کامیابی کاراز

0 0

میری ذاتی اور اجتماعی زندگی کے الہام بخش کاموں میں سے ایک کام یہ ہے جس کو قرآن کریم نے اس چھوٹی سی آیت میں بیان کیا ہے ”والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا“ (۱)۔

اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا اللہ حسن عمل والوں کے ساتھ ہے ۔

کامیابی دوچیزوں سے حاصل ہوتی ہے : جہاد و کوشش( جاھدوا ) اور خلوص نیت ( فینا)۔

میرا دل چاہتاہے کہ ہمیشہ اس آیت پرعمل کروں ،اورکبھی بھی سعی و کوشش سے دریغ نہ کروں ، میں کوشش کرتا ہوں کہ میری نیت خالص رہے کیونکہ میراعقیدہ ہے کہ ہدایت الہی اسی کے پیچھے ہے اور میں اس کو اپنی زندگی کا اصلی تجربہ سمجھتا ہوں ۔

اسی طرح حضرت امیر المومنین علی (علیہ السلام) کا یہ جملہ میری زندگی کا ہدف ہے اور میں اپنے پورے وجود کے ساتھ اس جملہ کو لمس کرتا ہوں : ”کل شیء من الدنیا سماعہ ، اعظم من عیانہ“ ۔ یعنی دنیا کی تمام چیزوں کی تعریفیں،خود ان چیزوں سے بہتر ہیں ، معاشرہ کے درمیان شہرت ایک ایسا مسئلہ ہے جو دور سے بہت اچھی لگتی ہے ،لیکن جب نزدیک سے دیکھتے تو مشکلات کے علاوہ کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ۔ مرجعیت کا شہرہ دور سے بہت بلند معلوم ہوتا ہے لیکن دنیوی مقام کی نظر سے جب انسان اس میں داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ یہ مسئلہ بہت زیادہ پر خطر ، ذمہ داری اور ایک درد سری کا مسئلہ ہے ۔ دنیا کو دور سے دیکھنا مہم ہے لیکن نزدیک سے کوئی خاص چیز دکھائی نہیں دیتی ، آخرت اور معنوی مسائل کے برعکس ، اس کا دیکھنا ،سننے سے بہت زیادہ اہم اور بلند ہے ۔

مزید  نبوتوں کی تجدید کے اسباب

آج ہم جن مسائل سے دچار ہیں (خصوصا حالات حاضرہ میں) وہ لوگوں کی ضرورتیں اور توقعات ہیں ،صرف میںہی نہیں بلکہ جو شخص بھی کسی عہدہ پر پہنچتا ہے تو اس کی طرف ضرورت مند اور غیر ضرورت مند انسانوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اوریہ توقعات اس قدر وسیع ہیں کہ موجودہ امکانات ان کو پورا نہیں کرسکتے، یہاں پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی مشہور حدیث پر عمل کرنا چاہئے جس میں آپ نے فرمایا : ”انکم لن تسعوا الناس باموالکم فسعو ھم باخلاقکم“ ۔ تم اپنے مال کے ذریعہ لوگوں کو راضی نہیں کرسکتے ،لہذاکوشش کرو کہ اپنے اخلاق سے ان کو راضی کرو(2)۔ 

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مراجعہ کرنے والوں سے کہتا ہوں : میں معذرت چاہتا ہوں کچھ وجوہات کی بناء پر میں تمہارے کام کو حل نہیں کرسکتا ،میں تمہارا کام نہیں کرسکا اس کی وجہ سے شرمندہ ہوں!۔ اوراس طرح کے جملوں سے انہیں راضی کرتا ہوں ۔ اس سلسلہ میں مرحوم آیت اللہ العظمی گلپایگانی کی نصیحت مجھے یاد ہے ، وہ فرماتے تھے :مراجعہ کرنے والوں کو محروم نہ کرو ، چاہے کم مقدار ہی میں کیوں نہ ہو۔ اس وصیت اور نصیحت سے اپنی زندگی میںاستفادہ کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اس پر عمل کروں اور اس کام کے میںنے اچھے نتائج دیکھے ہیں ۔

۱۔ سورہ عنکبوت ، آیت ۶۹ ۔

2۔ بحار الانوار ، ج ۶۸، ص ۳۸۳ ، ح ۱۹۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.