یزیدی آمریت – جدید علمانیت بمقابلہ حسینی حقِ حاکمیت

0 2

سید الشہداء علیہ السلام سے منقولہ بعض عبارات میں آپ (ع) نے نہ صرف اپنے زمانے کے انسانوں بلکہ ہر زمانے اور ہر مقام و جغرافیئے سے تعلق رکھنے والے انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

“ہم اور اموی حکمرانوں کے درمیان رونما ہونے والا تنازعہ اقتدار کا جھگڑا نہیں ہے”۔

آپ (ع) نے تمام زمانوں کے انسانوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ:

“بات یہ نہیں ہے کہ کون حاکم ہو اور کون محکوم ہو؛ یہ بنیادی بات نہیں ہے بلکہ جھگڑا دو مکاتب اور دو قسم کی سیرتوں کے درمیان ہے خواہ ان دونوں مکاتب کا رنگ مذہبی ہی کیوں نہ ہو اور دونوں مکاتب کا مدعا مذہبی ہی کیوں نہ ہو۔ لیبل اور نشان کی کوئی اہمیت نہیں ہے”۔

یعنی یہ کہ حکومت کے سلسلے میں دو قسم کی روشیں اور دو قسم کے مکاتب موجود ہیں۔

کسی نے سیدالشہداء (ع) سے دریافت کیا:

یابن رسول اللہ (ص)! اس تحریک سے آپ کا ہدف و مقصد کیا ہے؟

سیدالشہداء (ع) نے فرمایا:

“اریـد ان آمـر بالمعروف وانهی عن المنکر و اسیر بسیرة جدّی محمّد و سیرة ابی علی‌بن ابی طالب، میرا عزم اور میرا ہدف و مقصد وہی ہے جو میرے نانا رسول اللہ (ص) کا تھا اور جو میرے والد امیرالمؤمنین (ع) کا تھا کہ نیکیوں اور بھلائیوں کا حکم دوں اور برائیوں سے منع کروں؛ میں بھی اسی مقصد سے سیاسی، سماجی اور تربیتی میدان میں اترا ہوں جس مقصد کے لئے میرے نانا اور والد اترے تھے”۔

چنانچہ بحث اشخاص و افراد کے بارے میں نہیں ہے بلکہ بحث خاندان، معاشرے، سیاست، اقتصاد اور نظام عدل اور قضاوت (Judiciary) کے لئے دو سیرتوں اور دو روشوں کے درمیان ہے اور ان دو روشوں اور سیرتوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے پیش کرنے کے لئے ہم ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:

امام صادق علیہ السلام سے پوچھا جاتا تھا کہ امویوں سے اہل بیت (ع) کا جھگڑا کس بات پر ہے؟ اور علوی، حسنی اور حسینی اسلام اور اموی اسلام کے درمیان کیا فرق ہے؟

امام صادق علیہ السلام نے عمار بن احوص سے مخاطب ہوکر ان دو مکاتب کی بہترین انداز میں توصیف کرکے انہیں بہترین انداز میں الگ الگ کرکے پیش کیا اور فرمایا: ہمارے اور معاویہ کے مکاتب میں اختلاف “تربیت اور انتظام” کی بنیاد پر ہے؛

فرماتے ہیں: ” فلا تخرقوا بهم، أما علمت أن امارة بني امية كانت بالسيف والعسف والجور، وأن إمامتنا بالرفق والتألف والوقار والتقية وحسن الخلطة والورع والاجتهاد فرغبوا الناس في دينكم وفي ما أنتم فيه” (1)

لوگوں پر زیادہ دباؤ نہ ڈالو اور انہیں اکتاہٹ سے دوچار مت کرو بلکہ ان کے استعداد اور ان کے ظرف و قابلیت کا لحاظ رکھو، کیا تم نہیں جانتے کہ بنو امیہ کی حکمرانی اور ان کا طرز عمل تلوار، دباؤ، ناانصافی اور حق کشی پر مبنی تھا اور طاقت اور وہ تشدد و حق کشی کے ذریعے معاشرے پر مسلط ہونا اور مسلط رہنا چاہتے تھے اور ان کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے زمانے میں “طاقت اور تشدد” کو حکومت کے حصول کا وسیلہ قرار دیا تھا اور ان کے ہاں طاقت اور اقتدار کو عدل اور تربیت کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارا طرز عمل اور ہماری تربیتی روش و سیرت مہربانی، محبت، رواداری، تحمل اور الفت پر مبنی ہے، ہماری انتظامی اور تربیتی روش محبت، عشق، برادری و اخوت، نرمش اور مہربانی و متانت اور وقار و “تقیّہ” پر مبنی ہے؛ [ہاں] حتی اگر آپ حاکم بھی ہیں پھر بھی تقیّہ کرو، البتہ تقیّہ سے مراد منافقت و دھوکہ بازی، فریب کاری، چہرے اور بھیس تبدیل کرنا اور دین و حق و عدل کو اپنے مفادات پر قربان کرنا نہیں ہے؛ یہ تقیّہ نہیں ہے بلکہ تقیّہ وہ ہے جو اہل بیت (ع) نے متعارف کرایا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ:

“ماحول کو صحیح انداز سے پہچان لو اور معاشرے کی قابلیتوں اور ظرفیتوں (Capabilities & Capacities) کو پرکھو اور اسی بنیاد پر عمل کرو؛ یعنی ہر شخص سے ہر مقام اور ہر زمانے میں جس طرح چاہو، سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی رتبہ بندی اور طبقہ بندی (Classification) اور حساب و کتاب کے ساتھ اور انتظامِ بحران (Crisis Management) کے ساتھ؛ یعنی جب تم بات کرنا چاہتے ہو خواہ وہ بات حق ہی کیوں نہ ہو یہ مت کہو کہ “مجھے لوگوں سے کیا لینا دینا” بلکہ یہ بات مد نظر رکھو کہ بات “کس سے”، “کیونکر/ کیسے”، “کہاں”، (اور کیوں) کررہے ہو؟۔ اصول یہ ہے کہ بات صحیح ہونی چاہئے لیکن یہی کافی نہیں ہے۔ حق بات کرلینی چاہئے لیکن مذکورہ چار سوالات کا بھی جواب دینا چاہئے۔ کس سے؟ کیسے؟ کہاں؟ اور کیوں؟۔

بعض مواقع پر اگر آپ حق کی ایک بڑی ظرفیت کا مطالبہ کریں تو جن سے مطالبہ کررہے ہیں وہ پورا حق آپ کو دینے سے انکار کردیں گے؛ یعنی آپ کم از کم کو بھی نافذ نہیں کرسکیں گے۔ یہاں عقلانیت (Rationality) کی شرائط کو مد نظر رکھیں۔ تقیّہ سے مراد جدوجہد میں عقلانیت (Rationality in Struggle) اور جدوجہد کی طبقہ بندی یا زُُمرہ بندی (Rationality in Classification) ہے۔

امام صادق علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں کہ انتظام و تربیت اور حکمرانی ہماری رائے میں ـ حتی اگر آپ برسراقتدار بھی ہوں ـ ایک قسم کے تقیئے پر بھی مبنی ہے۔ یعنی یہ کہ حالات کا لحاظ رکھیں اور جس فرد یا معاشرے کو مورد خطاب قرار دیتے ہیں اس کی حالت کو بھی مد نظر رکھیں البتہ اس کا مطلب ساز باز، پسپائی اور حق و حقیقت پر مسامحت اور سمجھوتہ کرنا حقائق کو ظاہری صورت دے کر (Snow Job کرکے) راضی ہونا نہیں ہے۔

حدیث امام صادق (ع) میں دوسرا اہم اصول “حُسنُ الخلطۃ” ہے؛ یعنی ہماری حکومتی اور تربیتی روش لوگوں کے ساتھ حسن المخالطہ اور بہتر انداز سے میل جول رکھنا ہے۔ خلطہ سے مراد لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کے ساتھ مخلوط رہنا، منکسر اور متواضع ہونا؛

امام (ع) فرمانا چاہتے ہیں کہ “حاکم اور عوام کے درمیان کوئی سرحد حائل نہیں ہے”۔ حاکم کو عوام سے ظاہری طور پر ممتاز نہیں ہونا چاہئے اور اسی عوام کے بیچ کسی خاص امتیازی نشان سے پہچانا نہیں جانا چاہئے۔ یعنی اگر آپ حاکم ہیں تو لوگوں کے بیچ رہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ آپ لوگوں کے بیچ رہیں ان کے ساتھ حسن سلوک بھی روا رکھیں، نہ کہ آپ لوگوں کے بیچ رہیں اور ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھیں! یہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔

روایت میں اہل بیت (ع) کی روش میں “الورع” یعنی پاکدامنی اور گناہ سے بچ کر رہنے، کا بھی ذکر ہے یعنی یہ کہ آپ نہ صرف عوامی طاقت اور دولت کا غلط استعمال نہ کریں بلکہ اپنی ذاتی دولت سے بھی غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ اور اس کے بعد “الاجتہاد” یعنی کوشش کا ذکر ہے جس سے مراد یہ ہے کہ برسر اقتدار آکر پوری طاقت سے اسلامی اقدار اور حق و حقیقت کے احیاء اور مسلمانوں کے حقوق اور اسلامی احکام و فرائض کے قیام کے لئے قیام و اقدام کریں۔

امام (ع) نے فرمایا: ہماری سنت اور سیرت و روش یہ ہے۔

معلوم ہوا کہ حقِ حکمرانی اور سیاست کے بارے میں دو مختلف قسم کے نظریات ہیں۔ ایک روش سیف و جور یعنی تلوار اور ستم کی بنیاد پر ہے یعنی طاقت و تشدد و تذلیل و تحقیر، کچلنا، حقوق کی تضییع کرنا اور نا انصافی پیشہ کرنا؛ اور ایک قسم کی روش وہ ہے جو امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رفق و تألف و وقار، مہربانی، نرمی، تقیّہ، عوام کے ساتھ حسن معاشرت، ورع اور عوام کی خدمت کے لئے پوری طاقت سے کوشش و اجتہاد کرنا۔

ہاں البتہ! اگر ضرورت پڑے تو اقدار کے تحفظ کے لئے تلوار اور طاقت کا استعمال بھی ضروری ہوسکتا ہے لیکن بنیاد تلوار اور طاقت نہیں ہے۔

تلوار اور طاقت سب سے پہلی راہ حل نہیں ہے بلکہ آخری راہ حل ہے۔

اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے عمار بن احوص سے مخاطب ہوکر فرمایا: “فرغبوا الناس في دينكم وفي ما أنتم فيه” اس طرح لوگ آپ کے دین کی طرف راغب ہوجائیں گے اور ان دینی رجحانات کی طرف جو آپ نے اپنائے ہیں یعنی یہ کہ آپ لوگوں کو اس طرح اپنے مکتب کی طرف رغبت دلائیں۔ ہمارے کام کا اصول ایمانی اصول ہے، عوامی گروہوں اور طبقوں کو مختلف قسم کے رجحانات سے اپنے دین کی طرف بلائیں اور جذب کریں۔

امام حسین علیہ السلام سفر کربلا میں مختلف مواقع پر اپنی تحریک اور شہادت کا فلسفہ بیان کرنے کے لئے مختلف قسم کی تعبیرات اور عبارات استعمال کرتے رہے ہیں۔ آپ (ع) نے مختلف مواقع پر حق اور حقوق کے مسئلے کی طرف اشارہ فرمایا؛ “خدا کا حق اور لوگوں کا حق (حق اللہ اور حق الناس)” فرمایا: حکومت اور جدوجہد کے لئے ہمارا محرک (Motive) “حق” ہے۔ کوئی اور چیز ہمارا مقصد و ہدف نہیں ہے۔

کسی نے امام حسین (ع) سے دریافت کیا: صورت حال آپ کے حق میں نہیں ہے اور ابھی سے معلوم ہے کہ اس تنازعے میں آخر کار آپ سب مارے جائیں گے یا قیدی بنائے جائیں گے؛ اس کے باوجود آپ نے قیام کیوں کیا؟ فرمایا:

“الا ترون ان الحق لا یُعمَلُ به” کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ “حق” پر عمل نہیں ہورہا ” و ان الباطل یا یُتناهی عنه” (2) کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ باطل کی بات، باطل کے اخلاقیات، باطل کے معاشی و اقتصادی نظام اور باطل کی حکمرانی کا مسئلہ درپیش ہے اور اس باطل کی کسی جانب سے بھی مخالفت نہیں ہورہی؟ تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو کہ میں نے اس تحریک کا آغاز کیوں کیا؟ یہ تو تم سے پوچھا جانا چاہئے کہ تم کیوں نہیں اٹھتے؟ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ باطل اعلانیہ انداز سے میدان میں آیا ہے؟ کیوں اس پر اعتراض و احتجاج نہیں کرتے ہو؟ جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ حق مظلوم ہے اور اس پر عمل نہیں ہورہا؛ یہی بات اٹھ کر اعتراض و احتجاج کرنے کے لئے کافی ہے۔

ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ یزید نے مدینہ کے والی “ولید بن عتبہ” کو خط لکھ کر حکم دیا کہ جا کر امام حسین (ع) سے بیعت لے۔ ولید نے کہا: آپ سرتسلیم خم کریں ورنہ ہمیں حکم ہوا ہے کہ آپ سے سختی سے نمٹ لیں۔

روایت میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے چالیس انصار و اعوان و افراد خاندان کو مسلح ہوکر تیار رہنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا: میں حاکم کے پاس جارہا ہوں تم مدینہ کی سڑکوں میں منتشر ہوجاؤ اور تیار رہو اور اگر میں صحیح سلامت واپس لوٹ کر آیا تو درست ورنہ حاکم کے حکومت خانے میں داخل ہوجاؤ اور دارالحکومہ میں موجود لوگوں سے لڑ پڑو۔ امام (ع) کے اس اقدام کا فلسفہ یہ تھا کہ یزید اپنے والی کے ذریعے کربلا کی تحریک کو شروع ہونے سے قبل ہی نیست و نابود کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ولید نے بیعت کا تقاضا کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: “انا اهل بيت النبوة و معدن الرسالة و مختلف الملائكة و مهبط الرحمة بنا فتح الله و بنا ختم” (3) = ہم اہل بیت نبی (ع) ہیں اور ایسے خاندان میں پروان چڑھے اور پلے بڑھے ہیں جو خاندان نبوت ہے اور جہاں وحی نازل ہوتی رہی ہے اور جہاں ملائکہ کا آنا جانا رہتا ہے، پوری انسانیت پر نازل ہونے والی وحی ہمارے خاندان میں نازل ہوتی رہی ہے اور اللہ نے ہم سے آغاز کیا اور ہم پر ختم کرے گا۔ ہمارے پاس ہے آغاز و اختتام اور فراخی اور تمام امور کا انجام و عاقبت؛ تم کس طرح مجھ سے بیعت مانگتے ہو؟

اس گفتگو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ سیاسی اقتدار کا نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے بڑھ کر ہے۔ اس مسئلے کا تعلق نبوت و رسالت اور ہبوط ملائکہ اور نزول رحمت اور نزول فتح الہی جیسے مسائل سے ہے۔ یہاں در حقیقت امام (ع) اپنی تحریک کے لئے فلسفی ـ کائناتی اور الہیاتی بنیادیں بیان کررہے ہیں۔

فرماتے ہیں: بیعت کے بارے میں ہماری سوچ کا محور اقتدار اور طاقت نہیں ہے بلکہ اس کا مدار و محور حکمت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سامنے کون ہے؟ مجھ سے بیعت کس کے لئے مانگ رہے ہو؟

فرماتے ہیں: “و يزيد رجل شارب الخمر و قاتل النفس المحَّرمة معلن بالفسق” (4) [اگر بیعت یزید کے لئے مانگ رہے ہو تو] یزید تو شرابخوار ہے اور ان لوگوں کا قاتل ہے جن کا خون اللہ نے حرام کررکھا ہے اور وہ اعلانیہ گناہ کرتا ہے۔

یعنی صرف ذاتی طور پر گنہگار اور فاسق نہیں ہے بلکہ گناہ کرتا ہے تو لوگوں کی موجودگی میں کرتا ہے؛ یعنی یہ کہ وہ معاشرے میں برائیوں کا رواج عام کرنا چاہتا ہے۔ یزیدی منطق یہ ہے کہ وہ معاشرے میں اعلانیہ نیکی اور برائی کے معیار تبدیل کرکے معاشرے پر ٹھونسنا چاہتا تھا۔ اقدار اور ناہنجاریوں کی جگہ تبدیل کرنا چاہتا تھا اور اسلامی اقدار کی توہین کررہا تھا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی وہ کسی انسان کے لئے قدر و قیمت کا قائل نہیں تھا۔ جبکہ “ایک انسان کی جان اللہ کا حریم ہے۔

ابوعبداللہ علیہ السلام اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: کیا تم مجھ سے اس کے لئے بیعت مانگتے ہو؟ نہ صرف میں بلکہ میری طرح کا کوئی شخص بھی اس جیسے کی بیعت نہیں کرے گا۔ حتی اگر میں حسین بھی نہ ہوتا اور ایسے خاندان کا چشم و چراغ بھی نہ ہوتا پھر بھی اس جیسے کی بیعت نہ کرتا؛ اور مجھ جیسے کو اس جیسے کی بیعت نہیں کرنی چاہئے۔ “مثلی لایبایع مثله”۔ (5)

یعنی یہ جو بحث ہوتی رہی ہے کہ “حسین اور یزید کا جھگڑا ذاتی جھگڑا تھا” یہ بحث اب ختم ہوئی۔ یعنی یہ کہ یہ مسئلہ کربلا اور عاشورا تک محدود نہیں ہے۔ یہ جو امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:

“کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا = ہر روز عاشورا ہے اور ہر زمیں کربلا ہے” یعنی ہر جگہ اور ہمیشہ “مثلی لایبایع مثله” (مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرے گا) یعنی وہ لوگ جو اخلاقی طور پر فاسد اور برائی میں گھرے ہوئے ہیں اور برائی کو رائج کرکے اجتماعیت اور سماجیت دینا چاہتے ہیں اور اللہ کے حقوق اور حدود کے پابند نہیں ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے (ناقابل قبول ہیں اور) ایسے لوگوں ایسی جماعتوں اور ایسی سوچ رکھنے والوں کی حکومت غیر قانونی اور نامشروع (Illegitimate) ہے اور انہیں حاکمیت کا حق حاصل نہیں ہے۔

