں اس نے اپنی عبادت کا مرکز قرار دیا ہے لہٰذا ہر وہ مقام جو ایک خاص عبادت سے مخصوص ہو جیسے دعا، نماز وغیرہ وہایک  خاص عبادت گاہ بن سکتا ہے اور  اس عمارت کو مشعر قرار دیا جائے گا۔شعائر کی واحد شعیرہ ہے لہٰذا شعائر یعنی مختلف عبادتوں کے مقامات جیسے سعی کرنے کی جگہ، قربانی کی جگہ وغیرہ۔

مشہور شاعر کمیت اسدی کا کہنا ہے:

نقتلھم جیلا فجیلا نراھم

شعائر قربان بھم یتقرب

ہم انہیں نسل در نسل قتل کرتے رہے لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قربت پروردگار کی ایسی نشانیاں ہیں جن سے قربت حاصل کی جا سکتی ہے۔

قرآن کریم میں یہ کلمہ ’شعائر‘ اس آیت کے علاوہ تین جگہوں پر استعمال ہوا ہے۔ سورۂ بقرہ (۱۵۸)میں تذکرہ ہے۔ ’ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ ‘ (صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ) لہٰذا خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیوں کا مصداق طے ہو گیا۔ سورۂ حج (۳۶)میں ایک اور مصداق واضح کیا گیا جب خداوندعالم نے ارشاد فرمایا: 

وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٣٦﴾

سورۂ مائدہ (۲)میں ارشاد ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَاۗىِٕرَ اللہِ وَلَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْيَ وَلَا الْقَلَاۗىِٕدَ. 

اے ایمان والو! خدا کے شعائر کو حلال نہ سمجھو اور حرام مہینوں نیز نشانی یا بغیر نشانی والی قربانیوں کی حرمت کا خیال رکھو۔

ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں شعائر کے تین مصداق ہیں جو سب کے سب حج سے متعلق ہیں اور ایک دوسری آیت میں انہیں سبک اور حقیر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے اور چوتھی آیت میں ان کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ آیتیں اگر چہ حج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں لیکن پھر بھی ان میں صرف کسی خاص مفہوم کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے بلکہ ایک عام مفہوم ہے جو متعدد مصادیق پر صادق آسکتا ہے۔ ان آیات میں ان میں سے صرف بعض مصادیق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو حج سے متعلق تھے لیکن اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا ہے کہ شعائر کا مفہوم صرف اتنے ہی مصادیق میں منحصر ہے اور ان کے علاوہ کوئی اور مصداق نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مصادیق میں انحصار نہیں ہے۔ صفا اور مروہ کی آیت میں کہا گیا ہے۔ ’من شعائر اللہ‘ (اللہ کی نشانیوں (شعائر)میں سے)اور بدن کی آیت میں ارشاد ہے: جعلناھا لکم من شعائر اللہ (ہم نے قربانی کو تمہارے لئے شعائر اللہ (اللہ کی نشانیوں) میں سے قرار دیا۔)ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ شعائر کا مفہوم عام ہے۔

مذکورہ امور ان میں سے بعض مصادیق ہیں جیسا کہ لفظ ’مِن‘ سے ظاہر ہوتا ہے جو تبعیض (یعنی بعض اور جز) ہونے پر دلالت کرتا ہے اور آیۂ کریمہ دیگر شعائر کے احترام کا حکم بھی دیتی ہے۔یہی حال آیۂ کریمہ لاتحلوا شعائر اللہ….. کا بھی ہے۔

مفسرین نے، شعائر اللہ سے کیا مراد ہے، اس میں اختلاف کیا ہے اور اس سلسلہ میں دو قول ہیں:

۱۔ خداوندعالم کا ارشاد: لاتحلوا شعائر اللہ۔ اللہ کی نشانیوں اور فرائض میں سے کسی کو بھی نظرانداز نہ کرو۔ جنہیں اس نے اپنی عبادت کے لئے معین کیا ہے ۔

اس قول کی بنا پر شعائر اللہ تمام شرعی ذمہ داریوں میں عام ہیں اور کسی بھی چیز سے مخصوص نہیں ہیں اور اس سے قریب  حسن کا نظریہ ہے جو کہتے ہیں شعائر اللہ یعنی اللہ کا دین۔ 

