چوتھی مجلس امام زمنہ

0 1

قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی کتابہ المجید بسم اللہ الرحمن الرحیم ”بقیة اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین “(سورہٴ ہود آیت ۸۶) 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے ” بقیة اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین“ بقیة اللہ کا وجود تمہارے لئے خیر ہے اگر تم مو منین میں شامل ہو اسی طرح سے آل عمران آخری آیت میں پروردگار کا حکم مل رہا ہے ” یا ایھا الذین آمنوا اصبروا و صابروا ورابطوا “ اس آ یت میں خدا فر ما رہا ہے را بطہ قائم کریں را بطہ میں رہیں معصوم امام سے رابطہ میں رہیں یہاں مراد امام زما نہ ہیں اپنے زمانے کے امام سے رابطہ میں رہو معرفت امام بھی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ زمانے کے امام کی معرفت حاصل کریں یہ حکم ہے صیغہ امر ہے کہ ”رابطو “ انسان اپنے امام کے ساتھ را بطہ میں رہے معرفت بھی حاصل کرنا ضروری ہے اور رابطہ میں رہنا بھی ضروری ہے۔ 

بعض لوگ جو شیعوں کے خلاف بہت بڑا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ شیعہ جو ہیں وہ حضرت علی (ع) کو نبی سے بھی بڑھا دیتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ شیعہ امامت کو نبوت سے بڑھا دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شیعہ حضرت علی (ع) سر کار مآب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقام سے نہیں بڑھا تے ہیں قطعاً یہ شیعوں کا عقیدہ نہیں ہے کیوں اس لئے مو لا علی خود فر ما تے ہیں کہ میں رسول کے غلا موں میں سے ایک غلا م ہوں مجھے پیامبر کی غلا می پر فخر ہے تو یہ ہمارا عقیدہ ہے البتہ مسئلہ امامت جوہے وہ خود قرآن میں اس کی بحث ہو ئی ہے کہ امامت کا در جہ نبوت اور رسالت کے درجوں سے بلندہے مگر ہمارے نبی جو ہیں وہ سید المرسلین ہیں یہاں سید انہیں معنوں میں کہ امام المرسلیں ہیں جتنے بھی رسول ہیں اُن کے سردار اور امام ہیں امامت کا مقام رسالت اور نبوت کے مقام سے بلند ہے اور اُس کے لئے قرآنی آ یات ہیں کہ حضرت ابراہیم نبی رسول نے جب امتحان میں کامیاب ہو گئے تو خدا نے فر ما یا ”انی جاعلک للناس اماما“ اے ابراہیم ہم نے تمہیں امامت عطا کی یعنی امامت کا در جہ سب در جوں سے بلند ہے اب مو لا علی کیوں کہ امام ہیں اور امامت کا در جہ سر کار رسالت مآب کے سواء تمام انبیاء سے بلند ہے اور اُس کے لئے دلیل کیا ہے دلیل میں آ یت مباہلہ ہے کہ مباہلہ میں پروردگار نے فر ما یا ” فقل تعالوا ندعوا ابنائنا وابنائکم ․․․“(سورہٴ آل عمران آیت ۶۱) اے میرے محبوب ان عیسائیوں سے کہدو کہ تم اپنے بیٹوں کو لا وٴ ہم اپنے بیٹوں کو لا ئیں گے تم اپنے خواتین کو لا وٴ ہم اپنی خواتیں کو لا ئیں گے ”انفسنا انفسکم“ تم اپنے نفسوں کو لا وٴ ہم اپنے نفسوں کو لا ئیں گے تمام مفسرین نے لکھا کہ مباہلہ کے دن سر کار رسالت مآب علی کو اپنا نفس بنا کر لئے آ ئے اس سے کسی مفسر کو انکا ر نہیں کہ انفسنا کی جگہ پر علی کو اللہ کے رسول اپنا نفس بنا کر لا ئے تو سا رے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی سیدالمرسلین ہیں ،ہمارے نبی کا چہرہ تمام نبیوں کے چہروں سے افضل ہے ہمارے نبی کی آ نکھیں تمام نبیوں کی ا ٓنکھوں سے افضل ہے ہمارے نبی کی زبان تمام نبیوں کی زبانوں سے افضل ہے ہمارے نبی کے ہاتھ تمام نبیوں کے ہاتھوں سے افضل ہے تو اسی طرح سے ہمارے نبی تمام نبیوں کے نفسوں سے افضل ہیں ۔ 