امام علیہ السلام نے ایک مقام پر فرمایا: “اللهم‌ انک‌ تعلم‌ انه‌ لم‌ یکن‌ ما کان‌ منّا تنافساً فی‌ سلطان‌ و لا التماساً من‌ فضول‌الحطام‌ و لکن‌ لنری‌ المعالم‌ من‌ دینک‌ و نظهر الاصلاح‌ فی‌ بلادک‌ و یأمن‌ المظلومون‌ من‌عبادک‌ و یعمل‌ بفوائهنک‌ و سننک‌ و احکامک‌” (6)

خداوندا! تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہم سے سرزد ہوا اور سرزد ہوگا اقتدار کے جھگڑے کی بنیاد پر نہ تھا اور نہ ہوگا۔ ہماری حرکت (یا تحریک) کی بنیاد حکومت نہیں تھی اور نہ ہوگی۔ خداوندا! تو جانتا ہے کہ ہم نے جو احتجاج کیا اور جو صدا اٹھائی اور جس جدوجہد اور جنگ کا ہم نے آغاز کیا جبکہ ہم اس کے انجام سے بھی واقف ہیں، اور جانتے ہیں کہ تو ہمیں مقتول اور ہمارے خاندان کو اسیر دیکھنا چاہتا ہے؛ چنانچہ جب ہم نے اس حرکت کا آغاز کیا تو ہم دنیا میں سے اضافی حصے کے خواہاں نہیں تھے؛ ہم اقتدار، دولت و ثروت اور شہرت کے خواہاں تھے اور نہ ہونگے۔ (7) ہم نے چاہا کہ “حق اور باطل کے پرچم پہچان لئے جائیں” تا کہ کل کلاں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ حق کیا اور باطل کیا ہے؟ اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ “ہم سمجھ رہے تھے کہ حق وہی ہے جو معاویہ اور یزید کہہ رہے تھے”۔

امام حسین علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ: “میں قتل ہورہا ہوں تا کہ تم سمجھ سکو کہ اسلام وہ نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں”۔ آپ (ع) در حقیقت فرمارہے تھی کہ:

ہم اخلاقی، انتظامی اور حکومتی برائیوں اور بے راہرویوں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں اور اعلانیہ جدوجہد کررہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام سرزمینوں میں تمام مظلومین کو ان کا حق ملے اور کمزور طبقات، طاقتوں کے پاؤں تلے نہ روندے جائیں۔ سب کو اپنے حقوق کو یقینی طور پر مل جائیں [اور انسانوں کو سماجی اور قانونی تحفظ حاصل ہو]۔

ایک موقع پر آپ (ع) سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اہل کوفہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “فلَعمری ما الامام الا العامل بالكتاب، والاخذ بالقسط، والدائن بالحق، والحابس نفسه على ذات الله”۔ (8) 

[میری جان کی قسم! امام برحق وہ ہے جو کتاب اللہ پر عمل کرے، قسط و عدل کی راہ پر گامزن ہو، حق کی پیروی کرے اور اپنی ہستی کو ذات الہی اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے اور کرانے کے لئے وقف کردے]۔ 

[یعنی] میری جان کی قسم! کہ میں کتاب اللہ پر عمل کرنے والا ہوں؛ جانتے ہو کن لوگوں کو امامت اور حکومت کا حق حاصل ہے؟ صرف ان لوگوں کو بنی نوع انسان پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے جو خدا کے قوانین کے مطابق حکومت کریں، عدل الہی کو ملحوظ رکھیں، اور سماجی قسط و عدل کو نافذ کریں، کوشش کریں کہ معاشرے کے تمام طبقوں کو ان کے حقوق ملیں، اپنے فرائض پر عمل کریں اور حق کے بغیر کسی اور چیز کی دعوت نہ دیں۔ معیار صرف اور صرف حق ہو۔ صرف ان لوگوں کو حاکمیت کا حق حاصل ہے جو اپنے آپ کو خدا کے لئے وقف کریں اور خدا کے سوا کسی اور شخص یا چیز کے لئے نہ بولیں، اور کوئی کام سرانجام نہ دیں؛ ان لوگوں کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ان کے سوا کسی کو بھی بنی نوع انسان پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے۔ کتاب خدا پر عمل اور سماجی عدل کا نفاذ ہو اور تعلیمی و ثقافتی اور تبلیغی و ابلاغی امور کی دعوت بھی حق کی جانب دعوت ہو؛ حکام ایسے افراد ہوں جو اپنے آپ کو راہ خدا کے لئے وقف کریں اور اپنی ذات کے لئے کوئی بھی کام نہ کریں؛ حسینی حکومت یہی ہے۔

کسی نے امام حسین (ع) سے کہا: یہ لوگ (اموی) آپ کو نیست و نابود کردیں گے! 

امام علیہ السلام نے فرمایا: ، “ليس شأني شأن من يخاف الموت ما اهون الموت علی سبیل نیل العزّ و احیاء الحقّ” (9) میری شان اس شخص کی مانند نہیں ہے جو موت سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ موت ہماری نظر میں اس موت جیسی نہیں ہے جو تمہاری نظر میں ہے۔ انسانی عزت و شرف اور حق و حقیقت کے احیاء کی راہ میں موت کتنی شیریں ہے۔ یہ ہے انتظام، حکمرانی، تربیت اور حکومت کے بارے میں اہل بیت (ع) کا نظریہ۔

سیاسیات میں کبھی کبھار پبش آتا ہے کہ جب آپ سیاسی قانونیت (Political Legitimacy) کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ “دینی اور اخلاقی قانونی جواز کی بات نہ کریں! یعنی یہ کہ یہاں عمرانیاتی اور سیاسی مشروعیت (قانونی جواز) (Sociological & Political Legitimacy) کی بات ہورہی ہے”۔ یعنی یہ کہ یہاں صرف قوتِ حاکمیت (Might of Governance) کے بارے میں بات ہونی چاہئے حق حاکمیت (Right of Governance) کے بارے میں بات نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں دو نگاہیں اور دو نظریات ہیں۔

یہ صرف امام حسین علیہ السلام کے زمانے تک محدود نہیں تھا جب اموی مشینری کا نظریہ یہ تھا کہ حق حاکمیت اور الہی مشروعیت کی بات نہیں ہونی چاہئے اور حکمرانی کے لئے اخلاقی اور فلسفی یعنی دینی دلیل نہیں لائی جانی چاہئے۔ [آج بھی ولایت اہل بیت (ع) کے مخالفین کا یہی نظریہ ہے]۔

اہل بیت (ع) سے کہا گیا: یہ درست نہیں ہے کہ نبوت اور خلافت دونوں آپ کے خاندان تک ہی محدود ہو؛ نبوت آپ کے پاس تھی خلافت اور امارت بھی ہمارے لئے ہے۔ ایک حصہ آپ کا اور ایک حصہ ہمارا۔ بعض لوگوں نے اس مسئلے کو اس نگاہ سے دیکھا۔ [وہ اس مسئلے کو الہی سطح سے گرا کر ‌زمینی سطح پر لانا چاہتے تھے]۔

جبکہ اہل بیت (ع) کا کہنا تھا کہ “تم حکومت اور خلافت کا مسئلہ نبوت کے مسئلے سے الگ نہیں کرسکتی”۔ تم سیاسی مشروعیت (قانونیت) کو دینی مشروعیت یعنی حقانیت سے جدا نہیں کرسکتے اور تمہیں ایسا کرنا بھی نہیں چاہئے۔ کیونکہ یہ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ 

ابتداء میں ہمیں مشروعیت اور قانونیت کی تکوینی اور کیہانی بنیادوں (Cosmic Basis) کو اخلاقی، فلسفی اور دینی حوالے سے حل کرنا چاہئے اور اس کے بعد ہی اعتباری (*) مسائل [(*)، اور قراردادی مسائل، کنونشنز، پروٹوکولز، شہریوں کے حق اطاعت، کی باری آئے گی۔ یہ سب اعتباری (*) (اور غیر ذاتی) حقوق ہیں جنہیں ایک حقیقی اور ذاتی حق کے اوپر استوار ہونا چاہئے۔ 

اسی وقت بھی اس مسئلے کے اوپر تنازعہ جاری ہے۔ دنیا کی سب سے گاڑھی اور سنگین ترین آمریتوں سے لے کر نازک ترین اور رقیق ترین جمہوریتوں تک کی طرف سے اس سوال کا منفی جواب دیا جارہا ہے اور اس اصول کو قابل قبول نہیں سمجھا جاتا۔ یا اس سوال کا منفی جواب دیتے ہیں؛ یا اس کا جواب دیتے ہی نہیں یا پھر اسے گول کردیتے ہیں؛ “سکوت کی سازش”۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی مشروعیت کو بنیادی، فلسفی اور اخلاقی مشروعیت سے علیحدہ کیا جاسکتا ہے؟

یعنی کیا حق حاکمیت کو مسئلہ حقانیت کے اصول سے الگ کیا جاسکتا ہے؟

ہم کہتے ہیں کہ الگ نہیں کیا جاسکتا۔

تمام یزیدی آمریتوں کا کہنا تھا کہ ایسا ہوسکتا ہے اور تمام جدید سیکولر مکاتب اور علمانی حکومتیں بھی کہتی ہیں کہ ایسا ہوسکتا ہے۔ 

پوری تاریخ کے دوران اقتدار کے سلسلے میں منفعت طلبانہ سوچ اور مصلحت پسندانہ (Pragmatic) سوچ دینی سوچ پر غالب چلی آرہی ہے اور اس وقت بھی یہی حال ہے۔ ان کی اکثریت ہے۔ دنیا میں بھی ان کی اکثریت ہے اور آکادمیک و جامعاتی مسائل میں بھی یہی سوچ غالب ہے اور اس سوچ کے حامیوں کی اکثریت ہے۔ قدیم زمانے میں بھی یہ مسئلہ تھا اور جدید زمانے میں بھی ہے۔ 

میں صرف اس لئے کہ کسی کو مورد الزام نہ ٹہراؤں بعض تعبیرات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو بعینہ مغربی سیاسیات کے متون و مآخذ میں موجود ہیں حتی کہ ہمارے اپنے ملک [اور دیگر اسلامی ممالک] میں بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ جب وہ حکومت (گورنمنٹ) کی بات کرتے ہیں تو گورنمنٹ کا مساوی لفظ یا ہم معنی (Equal) کلمہ جو وہ لاتے وہ ہے “دوسروں کو کنٹرول کرنا” یعنی وہ ادارہ جو دوسروں کو کنٹرول کرتا اور قابو میں رکھتا ہے۔ 

حکومت اور حاکمیت ہے کیا؟ سیاسیات (P.Sciences) میں حکومت کی تعریف یہ ہے کہ حکمران اقلیت کیونکر محکوم اکثریت کو کنٹرول کرے گی؟ پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے۔ کیونکہ پوری دنیا میں حکام کی تعداد بہت کم ہے مثلاً کئی ہزار ایسے افراد ہیں جو ممالک پر حکومت کررہے ہیں۔ دنیا میں مرسوم سیاسیات کی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ “جدید علم سیاست سیاسی اقلیت کے ذریعے اکثریت کو کنٹرول کرنی کا فن ہی”۔ یہ ان کا پورا مسئلہ ہے۔ بات کنٹرول کرنی کی ہے۔ یہ علم سیاست اقتدار کی تحفظ اور اس کی توسیع و فروغ کے لئے مختلف قسم کی وسائل اور مشینریوں سے بحث کرتا ہے۔ 

مادی نگاہ میں “سیاست” کا مطلب حصول اقتدار کا فن اقتدار کی تحفظ کا فن اور طاقت برہانی کا فن۔ 

امام حسین علیہ السلام اور اسلام کی نگاہ میں سیاست کنٹرول سے شروع نہیں ہوا کرتی۔ مسئلہ تکوینی حقیقت اور حق و باطل سے شروع ہوتا ہے؛ حقانیت کے مسئلے کے بعد بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ “کن لوگوں کو حاکمیت کا حق پہنچتا ہے اور کیوں؟ اس سوال کا جواب دینا پڑے گا اور اس کے بعد ہی آپ تیسرے زینے تک پہنچتے ہیں جہاں حاکمیت کے کے  طرز عمل (Mechanism) اور سماج کو کنٹرول کرنے کی باری آتی ہے۔ جب ابتدائی مرحلوں سے گذر کر اور سوالات کا جواب دے کر تیسرے مرحلے میں پہنچتے ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ یہ میکینزم اور یہ کنٹرول مقید اور مشروط ہونا چاہئے ان دو جوابات پر جو آپ پہلے دو سوالوں کو فراہم کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ میکینزم اور کنٹرول فلسفی، قانونی اور اخلاقی اور شرعی و دینی جواب سے مشروط ہونا چاہئے۔ 

یاد رکھیں کہ اسلامی منطق اور اسلام کے سیاسی فلسفے میں “اقتدار کو کنٹرول کرنے کے لئے ہر قسم کے میکینزم سے استفادہ کرنے کی اجازت نہیں ہے”۔

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: یہی امور جو معاویہ انجام دیتا رہتا ہے میں اس سے دس گنا زیادہ جانتا اور انجام دے سکتا ہوں؛ میں خوب جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح گرادوں لیکن کیا کروں کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں! ہمارا ہدف “ہر قیمت پر اقتدار کا حصول نہیں ہے”۔ 

اس زمانے میں مسلمانوں کے درمیان افواہ اڑی تھی اور زبانزد خاص و عام ہوئی تھی کہ “علی علیہ السلام اچھے ہیں لیکن معاویہ زیادہ سیاسی ہے!”۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: میں معاویہ سے کئی گنا زیادہ سیاسی ہوں؛ (10) مگر ہم سیاست کو شریعت اور اخلاق سے مشروط سمجھتے ہیں مطلق اور غیر مشروط سیاست ہمارا ہدف نہیں ہے۔ ہمارے ہاں معیشت و اقتصاد اخلاق و شریعت سے مشروط ہو تو قابل قبول ہے۔ 

وہ [علمانی جمہوریتیں اور آمریتوں کے حامی] اس شرط کو قابل قبول نہیں سمجھتے ہیں؛ وہ سیاست کو دین سے الگ کردیتے ہیں، معاشیات کو بھی اخلاق سے الگ قرار دیتے ہیں؛ وہ غیر مشروط اور مطلق سیاست کے حامی ہیں؛ انہیں غیر مشروط آزادی حاصل ہے لیکن ہمیں ایسی آزادی حاصل نہیں ہے۔ ہمارے لئے انسانیت اقتدار اور دولت و ثروت پر مقدم ہے۔ لہذا وہ کہتے ہیں کہ طاقت، دولت، سیاست، اقتصاد اور انسانی حقوق دین اور اخلاق سے جدا ہیں۔ 

ہمیں لڑنا ہے لیکن بندھے ہاتھوں سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہمارے اہداف الہی اور انسانی ہیں وہ کھلے ہاتھوں سے لڑتے ہیں کیونکہ ان کا پورا ہدف اسی دنیا تک محدود ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی نقطے پر ہم شکست کھائیں تو وہ کہیں گے کہ “ان لوگوں نے شکست کھائی ہے چنانچہ وہی لوگ درست ہیں جو کامیاب ہوگئے ہیں! بعض لوگوں کا خیال ہے کہ “جب بھی ہم حق و حقیقت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ہمیں شکست ہوتی ہے اور ہم ناکام ہوجاتے ہیں” لیکن ایسا نہیں ہے۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ شکست اور فتح بھی جدوجہد کا فلسفہ مدنظر رکھ کر ہی با معنی ہوجاتی ہے، اگر آپ کے ہاں جدوجہد کا فلسفہ یہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر اقتدار اور دولت پر قبضہ کیا جائے تو اس فلسفے کے مطابق شکست سے مراد اقتدار اور دولت کو کھودینا اور فتح یعنی طاقت و اقتدار اور دولت و سرمایہ حاصل کرنا ہے۔ 

چنانچہ اگر جدوجہد کا فلسفہ اللہ کی رضا و خوشنودی اور الہی و انسانی نشو و نما اور ارتقاء اور فرائض پر عمل اور احیائے حق کے لئے کوشش ہے تو اس پر محض مادی شکست یا مادی فتح اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ـ خواہ فتح ہو خواہ شکست ہو ـ جتنی بھی کوشش آپ نے کی ہے اتنی ہی آپ صاحب حریت ہوگئے ہیں اور آپ نے دوسروں کو بھی پہلے سے زیادہ حریت عطا کی ہے یعنی آپ نے فتح حاصل کی ہے؛ چاہے آپ سیدالشہداء علیہ السلام کی مانندقتل کئے جائیں یا علی (ع) کی طرح حکومت تشکیل دیں، آپ فاتح ہیں۔ کیونکہ شہادت اور حکومت کا قیام دونوں احیائے حق کے لئے ہیں ورنہ نہ تو حکومت کا قیام ہدف و مقصد ہے اور نہ ہی شہادت بلکہ یہ دونوں وسیلے ہیں احیائے حق کے لئے۔ 

حکومت اور حکومت و حاکمیت کی روش کی محض مادی تعریف کے مطابق Government اس رسمی اور تدریجی عمل کا نام ہے جس کے ذریعے اقتدار اور طاقت کو نظم و باقاعدگی دی جاتی ہیں اور اسے آرگنائز اور ریگولرائز کیا جاتا ہے؛ گورنمنٹ حکمرانی کرنے کا ادارہ اور اقتدار کے نظام کے لئے سلسلہ مراتب اور ڈسپلن (یا Control Hierarchy) ہے؛ اس نظام کے حامیوں کے نزدیک مشروعیت (legitimacy)  کے معنی بھی یہی ہیں۔ 

