گناہ کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اسے سنگین سمجھنا ، خدا کے لطف و عنایات کا نتیجہ ہے

0 0

 

اللہ کے رسول نے فرما یا :”یَا اَبَاذَرٍ! اِنَّ اﷲَتَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ اِذَا اَرَادَ بِعَبْدٍ خَیْراً جَعَلَ الذُّنُوبَ بَیْنَ عَیْنَیہِ مُمثَّلَة وَ الْاِثْمَ عَلَیْہِ ثَقِیلاً ، وَ اِذاَ اَرَادَ بِعَبْدٍ شَرّاً اَنْسَاہُ ذُنوبَہُ”

اے ابوذر ! اگر خدائے تبارک و تعالی کسی بندے کی خیر چاہتا ہے تو اس کے اعمال کو اس کے سامنے مجسم کرتا ہے اور گناہ کو اس پر سنگین اور دشوار بنادیتا ہے اگر کسی بندہ کی بدی و بدبختی چاہتا ہے تو اس کے گناہوں کو اس کے ذہن سے فراموش کردیتا ہے ”

خداوند عالم اپنے تمام بندوں کے ساتھ مہربانی اور محبت کرتا ہے اگر کسی کی محبت نہ کرتا تو اسے خلق نہیں کرتا لیکن خدا وند اپنے اولیا کے بارے میں خصوصی محبت و مہربانی کرتا ہے اگر یہ لوگ غفلت کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوجائیں ان کی تنبیہ اور بیداری کیلئے گناہ کو ان کی نظروں کے سامنے مجسم کرتا ہے کیونکہ آلودگی میں پھنسنے اور گناہوں میں غرق ہونے کا پہلا مرحلہ گنا ہ اور اس کے انجام کو فراموش کرنا ہے اس کے پیش نظر کہ خداوند عالم اپنے بعض بندوں کی نسبت عنایت کی نظر رکھتا ہے اس لئے انہیں اپنے حال پر نہیں چھوڑتا ہے اس کے برخلاف بعض افراد خدا کی اس عنایت سے بے بہرہ ہیں اور خدا نے ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے ہر ایک انسان اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا وہ خدا کے لطف و عنایت کا مستحق قرار پایا ہے کہ نہیں ، اگر اس نے اپنے پچھلے گناہوں کو فراموش نہیں کیا ہے اور گنا ہ اس کیلئے سنگین و سخت ہے تو اسیجاننا چاہیئے کہ و ہ خدائے تعالی کے لطف و عنایت کا مستحققرار پایا ہے لیکن اگر اپنے گناہوں کو فراموش کر دیا ہے اور انہیں ہلکا سمجھتا ہے تو جاننا چاہیئے کہ خدا کی مہربانی و عنایت اس کے ساتھ نہیں ہے ۔

مزید  رمضان المبارک کے اٹھارہویں دن کی دعا

واضح ہے کہ گناہوں کو یاد رکھنا اس وقت فائدہ مند ہے جب یہ گناہ کو جاری رکھنے میں رکاوٹ بنے ورنہ اگر کوئی اپنے گناہوںکا تصور کرتے ہوئے انہیں اپنے کندھوں پر سنگین بوجھ نہ سمجھے تو اسے گناہ کے مرتکب ہونے کا کوئی خوف نہیں ہے ۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام دعائے ابو حمزہ ثمالی میں فرماتے ہیں :

”وَ اَنَا الَّذِی اَمْھَلْتَنِی فَمَا اَرْعَوَیْتُ و سترت عَلَیَّ فَمَا اَسْتَحْیَیْتُ وَ عَمِلْتُ بِالْمَعَاصِی فَتَعَدَّیْتُ و َ اَسْقَطتنِی مِنْ عَیْنِکَ فَمَا بٰالَیْتُ ….”

”میں وہ ہوں کہ جسے تو نے گناہ کو ترک کرنے اور توبہ کرنے کی مہلت د ی لیکن میں نے گناہ سے اجتناب نہیں کیا تو نے میرے گناہوں کی پردہ پوشی کی ، میں نے شرم و حیا نہ کرتے ہوئے پھر سے گناہ انجام دئے اور حدسے گزر گیا یہاں تک تو نے مجھے نظر انداز کیا ”

پس ، اگراللہ تعالیٰ کسی کی نیکی چاہتا ہے تو ہر وقت اس کے گناہوں کو اس کے سامنے مجسم کرتا ہے یہاں تک وہ اپنے گناہوں کو اپنے اوپر ایک سنگین بوجھ محسوس کرے، اس کے بر عکس اگر اللہ تعالی کسی پر عنایت نہیں کرتا ہے اور اس کی بدی کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور اسکے بعد اس کیلئے گناہ ہلکے ہوجاتے ہیں اور وہ انہیں اہمیت نہیں دیتا ہے ۔

البتہ شروع میں اللہ تعالی کسی کو اپنی عنایت سے محروم نہیں کرتا ہے اور اس کی بدی نہیں چاہتا ہے لیکن جب انسان برے کام انجام دینے لگتا ہے اور ان پر اصرار کرتا ہے تو اس وقت خدا وند عالم اسے اس قسم کے انجام سے دوچار کرتا ہے 

مزید  بے فاﺋده آرزو

وہ انسان خدا کے نزدیک عزیز ہوتا ہے جو اس کی بندگی اور اس کے تقرب کوحاصل کرناچاہتا ہے اور خد اکے نزدیک وہ انسان پست و منفور ہے جو خداوند عالم سے دور ہوچکا ہے اور اسے فراموش کردیا ہے تو خداوند عالم بھی اسے اس کے حال پر چھوڑتا ہے :

( وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوااﷲَ فَاَنْسٰھُم اَنْفُسَھُمْ ) (حشر ١٩) 

اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا ، جنہوں نے خدا کو بھلادیا ہے تو خدا نے بھی خود ان کو بھی بھلادیا ”

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.