لہذا ہر مسلمان پر معرفت امام حاصل کر ناواجب ہے یہ حدیث قدسی روایات میں ہے حضرت ابراہیم (ع) کو جب پروردگا ر نے خلق کیا حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ عرش کے چاروں طرف چودہ انوار ہیں حضرت ابراہیم نے سوال کیا ما لک یہ کون ہیں پروردگار نے کہا یہ محمد مصطفیٰ (ص) یہ علی المرتضیٰ (ع) ہے یہ فاطمة الزہرا (س) ہیں یہاں تک آخر میں فر ما یا یہ امام مہدی (عج) ہیں یعنی انبیاء نے بھی اہل بیت کی معرفت حاصل کی ہے اُس کے بعد ابرا ہیم نے دیکھا کہ یہ چودہ انوار کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے ہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں کو ئی گن ہی نہیں سکتا ہے ابراہیم نے سوال کیا مالک یہ چودہ ان کے بارے میں آ پ نے تو بتلا دیا یہ کون ہیں مگر ان کے چاروں طرف یہ دوسرے انوار جو گھوم رہے ہیں یہ کون ہیں یہ چودہ معصومین کے شیعہ ہیں شیعوں کا مقام کس قدر بلند ہے اگر ہم واقعاً حقیقی شیعہ بن جائیں توہمارا وجود نوارانی ہو جا تا ہے تو ہم چودہ معصومین کے گرد گھومتے رہیں گے․ فرما یا یہ شیعہ ہیں حضرت ابرا ہیم نے فر مایا: میرے مالک ان کی پہچان کیا ہے ہم کیسے پہچانیں کہ شیعہ کون ہے ؟ پروردگار نے فر ما یا: اے ابراہیم ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ جو میرے اہل بیت کے شیعہ ہیں یہ دن اور رات میں اکاون 61رکعات نماز پڑھتے ہیں اُن کی یہ پہلی نشانی ہے ․ آج ہم خود کو شیعہ تو کہلاتے ہیں مگر سترہ رکعات نماز پڑھنا بھی ہمارے لئے بعض وقت مشکل ہوجا تا ہے اگر عاشق اہل بیت بناہے توپہلی نشانی جوحضرت ابراہیم کو سنائی گئی وہ ہے کہ وہ اکاون رکعات نماز شیعہ پڑھتے ہیں اکاون رکعات کس طرح ہیں جب آپ دو رکعت نماز فجر پڑھتے ہیں تو اس کے ساتھ دو رکعت نماز مستحب پڑھیں جب ظہر کی نماز واجب پڑھتے ہیں تو اُس کے ساتھ دو دو رکعت کرکے نماز مستحب پڑھیں جب عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو اُس کے ساتھ دو دورکعت کرکے مستحب نماز پڑھیں اسی طرح سے مغرب وعشا کی نماز بھی دو دوکعت کرکے نماز مستحب پڑھیں اور نماز تہجد جو گیارہ کعت ہے جو فجر سے پہلی پڑھی جا تی ہے․ خدا نے فر ما یا: اے ابر اہیم شیعوں کی نشانی یہ ہے کہ یہ اکاون رکعت نماز پڑھتے ہیں پروردگار دوسری نشانی کیا ہے فر ما یا یہ نماز میں بسم اللہ الرحمن الر حیم بلند آ واز سے پڑھتے ہیں ابراہیم نے فرمایا پروردگارشیعوں کی تیسری نشانی، فر ما یا یہ رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے ہیں الحمد للہ ہم سب اس پر عمل کرتے ہیں فر ما یا پروردگار اس کے علاوہ شیعوں کی نشانی خدا کی آواز آئی نماز ختم کرنے کے بعد شیعہ سجدہ شکر ادا کرتے ہیں جو حسین نے کربلا میں کیا یہ شکر کا سجدہ بھی بڑی نعمت ہے ،جب حضرت ابراہیم نے یہ صفات سنی تو کہا مجھے بھی ان چہاردہ معصومین کے شیعوں میں شامل کر دے ۔ 

مزید  چہل احادیث

حضرت ابر اہیم خلیل اللہ کہہ رہے ہیں پروردگار جو اکاون رکعات نماز پڑھتے ہیں وہ شیعہ جو سجدہ شکر ادا کرتے ہیں وہ شیعہ جو نماز تہجد پڑھتے ہیں پروردگار مجھے بھی شیعوں میں داخل کردے ۔ اگر کو ئی اس حدیث کو انکا ر کر ے تو آ یت قرآن مو جود ہے جب حضرت ابراہیم نے دعاء کی کہ مجھے محمد و آل محمد کے شیعوں میں شامل کر دے تو سورہ صافات کی ۸۳آ یت نازل ہو ئی ” و اِنَّ من شیعتہِ لَاِبرٰھِیمََِ“ (سورہٴ صافات آیت ۸۳) اے ابراہیم ہم نے تجھے بھی شیعوں میں شامل کردیا۔ 