مزید  ماہ صیام کے چوتھے دن کی دعا:تشریح و تفسیر

سیاسی علوم (Political Sciences) میں مشروعیت یا قانونی جواز کی تعریف کیا ہے؟

انھوں نے اس لفظ کے لئے جو مساوی مفہوم قرار دیا ہے اور آج کی عالمی سیاسیات کی بنیاد بھی وہی ہے، اس سے یہی مفہوم نکلتا ہے کہ “مشروعیت یا لیجیٹیمیسی ہر وہ چیز ہے جو اقتدار عطا کرتی ہے”۔ یعنی وہ چیز جو آپ کی قوت کو اقتدار اور استحکام میں بدل دیتی ہے مشروعیت یا قانونی جواز ہے۔

یعنی لیجیٹیمیسی وہ چیز ہے جو طبیعی اور فردی یا جماعتی قوت کو اعتباری (*) قوت یا اقتدار میں بدل دیتی ہے۔ ان کے نزدیک لیجیٹیمیسی یہی ہے۔

پولیٹیکل سائنس میں لیجیٹیمیسی سے مراد حق ہونا، حقانیت، شرعی حیثیت کا حامل ہونا اور حق پر ہونا، نہیں ہے۔ سیاسیات میں اقتدار کی روش سے بحث ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ جو آپ حق و باطل کی بات کرتے ہیں “یہ علمی بات نہیں ہے”۔

وہ کہتے ہیں کہ “علمی نہیں ہے” چنانچہ ہم اب دیکھتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں “علم” کیا ہے؟

ان کے نزدیک علم ہر اس وسیلے کا نام ہے جو آپ کی مدد کرے تا کہ آپ زیادہ تیزرفتاری سے اور کم خرچ پر اقتدار حاصل کرسکیں اور اس کا تحفظ کرسکیں۔ چاہے یہ وسیلہ مکاری، دھوکہ دہی یا حیلہ گری ہو، فوجی بغاوت ہو یا پھر جمہوریت بمعنی ڈیموکریسی ہو۔

اب اگر آپ دینی یا اخلاقی اصولوں کے مطابق انہیں قانونی یا غیر قانونی کا نام دیتے ہیں یا ان ہی اصولوں کے مطابق انہیں مشروع Legitimate یا غیر مشروع Illegitimate قرار دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ان معیاروں اور ان کے لئے مصداق یابی کے اس عمل کا علم سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں ہے!۔

چنانچہ ہم خود ان سیاسیات کو قابل قبول نہیں سمجھتے۔ یہ وہی علمانی (Secular) سیاست ہے جس کا مدار و محور دنیا اور جس کا دارومدار دنیا پرستی پر ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دو قسم کی سیاست متعارف کرائی ہے؛ شیطانی (Evil Politics) اور عقلانی سیاست (Rational Politics) اس سیاست سے مراد عقلانیت ہے جو تربیت اور حقیقت و اخلاق و عدل سے جُڑا ہوا اور متصل ہے۔ وہاں طاقت اور دولت ہدف ہے اور یہاں یہ سب وسائل ہیں۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ سیاسیات کی دو قسمیں ہیں؛ اس کے باوجود بعض لوگوں کا اصرار ہے کہ ہم سیاسیات کو اسلامی اور غیر اسلامی سیاسیات میں تقسیم نہ کریں۔

مشروعیت اور قانونی جواز مغربی سیاسیات کی تعریف کے مطابق یہ ہے کہ “یہ ہرگز طے نہیں ہے کہ حق حاکمیت (Right of Governance) کے لئے کوئی فلسفی اور برہانی دلیل (Philosophic & Demonstrarional logic) بھی ہو”۔ میں یہ نہیں کہتا کہ “ضرورت نہیں ہے کہ قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لئے کوئی برہانی اور فلسفی دلیل نہ ہو، یہ بھی نہیں کہتا کہ ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے ایسی دلیل موجود ہو کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے ہاں کسی حاکمیت کی مشروعیت کی کوئی برہانی یا فلسفی دلیل بھی ہو۔ لیکن اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے؛ کیونکہ ہر وہ چیز جو شہریوں کی اطاعت پذیری کا سبب بنے اور اسے یقینی بنائے اور اطاعت پذیری کو فروغ دے وہی قانونی جواز اور وہی مشروعیت اور وہی لیجیٹیمیسی ہے۔

یہ عین وہی عبارتیں اور درسی متون اور سیاسیات کے میدان میں ہمارے آکادمک اور جامعاتی دروس ہیں۔

حق و باطل، عدل و ظلم، رشد و غَیّ (ہدایت و گمراہی)، کو ان مسائل میں کوئی عمل دخل نہیں دیا جاتا۔

فلسفۂ سیاست میں البتہ مشروعیت یا لیجیٹیمسی کا نسبتاً زیادہ گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ نسبتاً زیادہ فلسفیانہ انداز سے سلوک کیا جاتا ہے لیکن سیاسیات کے اندر مشروعیت کے لئے اخلاقی اور بنیادی دلیل و سبب کا لحاظ نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر طاقت و اقتدار حاصل کرنے اور اس کا تحفظ کرنے کے میکینزم اور طاقت و اقتدار کو منظم اور ریگولرائز کرنے سے بحث ہوتی ہے؛ ان کا اس ضمن میں حکومت کو تشکیل دینے والے اجزاء و عناصر سے کوئی سروکار نہیں ہے سوائے ان امور کے جو ظاہری اور نمائشی ہیں۔

اس موضوع پر بحث نہیں ہوتی کہ ایک حکومت اپنے عوام سے اطاعت کی درخواست کیوں کرے؟ کیوں؟ اس کیوں کا کا سیاسیات میں کوئی بھی مدلل اور فلسفی جواب نہیں دیا جاتا۔

کہتے ہیں اس کا سیاسیات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ یہ دینی فلسفے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا تعلق اخلاقیات سے ہے؛ سیاست میں ہم حقیقی سیاست (Real Politics) کے درپے ہیں۔ اب ذرا دیکھتے ہیں کہ ان کے ہاں حقیقت پسندانہ سیاست کا مطلب کیا ہے؟

حقیقت پسندانہ سیاست کا کا مطلب یہ ہے کہ آپ اسی وقت کیونکر تیزرفتاری سے کم خرچ پر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں اور اس کا تحفظ کرسکتے ہیں؟ صرف اور صرف طاقت و اقتدار کے لئے کوشش کریں اور بس۔ وہ ہمارے باتیں سن کر کہتے ہیں کہ یہ مباحث علمی نہیں ہیں، حقانیت کو الگ کرکے رکھیں؛ اور پھر اسی سیاست کو علمی اور ماڈرن سیاست کا نام بھی دیتے ہیں!۔

[مگر] اس سیاست میں کونسی چیز جدید ہے؟ [یا پھر شاید یہ سیاست آپ کے ہاں جدید ہے ورنہ ہمارے ہاں تو یہ بہت ہی پرانی ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جب ہم کہتے تھے کہ حکومت الہی ہے اور مخالفین کہتے تھے کہ رسالت آپ کی حکومت ہماری؛ اور انھوں نے حکومت کو الہیت سے الگ کردیا یعنی] یہ تو وہی سیاست ہے جو معاویہ اور یزید نے نافذ کی تھی۔ اختلاف صرف یہ ہے کہ وہ اسی سیاست پر مذہب کی مہر بھی لگا دیتے تھے اور تم نے یہ مہر اس سے اٹھا دی ہے۔

ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ جمہوریت یا ڈیموکریسی کے بازار میں معاشیات اور سیاست کو مطلق اور سو فیصد آزاد ہونا چاہئے اور اسے فلسفی، اخلاقی اور قانونی و حقوقی اصولوں سے مقید نہیں ہونا چاہئے؟ سیاسیات میں عام طور پر مشروعیت یا لیجیٹیمیسی کو عمرانیاتی اصطلاحات (Sociological Terminlolgy) کے ذریعے واضح کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس نقطہ نظر سے مشروعیت صرف اور صرف معاشروں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی قوت کے عنوان سے زیر بحث آتی ہے اور اس میں قابل نفاذ اقتدار کی مقدار سے بحث کی جاتی ہے جس کے لئے دلیل پیش کرنے کی کوشش تک نہیں کی جاتی۔ لہذا سیاسیات کے میدان میں جب لیجیٹمیسی کی بات سامنے آتی ہے تو اس میں محض مقبولیت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ البتہ اتنا بھی اس قسم کے نظام میں عروج کی صورت میں ہوتا ہے یعنی صرف اس وقت ان مسائل کا لحاظ رکھا جاتا ہے جب حکومت جمہوری ہو۔

کبھی تو سیاست کے پس پردہ نہایت پیچیدہ اور خفیہ آمریت ہوتی ہے؛ کبھی سیاست کے پس پردہ اغنیاء اور صاحبان ثروت کی خفیہ حکمرانی (Oligarchy) ہوتی ہے اور یہ خفیہ آمریت یا اغنیاء کی خفیہ حکمرانی سیاست کے پس منظر میں اور جمہوریت کے پیش منظر میں اور بالکل سامنے ہوتی ہے۔ تاہم جمہوریت کی خالص ترین قسم ـ جو ابھی میدان عمل میں پرکھنے کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچی اور فرض کی حدود تک محدود ہے۔ حتی کہ وہ خود کہتے ہیں کہ یہ جمہوریت ابھی تک عملی جامہ نہیں پہن سکی ہے اور اب تک ان کے لئے ایک آرزو ہے ـ میں بھی عمرانیاتی اصطلاحات سے فائدہ لیا جاتا ہے۔ جبکہ فلسفی اصطلاحات سے گریز کیا جاتا ہے اور ان سے کامیابی اور توفیق مراد لی جاتی ہے۔ مشروعیت اور حقانیت کے لئے سیاسی مشروعیت میں کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اصل مسئلہ اس مشروعیت پر عوامی اعتماد کا ہے یعنی “مقبولیت”؛  ورنہ تو بذات خود مشروعیت سے بھی ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ایک مثال جس پر دنیا کی سطح پر سیاسی علوم یا سیاسیات میں بحث ہوتی ہے۔

ماکس ویبر (Max Weber) مشروعیت یا حق حکومت کے نظریہ پردازوں میں سے ہیں؛ فلسفہ کی دنیا میں انہیں “سرمایہ داری کا مارکس” شمار کیا جاتا ہے [کارل مارکس کے مقابلے میں جو کمیونزم یا سوشلزم کے نظریہ پرداز ہیں] وہ اپنی کاوشوں میں “حقِ حاکمیت، حقِ حاکمیت کا منشأ اور غایتِ حاکمیت (Extremity of Rule) کے بارے بھی کہیں بھی سنجیدہ فلسفی بحث نہیں کرتے؛ دوسروں کی باتیں ضرور نقل کرتے ہیں لیکن کہیں بھی کوئی دلیل پیش نہیں کرتے۔ جب وہ مشروعیت کی تقسیم کرنا شروع کر دیتے ہیں تو مشروعیت کی تعریف کرتے ہوئے مشروعیت اور حقّ کے بارے میں عمرانی اور معاشرتی نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مشروعیت سے مراد کامیابی اور عوامی مقبولیت اور معاشرتی قبولیت (Social Acceptation) ہے وہ مشروعیت کو حکومت کی جانب سے حکومت کرنے کی دلیل قرار نہیں دیتے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دونوں ضروری ہیں۔

اگرچہ لیجیٹیمیسی اور حقّ سیاست کے اہم ترین موضوعات میں سے ہے لیکن ماکس ویبر (Max Weber) سیاسی اجبار (Political Obligation) کو مشروعیت کی بنیادی مشکل قرار دیتے ہیں؛ سو ان کے ہاں بھی حکومت کے لئے کہیں فلسفی اور اخلاقی دلیل نہیں دکھائی دیتی۔ ان کو صرف معاشرے پر اقتدار کے نفاذ کی کیفیت کی تو فکر ہے تا ہم حق و باطل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ کہتے ہیں حکومت کی بنیاد معاشرے کا عرف (Folkway) اور تاریخ یا پھر شخصیت کی اپنی قائدانہ صلاحیت (Charisma) ہے یا پھر بعض قوانین اور جدیدتر قانونی طاقت (Legal Power) ہے۔

دوسری طرف سے اس تفکر کے مخالفین بھی اسی شکل میں بحث کرتے ہیں۔ نیومارکسسٹس کہتے ہیں کہ سرمایہ داری نظام میں شہریوں کی رضا و رغبت کے سرمایہ دارانہ مفہوم (Capitalistic Conception about people’s Acquiescence) کو ـ جو لبرل جمہوریت کی بنیاد ہے ـ مشروعیت یا حق حاکمیت سمجھی جاتی ہے، یہ کیسی مشروعیت ہے؟ شہریوں کی رضا و رغبت سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں کہ وہ میکنزم ـ یعنی اصلاحات اور جمہوریت، رفاہ و فلاح اور سرمایہ داری، جس ـ کے ذریعے عوام کو راضی رکھا جاتا ہے یہ ظاہراً معاشرتی طبقات میں موجودہ تضادات کو حل کرنے کی کوشش ہے؛ کہتے ہیں یہ حق حاکمیت یا مشروعیت نہیں ہے بلکہ ایک قسم کے نظریاتی تسلط (Ideological Hegemony) کا تحفظ ہے۔

لبرل ڈیموکریسی میں عوامی حقوق اہم نہیں ہیں؛ آپ اس تسلط اور سرمایہ دارانہ نظریئے کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیسے؟

پھر ان ہی کی سیاسی تعلیمات میں دیکھتے ہیں کہ عوام کو دو طریقوں سے کچلا جاسکتا ہے:

ا۔ ڈندا اٹھا کر ان کے سر پر ماریں یا پھر

2۔ ان کے مغز اور ان کی سوچ کو اپنے استعمال میں لائیں، ان سانپوں کی مانند جو ضحاک (11) کے کندھوں پر تھے [اور اس کی کی خوراک لوگوں کا مغز تھا اور ہر روز ان دو سانپوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کئی انسانوں کا خون بہایا جاتا تھا؛ جب معاشرے کا مغز استعمال کرنا شروع کیا جائے] تو پھر وہ خود ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے، نہیں سوچیں گے اور اگر کبھی اچانک وہ سوچنا شروع کریں تو ان کے سرپر ڈنڈا ماریں؛ جیسا کہ اس وقت آپ یورپ میں دیکھ رہے ہیں کہ حالات حکومتوں کے قابو سے باہر ہوگئے ہیں۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور بلجئیم؛ لندن اور مانچسٹر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ سڑکوں پر نکلے [وہ شاید سوچنے لگے ہیں شاید اب ان کا مغز بروئے کار لانا ممکن نہیں رہا یا پھر دشوار ہوگیا] آپ نے دیکھا کہ پولیس کس طرح زدوکوب کررہی تھی ان کو؟ وہی حکومتیں جو کہا کرتی تھیں کہ “ہماری پولیس کبھی بھی زد و کوب نہیں کیا کرتی ہم بات کرکے مسائل حل کرتے ہیں”؛ [اور ان کا مغز بروئے کار لانا جانتے ہیں]۔

جی ہاں! آپ بات کرتے ہیں لیکن اس وقت تک بات کرتے ہیں جب تک لوگ نہیں بولنا شروع نہیں کرتے۔ جب لوگ نہیں بولتے تو آپ بات کرتے ہیں بولتے ہیں لیکن جب وہ بولتے ہیں تو آپ لاٹھیاں برساتے ہیں۔

یورپ کے حالیہ بحران کے دوران ایک انگریز طالبعلم کا انٹرویو لیا جارہا تھا جس نے کہا: “ہم سوچا کرتے تھے کہ ہمارے حکمران دوسری اقوام کی ٹوپیاں چراتے اور انہیں دھوکا دیتے ہیں لیکن اب معلوم ہوا کہ وہ ہمیں بھی لوٹ رہے ہیں اور ہمیں بھی دھوکا دے رہے ہیں؛ ہم سوچ رہے تھے کہ شاید وہ دوسری قوموں پر تشدد کرتے ہیں لیکن اب دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہم پر بھی تشدد کرتے ہیں گویا اس سے پہلے دوسری قوموں کی باری تھی لیکن اب ہماری باری ہے”۔

یہ وہی بات ہے جس کا جواب نیو مارکسسٹ دیا کرتے تھے؛ وہ کہا کرتے تھے کہ “تمہاری مشروعیت () وہی نظریاتی تسلط کا تحفظ ہے جس کا نام تم جمہوریت، فردی حقوق، انسانی حقوق اور آزادی رکھتے ہو۔ یہ سب لفظوں کا کھیل ہے۔ چونکہ سرمایہ دارانہ معاشروں (Capitalist Societies) میں بڑے بڑے بحران رونما ہوتے ہیں اور ان کا سبب بھی سرمایوں کے انبار لگانا ہے لہذا تم معاشروں کو اور شہریوں کو سکون دینے سے عاجز ہو لہذا یا تو تسلسل کے ساتھ بیرونی بحرانوں کو ہوا دیتے ہو  یا پھر اگر بیرونی بحرانوں سے تمہارا مسئلہ حل نہ ہوا تو ملک کے اندر بحران کھڑا کردیتے ہو۔ چنانچہ جب تم لبرل قانونی جواز (Liberal Legitimacy) کی بات کرتے ہو تو تمہیں کسی شہری کے شہری حقوق سے کی فکر لاحق نہیں ہوتی بلکہ اپنا عمل جاری رکھنے کے لئے فکرمند رہتے ہو۔ تمہارے رویئے اور روشیں وہی کمیونسٹوں اور فاشسٹوں (()) والے رویئے اور روشیں ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ تمہاری روشیں ان سے تھوڑی زیادہ پیچیدہ ہیں۔

“پس یہ مشروعیت و قانونیت یا حقانیت نہیں ہے بلکہ طاقت و اقتدار کی دوسری شکل ہے”۔

یہ نیو مارکسستوں کا موقف ہے کہ تم مشروعیت اور اقتدار کے بارے میں اور اس کے حصول کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھا کرتے، یہ طاقت کو بروئے کار لانے کی دوسری شکل ہے۔ اس کا نام تم جمہوری مشروعیت (Democratic Legitimacy) رکھتے ہو۔