۲۔ صفاو مروہ اگر چہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ عنوان بہت سے دیگر امور پر بھی صادق آتا ہے اس لئے کہ وہ سب کے سب علامت اور اس کی پہچان کا ذریعہ ہوتے ہیں اور ہمیں قرآن مجید سے یہ توقع نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ اس عنوان شعائر اللہ کے تمام مصادیق شمار کرکے بتائے جن میں سے ہر ایک کو شعائر کے نام سے یاد کیا جاسکتا ہو۔ یہاں تک کہ یہ امر توقیفی ہو اور دوسری کسی ایسی چیز کو شامل نہ ہو سکتا ہو جو اس چیز کا ملاک اور معیار ہونے میں ان مصادیق کے ساتھ شریک ہو بلکہ قرآن کریم نے ایک عام مفہوم کی طرف اشارہ کیا ہے اور صرف اس کے بعض مصادیق کو بیان کیا ہے اور ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جو یہ بیان کر سکے کہ یہاں کسی طرح کا کوئی حصر توقیفی ہے بلکہ یہ عام مفہوم ہے جو اس چیز پر بھی سایہ فگن ہوگا جس پر اسے منطبق کیا جاسکتا ہے لہٰذا کعبۂ معظمہ، مسجد نبوی، شریعت کے اصول جیسے روزہ و نماز، حج، زکوٰۃ، دین اسلام کی نشانیاں اور اس کے اسرار و رموز جیسے انبیاء و مرسلین اور اولیاء معصومینؑ سب کے سب شعائر الٰہی میں سے ہیں جن کی تعظیم واجب اور جن کو سبک اور حقیر سمجھنے سے منع کیا گیا ہے۔

اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ نبی اکرمؐ ان شعائر میں سب سے عظیم نشانی و علامت ہیں اور ان تمام مصادیق میں سب سے نمایاں ہیں جن کا احترام واجب و ضروری ہے اور اس سلسلہ میں صرف وہی ذوات مقدسہ آپ کے ساتھ شریک ہیں جن کو رسالت کی منزل میں کوئی حیثیت یا دین میں کوئی نمایاں خصوصیت حاصل ہواور انہیں ہدایت کی نشانیوں میں شمار کیا جائے اور ان کی تعظیم کو دین کی تعظیم کے عنوان سے فرض کیا جائے۔

جب تک تعظیم کی بازگشت دین کی طرف ہے خود ذات نبی اکرمؐ کی طرف نہیں اس وقت تک اسے کسی خاص زمانے یا مکان سے مخصوص نہیں قرار دیا جاسکتا لہٰذا آپ کی تعظیم جس طرح آپ کی حیات بابرکت میں مطلوب اور پسندیدہ ہوگی، بالکل اسی طرح آپ کی وفات کے بعد بھی پسندیدہ اور مطلوب پروردگار ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اسلامؐ کی تعظیم شعائر الٰہی کی تعظیم کے سب سے نمایاں مصادیق میں سے ہے۔ آپ کی حیات بابرکت کے بعد اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں جیسا کہ عقلاء کے درمیان رائج ہے مثلاً آپ کی ولادت بابرکت کے موقع پر جشن و سرور کی محفلوں کا انعقاد، آپ کی زندگی سے متعلق تاریخی آثار و اسناد کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا خاص طور پر جن کو نابود کر دئے جانے کا خطرہ ہو اور ان کو نئی نسلوں تک محفوظ پہنچانے کے لئے پوری طرح انہماک اور دلچسپی۔

بعض شواہد اور دلیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی نے اپنے بعض احکام میں اس پہلو کی رعایت کی ہے جیسے بعض مواقع پر نبی کریمؐ اور ان کی آل پاک پر درود و سلام کو لازمی قرار دینا یا اکثر جگہوں پر اسے مستحب موکد سمجھنا ، خاص طور پر ہر نماز کے آخر میں آپ پر سلام و تحیت کا حکم دینا اور مومنین پر آپ کے اقرباء کی محبت لازم کرناوغیرہ

 ان تمام احکام و قوانین میں چند عناصر پو توجہ کی جاسکتی ہے جن میں سرفہرست نبی اکرمؐ کی تعظیم و تکریم ہے جو حقیقت میں دین و شریعت کا پاس و لحاظ ہے نہ کہ دین سے ہٹ کر صرف ذات پیغمبرؐ اور آپ کی شخصیت کا پاس و لحاظ۔

