ہمسفر کے حقوق

0 0

حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ایک غیرمسلم شخص راستے میں جناب امیر کا ہمسفر ہوگیا وہ آپ کونہيں پہچانتا تھا اس نے جنا ب امیر سے سوال کیا کہ آپ کہاں جارہے ہیں حضرت نے فرمایا : کوفہ ۔ جب دونوں ایک ایسے مقام پرپہنچے جہاں سے دوراستے الگ الگ ہوجاتے ہیں تووہ غیرمسلم شخص دوسرے راستے کی جانب چل پڑا حضرت نے کچھ دورتک اس کا ساتھ دیا اس نے حضرت سے کہا کہ آپ توکوفہ جارہے تھے کیوں اس راستے پرآرہے ہيں کیا آپ کونہیں معلوم کہ کوفہ کا راستہ ادھرسے نہيں جاتا ؟ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا مجھے معلوم ہے لیکن ہمارے پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی رفاقت ودوستی یہ ہے کہ دوست کا کچھ دورتک ساتھ دیا جائے اورکچھ دورتک اسے رخصت کیا جائے میں اسی لئے تیرے ساتھ یہاں تک آیا ہوں ۔ اس غیرمسلم شخص نے کہا کہ جولوگ بھی دین اسلام  کے پیروی کررہے ہيں وہ اس دین کی اخلاقی تعلیمات کے گرویدہ ہوگئے ہيں اوراب میں آپ کوگواہ بنارہاہوں کہ میں بھی اسلام قبول کررہا ہوں ۔

وہ شخص وہیں حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ کوفہ آیا اورکوفہ پہنچنے کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ آپ ہی امیرالمومنین ہیں اورپھر اس نے آپ کے حضورکلمہ شہادت زبان پرجاری کیا ۔

مزید  رسالت کا گُلِ معطر حضرت فاطمہ(س)
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.