میں یہاں قضاوت اور کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا۔ دونوں مشروعیتوں () کے مخالفین اور حامیوں (Neo-Leftists & Neo-Righists) نے اپنی اپنی مشروعیتیں پیش کردیں اور دونوں کا مدار و محور “تحفظ اقتدار کا امکان” ہے۔ دونوں کا مقصد یہ تھا کہ شہریوں کو اطاعت پر آمادہ کرنا ہے چاہے یہ اطاعت استبداد اور مطلق العنانیت کے ذریعے حاصل ہو چاہے جمہوریت کے ذریعے۔

وہ دنیا کی رائج سیاسیات میں اسی طرح بحث کرتے ہیں اور درحقیقت بحث کو بیچ سے ہی شروع کردیتے ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کے سیاسی ـ فلسفی مباحث میں اور ہمارے اصولوں میں مسئلہ ابتداء سے اور جڑ سے شروع ہوتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے وجود شناسی، انسان شناسی، اقدار شناسی، معرفت شناسی، حقوق اور حق و باطل، عدل و ظلم، فلاح و رستگاری اور نجات اور فرد و معاشرہ اور شقاوت و سعادت سے معاملہ طے کرنا ہوتا ہے اور ان سے آگہی حاصل کرنی پڑتی ہے اور انہی کو بنیاد بنانا پڑتا ہے۔ جب یہ معلوم ہوجائیں تو دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔

دوسرے مرحلے میں طاقت و اقتدار کے مکینزم پر بحث ہوگی؛ کہ قبائلی بیعت کیا ہے؟ شہریوں سے ووٹ لینے کی کیا کیفیت ہے؟ اور نفاذ اقتدار اور اقتدار قائم کرنے کی دیگر اشکال کیا ہیں جو انسانی تاریخ میں گذری ہیں اور بعد کے زمانوں میں بھی نافذ ہونگی؟۔

حقیقت یہ ہے کہ کبھی بھی اس مسئلے کے بارے میں بحث نہیں ہوتی کہ معاشرے پر حکمرانی کس طرح ہونی چاہئے؟ اور اس موضوع پر بحث نہیں ہوتی کہ کس طرح ایک معاشرے میں حکومت کی جاسکتی ہے؟ کہیں بھی “باید (Ought)” کی بات نہیں ہے۔ جب باید “یوں ہونا چاہئے” کی بات آتی ہے تو لامحالہ حقوق اور اخلاقیات کی بات بھی سامنے آتی ہے اور آپ مجبور ہیں کہ فلسفی، اخلاقی اور شرعی دلیل پیش کریں۔ ان نظریہ پردازوں کا موقف ہے کہ “ہمیں یوں ہونا چاہئے اور یوں نہیں ہونا چاہئے” سے کوئی سروکار نہیں ہے کیونکہ یہ نظریات اور اعتقادات ہیں اور “Dogma” ہیں جن میں کوئی لچک نہیں ہے اور یہ باتیں علمی نہیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ حق اور حقوق سے عمومی طور پر اور سیاسی، معاشرتی اور شہری حقوق سے خصوصی طور پر فلسفی ـ اخلاقی بحث کیونکر ممکن ہے؟ منطق حقوق (Logic of Rights) کیا ہے؟ یہ حضرات حقوق کو بھی ایک اوزار کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن اسلامی مفکریں سیاسی حقوق کو امام حسین علیہ السلام کی منطق کے دریچے سے دیکھتے ہیں، ان کی رائے کی کلیات کو میں نے سیدالشہداء سے منقولہ روایات میں ذکر کیا ہے جس کے متن میں بھی اور حاشیوں میں بھی ان مسائل پر بحث ہوتی ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

معرفت شناسی (Epistemology) کے ضمن میں مختلف قسم کے نظریات و آراء میں کبھی بھی “فلسفہ حق” کے بارے میں بحث کرنے کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مثلاً اگر اضافیت (یا نسبیت) (Relativism) ریبیت((())) (شکاکیت Skepticism) کا معتقد اضافیت پرست شخص  قدیم یونانی دور کے سفسطے (یا قدیمی جھوٹے فلسفے) (Sophism) سے لے کر جدید دور کے سفسطے تک کوئی بھی حق کے بارے میں بات نہیں کرسکتا یا تحصلیت (Positivism) کا عقیدہ رکھنے والے حضرات ـ جو ہر چیز کے بارے میں تجربے کے قائل ہیں ((تجربہ پرستی اور تجربے و حسیت پرستی) کے قائل ہیں؛ اور محض تجربہ پسندی اور حسیت پسندی کے ذریعے تو ویسے بھی فلسفۂ حق سے بحث نہیں ہوسکتی، کیونکہ نہ حق تجرباتی اور (Experimental) ہے اور نہ فلسفۂ حق ایسا ہے۔ لہذا آپ دیکھتے ہیں کہ سیاسیات کی جدید روشوں سے بحث کرنے والے حضرات مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں “عدل، حق، باطل، ظلم، اخلاقی مسائل، روایتی (Traditional) مسائل غیر علمی اور نظریاتی ہیں اور انہیں ایک طرف رکھ کر آئیں اور سیاست کے بارے میں علمی اور تجرباتی بحث کریں۔

طاقت و اقتدار کے بارے میں تجرباتی بحث کا مطلب یہ ہے کہ “وہ اقتدار اور طاقت کیونکر حاصل کرسکتے ہیں اور اس کا تحفظ کیونکر کرسکتے ہیں؟ اور یہاں باید و نباید (Ought or Ought not) کی بات نہیں ہوسکتی؛ اور اگر آپ اس کے بغیر کوئی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ غیر علمی ہے۔ محض تحصلیت (پازٹیوزم) اور تجربہ گرایی (())کے تحت ـ جو کہ دنیا کی جامعات کی غالب روایت ہے ـ حق اور حقوق کے فلسفے کی بات نہیں کی جاسکتی۔

عقل سے دور بھاگنے والی ہر (عقل گریز) سوچ کے نزدیک استدلال کی بات نہیں کی جاسکتی چاہے وہ تفکر مذہبی ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر اشعریت؛ گو کہ میرے خیال میں اشعریت تحصلیت، شکاکیت (()) اور اضافیت جیسی افکار کے مقابل کھڑی ہے تاہم مسلمان اور مذہبی اشعری ایک طرف سے تحصلیت، شکاکیت اور اضافیت اور حسیت و (()) پر مبنی  تفکرات کے آمنے سامنے ہے اور دوسری طرف سے شکاکین (()) سے بہت قریب ہیں۔ یعنی فرض کریں کہ ایک دائرہ ہے جس کی ایک انتہا پر ایک تفکر ہے اور دوسری انتہا پر دوسرا تفکر ہے لیکن یہ دونوں ایک دائرے کے اندر بالکل قریب قریب نظر آتے ہیں؛ اگرچہ یہ لوگ مذہبی ہیں اور اُن میں سے بعض غیر مذہبی اور بعض دوسرے مذہب کے بالکل مخالف ہیں لیکن حقیقت اور حقوق پر ان کی نگاہ تقریباً ایک ہی ہے۔ چنانچہ جن ممالک میں اشعری تفکر غالب اور اسلامی عقلانیت Islamic Rationality غائب ہے وہاں سیکولرزم اور علمانیت نے زیادہ تیز رفتاری سے نشو و نما پائی ہے۔ مثلاً بعض عرب ممالک اور بعض غیر عرب اسلامی ممالک ـ جن کا کلامی اور اعتقادی تفکر اشعری تھا ـ وہاں علمانیت تیزی سے پھیل گئی ہے۔ تحصلیت، شکاکیت، نسبیت، اور علمانیت کو ایران جیسے معاشرے میں ـ جس کی فکر عدل پسند اور عقلانیت پسند اسلام اور مکتب اہل بیت (ع) پر مبنی ہے ـ بہت زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالفاظ دیگر یہ معاشرہ الف، باء، تاء سے لے کر یاء تک ہر حرف پر بحث کرتا ہے لیکن اشعریت میں بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ عالم اسلام میں اشعریت اور قدیم یونانی سوفسطائیت اور جدید سوفزم یا نئی سوفسطائیت کے درمیان شباہت پائی جاتی ہے۔ کیونکہ سوفسطائیت جب انتہاپسندی کی طرف مائل ہو تو شکاکیت کی شکل میں ظہور پذیر ہوتی ہے اور اگر اعتدال کی طرف مائل ہو تو اضافیت پر جاکر رکتی ہے؛ یہ سوفسطائیت نفس الامری حقیقت ـ وہی معیار اور وہی پیمانہ جس کا اتباع انسان کے ذہنی اداراکات اور انسانی فکر پر لازم اور واجب اور انسانی فکر کو اس کے مطابق ہونا چاہئے ـ کو قبول نہیں کرتی۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ حق، حقیقت اور حقوق کے لئے کسی واقعی فلسفی کی تلاش نہیں کرنی چاہئے بلکہ حقیقت نیز انسانی حقوق، آپ کے اور آپ کے ذہن کے تابع ہیں۔ یہ آپ ہی تو ہیں جسے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا حقیقت ہے اور کیا حق نہیں ہے اور حقیقت نہیں ہے! کیونکہ نہ تو حق و حقیقت اور نہ ہی انسانی حقوق اور انسانی فرائض انسان کے لئے قابل ادراک حقیقت نہیں رکھتے۔

ان کی رائے کے مطابق ذہن اور نفس سے باہر کی دنیا میں کوئی نفس الامر نہیں ہے جس تک آپ پہنچنا چاہو۔ قدیم اور جدید سوفسطائیت کہتی ہے کہ حق کے لئے آپ کو فلسفی استدلال کی تلاش نہیں کرنی چاہئے۔ انسانی حقوق لئے فلسفی جڑیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انسانی حقوق، سیاسی حقوق، سماجی حقوق اور خاندانی حقوق کی حمایت یا مخالفت میں آپ کسی استدلال کی طرف نہ جائیں۔ بلکہ قراراداد لکھتے ہیں، فیصلہ کرتے ہیں اور حکم سناتے ہیں کہ ہم جو بھی ارادہ کریں فرض کریں گے اور وضع کریں گے۔ وہی درست ہے۔ ان کی اس فکر کی جڑ یہ تفکر ہے کہ “انسان کسی مستقل حقیقت کے ادراک کے لئے فکری قوت سے لیس نہیں ہے”۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرف سے اشعری کیا کہتے ہیں؟ یہ بھی بعض احکام اور قوانین میں بعض اختلاقات دیکھتے ہیں اور صحیح تجزیہ کرنے سے عاجز ہیں۔ انھوں نے اسی بنا پر نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حقیقی اور واقعی صلاح و فساد [اور واقعی خیر و شر یا حسن و قبح یا بنیادی اچھائی اور برائی] دین اور شریعت کے احکام و فرامین کا مقیاس و میزان اور حقوق و عدل و انصاف کا معیار نہیں ہے! احکام کے لئے کسی بھی قسم کے ذاتی اور نفس الامری معیارات ـ جو انسان کے لئے قابل فہم و ادراک ہوں ـ موجود نہیں ہیں۔

ہماری بات بھی یہ نہیں ہے کہ تمام معیارات قابل فہم و ادراک ہیں، بلکہ ماننا پڑے گا کہ ایسے معیارات و ملاکات بھی ہیں [جو قابل فہم نہیں ہیں]؛ مثال کے طور پر جب شارع (خدا و رسول خدا (ص)) نے کوئی چیز حرام یا واجب قرار دی ہے یا مثلاً فرمایا ہے کہ یہ تمہارے حق و حقوق میں سے ہے یا تمہارے فرائض میں سے ہے اور وہ نہیں ہے، تو یہ حرام یا واجب یا حق یا فرض حقیقی اور نفس الامری معیارات و ملاکات کی بنیاد پر ہے۔ اشعری تفکر میں چونکہ حق، عدل اور شرع کے لئے کوئی معیار [پیشگی معیار یا قاعدہ] موجود نہیں ہے بلکہ احکام، حقوق اور عدل خدا کی جاعلیت کے تابع ہیں اور وہی انہیں جعل فرماتا ہے، اس حوالے سے اشعری سوفسطائیوں سے شباہت پیدا کرتے ہیں، کیونکہ سوفسطائی بھی حقیقت کو ذہن کا معیار و پیمانہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ذہن کو حقیقت کا مقیاس و معیار سمجھتے تھے۔ تاہم یہ لوگ مذہبی ہیں اسی لئے حق و عدل اور شرع کو جعل الہی کے تابع سمجھتے ہیں جبکہ سوفسطائی اسی کو بھی قابل قبول نہیں سمجھتے۔

اشعری کہتے ہیں کہ عقلی ادراک محال اور ناممکن ہے لیکن شرعی جعل قابل قبول اور موجود ہے اور سوفسطائی کہتے ہیں کہ دونوں باطل ہیں یعنی نہ عقلی ادراک ممکن ہے اور نہ ہی شرعی جعل موجود ہے۔ اسی فرق کے ساتھ دونوں کا مبنا (()) ایک ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر عقلانیت )( کی حدود میں اشعریوں کو دینی شکاکین (Skepticists) کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے؛ گو کہ اشعری کم از کم شریعت کے قائل ہیں۔ ان مسائل کے پیش نظر، ایک طرف سے ہماری اشعریت اور تحصلی مکتب کے درمیان اور دوسری طرف سے اشعریت اور مغرب کی جدید اور فوق جدیدModern & Post Modern) ) اور قدیم شکاکیت اور اضافیت کے قائلین (Relativists) کے درمیان متعدد شباہتیں موجود ہیں، کیونکہ یہ تین چار چیزیں عقلانیت سے مغایرت رکھتی ہیں۔ تا ہم اسلامی، شیعی اور اہل بیت (ع) کی منطق میں عقلانیت اور عدل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں، اور آپ جب تک توحید اور وجود شناسی کے لحاظ سے حق و حقیقت کی بنیادوں اور جڑوں کو نہیں سمجھیں گے اور انہیں ثابت نہیں کریں گے منطق کے لحاظ سے انسانی حقوق، سیاسی معاشی، خاندانی حقوق اور اپنے فرائض کی حدود سے بحث نہیں کرسکیں گے۔ [جب ہم ان امور کا ادراک کریں گے اور ان کا اثبات کریں گے تو] تب ہی حقوق کی ہر فہرست جیسے: انسانی مرد، عورت، خاندان، بچوں، حکومت اور عوام کے سیاسی حقوق، معاشی حقوق اور معاشرتی حقوق کے لئے استدلال کرسکیں گے۔ حتی کہ ہمارے نقلی استدلال (قرآن وسنت سے دلیل) کے پس پردہ بھی عقل کا کردار ہے؛ لیکن [یہ ہماری بات ہے اور] مذکورہ بالا کوئی بھی مکتب ایسی بات نہیں کرسکتا کیونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا، ان سے کے مبادیات و مبانی مختلف ہیں۔

عالَم، انسان اور وجود کے بارے میں ہر مکتب کی اپنی نگاہ، اپنی رائے اور اپنی تفسیر ہے اور وہ انسان اور عالم اور انسان اور انسان کے درمیان حقوقی تعلق کی تعریف بیان کرتے ہوئے، اس رائے و اعتقاد کا اظہار کردیتے ہیں۔ جبکہ آپ اس سے وجود شناسی (Ontology)، خدا شناسی یا الہیات (Theosophy)، حقوق کا مسئلہ، حقوق و فرائض استخراج (Explore) کرسکتے ہیں۔ میرے لئے بعض لوگوں کی یہ بات سمجھنا مشکل ہے جو کہتے ہیں کہ “انسانی حقوق میں اسلامی اور غیر اسلامی کی کوئی قید نہیں ہے”۔

ہم پوچھتے ہیں کہ اس بات کا مطلب ہے کیا ہے؟ یہ جو آپ کہتے ہیں کہ حقوق اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم نہیں ہوتے، اس کا مطلب کیا ہے؟ ظاہری طور پر حقوق و فرائض کی فہرست ایک اعتباری (*) امر ہے گوکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اس اعتباریت (*) کی جڑیں اصلی اور حقیقی ہیں۔ تمہاری اکثریت ـ جو حقوق کے لئے حقیقی جڑوں کے قائل نہیں ہے اور عام طور پر محض اعتباری (*) سمجھتے ہیں اور تقریباً اسے قرادادی (Conventional) اور سماجی اعتبارات (*) کی طرف لوٹاتے ہیں۔ پھر کیسے کہتے ہیں کہ حقوق، اسلامی اور غیر اسلامی میں قابل تقسیم نہیں ہیں؟ آپ ہر زمانے اور ہر معاشرے میں اسی زمانے اور اسی معاشرے کے لئے خاص حقوق بیان کرتے ہیں، کیونکہ آپ کے ہاں تمہارے پاس ان حقوق کے لئے کوئی مدلل اور استدلالی معیار نہیں ہے؛ تحصلی حقوق (Positivistic) اور قراردادی (Conventional) حقوق ہیں کیا؟ اگر آپ جواب دیں کہ “ہم انسانی حقوق کو محض جمہوریت کی بنیاد پر متعین کرتے ہیں” تو ایسی صورت میں آپ کے پاس جمہوریت کے لئے کوئی معیار نہیں رہ سکے گا جس کی روشنی میں آپ کسی چیز کے بارے میں فیصلہ دے سکیں؛ آپ بتائیں کہ حقیقتاً انسان کا حق کیا ہے اور انسان کا حق کیا نہیں ہے؛ بلکہ آپ کو یوں کہنا پڑے گا کہ “ہر معاشرہ ہر خطے اور ہر علاقے میں اپنی تہذیب و ثقافت کی روشنی میں ـ جس چیز کو خود حق سمجھے وہی اس معاشرے کے نزدیک اس معاشرے کا حق ہے!”

[یعنی مغربی معیاروں کے مطابق] مختلف زمانوں میں مختلف قسم کے معاشروں کے لئے حقوق الف، حقوق ب، حقوق ج اور حقوق د مد نظر رکھنے پڑیں گے [اور ان کی طبقہ بندی کرکے ہر معاشرے کے لئے اس کی اہمیت کے اعتبار سے ہی حقوق متعین کرنے پڑیں گے] یوں ہمارے پاس دنیا کے متعدد معاشروں کی تعداد کے مطابق مختلف قسم کے انسانی حقوق متصور ہونگے۔ اور ہاں!