اسی بنا پر قبر نبی اکرمؐ،  عمارت کی تعمیر  جیسے دیگر قابل حترام  امور کی حقدار ہے جیسے اسلام کی واضح اور نورانی شریعت ، شعائر الٰہی، نبی اکرمؐ اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی تعظیم و تکریم کے سلسلہ میں اس عظیم شریعت کے تمام عام جہات سے مکمل سازگاری رکھتی ہو۔ اس اعتبار سے کہ احترام و تعظیم کی ان جہتوں میں صرف ذات پیغمبرؐ کا لحاظ نہ کرکے اسے آپ کے ذریعہ لائے جانے والے دین و شریعت کی عظمت و حرمت قرار دیا جائے۔ دین و شریعت کے احکام کی پابندی اور ان کی تعظیم و تکریم وہ اہم ترین عنصر ہے جو نبی اکرمؐ کی حیات اور آپ کی وفات کے بعد دونوں ادوار میں قائم و دائم ہے چاہے وہ قبر نبی اکرمؐ کی شکل میں ہو یا ہدایت کی دیگر نشانیوں جیسے اہل بیت علیہم السلام بلکہ تمام صلحاء، اولیاء اور علماء ابرار کی شکل میں چاہے وہ جس زمان و مکان میں پائے جاتے ہوں لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ تعظیم کا حکم صرف ذات پیغمبرؐ سے یا ان کی حیات بابرکت کے دور سے مخصوص نہیں ہے۔ جس تعظیم کا تبادر اس آیۂ کریمہ ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ﴿٣٢﴾سے ہوتا ہے اگرچہ نبی اکرمؐ اور آپ کے بعد آپ کے اہل بیت علیہم السلام اس کے سب سے نمایاں مصادیق ہیں۔

۳۔ خداودندعالم کا ارشاد:قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِي الْقُرْبٰى۝۰ۭ 

(شوریٰ؍۲۳)

اے رسولؐ! کہہ دیجئے کہ میں رسالت کی اجرت کچھ نہیں چاہتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔ 

یہ آیۂ کریمہ اس سے کہیں زیادہ واضح اور روشن ہے کہ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہو۔۔ یہ آیت واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ نبی اکرمؐ کے لئے قرابت داروں کی محبت امت اسلامی کے لئے واجب اور ضروری ہے جس طرح اگر کسی شخص کو کسی کام کے لئے بلایا جائے تو اسے اس کی اجرت دینا ضروری اور واجب ہوتا ہے۔ یہ وجوب مطلق اور بلا کسی قید و شرط کے جو کسی زمانے یا مکان یا کسی خاص کیفیت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس آیۂ کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی اکرمؐ کے قرابت داروں سے اس مودت و محبت کا اظہار ہر زمانے اور ہر جگہ اور ہر طرح کی کیفیت و حالات میں ضروری ہے۔

 اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان ذوات مقدسہ میں سے کسی کی قبر مبارک پر عمارت اور اسے آباد رکھنا اس مودت و محبت کے عام مصادیق میں سے ہے مثلاً جو شخص اپنی حیات میں مختلف طریقوں سے آل رسولؐ سے محبت و مودت نہیں کر سکا اس کے لئے اس کی قبر مبارک کا احترام اور اسے آباد رکھنے کی تدبیروں کے ذریعہ اس کے احترام کو ادا کرنا ہوگا تاکہ وہ اس طرح آل رسولؐ کی محبت کے سلسلہ میں اپنی شرعی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہ ہو سکے اور اس طرح یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی قبر مبارک کی تعمیر نہ صرف یہ کہ جائز اور مستحب ہے بلکہ بعض اوقات واجب اور ضروری ہے اور یہ راہ و روش اور احترام کا یہ راستہ تمام امتوں اور تمام طرح کے انسانی سماجوں میں رائج ہے کہ وہ لوگ اپنے رہبران دین کے ساتھ وفادار رہ کر ان سے اظہار محبت کے لئے ان کی قبروں پر ضریح بنا کر اپنے اس جذبۂ محبت ووفا کا اعلان کرتے ہیں اور ہمیشہ اسے محفوظ اور آباد رکھنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ وہ اس سلسلہ میں مختلف قسم کے بڑے سے بڑے پروگرام کرتے ہیں ، ان کی قبروں پر پھولوں کا نذرانہ پیش کرکے اس پر کوئی نہ کوئی ایسی یادگار نصب کرنا چاہتے ہیں جن سے ان کی عظمت و شخصیت کی یاد زندہ رہے۔

لہٰذا مذکورہ تینوں آیتوں کے بارے میں بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ قبروں پر عمارت سازی اور ان کی تعظیم و تکریم یہ قرآن مجید کی تاکید اور اس کا واضح موقف ہے جیسا کہ ان تینوں آیتوں میں خلاصہ کیا گیا ہے اور قرآن مجید کی آیتوں میں ایسا کوئی ثبوت یا ایسی کوئی دلالت موجود نہیں ہے جو اس سے منافات اور ٹکراؤ رکھتی ہو اور یہ تینوں آیتیں اپنی عام دلالت کے اعتبار سے اولیاء اور تمام بزرگان دین کی قبور مبارک کو شامل ہوتی ہیں جنہیں دین کے اسرار و رموز اور اس کی رسالت کی پہچان کے ذرائع قرار دیا جاسکتا ہو۔ یہ بعض ان ذوات مقدسہ کے لئے علاوہ بقیہ عام لوگوں کو شامل نہیں ہوگی۔

تحریر: سید حمیدالحسن زیدی،الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے
Loading...