گناہ کو حقیر سمجھنے کے بجائے اس کی عظمت کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت کہ جس کی نافرمانی کی جارہی ہے

0 0

” یَا اَبَاذَر ! لَاتنْظُرُ اِلٰی صِغْرِ الْخَطِیْئَةِ وَ لٰکِنْ انْظُر اِلٰی مَنْ عَصَیْتَ”

اے ابوذر !گناہ کے چھوٹے ہونے پر نگاہ نہ کرو بلکہ نافرمانی کی جانے والے کی عظمت پر توجہ کرو۔

گناہوں کو تین زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے :

١۔ چھوٹے ا ور بڑے ہونے کے زاویہ سے گناہ کودیکھنا ۔

٢۔ فاعل اور گناہ کو انجام دینے والے کے رخ سے دیکھنا ۔

٣۔ نافرمانی ہونے والے کے لحاظ سے گناہ کی طرف نگاہ کرنا ۔

کتاب و سنت میں گناہوں کو دو حصوں ”کبیرہ و صغیرہ ” میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کیلئے الگ الگ حکم اور عذاب مخصوص ہیں قرآن مجید فرماتا ہے ؛

جب بعض لوگوں کے ہاتھ میںا ن کے اعمال نامے دیئے جائیں گے وہ کہیں گے :

(… یَا وَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَ لَا کَبِیرَةً اِلَّا اَحْصٰھَا) (کہف ٤٩)

ہائے افسوس اس کتاب نے تو چھوٹابڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کیا ہے ۔

شاید ان دو قسموں میں بنیادی فرق یہ ہو کہ گناہان کبیرہ کے بارے میں عذاب کا وعدہ دیا گیا ہے اور گناہان صغیرہ کے بارے میںعذاب کا وعدہ نہیں دیا گیا ہے اسی طرح چھوٹے گناہوں کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے اس کے بر عکس بڑے گناہوں میں ایک خاص تعداد کے بارے میںا یک مشخص حد بیان کی گئی ہے ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ممکن ہے کوئی شخص کسی ایسیگناہ کو انجام دے جو اس کی نظر میں گناہ صغیرہ اور قابل بخشش ہے لیکن اس امر سے وہ غفلت کرتا ہے کہگناہ صغیرہ کی تکرار اور اسے چھوٹا سمجھنا ہی بذات خود گناہ کبیرہ ہے اور اس کا پیہم اصرار انسا ن کو گناہ کرنے میں گستاخ بنادیتا ہے د وسرے یہ کہ : وہ بھول جاتا ہے کسی کے حق میں گستاخی کی ہے اور کسی کی نہی کی نافرمانی کی گئی ہے ۔

مزید  نماز ۔۔ بندے اور خدا کے درميان رابطہ

روایت کا یہ حصہ دوسرے مطلب کو مد نظر رکھتا ہے کہ صرف گناہ کے چھوٹے ہونے کو ملحوظ نہ رکھو بلکہ اس حقیقت کی طرف توجہ کرو کہ کسی کی بارگاہ میں اور کسی کی نافرمانی کے مرتکب ہور ہے ہو کبھی کوئی امر ، بذات خود چھوٹا ہو لیکن اس لحاظ سے بڑا ہے کہ ایک بڑی شخصیت سے مربوط ہے ۔

فرض کیجئے آپ امام معصوم کے حضور میں ہیں اور امام معصوم آپ کو ایک حکم دے اگر چہ وہ حکم چھوٹا ہی کیوں نہ ہو مثلا ً حکم دے کہ آپ ان کے لئے پانی کا ایک گلاس لائیں لیکن آپ تصور کیجئے کہ یہ امر بہت چھوٹا ہے اور اس وجہ سے اس کی نافرمانی کریں ۔ کیا اس نافرمانی کو اچھا کہا جائے گا ؟ کیا یہ تصور عاقلانہ ہے ؟ کیا ادب کا تقاضا یہی ہے ؟ کیا اس امر کو چھوٹا سمجھنا صحیح ہے ؟ ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ اس امر کے چھوٹے ہونے کے باوجود امر کرنے والا بہت بڑا ہے ،اور چھوٹا حکم ،حکم کرنے والے کے لحاظ سے بڑا ہوجاتا ہے، اب اسی حال کو اللہ تعالی کے بارے میں تصور کیجئے جبکہ خدا کی نافرمانی امام معصوم کی نافرمانی سے قابل موازنہ نہیں ہے لہذا نافرمانی کی قباحت کا امر و نہی کرنے والے کی عظمت سے موازنہ کرنا چاہیئے 