ہم ایسی کسی بات کے قائل نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے کئی افراد ہیں جو مغربی مشینریوں کا جواب دینا چاہتے ہیں کہ وہ ایک طرف سے انسانوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور دوسری طرف سے دنیا کی سطح پر انسانی حقوق کی پولیس کا کردار بھی خود ہی ادا کرنے پر اصرار کررہے ہیں۔ ان کے پاس کئی ہزار ایٹمی میزائل ہیں اور ایٹم بم مار کر انسانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور خود ہی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے پولیس کا کردار بھی خود ہے ادا کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی اور بھی ایٹم بم بنادے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ان کا یہی کردار ہے۔ دوصدیوں کے دوران مختلف قسم کے عظیم ترین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ خود ہی انسانی حقوق کی پولیس کا کردار بھی ادا کرنے کا دعوی کرتے ہیں! اب ہم میں سے بعض ان کی ان پالیسیوں کا جواب دینا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “انسانی حقوق ایک تہذیبی مقولہ اور ثقافتی زمرہ (Cultural Category) ہے؛ آپ کے انسانی حقوق یوں ہیں اور ہمارے انسانی حقوق یوں ہیں۔ لیکن یہ ایک سیاسی جواب ہے؛ ایک فلسفی جواب نہیں ہے۔

مزید  تبلیغ اسلام کے سلسلے میں چند پیچیدگیاں اور اُن کے حل

فلسفی جواب یہ ہے کہ اصولی طور پر انسانی حقوق یہاں اور وہاں، اس زمانے میں اور اُس زمانے میں، اِس قوم میں اور اُس قوم میں الگ الگ نہیں ہیں۔ انسانی حقوق ایک ثقافتی زمرہ نہیں ہے بلکہ ایک فلسفی ـ اخلاقی زمرہ ہے جس کی جڑیں شریعت میں پیوست ہیں۔ ہم پوری دنیا کے لئے انسانی حقوق کا ایک ہی نظام تیار کرسکتے ہیں، کیونکہ انسان دنیا کے ہر خطے میں انسان ہی ہے اور انسان کی سعادت و شقاوت ایک ہی ہے اور سب انسانوں کا خدا بھی ایک ہی ہے؛ تاہم سوال یہ ہے کہ حقوق انسانی کا وہ نظام جو تمام زمانوں میں تمام انسانوں کے شایان شان ہے وہ توحیدی ـ اسلامی نظامِ حقوقِ انسانی ہے یا پھر مارکسسٹ ـ فاشسٹ اور لبرل نظامِ حقوقِ انسانی ہے؟ انسانی حقوق کے بارے میں اس طرح بحث ہونی چاہئے؛ نہ یہ کہ ہم کہنا شروع کریں کہ آپ کے ہاں انسانی حقوق کی تعریف یہ ہے تو ہمارے ہاں انسانی حقوق کی تعریف یہ نہیں ہے بلکہ وہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ انسانی حقوق کے ساتھ اس طرح کا ساپیکشوادی اور اضافیت پرستانہ (Relativistic) برتاؤ کرنا درست نہیں ہے۔ اور یہ بھی قابل غور ہے کہ جو لوگ ہماری طرف سے یہ بات کررہے ہیں وہ بھی شاید ان کے ہی اصولوں سے استناد کررہے ہیں!۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ انسانی حقوق ایک ثقافتی مقولہ ہے، یہ ان ہی کے اصولوں کے مطابق درست ہے لیکن ہمارے اصولوں کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ یہ بہت اہم مباحث ہیں اور دنیا میں انہیں سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر بحث کا فلسفہ یہ ہے کہ حقوق انسان، سیاسی حقوق، حق حکمرانی اور مشروعیت یا قانونی جواز و استحقاق کی تعریف کیا ہوگی؟ جواب یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی حقوق کے نظام کے پس منظر میں اور اس کے پس پردہ مادی (Materialistic) فلسفہ ہے یعنی اگر آپ کے خیال میں الہی شعور نے عالم و انسان اور انسان و ہستی کے درمیان کسی قسم کا با مقصد رابطہ اور کوئی آخری تعلق (Ultimate Interest) مدنظر نہیں رکھا ہے اور اگر آپ کے نزدیک عالم و انسان کے لئے کوئی مبدأ و معاد اور غایت و انجام قابل قبول نہیں ہے؛ تو آپ یقیناً عدل، آزادی، انسانی حقوق، حقوق نسوان، حقوق مردان، سیاسی حقوق اور مشروعیت یا قانونی جواز کے لئے کوئی بھی فلسفی اور استدلالی مبادیات و مبانی (Basics or Principles) پیش نہیں کرسکیں گے۔

بے شک وہ اس سلسلے میں شاعرانہ گفتگو کرسکتے ہیں اور حتی شاعری بھی کرسکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی فلسفہ نہیں لاسکتے۔ جس طرح کہ ایک شخص مادہ پرست (Materialist) اور وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ عالم میں مادی (Matter) کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، اور ساتھ ہی “فداکاری” اور “معنویت” کی دعوت بھی دیتا ہے! جبکہ یہ تضاد اور تناقض ہے، کیونکہ ایک طرف سے آپ مجھے جتانا چاہتے ہیں کہ مادہ اور مادہ پرستی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور اگر آپ کی بات درست ہے اور انسان ایک منفعت طلب اور مفاد پرست حیوان ہے تو پھر یہ انقلاب، جدوجہد، قربانی، فداکاری اور ایثار و درگذر کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟ یہ شاعری تو ہوسکتی ہے لیکن فلسفہ نہیں ہوسکتا۔ صرف وہ شخص قربانی اور ایثار کی طرف دعوت دے سکتا ہے جو عالم کو محض مادہ نہ سمجھتا ہو، انسان کو ایک پست اور خودپسند مخلوق کے عنوان سے متعارف نہ کرائے بلکہ انسان کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک الہی روح کا حامل متعارف کرائے۔ جو شخص انسان اور عالَم کی معنوی تعریف کرتا ہے وہ معنوی اور روحانی ہدایات دینے کا استحقاق رکھتا ہے تاہم جس منطق اور مکتب کی رائے یہ ہے کہ مادہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور کسی بھی چیز کو حسیات اور تجربات کے سوا کوئی بھی معرفت و شناخت قابل قبول نہیں ہے تو وہ کیونکر انسان کی کرامت و شرافت و آزادی اور انسانی حقوق کے تقدس کی بات کرسکتا ہے؟ اصولی طور پر یہ مکتب یہ باتیں لایا کہاں سے ہے؟ تقدس، کرامت و شرافت معنوی مفاہیم ہیں اور مادی مفاہیم نہیں ہیں۔

معرفت شناسی (Epistomology) اور وجود شناسی یا علم موجودات (Ontology) کے حوالے سے اپنے خاص قسم کے نظریات کے ہوتے ہوئے آپ کو ایسی باتیں نہیں کہنی چاہئیں کیونکہ یہ مہملات اور تضادات ہے۔ [البتہ ممکن ہے کہ وہ ان اصطلاحات سے دھوکے اور فریب کا کام لینا چاہیں جو “ہر قیمت پر اقتدار کے حصول اور ہر قیمت پر اس کے تحفظ کے مغربی نظریئے سے مطابقت رکھتا ہے]۔

ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جو قانونی جواز یا مشروعیت، عدل، آزادی، انسانی حقوق اور سیاسی حقوق کی تعریف و تشریح کرتے ہیں، کہ کیا آپ کے نقطۂ نظر سے انسان اور عالم کے درمیان کوئی حقیقی ـ کائناتی اور با معنی رابطہ ہے یا نہیں ہے؟ اگر کوئی رابطہ نہیں ہے تو آپ کی منطق میں حقوق، عدل، آزادی اور مشروعیت کے لئے کوئی واقعی اور حقیقی معیار نہیں ہوسکتا اور آپ اس کے اثبات کے لئے فلسفی استدلال نہیں کرسکتے اور یہ مفاہیم (Concepts) عقلی استدلال (Rational Reasoning) کے لئے کوئی عقلی استدلال ممکن نہیں ہے۔ اگر ـ انسان اور عالم کے درمیان کوئی حقیقیقی ـ تکوینی (Cosmic) رابطہ ہے ـ اور ہمارے اعتقاد کے مطابق یہ رابطہ موجود ہے ـ پس ہمیں عالم اور انسان کے لئے شعور، غایت و انجام اور حساب و کتاب کا قائل ہونا پڑے گا اور ہمیں اس حقیقت کا قائل اور معتقد ہونا پڑے گا کہ عالم اور انسان کے لئے شعور بھی ہے، غایت و غرض بھی ہے اور حساب و کتاب بھی ہے۔ ہمیں فلسفی انداز سے توحیدی نگاہ ڈالنی پڑے گی تاکہ ہم حقوق اور اخلاق کے لئے فلسفی دلیل فراہم کرسکیں بصورت دیگر حقوق بھی اور اخلاقیات بھی محض قراردادی  (Conventional) اکثریتی اور عرفی ہوجائیں گی، کیونکہ اس صورت میں اس کا کوئی معیار نہیں ہے اور ان لئے استدلال نہیں کیا جاسکے گا۔ اس اصول کے مطابق ہم کہہ سکیں گے کہ “الف” کا عمل برا ہے اور کیوں برا ہے؟ یعنی ہم اس کے لئے فلسلفی استدلال کرسکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ “الف” نامی شخص کے اعمال انسانوں کی شقاوت کا باعث بنتے ہیں۔ کیونکہ سعادت اور شقاوت کے لئے انسان کی تعریف یہی ہے۔ گو کہ ظاہری طور پر اخلاقیات اور حقوق اعتباری (*) ہیں لیکن ہم ان کے لئے فلسفی دلیل لاسکتے ہیں، کیونکہ اعتبار (*) ایک حقیقی بنیاد پر مبنی ہے اور اس کا سرچشمہ بھی حقیقی ہے محض اعتباری (*) ہی نہیں ہے، لیکن جو لوگ عالم اور انسان کے لئے مبدأ و غایت اور معنی کے قائل ہی نہیں ہیں، وہ حقوق اور اخلاق کے لئے فلسفی برہان (Philosophic Demonstration) نہیں لا سکتے۔ یہ بہت اہم نکات ہیں اور بعض مباحث میں ان سے غفلت برتی جاتی ہے۔

سیاسی مباحث میں تو ان مسائل کی گنجائش نہیں ہے تاہم فلسفی مباحث میں اس قضیئے میں مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہئے۔ اگر کہیں آپ

 دیکھتے ہیں کہ ان مسائل میں وہ استدلال کررہے ہیں تو یقینی طور پر وہ اپنے اصولوں کے پابند نہیں رہے ہیں اور حقیقت میں وہ دھوکے بازی فراڈ (Sharp Practice) کا دامن تھامے ہوئے ہیں، مثال کے طور پر ایک مغربی مفکر کسی وقت “کارل مارکس” پر تنقید کررہا تھا کہہ رہا تھا: “مارکس نے خدمات کیں اور نقصانات بھی پہنچائے، لیکن اس نے ایک بڑی ٹهگی اور مکاری بھی کی ہے وہ یہ کہ “کہ وہ (مارکس) فلسفی حوالے سے مادہ پرست (Matterialis) ہیں اور کہتے ہیں کہ مادہ کے سوا کوئی چیز بھی نہیں ہے لیکن معاشرتی حوالے سے ایک معاشرتی مصلح میں تبدیل ہوگیا اور اس نے عوام سے مسیح کی زبان میں بات کی”؛ کہا کرتے تهے کہ “اے معاشرے کے محنت کشو! متحد ہوجاؤ، قربانیاں دو اور قیام عدل کے لئے مارے جاؤ” جبکہ یہ باتیں مادہ پرستی سے تعلق نہیں رکھتیں اور ان کا فلسفی مادیت (Philosophic Matterialism) سے کیا تعلق ہے؟ جدلی یا مناظراتی مادیت میں کہا جاتا ہے کہ “عالم جبری طور پر مختلف مراحل سے گذرتا ہے اور بعض مراحل تک پہنچتا ہے۔ اس تسلسل میں انسان کا ارادہ غیر مؤثر ہے اور اس کی معنویت اثرانداز نہیں ہوتی۔ مارکس ایک روزنامہ نویس تھے، جب وہ اس طرح کا فلسفہ لے کر میدان سیاست میں اترتے ہیں تو کچھ اور لکھنے لگ جاتے ہیں جس کا ان کے ابتدائی فلسفے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہاں وہ مسیح کی ادبیات سے استفادہ کرتا ہے۔ مسیح (ع) یہ باتیں کرسکتے تھے کیونکہ مسیح علیہ السلام کی باتوں کی بنیاد معنوی ہے؛ اب سوال یہ ہے کہ مارکس نے کیوں اس قسم کی ادبیات سے استفادہ کیا ہے”۔ لبرلزم اور کمیونزم کا یہی حال ہے۔ اگر یہ مکاتب اپنے اصولوں کے پابند رہیں تو وہ انسانی حقوق، انسانی عظمت و کرامت کے شعبوں میں بہت سے نعرے ـ جو وہ دے رہے ہیں ـ نہیں دے سکیں گے، کہ یہ نعرے ان مکاتب کے اصولوں سے مغایرت و منافات رکھتے ہیں۔ لیکن حسین بن علی علیہ السلام نے یہی باتیں اپنی توحیدی اور یکتا پرستانہ نگاہ سے کیں کیونکہ ان باتوں کے لئے استدلال کیا جاسکتا ہے۔

میں یہاں ایک استدلال کی طرف اشارہ کرکے اپنے عرائض مکمل کرتا ہوں۔

جو کچھ میں عرض کرنا چاہتا ہوں یہ ہمارے اسلامی مفکرین نے کہا ہے اور میں دوستوں سے فلسفۂ حقوق کے سلسلے میں آیت اللہ مصباح اور آیت اللہ شہید مطہری نیز علامہ سیدمحمد حسین طباطبائی کی کاوشوں کی طرف رجوع کرنے کی سفارش کرتا ہوں۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ فلسفۂ حقوق (())) کے سلسلے میں ان بزرگوں کے آثار کا ضرور مطالعہ کریں تا کہ آپ دیکھ لیں کہ یہ بزرگ دقیق استدلال کرتے ہیں اور بتادیتے ہیں کہ ہم کن فلسفی دلائل کے ذریعے سے اخلاق اور حقوق کے سلسلے میں استدلال کرتے ہیں اور ہم اس طرح بات کرسکتے ہیں، جبکہ مادیت پرست ایسی بات نہیں کرسکتے اور ایسا استدلال نہیں کرسکتے۔

میں چند ہی آخری دقیقوں میں آخری عبارتیں آپ کے لئے پڑھ لیتا ہوں، البتہ میں ان عبارات کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کروں گا؛ تا ہم یہ وہ عبارات ہیں جن پر ان بزرگوں نے کام کیا اور متعدد کتابیں تألیف کی ہیں۔ میں دوستوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ان کتابوں کا ضرور مطالعہ کریں۔

ہمارے بزرگ اخلاقیات اور حقوق کے لئے جو فلسفہ بیان کرتے ہیں ان کا آغاز یوں ہوتا ہے: توحیدی تفکر میں اشیاء کے درمیان، اور اشیاء اور انسان و عالم کے درمیان ایک با مقصد تعلق ہے، یعنی یہ کہ یہ تمام اشیاء بے معنی نہیں ہیں اور نظام، ضابطے یا قاعدے کے بغیر نہیں ہیں؛ یعنی یہ کہ آپ خود ہی ان کے لئے “چاہئے” یا “نہیں چاہئے” (Ought or Ought not) وضع نہیں کرسکتے۔ جب کہا جاتا ہے کہ عالم قاعدے اور ضابطے پر مبنی ہے اور یہ کہ عالم پر حکمت و مقصدیت (غایت) کی حکمرانی ہے؛ یعنی ہرچیز کسی چیز کے لئے ہے۔ وہ عدل کی تعریف یوں کرتے ہیں: کہا جاتا ہے “العدل هو وضع شیئٍ فی موضعه” “العدل هو وضع كل شيء في موضعه” (کسی چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھ لینا عدل ہے)، ہر چیز اپنے مقام پر۔

ممکن ہے کوئی پوچھ لے کہ پس ہر چیز کا مناسب مقام کیا اور کہاں ہے؟ کیونکہ یہ جملہ عدل کے مصادیق کے لئے کافی نہیں ہے اور اس قاعدے کے مصادیق بھی معلوم نہیں ہیں ہر چیز کا اصل مقام کہاں ہے؟ یہاں ہم  عقل کے ساتھ شرع کے تعلق سے ـ وہ بھی وحی کی مدد سے ـ ان مصادیق کا ادراک کرسکتے ہیں۔ تاہم ایک طرف سے یہ تعریف کافی ہے جو ہمیں کہتی ہے کہ یہ جہان قاعدے اور قانون کے بغیر نہیں ہے۔ عدل سے مراد تمام فرائض اور حقوق ہیں؛ چنانچہ ہر چیز کا اپنا مقام ہے پس ممکن نہیں ہے پس [حقوق و فرائض تعریف شدہ ہیں اور موجود ہیں اور] ہم ہر چیز کو اپنے لئے حق قرار نہیں دے سکتے اور مطلق طور پر اپنے لئے کوئی فرض  (Assumption)وضع نہیں کرسکتے۔ اگر آپ اس قاعدے کو قبول کرتے ہیں [اور اس کی تردید و انکار کے لئے آپ کے پاس کوئی فلسفی اور شرعی دلیل نہیں ہے] تو [ماننا پڑے گا کہ] حقوق، “فلسفہ، اصول، منطق اور معیار” پر مبنی ہیں۔ توحیدی اور قرآنی منطق میں حقوق اور فرائض ـ یعنی عدل ـ اور حقیقتِ عالَم اور حقیقت انسان ـ کے درمیان ایک حقیقی نسبت موجود ہے جو فرضی (Assumptional) اور قراردادی (Conventional) نسبت نہیں ہے؛ تاہم یہ سب صرف آخرت ہی کے لئے بھی نہیں ہے بلکہ اس کے دنیاوی آثار بھی ہیں۔

آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہم صرف وراءِ مادہ تفکر کی روشنی میں بحث کررہے ہیں کہ مثلاً آپ عدل کا نفاذ کریں تا کہ آخرت میں اس کا ثواب پائیں اور اقبال مند ہوجائیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ نفاذ عدل کا آپ کو اسی دنیا میں بھی فائدہ ملتا ہے؛ جبکہ اس دنیا بھی آپ کا ثواب اور ثمرہ محفوظ ہے۔ یہ سب حقیقی ہیں یعنی اس کے آثار و فوائد دنیا میں واقعی ہیں نیز آخرت میں بھی اس کا ثواب واقعی ہے۔

ان روایات میں فرمایا گیا ہے: “الرعية سواد یستعبدهم العدل” (12) [امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: رعایا ایک سایہ ہیں جس کو عدل ہی اپنی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے]۔

یعنی یہ کہ آپ چاہے قانونی جواز یا لیجیٹیمیسی کے مغربی مفہوم کی پیروی کرتے ہوئے صرف مقبولیت اور عوام میں اثر و نفوذ کمانے کے خواہاں ہی کیوں نہ ہوں؛ اس کا راستہ بھی نفاذ عدل ہے۔ یعنی فضیلت، آخرت، فلاح و بھلائی سے در کنار، اگر آپ صرف دنیا میں ہی لوگوں کے لئے قابل قبول بننا چاہیں یعنی یہ کہ اگر آپ محض معاشرے پر مسلط ہوکر اس کا کنٹرول سنبھالنے چاہتے ہیں، اس کے حصول کے لئے بھی عدل کے نفاذ کا راستہ اپنانا پڑے گا کیونکہ لوگوں کو بہرصورت عدل و انصاف تک پہنچنا ہوتا ہے۔ آپ عدل کے ذریعے ہی عوام کو سکون دے سکتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو فرمانبردار اور پرسکوں بنانا چاہتے ہیں [اور ان کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں] اور چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے بندے اور غلام ہوں پھر بھی آپ کو عدل و انصاف قائم کرنا پڑے گا اور انہیں عدل و انصاف تک پہنچانا پڑے گا؛ انہیں ان کے حقوق دلانے پڑیں گے تب ہی وہ آپ کے تابعدار ہونگے اور آسانی سے آپ کے اقتدار کے سامنے سرتسلیم خم کرنے پڑیں گے۔ یہ اس صورت میں ہے جب آپ محض اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ [یقینی امر ہے کہ جب آپ عدل بھی نافذ کریں گے اور آپ کا ہدف بھی دینی اور معنوی ہو اور ہدف بھی نفاذ عدل اسلامی ہو تو معنوی اور اخروی بہرہ مندی کا باعث بھی ہوگا]۔

یہاں آپ (ع) نے فرمایا: عوام حاکمیت کے لئے خزینے اور بینک لاکر (Bank Locker) کا مقام رکھتے ہیں “فما اودعها من عدل او جور وجده” (13) پس ان کے دل اپنے اندر صرف وہی چیزیں ذخیرہ کرتے ہیں جو حکام اور فیصلہ ساز قوتیں ان کے دلوں میں ودیعت رکھتے ہیں اسی طرح کا ثمرہ پاتے ہیں؛ [وہ عدل رکھیں گے اس لاکر میں اس کا وہی نتیجہ دیکھیں گے، اگر اس میں ظلم و جور رکھیں گے، تو انہیں اسی طرح کا پھل ملے گا]، اگر وہ اس کھیت میں کینہ اور دشمنی بوئیں گے انہیں وہی ثمرہ ملے گا، اور عشق و محبت بوئیں گے تو انہیں عشق و محبت کا ثمرہ ملے گا۔ اعلی سطحی معاشرتی انتظامات کے موضوع میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ جیسا رویہ روا رکھیں گے معاشرے سے اسی طرح کا جواب وصول کریں گے۔ اگر صادقانہ رویہ اپنائیں گے لوگوں سے بھی صداقت اور صادقانہ رویہ ملے گا؛ اگر ان کے لئے قربانی دیں گے تو ان کی جانب سے قربانیاں ملیں گی؛ جھوٹ بولیں گے [اپنی پالیسیاں نافذ کرنے اور اپنا اقتدار محفوظ کرنے کے لئے] تو وہ بھی [اپنا کام نکالنے کے لئے] جھوٹ کا سہارا لیں گے؛ اگر آپ حاکم ہو کر [مملکت کے وسائل لوٹنے کے لئے] فراڈ اور دھوکہ دہی کا سہارا لیں گے؛ تو [اچھی اور عادل حاکمیت سے محروم اور صحیح رستوں سے اپنے مسائل حل کروانے سے مأیوس] عوام بھی دھوکہ دہی کا سہارا لیں گے حتی ممکن ہے کہ وہ آپ کو ہی اپنے فراڈ کا نشانہ بنائیں۔

چنانچہ جو کچھ ہم عدل کے بارے میں کہتے ہیں اس کا تعلق صرف آخرت سے ہی نہیں ہے؛ گو کہ مسئلے کی بنیاد آخرت ہی ہے؛ تا ہم عدل کے نفاذ سے ہماری دنیاوی سعادت کی ضمانت بھی ملتی ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ایک مقام پر اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں: (12)

“اما و الذي فلق الحبة، و برأ النسمة”،

قسم ہے اس ذات کی جس نے جانداروں کو حیات عطا کی اور دانی کو شگافتہ کیا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق کے دنیاوی اور اخروی آثار ہوتے ہیں۔

” لو اقتبستم العلم من معدنه “،

اگر تم علم و دانش اس کے اصلی مقام سے اخذ کرتے یعنی اگر ہم [اہل بیت (ع)] کو بولنے دیتے اور ہمارا راستہ نہ روکتے اور ہمیں معاشرتی حیات سے حذف نہ کرتے؛

“و ادخرتم الخير من موضعه”

اور بھلائیوں کا ان کے اصل سرچشمے سے ذخیرہ کرتے؛

“و اخذتم الطريق من وضحه”،

اگر تم راستے پر اس کے واضح اور روشن سرے سے گامزن ہوتے اور نوالہ گردن کے پیچھے سے گھما کر کھانے کی کوشش نہ کرتے،

“و سلكتم من الحق نهجه”،

اگر حق کی تلاش کے لئے اسی راستے پر قدم رکھتے جو حق لئے بیان ہوتا تھا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا؛ نہ صرف قیامت میں نجات یافتہ ہوتے بلکہ تمہاری دنیا بھی درست سے درست تر ہوجاتی اور تم قیامت میں بھی فلاح یافتہ ہوتے؛

” لنہجت بكم السبل”،

اگر تم ایسا کرتے تو رشد و ہدایت ، فتحیابی، رفاہ و بہبود کے مختلف راستے تمہارے لئے کھل جاتے حتی تمہاری دنیا کے لئے بھی۔

“و بدت لكم الاعلام”،

اور راستے دکھانے والی نشانیاں تمہارے لئے روشن ہوجاتیں؛

“و اضاء لكم‌ الاسلام”،

اور اسلام کی تابندگی تم پر چھا جاتے

“و اكلتم رغدا “،

اور جیسا تمہا را جی چاہتا اس میں سے مزے لے کر اور بے فکر ی کے سا تھ غذا حا صل کرکے کھالیتے

“اكل رغدا”، یعنی دنیاوی فلاح و بہبود۔

جیسا کہ ترقی سے مطلب لیا جاتا ہے؛ یعنی اگر تم ہمارے حق میں نازل و صادر ہونے والے احکام الہی اور فرامین نبوی پر عملدرآمد کرتے تو تمہاری دنیا بھی مکمل طور آباد ہوتی اور تم بالکل آباد و خوشحال ہوتے۔

“و ما عال فيكم عائل”،‌

اور اس اسلامی معاشرے میں کوئی بھی ذاتی اور گھریلو اخراجات برداشت کرنے سے عاجز نہ ہوجاتا؛ اگر تم اسی مشروعیت اور حاکمیت کے اسی قانونی جواز کے پابند رہتے جو ہم (محمد و آل محمد (ص)) نے بیان کیا تھا اور اسی راستے پر گامزن ہوتے جو ہم نے تمہیں دکھایا تھا اور اسی راہ پر آگے بڑھ جاتے اور محض دنیاوی اقتدار کا پیچھا نہ کرتے پوری اسلامی امہ میں حتی ایک گھرانہ بھی بھوکا نہ رہتا۔

“و لا ظلم منكم مسلم و لامعاہد”، (14)۔

اور کسی بھی مسلمان اور مسلمانوں کے حلیف شخص [ذمی کافر جو دنیائے اسلام میں معاہدے کے تحت مقیم ہیں] پر ظلم نہ ہوتا اور سب کی جان و مال محفوظ ہوتی۔

اور اگر تم حقوق انسانی کی اسی طرح پابندی کرتے جیسا کہ ہم نے بیان کئے تھے، امن و سلامتی، حقوق و رفاہ اور عظمت و کرامت (Dignity) کے مالک ہوتے، یہ سب اس وجہ سے ہوتا کہ ولایت اور عدل لازم و ملزوم ہیں اور ولایت ہی عدل کا نفاذ کرسکتی ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: 

“ان الناس يستغنون اذا عدل بينہم”، (15)

اگر عدل اسی طرح نافذ کیا جائے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو اس کا اولین ثمرہ رفاہ عامہ اور غربت کی بیخ کنی ہے۔

“العدل رأس الايمان، جماع الاحسان، و اعلي مراتب الايمان”،

عدل تمام بھلائیوں کا سر، نیکیوں اور احسانوں کا مجموعہ اور ایمان کے مراتب میں سب سے اونچا رتبہ ہے۔

[یعنی تمام نیکیاں عدل میں ہیں، انسانی حقوق کی ضمانت عدل سے فراہم ہوتی ہے، معاشرے کی اصلاح کا راستہ اور مسلمانوں کے امور کو سروسامان دینے کا راستہ عدل ہی ہے]۔

“و قل الرعية يصلحہا الا العدل”، (16)

اور کم ہی ہیں ایسے معاشرے جن کی عدل کے سوا کسی اور چیز کے ذریعے اصلاح کیا جاسکی ہو۔

اگر کوئی ایک معاشرے کی اصلاح کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ عدل کے راستے پر گامزن ہوجائے۔ اگر آپ معاشرے میں تعلیم و تربیت و ادب و ثقافت کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ معاشرے کی معنوی اور روحانی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، آپ کسی سے بھی نہیں کہہ سکتے کہ “میرا تمہارے حقوق سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ لیکن میں تمہاری ثقافتی اور معنوی اصلاح کرنا چاہتا ہوں؟”، یہ انہونی بات ہے اور یہ حقوق اور لوگوں کی ثقافت و تعلیم و ادب و تہذیب الگ الگ زمرے نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔

ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام فرماتے ہیں کہ اگر آپ کسی شخص کی معنوی و روحانی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے حقوق کی طرف بھی توجہ دینا پڑے گی۔ جب آپ اس کو اس کے فرائض کی یادآوری کراتے ہیں تو اس کو اس کے حقوق سے بھی آگاہ کریں۔ اور اگر اس کے حقوق اسے بتانا چاہتے ہیں تو اس کو فرائض کی یادآوری بھی کرائیں۔ ورنہ جو کچھ تم کررہے ہو یہ نہ تو تربیت ہے اور نہ ہی عدل و انصاف ہے [اور نہ ہی یہ اصلاحات کے زمرے میں آتا ہے]۔

بعثت نبی (ص)، غدیر اور اعلان ولایت، عاشورا اور مہدویت سب ہی ایک ہی بات کی مختلف صورتیں ہیں۔

[بعثت میں نبی اکرم (ص) نے فرمایا: قولوا لا الہ الااللہ تفلحوا، بُعِثتُ لِاُتَمِّمَ مَکارِمَ الاَخلاقِ، آپ (ص) نے ہے غدیر خم کے مقام پر فرمایا: من کنت مولاه فهذا علیٌ مولاه، عاشورا کے روز امام حسین (ع) نے فرمایا: ارید ان آمر بالمعروف و انهی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی اور امام مهدی علیه السلام کے بارے میں رسول الله (ص) نے فرمایا: لو لم يبق من الدنيا الا يوم واحد ، لطول اللّه عزوجل ذلك اليوم ، حتى يبعث رجلا من ولدى اسمه اسمى، يملؤها عدلا وقسطاكما ملئت جورا وظلما۔ فقام سلمان رض فقال: يا رسول اللّه، من اىّ ولدك هو؟ قال: من ولدى هذا و ضرب بيده على الحسين عليه السلام۔ (17) اگر دنیا کی عمر ختم ہونے کو صرف ایک دن باقی ہو بھی اللہ تعالی اس دن کو اس قدر طویل فرمائے گا کہ میری نسل میں سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گا جو میرا ہمنام ہوگا اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔ رکن خاندان رسول (ص) سلمان محمدی (رض) اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ (ص) یہ فرزند آپ کے کس بیٹے کی نسل سے ہوگا؟ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: میرے اس بیٹے کی اولاد سے اور ہاتھ سے امام حسین علیہ السلام کے کندھے پر تھپکی لگائی]۔

یہ جو سیدالشہداء علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ “میں چاہتا ہوں اپنے نانا اور بابا رسول اللہ اور امیرالمؤمنین صلوات اللہ علیہما کی سیرت پر گامزن رہوں، یہی بات ہے۔ چنانچہ جب رسول اللہ (ص) نے روز غدیر حضرت امیرالمؤمنین (ع) کو ولی و جانشین و خلیفہ کے طور پر متعارف کرایا اس سے پہلے یا بعد کبھی یہ نہیں فرمایا کہ “چونکہ میں ذاتی طور پر علی (ع) سے محبت کرتا ہوں، لہذا یہ آپ کے حاکم ہوں؛ بلکہ فرمایا: “علي اعدلكم و اعلمكم بھذا الامر” (18) علی (ع) امر حکومت میں تم سب سے زیادہ عادل اور سب سے زیادہ عالم و دانا ہیں؛ امرِ حکومت، حقوق، عدل، تربیت و تعلیم اور مشروعیت کے حوالے سے سب سے زیادہ اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف تم سے زیادہ عالم ہیں بلکہ تم سب سے زیادہ اپنے علم پر عمل بھی کرتے ہیں۔ وہ عدل اور حقوق تم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالی نے انہیں ولایت کا عہدہ سونپا ہے اور اللہ تعالی نے یہ عہد اسی حوالے سے ان کے حوالے کیا ہے؛ اللہ کی جانب سے علی علیہ السلام کی ولایت پر تقرری اس لئے نہیں ہے کہ وہ میرے عزیز ہیں، میرے داماد ہیں، … اگر علی (ع) میرے چچا زاد بھائی ہیں تو میرے کئی دیگر چچازاد بھائی بھی تو ہیں، علی اس لئے خلیفہ نہیں بنے ہیں کہ میرے داماد یا چچا زاد بھائی ہیں، بلکہ اس لئے خلیفہ بنے ہیں کہ اعدل و اعلم (سب سے زیادہ جاننے والے اور سب سے زیادہ عدل برتنے والے) ہیں۔ در حقیقت علی علیہ السلام کی حاکمیت کا جواز علم و عدل ہے۔

مرسوم سیاسیات میں قانونی جواز کا علم و عدل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سیاسیات کے کسی بھی مکتب میں حاکمیت کے قانونی جواز [حق حاکمیت] کے بارے میں بحث کرتے ہوئے علم و عدل کو نہیں چھیڑا گیا ہے۔

اگر آپ مختلف ممالک کے آئینوں (Constitutions) کا غائرانہ مطالعہ کریں تو دیکھ لیں گے کہ حاکم، وزیراعظم، صدر اعظم (Chanceller) [یا بادشاہ و شیخ یا امیر] کے لئے جو ضوابط ذکر ہوئے ہیں ان میں کہیں بھی حاکم کے لئے عدل، علم، تقوی، معرفت، اخلاق، معنویت و روحانیت، زہد و جہاد کو اہمیت نہیں دی گئی ہے اور ان خصوصیات کا ذکر تک موجود نہیں ہے۔ کیونکہ وہ قانونی جواز یا لیجیٹیمیسی پر اپنی بحث کا آغاز بیچ راستے سے کرتے ہیں؛ میری بات کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے اپنے یہاں سے شروع کی ہے کہ “کون بر سر اقتدار آسکتا ہے اور اقتدار کا تحفظ کرسکتا ہے”۔ حالانکہ یہ منطق (منطق اہل بیت (ع) اس قضیئے کو اس نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یہاں قانونی جواز کی مشروعیت یا قانونی جواز کا رجوع لوگوں کے حقوق و فرائض اور عدل و علم کی جانب ہے۔

اس کا استدلال کچھ یوں ہے کہ “عدل بھی کیہانی اور تکوینی (کاسمک) بھی ہو اور نفسانی اور اخلاقی بھی ہو یعنی تقوی نیز معاشرتی عدل بھی ہو۔ فرماتے ہیں: توحید (یکتا پرستی) اور ولایت کا تعلق عدل سے ہے۔ عدل تکوینی، وجود شناسانہ (Cosmic and Anthalogic) ہو؛ یعنی یہ کہ اللہ تعالی نے اس عالم کو اس کائنات کو عادلانہ انداز سے خلق فرمایا۔ اخلاقی اور فردی عدل سے مراد یہ ہے کہ یہ بات کافی نہیں ہے کہ حکام معاشرتی عدل کو باہر کی دنیا میں نافذ کریں بلکہ ذاتی اور اندرونی عدل کی بھی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر ایسا شخص سماجی انصاف کا نفاذ کر ہی نہیں سکتا جو ذاتی اور اندرونی طور پر اخلاقی لحاظ سے عادل نہ ہو۔

