گیارہویں مجلس (شام غریباں) / ام المصائب کے مصائب

0 0

نہ جانے ہم پردیس اور بعد وطن کی بات کریں یا مظلومیت کی؟ وفا کی یا عہد شکنی کی؟ پیاس کی یا آگ کی؟ عشق کی بات کریں یا زینب کی؟ کیا اچھا نام آیا زبانِ قلم پر: “زینب” …

نہ جانے ہم پردیس اور بعد وطن کی بات کریں یا مظلومیت کی؟ وفا کی یا عہد شکنی کی؟ پیاس کی یا آگ کی؟ عشق کی بات کریں یا زینب کی؟ کیا اچھا نام آیا زبانِ قلم پر: “زینب” …

نہ جانے آج کی رات کونسی غربت (بے وطنی) کی بات کریں؟ کونسی مصیبت کا ذکر کریں اور کس پردیسی کی مصیبت بیان کریں۔

کیا اوراق میں تبدیل ہونے والے قرآن کی بات کریں … حسین (ع) کے بدن کی بات جس کے ٹکڑے کئے گئے اور جسم مبارک کو پامال کیا گیا؛ لباس لٹ گیا اور جسم بے کفن گودال کربلا میں مٹی اور خون کے درمیان بے سر پڑا تھا …؟ یا پھر عباس علمدار کی مصیبت کے لئے روئیں جس کے بدن پر نہ تو بازو تھے اور نہ ہی سر؟

کیا ہم علی اکبر کا سوگ منائیں جن کے پیغمبر جیسے چہرے کے گلگوں رخسار شامیوں کے نیزے پر حالت معراج میں تھے؟ یا پھر کربلا کے چھوٹے سپاہی شیرخوار تشنہ لب شش ماہہ علی اصغر کی بات کریں جو اب خاک کے جھولے میں ابدی نیند سورہا ہے؟

کیا اصحاب حسین (ع) کی شجاعت و شہادت اور اطاعت و بصیرت کی داستان بیان کریں جو نہایت مظلومیت کے عالم میں اپنے امام و پیشوا کی راہ میں اطاعت بلا سوال کا ثبوت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے ہیں؟ یا پھر اطفال حسین (ع) کے مصائب بیان کریں جن پر یتیمی اور اسیری کے داغ ایک ساتھ وارد ہوئے ہیں؟

مزید  فلسفہ مناجات

پردیس کی بات کریں یا مظلومیت کی؟

وفا کی یا عہد شکنی کی؟

پیاس کی یا آگ کی؟

عشق کی بات کریں یا زینب کی؟

کیا اچھا نام آیا زبانِ قلم پر: “زینب” …

جی ہاں! ہمیں زینب کے بارے میں ہی لکھنے دیں؛ کیونکہ کربلا اس کے بعد، زینب (س) کی ہے اور زینب کی مرہون منت ہے۔

ہمیں زینب کے بارے میں بولنے دیں، زینب کے دکھوں کے بارے میں، زینب کے حزن و غم کے بارے میں اور زینب اور زینب کے قصوں کے بارے میں … کیا گذری زینب کے قلب مقدس پر…!؟

لیکن اب غم زینب کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ سیدہ کے کون سے غم کی بات کریں؟ ان بھائیوں کی شہادت کی بات کریں جو زینب صرف نصف روز کے دوران کھوگئیں؟ یا ان بھتیجوں کی بات کریں جو یکے بعد دیگر شامیوں کے مقابل میدان میں اترے اور یکے بعد دیگرے تیغ و تیر ستم کا نشانہ بن کر شہید ہوئے؟ یا پھر سیدہ کے بیٹوں کی بات کریں جو ان کی روتی آنکھوں کے سامنے یزیدی درندوں کی درندگی کا نشانہ بنے؟

اور ہاں! سیدہ زینب ام المصائب اسی لئے تو ہیں کہ بچپن سے ہی بڑے بڑے حوادث کا سامنا کرتی رہی ہیں؛ بچی ہی تھیں جب نانا رسول اللہ (ع) نے چہرہ خاک میں نہاں کیا؛ ابھی نانا کا غم بالکل تازہ تھا چھ مہینے بھی نہیں گذرے تھے کہ نانا کی امت نے ہی اجر رسالت کے الہی حکم کا حق ادا کرتے ہوئے والدہ ماجدہ فاطمہ بنت رسول اللہ (ع) کو نوجوانی میں ہی قتل کردیا اور نوجوانی کے ایام میں اپنے بابا امیرالمؤمنین (ع) کی شگافتہ جبین کی زیارت نصیب ہوئی اور پھر ریحانةالرسول بھائی حسن بن علی (ع) کے جگر کے ٹکڑے طشت کی زینت بنتے دیکھی یزید کے باپ کے بھیجے گئے زہر کے نتیجے میں…  لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ جو دن کربلا میں گذرا کوئی روز بھی اس جیسا نہ تھا اور کوئی بھی داغ دل کو عاشورا کے داغ جیسا، زخمی نہ کرسکا ا…

مزید  عرفہ کے دن اور رات کے اعمال / دعائے عرفہ امام حسین (عليہ السلام)

قصه‌ی بی سر و سامانی من گوش کنید

دوستان ، غصه‌ی تنهایی من گوش کنید

سنو قصہ میری بے سرو سامانی کا

دوستو آل محمد ص(ص) کے! سنو قصہ میری تنہائی کا

گر چه این قصه ی پر غصه به گفتن نتوان

نه به گفتن نتوان ، بلکہ شنفتن نتوان

گوکہ یہ غموں بھرا قصہ کہنے سے نہ کہا جاسکے

کہنے سے اور نہ سننے سے نہ سمجھا جاسکے

دختر دخت نبی ، «امِ مصائب» نامم

کرده لبریز ز غم ، ساقیِ گردون جامم

بیٹی ہوں بنت نبی (ص) کی، نام میرا ام المصائب ہے

ساقی افلاک نے بھر دیا ہے جام غم میرا

صبر ، بی تاب شد از صبر و شکیباییِ من

ناتوان شد خِرَد از درک و توانایی من

صبر بے چین ہوا میرے صبر و شکیبائی سے

عقل عاجز آگئی میری قوت کے ادراک سے

باغبانم من و یک سر شده غارت باغم

چرخ بگذاشته بس داغ به روی داغم

میں باغباں ہوں تا ہم سارا باغ میرا یکدم لٹ گیا ہے

فلک بس میرے داغ پر داغ رکھتا گیا ہے

نه که چون جد عزیزی چو پیمبر دادم

پدر و مادر و فرزند و برادر دادم

اس لئے کہ میں رسول اللہ محمد (ص) جیسا عزیز نانا کھوگئی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.