گناہ کے بارے میں اس قسم کا تصور ، انسان کیلئے شیطان کی مخالفت کرنے میں قوی محرک بن سکتا ہے اور نفس امارہ کے ہر بہانہ کو سلب کرسکتا ہے ممکن ہے ایک وقت کسی سے اس کا ایک دوست درخواست کرے اور وہ اسے قبول نہ کرتے ہوئے کہے کہ تجھے میرے لئے حکم دینے کا حق نہیں ہے لیکن کبھی باپ ، ماں یا استاد انسان کوحکم دیتے ہیں ان کی مخالفت اور نافرمانی انتہائی بری بات ہے اسی طرح بعض اوقات کوئی حکم ایک مرجع تقلید کی طرف سے ، کبھی امام معصوم اور کبھی خدا کی طرف سے ہوتا ہے اس صورت میں امر و نہی کرنے والے کا مقام جتنا بلند اور عظیم ہو اس کے فرمان کی نافرمانی بر تری اور اور اس کی سزا شدید تر ہوتی ہے ۔

مزید  کامیاب کون ہوا ؟

جب شیطان وسوسہ ڈالتا ہے : نامحرم پر ایک نظر ڈالناکوئی خاص مسئلہ نہیں ہے ، حرام موسیقی پر ایک منٹ کیلئے کان لگانا کوئی چیز نہیں ہے ایسے موقع پر اس امر کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو ! یہاں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوذر سے فرماتے ہیں : گناہ کے چھوٹے ہونے پر نگاہ نہ کرو، بلکہ یہ دیکھو کہ تم کس کی نافرمانی کررہے ہو ۔

” یَا اَبَاذَر ! اِنَّ نَفْسَ الْمُؤمِنُ اَشَّدُ ارْتِکَاضاً مِنَ الخطِیَٔةِ مِنَ الْعُصْفُورِ ،حِیْنَ یُقْذَفُ بِہِ فِی شَرَکِہِ” 

اے ابوذر! ایک با ایمان انسان کی اپنے گناہ کے بارے میں بے چینی اور اضطراب اس چڑیا کی بے چینی اور خوف سے زیادہ ہے جو پھندے میں پھنس جاتی ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہاں پر گناہ کے بارے میں مومن کے رد عمل کے بارے میںا یک اور واضح مثال بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایک پرندے کو پھنسا نے کیلئے پھندے کو پھیلایا جائے اور یہ اڑنے والا پرندہ اس میں پھنس جائے تو یہ پرندہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انتہائی بیقراری اور اضطراب کی حالت میں اس پھندے سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کیلئے جستجو اور کوشش کرتا ہے اور کبھی اس کی یہی سخت جستجو اسکے موت کا سبب بنتی ہے اس کا یہ انجام اس کے پھندے میں پھنسنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی اورپریشانی کی وجہ سے ہوتا ہے گناہ کے مقابلے میںمومن کا رد عمل بھی ایساہی ہوتا ہے جب وہ احساس کرتا ہے کہ وہ شیطان کے جال میں پھنس گیا ہے تو اس کے تمام وجود پر بے چینی اور اضطراب کا عالم چھا جاتا ہے حتی اسکی یہ بے قراری اور بے چینی اس کے کھانے پینے اور نیند کو بھی حرام کردیتی ہے اور وہ شیطان کے اس پھندے سے آزاد ہونے کیلئے مسلسل جستجو و تلاش کرتا ہے ۔

مزید  اہلِ سنَت کے ائمہ کا تعارف

ہم معصوم نہیں ہیں اور ہمیشہ سہو وخطا سے دوچار ہوسکتے ہیں یہ بھی توقع نہیں کہ ہم سے خطا سرزد نہ ہو ممکن ہے کبھی شیطان کے جال میں پھنس جائیں ( لیکن معصوم نہ ہونے کا معنی یہ نہیں ہے گناہ انجام دیا جانا چاہیئے کیونکہ ممکن ہے غیر معصوم انسان بھی گناہ نہ کرے اور ان کا معصوم سے یہی فرق ہے معصوم میں ایک ایسا ملکہ ہوتاہے جو اسے گناہ انجام دینے سے روکتا ہے عام انسان بھی عصمت کا ملکہ نہ رکھنے کے باوجود گناہ سے آلودہ نہیں ہوسکتا ( بہر صورت اگر ہم کسی گناہ میں مبتلا ہوجائیں تو ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں مسلسل فکر مندرہنا چاہیئے اور جستجو کرنی چاہئے کہ توبہ ، استغفار ، گریہ وزاری سے اس کے برے نتائج سے اپنے آپ کو نجات دلائیں )۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.