مزید  ولآيت کا بنيادي مفہوم

اس قاعدے کا استدلال بھی بالکل واضح ہے کہ “جو شخص اپنی ذات کی سرزمین میں عدل کا نفاذ نہ کرسکا ہو وہ معاشرے میں کیونکر عدل کا نفاذ کرسکتا ہے؟ جب کوئی اپنی ذات میں تقوی سے عاری ہے وہ اپنی ذات کے قلمرو میں عدل کا نفاذ نہیں کرسکا ہے۔ یعنی در حقیقت عدل میرے ذاتی اخلاقیات میں حاکم نہیں ہے۔ جب ایک فرد اپنے وجود کا انتظام نہیں عدل کے ساتھ نہیں سنبھال سکتا وہ کیونکر ایک بڑے معاشرے کا انتظام و انصراف عادلانہ انداز سے چلا سکے گا؟ اسی رو سے فرمایا گیا ہے کہ “حاکم کے لئے ایک شرط لازم ذاتی تقوی اور عدل ہے؛ محال و ناممکن ہے کہ کوئی شخص ذاتی اور اخلاقی عدل سے دور دور تک کا واسطہ نہ رکھتا ہو اور وہ اسی حال میں سماجی، معاشی یا سیاسی عدل کو نافذ کرسکے۔

ممکن ہے کوئی شخص ذاتی اخلاق و تقوی سے عاری ہونے کے باوجود بعض شعبوں میں نفاذ عدل کے حوالے سے بعض دکھاوے کے اعمال کر دکھائے۔ لیکن یہ سب وقتی، خاص وقتوں کے لئے، مصنوعی اور ظاہری اعمال ہیں۔ چنانچہ انھوں نے (اشعریوں، مرجئہ، بنو امیہ اور بنو عباس اور جدید علمانی جمہوریتوں اور مطلق العنان و شہنشاہی حکومتوں نے) علم و عدل اور حقانیت کی بحث قانونی جواز یا مشروعیت کی بحث سے حذف کرلی ہے۔ اور وہاں بحث یہ ہے کہ کون اقتدار حاصل کرسکتا ہے، آمریت کے ذریعے، فوجی بغاوت کے ذریعے، انتخابات کے ذریعے، روش میں کوئی فرق نہیں پڑتا؛ کیونکہ حصول اقتدار کی دونوں روشوں میں یکسان طور پر عوام کی خاموشی اور اطاعت پر زور دیا جاتا ہے۔ بلکہ اصولوں کے اوپر زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے۔

چنانچہ ہمارے اصولوں میں فرمایا جاتا ہے کہ:

“العدل اساس قوام العالم”، (19)

[عدل کائنات کی پائیداری اور قیام کی بنیاد ہے]۔

سب سے پہلے کہا جاتا ہے کہ آپ کو کیہانی عدل پر عقیدہ رکھنا پڑے گا؛ یعنی وہی عدل جس میں وجودشناسی والا عدل جس کی بنیاد پر ہی دنیا کو قوام و پائیداری حاصل ہے۔ اور اس کی بدولت کائنات قائم ہے۔ یعنی کائنات کا نظام عدل کے اصول پر استوار و برقرار ہے۔ یعنی وہاں حق کا لحاظ رکھا گیا ہے [یہ تکوینی اور کیہانی اور فطری عدل ہے]، اس کے بعد تشریعی (Legislative) عدل ہے جس کے بارے میں علی (ع) نے فرمایا کہ: “ان العدل میزان اللہ”، (20) عدل اللہ کی میزان اور اللہ کا ترازو ہے ” الّذى وضعہ فى الخلق” وہ ترازو جو اس نے مخلوقات میں وضع کیا ہے “و نصبہ لاقامة الحقّ”، اللہ نے اسی حق و حقیقت کے قیام کے لئے نصب فرمایا ہے۔ تا کہ تشریعی اور معاشرتی عدل قائم و نافذ کیا جاسکے۔ اور فرمایا: “قوام العنان و قوام البرية”، عنان يعني عوام اور بریہ یعنی تمام خلائق یا مخلوقات؛ در حقیقت سماجی انصاف انسانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ حیوانات اور نباتات اور [بے جان] اشیاء کے لئے بھی پائیداری، استواری اور برقراری کا ذریعہ ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی حیات طیبہ اور سیرت مقدسہ میں اشیاء پر بھی نام رکھے ہوئے تھے، آپ (ص) کے حیوانات، درختوں، پودوں، لباسوں اور اوزاروں کے بھی اپنے اپنے نام تھے جو نہایت دلچسپ امر ہے۔ اس بات سے دو معانی اخذ ہوسکتے ہیں؛ پہلی بات یہ کہ یہ آپ (ص) کی حیات میں عجیب نظم و ضبط کا پتہ دیتی ہے اور دوسری بات یہ کہ حتی آپ (ص) حیوانات، نباتات اور جامد اشیاء کے لئے شخصیت اور تشخص کے قائل تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ (ص) اشیاء سے بھی محبت کرتے اور انہیں اللہ کی نشانیان قرار دیا کرتے تھے۔ [محبت میں بھی عدل]، یعنی یہ کہ آپ (ص) اس شیئے کے لئے نام رکھ کر فرمانا چاہتے تھے کہ میں تجھ سے مخلص ہوں اور تو دوسری چیزوں میں سے کوئی عام سے چیز نہیں ہے۔ محبت اور نظم و ضبط بھری نگاہ ایک ہستی شناسانہ (آنتولوجک) نگاہ ہے۔

اسلام کے سیاسی اور سماجی احکام اور حقوق، منجملہ مشروعیت یا قانونی جواز (حق)، انسانی حقوق، سماجی، معاشی، سیاسی شعبوں نیز نظام عدل میں عدل و انصاف سب کے سب انسان شناسی (Anthropology) کے عین مطابق، انسان شناسی ہستی شناسی (آنتولوژی) کے عین مطابق اور ہستی شناسی (یا وجود شناسی) خدا شناسی یا معرفتِ ربّ (یا Theosophy) کے عین مطابق ہے؛ اگر ہم نے انسان کو صحیح طور سے پہچانا، تو ہم اس کی حقیقی ضروریات و احتیاجات، اس کی اہلیتوں اور صلاحیتوں اور اس کے روابط و تعلقات کو صحیح طریقے سے پہچان سکیں گے۔ جب ہم اس مرحلے تک پہنچیں گے تو تب ہی وہ احکام اور حقوق معلوم اور مدلل ہوکر سامنے آئیں گے جو اس موجود کے کمال و ارتقاء اور سعادت و خوشبختی کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ [فلسفہ حقوق و احکام واضح ہوجاتا ہے] معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کہا جاتا ہے کہ زنا، شراب نوشی، غصب، ربا (سود خوری) اور جھوٹ کو ترک کرنا چاہئے، تو ایسا کیوں ہے اور یہ افعال کیوں نہیں ہونے چاہئیں؛ ان سب کی دلیل سامنے آتی ہے۔ اسی ترتیب سے جہاد، انفاق، زکاة اور نماز کی فرضیت کی وجہ اور دلیل روشن ہوجاتی ہے۔

ان سب “ہونا چاہئے” اور “نہ ہونا چاہئے” کے لئے دلیل موجود ہے اور ان کے بارے میں بحث ممکن ہے۔ کیونکہ اس کا اصول اور اس کی بنیاد وجود شناسی اور غایت شناسی یا انجام شناسی ہے۔ حکم آتا ہے کہ عقل کو وحی سے جوڑ کر انسان کے وجود کے مختلف پہلوؤں اور جہتوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ بنی نوع بشر کے حوالے سے آپ کے تأثر و ادراک کی نوعیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان کے وجود میں کیا صلاحیتیں اور کیا احتیاجات ہیں؟ جنہیں ایک ایک کر بالیدگی اور شگفتگی تک پہنچنا چاہئے اور اس کی خوابیدہ قوتوں کو فعلیت اور عملیت کے مقام پر فائز ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں اخلاق اور حقوق کی جڑیں انسان شناسی میں پیوست ہیں۔ چنانچہ اخلاق بھی مدلل و مبرہن ہے اور حقوق بھی مدلل و مبرہن ہیں اور یہ دو ـ جو بظاہر اعتباری (*) اور مجازی لگتے ہیں ـ ہماری نگاہ میں اعتباری (*) اور مجازی نہیں ہیں۔ لہذا اخلاقیات و حقوق کے پورے مجموعے کا جائزہ کسی قرارداد یا عوام کی اکثریتی رائے سے ہی نہیں لیا جاسکتا۔ [کیونکہ یہاں کئی سوالات اٹھیں گے اور ان میں سے سادہ ترین سوال یہ ہے کہ] اگر دنیا کے پورے انسانوں سے رائے لی جائے کہ کسی بے گناہ انسان کو پھانسی پر لٹکایا جائے یا نہیں، یا اس کے اموال چھین لئے جائیں یا نہیں، یا اس کی آبرو و عزت کو سربازار نیلام کیا جائے یا نہیں؟ اور دنیا کے تمام انسان رائے دیں کہ اس کو پھانسی دی جائے یا اس کے اموال لوٹ لئے جائیں یا اس کی آبرو نیلام کی جائے اور صرف ایک شخص (یعنی وہ بے گناہ شخص خود) رائے دے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تو کیا یہ ناحق، حق ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں، یہ حق قابل اثبات نہیں ہوگا کیونکہ انسانوں سے رائے اور ووٹ لینے کے لئے بھی عقل اور اخلاق کا دائرہ ہونا چاہئے اور کوئی قرارداد بھی صرف اخلاق اور حقوق اور عقل کے دائرے میں ہی معتبر ہوگی۔

اب [ہم اپنے ابتدائی سوال کی طرف لوٹتے ہیں کہ] اگر آپ سے پوچھا جائے کہ کیا انسانی علوم (Humanities)، انسانی حقوق، سیاسیات اور مشروعیت (لیجیٹیمیسی) کو اسلامی اور غیر اسلامی میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ آپ کہہ دیں کہ: “کیوں نہیں”، کیونکہ دنیاوی رجحانات پر مبنی انسانی حقوق، معاشیات اور سیاست کی سیکولر اور علمانی تعریف کا مدار و محور ہی ہوگا۔ انسانی علوم یعنی انسان شناسی کے مختلف مکاتب نے اگر انسان کی مادی تعریف فراہم کی تو اس صورت میں اس کے لئے جو حقوق اور فرائض بھی وضع کئے جائیں گے ان کی اساس بھی دنیاوی مادی رجحانات ہی ہونگے؛ جبکہ اگر انسان کی تعریف الہی ہوگی تو اس حقوق و فرائض بھی الہی ہونگے۔

نہ جانے کہ وہ ان دو کے درمیان موجودہ اختلافات کا ادراک وہ کیوں نہیں کرسکتے؟ جب آپ “الف” کی تعریف کرتے ہیں تو اسی تعریف سے ہی “الف” کی ذات کے عین مطابق ہدایات حاصل ہوتی ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ لبرل ہیومین رائٹس اور مارکسسٹ ہیومین رائٹس میں فرق ہو اور یہ فرق بامعنی بھی ہو اور قابل فہم و ادراک بھی ہو لیکن جب اسلامی انسانی حقوق کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں ہے؛ اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ جبکہ اسلام نے اتنی باریک بینی اور اتنی وسعت سے انسان اور اس کے حقوق و فرائض اور معیشت و سیاست کے بارے میں فلسفی اور اخلاقی بحث کی ہے جبکہ مغربی علمانیت انسان کے بارے میں اسلام جتنی وسیع بحث نہیں کرتی۔ تاہم اگر کہیں کوئی بحث ہے تو اس کا عقلی اور تجرباتی حصہ دونوں میں مشترکہ ہے۔ ہمارے مکتب میں نظریہ (Idealogy) مغربیوں کی مانند تعصب آمیز اور جامد نہیں ہے بلکہ ہمارا نظریہ دلیلوں پر مبنی ہے۔ مکتب توحید میں انسانی علوم اور سیاسیات کی روشنی میں انسانی حقوق، عدل اور مشروعیت یا قانونی جواز کا منبع اللہ تعالی کا تشریعی ارادہ اور تشریعی حکم پر استوار ہے۔ [یعنی خدا نے ایسا کرنے کا فرمان جاری فرمایا ہے]، قرآن اور احادیث ان تمام چیزوں کا سرچشمہ ہیں جو انسانی حقوق، عدل و انصاف اور مشروعیت یا قانونی جواز کا منبع کہلاتی ہیں؛ یہ سب اللہ کے تشریعی ارادے کی طرف اشارہ ہیں اور ان سے اللہ کا ارادہ تشریعی بوضوح کشف ہوجاتا ہے۔ یعنی حقوق شناسی، سیاست، معاشیات سے پہلے، مشروعیت یا قانونی جواز کی تعریف سے بھی پہلے، یعنی سب سے پہلے وجود شناسی اور انسانی شناسی کی باری ہے۔ یہ ہم حقوق کے لئے جو فلسفہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حقوق و فرائض کی قانون سازی اور تشریع کا سرچشمہ ذات باری تعالی ہے، اس کے لئے ہم فلسفی استدلال بھی فراہم کرتے ہیں۔

اختصار کے ساتھ کہتا ہوں کہ اللہ کا وجود، اس کے اوصاف، اس کی ذات، صفات، اسماء سب کے سب قابل اثبات ہیں، انسانوں پر ہی نہیں بلکہ تمام مخلوقات پر اللہ تعالی کا حق بھی دلیل و برہان سے ثابت ہوتا ہے اور یہیں سے حقوق، قانونی جواز اور علم سیاست کی بحث بھی شروع کرتے ہیں۔

درحقیقت ایک بنیادی فلسفی بحث کو پکڑلیتے ہیں اور پھر باہر آتے ہیں۔ انسانوں پر خدا کا حق ایک دوسری بحث کے اثبات سے حاصل ہوتا ہے اور ہم اس کو دلیل و برہان سے ثابت کرتے ہیں؛ پہلے ثابت کرتے ہیں کہ خدا عالم اور انسان کا مالک ہے جس کے بعد یہ بحث سامنے آتی ہے کہ خداوند متعال انسان اور عالم میں تصرف کا حق رکھتا ہے، بالفاظ دیگر خالقیت کا اثبات [یعنی عالم مخلوق ہے]، اس کے بعد حقیقی مالکیت کا موضوع سامنے آتا ہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی کسی چیز کا حقیقی خالق نہیں ہے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے حق اور صاحب حق کو خلق کیا ہے، خدا خالق ہے، پس وہ مالک ہے، پس وہ حاکم ہے، وہ خالق و مالک و حاکم ہے لہذا وہی ذاتی طور پر حق حاکمیت کا مالک ہے اور بس۔ اب جبکہ خدا حاکم ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ انسان کے حقوق و فرائض کا تعین اور تعریف کرے۔ چنانچہ انسانی حقوق کا منشأ اور سرچشمہ حق اللہ کی بنیاد پر استوار ہے۔ امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: “ہو اصل الحقوق” (19) [خدا کی ذات تمام حقوق کی جڑ ہے]، یعنی وہ تمام حقوق جو ہم اس دنیا میں بیان اور معین کرتے ہیں انسانی حقوق، سیاسی حقوق، خاندانی حقوق وغیرہ سب حق اللہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ “و منہ یتفرق [یا یتفرع)” یعنی یہ سب حق خداوندی کی شاخیں ہیں جو اس تنّے سے مشتق ہوئے ہیں۔ یعنی یہ کہ آپ کو اس امر پر قدرت حاصل ہونی چاہئے کہ تمام حقوق کو حق اللہ کی طرف لوٹائیں ورنہ حقوق کی کوئی بھی فلسفی توجیہ (Philosophic Justification) ممکن نہیں ہوگی۔

