ہماری زندگی میں صبر اور شکر کی اہمیت

0 0

صبر و شکر جیسے اوصاف ایک مومن مسلمان کی نشانی ہوتے ہیں ۔ مومن زندگی کے مشکل سے مشکل حال میں بھی صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور اپنے رب کے بتاۓ ہوۓ  اصولوں کے مطابق چلتے ہوۓ اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے ۔

 روز مرّہ پیش آنے والے حالات خوش گوار بھی ہو سکتے ہیں اور نہایت برے بھی ۔ ان دونوں حالتوں میں ہمیں صبرو شکر  کا رویہ اختیار کرنا چاہیۓ اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیۓ جو ہمارے ایمان کی خرابی کا باعث ہو ۔

 صبر کے لغوی معنی ” روکنا ”  اور ” برداشت کرنا ” کے ہیں اور اس کا مفہوم یہی ہے کہ اگر کبھی کسی مسلمان پر مشکل وقت آ جاۓ جس میں اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ جاۓ تو ایسے حالات میں اسے مایوسی کا راستہ نہیں اپنانا چاہیۓ بلکہ اپنے رب  سے وابستہ رہتے ہوۓ امید کی شمع روشن رکھنی چاہیۓ ۔

شکر کے لغوی معنی کسی کے احسان پر اس کی تعریف کرتے ہوۓ اسے دل و زبان سے قبول کرنے کے ہوتے ہیں اور اس پر زبان سے کھلا اظہار بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اس لیۓ سب سے مستحق ذات جس کے حضور سجدہ بہ ریز ہو  کر ہمیں شکر کرنا چاہیۓ  وہ خدا تعالی کی ذات ہی ہے ۔  ہم  مختلف طریقوں سے شکر ادا کر سکتے ہیں ۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم  اپنی زبان سے کلمات تشکر کو ادا کریں ۔

مزید  دنیا کو حقیر جاننا اور آخرت کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھنا

 دوسرا طریقہ یہ کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ تعالی کی عظمت کو یاد کرکے اس کی اطاعت کا احساس  پیدا کریں ۔

 اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو اللہ تعالی کے بتاۓ ہوۓ اصولوں کے مطابق ڈھالتے ہوۓ اللہ تعالی کے احکامات پر عمل کریں ۔

قرآن میں شکر ادا کرنے پر بےحد تاکید کی گئی ہے اور جو لوگ شکر ادا کرتے ہیں ان کے  مقدر میں فراخی اور فراوانی لکھ دی گئی ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ :

” لئن  شکر تم لا زیدنکم  ( ابراھیم  : 7 )

ترجمہ :  اگر شکر ادا کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دیا جاۓ گا ۔

اگر کبھی مسلمان پر دکھ تکلیف آ جاۓ تو اسے ثابت قدمی سے اس کا سامنا کرنا چاہیۓ اور ان مشکل حالات کو اپنے اوپر آزمایش سمجھ کر برداشت کرنا چاہیۓ اور ذرا برابر بھی مایوس نہیں ہونا چاہیۓ ۔ ایسی حالت میں صرف خدا سے مدد مانگنی چاہیۓ اور اپنے ہاتھوں کو صرف اسی ذات کے سامنے  دعا کے لیۓ بلند کرنا چاہیۓ کیونکہ اسی ذات کے ہاتھ میں دنیا اور آخرت کی تمام طاقت ہے ۔ جب مسلمان اس آزمایش پر پورا اترتا ہے تو اسے اس کا بہترین اجر نصیب ہوتا ہے ۔

صبر و شکر کے انسان کی اجتمائی زندگی پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ قوموں کی  تاریخ میں اچھے اور برے حالات آتے رہتے ہیں ۔ ایسی قومیں جو مشکل حالات کا مقابلہ جوانمردی سے نہیں کر پاتیں وہ بہت جلد تباہ و برباد ہو جاتی ہیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے ۔ اس کے برعکس جو اقوام حوصلے اور ہمت سے برے وقت کا سامنا کرتے ہوۓ محفوظ راستہ تلاش کر لیتی ہیں وہ کامیاب و کامران ہوتی ہیں اور  ان کی استقامت کا صلہ انہیں کامیابی کی صورت میں ملتا ہے ۔ یہی وہ اقوام ہوتی ہیں جن کو عالمی برادری میں عزت و آبرو کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کی  تائید و نصرت انہی کو حاصل ہوتی ہے جو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔

مزید  باب الحوائج حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی ولادت با سعادت مبارک ہو

ارشاد ربانی ہے کہ :

 ” بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “

اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت ایوب علیہ السلام کو صبر کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی اور اس پر انہیں اللہ تعالی نے اپنا بہت اچھا بندہ قرار دیا ۔

قرآن میں ایک اور جگہ ذکر ہے کہ دنیا اور آخرت میں حقیقی کامیابی کے حق دار وہی افراد ہیں جو صبر اختیار کریں ۔

اس لیۓ  ہمیں ہمیشہ مشکل حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیۓ اور اللہ تعالی کی مدد کا منتظر رہنا چاہیۓ ۔ اسی میں ہمارے لیۓ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.