ہمیشہ باقی رہنے والا معجزہ

0 3

حضرت محمد مصطفی (ص) آپ صاحب معجزہ تھے اور اپنی زندگی کے مختلف ایام میں لوگوں کو معجزہ سے روشناس کرایا ہے اور کثرت سے حدیث اور تاریخی کتابوں میں اس کی طرف اشارہ ملتا ہے، ان سب کے علاوہ قرآن مجید ہمیشہ رہنے والا معجزہ اور آپ کی نبوت پر قطعی ثبوت ہے قرآن کریم خود اپنے کو معجزہ سے تعبیر کرتا ہے اور خدالوگوں سے کہتا ہے جو ہم نے قرآن مجید اپنے بندے (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ ) پر نازل کیا ہے اس پر شک کرتے ہو تو اس کے مثل ایک سورہ ہی لے آئو ۔ (١) اورقرآن کہتا ہے اگر تمام جن و انس قرآن کا مثل لانے پر اتفاق کرلیں تب بھی نہیں لاسکتے ۔ (٢) اسلام کے دشمن اسلام سے ہر طریقے سے لڑنے کے لئے آمادہ ہو گئے کسی راہ کو باقی نہیں چھوڑا، اور خطرناک سے خطرناک جنگوں سے سامنا کرنے سے منھ تک نہ موڑا اور جانی و مالی بے انتہا نقصان برداشت کئے لیکن قرآن سے جنگ کرنے کے لئے اصلاً آمادہ نہ ہوئے ،ہاں اگر ان کے بس کا ہوتا تو قرآن کے سورہ کی طرح کسی ایک سورہ کا جواب لاکر رکھ دیتے! اگر ان کے اختیار میں ہوتا تو اتنی بڑی بڑی جنگوں کے مقابل سورہ لانے کو زیادہ ترجیح دیتے اور ہزارہا زحمت و پریشانی سے سبکدوش ہوجاتے مثلِ سورہ قرآن کوئی سورہ پیش کرنے پر اصلاً قدرت ہی نہیں رکھتے تھے ۔ 

قرآن مجید آنحضرت (ص)کی تیئیس سال کی زندگی میں رفتہ رفتہ نازل ہوا ہے آنحضرت (ص)کے اصحاب ِکرام ان آیات کو حفظ کرتے تھے اس کے بعد جمع آوری ہوئی اور کتاب کی صورت میں لوگوں کے سامنے آگیا، قرآن مجید پہلی آسمانی کتاب ہے جس میں کسی طرح کی کوئی تغییر و تحریف نہیں پائی جاتی ہے ، اور بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں کے سامنے موجود ہے ۔ 

مزید  مسلم بن عقیل سفیر حسین بن علی علیہ السلام

قرآن کتاب عمل ہے : اگر مسلمان دارین کی سر بلندی چاہتے ہیں اور ان کی چھنی ہوئی شان و شوکت ،جاہ و حشم واپس آجائے تو چاہئے کہ قرآن کے بیان کردہ محکم قوانین اور دستور کی پیروی و اتباع کریں ا ور اپنے تمام کاموں نیز تمام لا علاج امراض میں قرآن سے تمسک و توسل کرکے ان اجتماعی و انفرادی مشکلوں کو حل کریں ۔

(١)۔بقرہ (٢) آیت ٢٣

(٢)۔ اسراء (١٧) آیت ٨٨ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.