دوسرا نتیجہ یہ کہ آپ کسی چیز کو بھی انسانی حقوق کے عنوان سے متعین نہیں کرسکتے جو حق اللہ سے مغایرت رکھتی ہو۔ یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ “الف” انسانی حق ہے جبکہ حق اللہ اور شریعةاللہ کے خلاف ہے، کیونکہ کوئی بھی حق الناس حق اللہ کے بغیر قابل اثبات نہیں ہے، اور تمام حقوق کا منبع و سرچشمہ حق اللہ کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ قطعی اور عقلی ادراک ہے کہ خالقیت، اس کے بعد مالکیت اور اس کے بعد حاکمیت اور آخرالامر ولایت الہی کا حق تصرف، اور نتیجتاً زندگی کے تمام شعبوں میں حقوق و فرائض کا سرچشمہ الہی ہونا چاہئے۔ البتہ عقل اور شرع ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تا کہ لوگ اس ادراک تک پہنچ سکیں۔ خدا کے سوا کسی کو بھی ذاتی اور حقیقی طور پر کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز میں تصرف کا حق حاصل نہیں ہے، کسی کا خدا پر کوئی حق نہیں ہے۔ کوئی بھی حقیقتاً خدا پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا پر فلان حق ہے اور خدا نے ہمارے سامنے اپنے لئے فرائض مقرر فرمائے ہیں، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ حق اللہ اور حق انسان یکساں ہے، کیونکہ ہم ادراک نہیں کرسکتے کہ لوگ ہم سے یہ کیسی بات کررہے ہیں۔ ورنہ کسی چیز اور کسی شخص کا خدا پر کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ ساری چیزیں خدا کی مخلوق ہیں۔ یہ صرف خدا کی ذات ہے جو ہر چیز اور ہر فرد پر حق رکھتا ہے۔ البتہ یہاں ایک سوال اور ایک ابہام بھی ہے لیکن چونکہ فرصت نہیں ہے اسی لئے اس سے گذرنا چاہتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ فقط خدا کی ذات ہے جو اپنی ذات پر قائم اور اپنی ذات پر استوار ہے، حقیقی مالکیت صرف اس کی ذات کی زینت ہے اور تمام فلسفی دلیلیں انسانی حقوق کے لئے ہیں نہ کہ خدا کی ذات کے لئے۔ خدا کے سوا کسی چیز اور کسی فرد کے لئے ذاتی طور پر تصرف کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ حقیقت میں کوئی بھی حقیقی خالقیت اور حقیقی مالکیت موجود ہی نہیں ہے خدا کے سوا۔ سوائے خدا کے، جو صاحب حق ہے، کوئی بھی شخص، کوئی بھی چیز کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز پر اور ایک دوسرے پر اور خدا پر کوئی حق نہیں رکھتا۔ اگر خدا کے ذمے ہمارا کوئی حق ہے تو وہ وہی ہے جو خدا نے خود ہی ہمارے لئے متعین فرمایا ہے۔ ہم اپنی جانب سے خدا کے سامنے کسی حق کے مالک نہیں ہیں، اس حق کا ایک حصہ خدا نے رسول اللہ (ص)، اپنے اولیاء اور رسول اللہ (ص) کے اوصیاء اور جانشینوں کو عطا فرمایا ہے اور اسی حق کا کچھ حصہ لوگوں کے لئے قرار دیا ہے۔ دینی اور توحیدی نگاہ کے مطابق عقلی برہان سے استفادہ کرتے ہوئے، حقوق، عدل، حق اور انسانی حقوق کا منشأ و سرچشمہ مدلل طریقے سے بیان اور واضح کیا جاسکتا ہے۔ اب غیر دینی اور غیر توحیدی قوانین میں جب حقوق و اخلاق اور خدا کی خالقیت و حاکمیت ہی قابل اثبات نہیں ہے تو اس کے لئے عقلی برہان لانا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟ لہذا ان کے فلسفی ترین استدلالات یا استدلال کی مانند باتیں، دینی نگاہ سے قطع نظر انسانی حقوق و فرائض کے اثبات کے لئے، اٹھارہویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتے ہیں جب مغربی ادبیات فلسفی ـ دینی تھے؛ کہا کرتے تھے کہ “خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا پس کسی کو بھی انسان کے حقوق ضائع کرنے کا حق نہیں پہنچتا”۔ یہ درحقیقت ایک دینی استدلال ہے۔ ہماری رائے کے مطابق، اگر یہی استدلال آزادی، انسانی حقوق اور سیاسی قانونی جواز (حق) کی بنیاد ہے تو کہنا چاہئے کہ “وہی خدا جس نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہے اسی نے ہمارے لئے بعض حدود اور سرحدات بھی معین فرمائی ہیں۔ وہی خدا جس نے حقوق اور آزادیاں وضع کی ہیں اسی نے حدود بھی وضع کی ہیں۔ یہ کیسی بات ہے کہ اس نے جو حقوق اور آزادیاں وضع کی ہیں وہ تو قابل قبول ہیں لیکن اس نے جو فرائض مقرر کئے ہیں وہ ناقابل قبول ہیں؟

انسانی حقوق قابل قبول ہیں انسانی فرائض ناقابل قبول؟

البتہ آج کی مغربی دنیا میں اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں کے طبیعی اور فطری حقوق کو نہیں زیادہ نہیں چھیڑا جاتا۔ البتہ وہی حقوق حال ہی میں دوسری صورت میں بیان کئے جانے لگے ہیں۔ اب اس زمانے میں جبکہ قراردادی، عرفی، تحصلی، علمانی، جمہوری وغیرہ جیسے حقوق کی باتیں ہونے لگی ہیں تو ان کے لئے کیا فلسفی استدلال کرتے ہیں؟ اب ان کی فلسفی دلیل صرف یہ ہے کہ “اگر ہم ایک دوسرے سے مفاہمت نہ کریں، ایک دوسرے کے لئے حدود کا تعین نہ کریں، تو ہم سب نیست و نابود ہوجائیں گے؛ ہم سب یہی تو چاہتے ہیں کہ زندگی گذاریں اور زندگی سے زیادہ سے زیادہ لذت اٹھائیں تو آئیں اور زیادہ سے زیادہ لذتیں اٹھانے کے لئے اپنی بعض لذتوں سے چشم پوشی کریں!”۔ [یعنی نظریۂ ضرورت کے تحت سماجی سمجھوتہ]۔

کیا یہ ایک فلسفی استدلال ہے؟ کیا آپ کا فلسفی ترین استدلال اصولی طور پر فلسفی بھی ہے؟ یہ نہ تو فلسفی استدلال ہے اور نہ ہی اخلاقی ہے۔ یہ مصلحت پسندی اور نظریۂ ضرورت کے تحت پیش کی جانی والی پراگماتیت((((( پر مبنی (Pragmaitistic) دلیل ہے۔ یعنی چونکہ زندگی گذارنے کا کوئی اور طریقہ ہے نہیں ہے لہذا کہتے ہیں کہ چلئے آپس میں سمجھوتہ کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آخرالامر جنگل میں حیوانات بھی کسی طرح سمجھوتہ کرہی لیتے ہیں، اس طرح کے سمجھوتے اور جنگلی جانوروں کے بیچ کے سمجھوتے میں ماہیت کے لحاظ سے کتنا فرق ہے؟ ایک فرق جو ہماری سمجھ میں آتا ہے یہ ہے کہ جنگلی جانور اس طرح کوئی قرارداد کاغذ پر لکھنے سے عاجز ہیں جبکہ یہ لذتوں کی تقسیم پر طے پانے والی قرارداد کاغذ پر بھی لکھ ڈالتے ہیں۔ حیوانات ایک دوسرے کے احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ مار کھانے کے خوف سے ایک دوسرے کے احاطے میں داخلے سے گریز کرتے ہیں چنانچہ جب بھی دیکھتے ہیں کہ لات کھائے بغیر لات مار سکتے ہیں تو بڑے شوق سے جاکر لات مارتے ہیں [قلمرو پر قبضہ بھی کرتے ہیں]، در حقیقت یہ طرز فکر بھی ایسی ہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ عراق، افغانستان، فلسطین اور لبنان کو [لات کھائے اور نقصان اٹھائے بغیر] اپنے تصرف میں لاسکتے ہیں تو منہ اٹھا کر آتے ہیں اور حملہ کرتے ہیں اور جب تک ممکن ہو آتے ہیں اور جب بھی انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے تو پسپا ہوجاتے ہیں۔ اس عمل کا نام انسانی حقوق کا احترام نہیں ہے؛ یہ تو جبری انسانی حقوق ہوئے۔ یعنی جہاں تک ہم میں طاقت ہو پیشقدمی کرتے ہیں اور جب ہماری طاقت جواب دے جاتی ہے تو انسانی حقوق کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔

والسلام عليكم و رحمة اللہ و بركاتہ

حوالہ جات:

1۔ وسائل الشیعة شیخ حر عاملی ـ مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث العربی بیروت لبنان (30 مجلد) جلد 11 ص 430 جلد 16 ص 165۔

2۔ کربلا میں داخل ہوکر ہی امام حسین علیہ السلام کے خطبے سے اقتباس۔ صحیفةالحسین ص 278۔

3ـ4ـ5۔ بحارالانوار ج 44 ص 325۔

6۔ صحیفةالحسین (ع) – ص 266۔

7۔  اقبال کہتے ہیں:

مدعایش سلطنت بودی اگر

خود نکردی با چنین سامان سفر

اگر امام حسین (ع) کا مدعا سلطنت اور حکومت ہوتک تو تو خواتین اور بچوں کو ہرگز کربلا لے کر نہ آتے اور اصحاب کی مختصر تعداد لے کر 30 سے لے کر ساٹھ ہزار باقاعدہ فوجیوں اور شام کے فاسق حکمران کی طاقت سے ٹکر نہ لیتے۔

8۔ بحارالانوار جلد 44 ص 334 – 335 – صحیفة الحسین (ع) ص 316۔ کوفیوں کے نام مسلم بن عقیل (ع) کو دیئے گئے مراسلے سے اقتباس۔

9۔ نهج الشهادة، ص 225/ ادب الحسین و حماسته، ص 169.

میری شأن و منزلت یہ نہیں ہے کہ موت سے خوفزدہ ہوجاؤں. کتنا آسان ہے موت کو گلے لگانا عزت کی راہ میں اور حق و حقیقت کے احیاء کی راہ میں. عزت کی راہ میں موت ابدی زندگی کے سوا کچھ نہیں اور ذلت کی زندگی تدریجی موت کے سوا کچھ نہیں۔

امام حسین(علیه السلام) عزت و عظمت تک پہنچنے کے لئے سرمایہ کاری کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“موت فی عزّ خیر من حیاة فی ذلّ”؛ عزت و عظمت تک پہنچنے کے لئے موت کو گلے لگانا زندگی ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔

عزت اور ذلت دو متضاد اصطلاحات ہیں۔ انسان اصطلاح “عزت” اور اس کے مفہوم سے لذت اٹھاتے ہیں اور سب کی آرزو ہے کہ اپنے خاندان میں، معاشرے میں اور دنیا میں عزیز اور صاحب عزت و عظمت ہوں جبکہ دوسری طرف سے جب وہ ذلت کی اصطلاح اور اس کے مفہوم سے روشناس ہوتے ہیں تو اس تصور سے ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں کہ کہیں اپنی زندگی میں ذلت سے دوچار نہ ہوں۔

10. قال علی علیه السلام: وَاللَّهِ ما مُعاوِيَةُ بِأََدْهَى مِنِّي ، وَ لَكِنَّهُ يَغْدِرُ وَ يَفْجُرُ، وَ لَوْ لا كَراهِيَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ اءَدْهَى النَّاسِ، وَ لكنْ كُلُّ غُدَرَةٍ فُجَرَةٌ، وَ كُلُّ فُجَرَةٍ كُفَرَةٌ، وَ لِكُلِّ غادِرٍ لِواءٌ يُعْرَفُ بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ. وَاللَّهِ ما اءُسْتَغْفَلُ بِالْمَكِيدَةِ، وَ لا اءُسْتَغْمَزُ بِالشَّدِيدَةِ.

خدا کی قسم! معاويہ مجھ سے زیادہ زيرک نہیں ہے۔ وہ پيمان شكنى کرتا ہے اور گناہ و فجور کا مرتکب ہوتا ہے۔ اگر میں پيمان شكنى سے کراہیت نہ رکھتا تو لوگوں میں زیرکترین میں ہی ہوتا۔ لیکن پیمان شکن گنہگار ہیں اور گنہگار لوگ نافرمان ہیں۔ قیامت کے روز ہر عہد شکن فرد کا اپنا خاص پرچم ہوگا جو اس کی شناخت کا سبب ہوگا۔ خدا کی قسم! مکر اور دھوکہ بازی مجھے انہیں لے گی اور میں دشواریوں میں عجز کا شکار نہیں ہونگا۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر 191. فیض الاسلام کے نسخے میں اس خطبے کا شمارہ 200 ہے۔

11. Zahhāk or Zohhāk (in Persian: ضحاک) is an evil figure in Iranian mythology, evident in ancient Iranian folklore as Aži Dahāka, the name by which he also appears in the texts of the Avesta. In Middle Persian he is called Dahāg or   Bēvar-Asp, the latter meaning “[he who has] 10,000 horses”.

12۔ والرعية سواد يستعبدہم العدل والعدل أساس بہ قوام العالم۔ (بحارج75 ص 83)

رعایا ایک سائے کی مانند ہیں جنہیں عدل ہی سرتسلیم خم کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے اور عدل ہی اس عالم کی پائیداری اور استواری کی بنیاد ہے۔

13۔ قلوب الرّعيّة خزائن راعيہا، فما اودعہا من عدل او جور وجدہ = رعایا کے دل فرمانرواؤں کے خزینے ہیں پس وہ خواہ ان میں عدل ودیعت رکھیں یا ظلم، اسی طرح کا ثمرہ پائیں گے۔ غرر الحِکَم و دُرَرُالکَلِم – ح 4148 ـ صفحہ 533۔

14۔ والذي فلق الحبة وبرا النسمة لو اقتبستم العلم من معدنه وشربتم الماء بعذوبته، وادخرتم الخير من موضعه، وأخذتم من الطريق واضحة، وسلكتم من الحق نهجه لنهجت بكم السبل وبدت لكم الاعلام وأضاء لكم الاسلام، فأكلتم رغدا وما عال فيكم عائل ولا ظلم منكم مسلم ولا معاهد.

قسم ہے اس ذات کی جس نے جانداروں کو حیات عطا کی اور دانے کو شگافتہ کیا اگر تم علم کو اس کے معدن سے لیتے اور پانی کو اس کی شیرینی کے ساتھ نوش کرتے اور خیر و بھلائی کو اس کے اصل مقام سے اخذکرتے اور راستے پر اس کے روشن نقطے سے گامزن ہوتے اور حق کے راستے پر قدم رکھتے تو راستے تمہارے لئے ہموار ہوتے اور راستوں کی نشانیان تمہارے لئے روشن ہوجاتیں اور اسلام تمہارے لئے راستے روشن کردیتا۔ پس تم آرام و سکون کے ساتھ اس میں سے کھا لیتے اور تمہارے درمیان کوئی بھی محتاج باقی نہ رہتا اور تم میں سے کوئی بھی مسلمان اور ذمی پر ظلم نہ ہوتا. الحياة ج 2 ص493 – بحارالانوار ج 28 ص 240/241.

15۔ إن الناس يستغنون إذا عدل بينہم وتنزل السماء رزقہا وتخرج الارض بركتہا بإذن اللہ تعالى۔ الكافى ج 3 ص 568۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: امر مسلم ہے کہ جب انسانوں کے درمیان عدل و انصاف نافذ ہوجائے تو لوگ بے نیاز اور مستغنی ہوجاتے ہیں اور آسمان اپنا رزق ان پر نازل کرتا ہے اور زمین اپنی برکتیں ان کے لئے اگل لیتی ہے۔

16- الكافى ج 8 ص 32 ـ مستدرك نہج البلاغہ ـ ص31۔

17۔ كشف الغمہ ـ اربلی – غاية المرام ـ بحرانی – ۔ بحارالانوار علامہ محمد باقر مجلسی ج 1 ص 78 ــ 85 – اعيان الشيعة ـ سید محسن امین عاملی – جزء 4 ب ۔ حجت بالغہ ـ بلاغی۔

18. بعض افراد شاید ان روایات کو دیکھنا چاہتے ہوں جو بہت ہی اہم ہیں کیونکہ یہ اولاً نبوی روایات ہیں یعنی رسول اکرم (ص) کی ذات بابرکات سے ہی نقل ہوئی ہیں اور پھر یہ روایت شیعیان اہل بیت (ع) کی تسمیہ اور نامگذاری کے بارے ہے اور پھر یہ روایت معتبر سنی علماء سے نقل ہوئی ہے۔

حافظ ابوالمؤيد مكى حنفى خوارزمى “متوفائے سنہ 568 ہجری” اپنی کتاب “المناقب” کے صفحہ 66 پر موثق و معتبر صحابی رسول (ص) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کرتے ہیں:

عن جابر، قال: كنا عند النبى- صلى الله عليه و سلم- فاقبل على بن ابيطالب فقال رسول الله:قد اتاكم اخى. ثم التفت الى الكعبه فضربها بيده، ثم قال: والذى نفسى بيده: ان هذا و شيعته هم الفائزون يوم القيامة. ثم قال: انه اولكم ايمانا معى، و اوفاكم بعهدالله، و اقومكم بامرالله، و اعدلكم فى الرعية، و اقسمكم بالسوية، و اعظمكم عندالله مزية. قال: و فى ذلك الوقت نزلت فيه: ان الذين آمنوا و عملوا الصالحات اولئك هم خير البرية…

ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور بیٹھے تھے کہ اتنے میں علی بن ابی طالب علیہ السلام وارد ہوئے۔ پغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: “قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان اور میری زندگی ہے یہ “علی” اور ان کے شیعہ قیامت کے دن فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں۔ اس کے بعد آپ (ص) نے فرمایا: تم سب میں سے یہ علی اسلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں، وہ خدا کے ساتھ عہد و پیمان پر تم سے زیادہ استوار ہیں، خدا کے امر کے نفاذ میں تم سب سے زیادہ پائیدار، اور خلائق کے ساتھ برتاؤ میں تم سب سے زیادہ عادل اور تقسیم میں تم سب سے زیادہ مساوات برتنے والے، اور خدا کے نزدیک تم سب سے زیادہ محترم اور معظم ہیں۔

جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ اسی اثناء میں یہ آیت علی (ع) کی شان مین نازل ہوئی: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ. (سوره البینه – آیت 7)

حافظ ابوالمؤيد مكى کی دیگر تأليفات میں کتاب “مناقب الامام ابى حنيفہ” شامل ہے جو دو جلدوں میں حیدر آباد دکن سے سنہ 1321 ہجری میں شائع ہوئی ہے۔ اور صاحب الغدیر مرحوم علامہ عبدالحسین امینی نے بھی الغدیر کی چوتھی جلد کے صفحہ 402 پر اس کتاب کا حوالہ دیا ہے۔

19. بحارج75 ص 83.

20۔ انّ العدل ميزان اللّہ سبحانہ الّذى وضعہ فى الخلق و نصبہ لاقامة الحقّ فلا تخالفہ فى ميزانہ و لا تعارضہ فى سلطانہ= ( غررالحكم ودررالكلم جلد 2 ص91) بے شک عدل خدائے سبحان کی میزان و ترازو ہے جو اس نے لوگوں کے مابین برقرار فرمایا ہے اور اسے حق کو برپا رکھنے کے لئے نصب فرمایا ہے پس میزان الہی (یعنی عدل کی قیام) میں خدا کی مخالفت نہ کرو اور اس کی بادشاہت میں اس کا مقابلہ اور برابری کرنے کی جسارت نہ کرو۔

21۔ فأكبر حقوق اللہ تبارك وتعالى عليك ما أوجب عليك لنفسہ من حقہ الذي ہو أصل الحقوق، ثم ما أوجب اللہ عزوجل عليك لنفسك۔ (خصال الشیخ الصدوق ص 565)۔

پس اللہ تبارک و تعالی کا سب سے بڑا حق وہ ہے جو اس نے اپنے لئے تم پر قرار دیا ہے اس حق میں سے جو تمام حقوق کی جڑ اور بنیاد ہے اور اس کے بعد دوسرا بڑا حق وہ ہے جو اللہ تعالی نے تمہارے لئے تمہارے اوپر عائد کیا ہے…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.