اے انسان غافل اگر تم لوگ شیعوں کو کافر کہتے ہو پہلے تو قرآن کو پڑھ لو کہ کون کون شیعوں میں شامل ہیں ،حضرت ابراہیم بھی شیعوں میں شامل ہیں جب بھی مشکل پڑے اپنے مولا کو بلا ئے مو لا ہرگز ہم سے دور نہیں ہیں چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایران میں ایک مو منہ خون کے کنسرکے مرض میں مبتلا ہو گئی ڈاکٹروں نے اُسے تقریباً لاعلاج کردیا اُس کی موقت قریب تھی اُس نے اپنے شوہر سے کہا کہ حج کا موقع قریب ہے مجھے حج پر لے چلو مجھے رو ضہ رسول پر لئے چلو مجھے جنت البقیع لے چلو شاید مجھے وہاں شفا مل جا ئے اُس نے دوسرا تقاضا شوہر سے کیا کہ مجھے تین راتیں خانہ خدا پر عبادت کرنے کے لئے دو اُس کے شوہر نے کہا ٹھیک ہے تو وہ خاتون وہاں تین را تیں جاگ جاگ کر یہ مو منہ رو رہی ہے پروردگار مجھے امام زمانہ کے صدقہ میں شفا دے وہ پروردگار سے امام زمانہ کے صدقہ دعاء مانگ رہی ہے اور کہہ رہی ہے اے پروردگار اگر تو مجھے شفا دینا چاہتا ہے تو پہلے مجھے بتا یا جا ئے کہ تجھے شفا مل رہی ہے تا کہ مجھے یقین ہوجا ئے کہ میری دعاء قبول ہو گئی ہے تیسری رات اس مو منہ نے طواف کیا طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا چا ہتی تھی حجر اسماعیل کے قریب تھی تو اسے اچانک ایک نورانی شخصیت نظر آئی انہوں نے اسے کہا کہ کیا تم نماز پڑھناچا ہتی ہو تو اس مومنہ نے کہا جی کہا ٹھیک ہے میں راستہ بنا دیتا ہوں انہوں نے اپنا ہاتھ حجر اسماعیل پررکھا حج کا زمانہ تھا لاکھوں کا مجمع تھا مگر ایسی خلوت ہو گئی کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ گو یا میرے سواء کوئی اُس مقام پر نہ تھا مگر یہ مومنہ ابھی تک متوجہ نہیں ہو ئی ہیں یہ کون سی شخصیت ہے وہ مو منہ نماز میں مشغول تھی اور جب میں نے نماز کو ختم کیا میں نے دیکھا کہ وہی نورانی شخصیت وہاں کھڑی ہے انہوں نے مجھ سے کہا دوسری نماز بھی پڑھنا چاہتی ہو؟ تو میں نے اُن سے کہا اے بزرگ میں بیمار ہوں میں زیادہ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی ہوں فقط دعاوٴں میں مشغول رہتی ہوں تو انہوں نے کہا تجھے پروردگار نے شفا عطا کی ہے تیری بیماری ختم ہو گئی ہے جا اور زم زم کا پانی پی لے اُس خاتون نے کہا میں ایک مرتبہ زمزم کے پانی کی طرف بڑھی توجو پلٹ کر دیکھا وہ نورانی شخصیت نظر نہیں آئی اور جیسے پانی پیا اور اُس کے بعد میں کچھ خود کو بہتر محسوس کر رہی تھی تو پھر تہران واپس آ کر معاینہ بھی کیا توخود ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ الحمدللہ کہ کنسر کا کو ئی بھی اثر باقی نہیں رہا ۔ 

مزید  نمازِ حاجت میں امام حسين (ع) کی دعا

آج بھی ہمارے امام زندہ ہیں آج بھی ہمارے امام مدد کر رہے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم خلوص کے ساتھ امام کو پکاریں اور وہ شرائط جو پروردگار نے حضرت ابراہیم کو بتلا ئے وہ شرا ئط ہمارے اندر ہو نا چا ئیں کہ ہمیں اکاون رکعات نماز پڑھنی چاہئے افسوس کی بات ہے کہ دوسرے فر قہ ہم سے نماز میں آ گے میں اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں ․یہ عوام کا قصور نہیں ہے بعض ایسے فاسق اور فاجر لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں ک نماز کی ضرورت ہی نہیں ہے ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی صریحاً مخالفت کر تے ہیں قرآن میں اتنی مرتبہ آ یا ہے کہ ” اقیموا الصلاة “ یہ شیطان ہے جو انسان کو نماز سے روکتا ہے آج بھی شیطان کے نمائندے ہیں جو اپنے درسوں میں آ کر نماز سے روک رہے ہیں ۔ 

معصوم نے فر ما یا کہ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو کبھی نماز تہجد کو ترک نہیں کرتے ہیں اگر ہمارے شیعہ چا ہتے ہیں کہ امام زمانہ سے رابطہ قائم کریں تو نماز تہجد کو کبھی ترک نہ کریں۔ 

امام حسین (ع) کے آخری وصیتوں میں سے ایک وصیت ہے کہ مو لا حسین نے فرما یا ” بہن زینب مجھے نماز تہجد میں یاد کرنا “ اور نماز تہجد پڑھنے کے بعد کربلا کی طرف رخ کر کے کہیں ” السلام علیک یا ابا عبداللہ “ امام زین العابدین (ع) فر ما تے ہیں کہ اس وصیت پر سید زادیوں نے ایسا عمل کیا، امام فر ما تے ہیں جس رات خیمہ جل رہے تھے جو رات قیامت کی رات تھی اُس رات بھی ہماری کسی بی بی کی نماز تہجد قضا نہ ہوئی امام زین العابدین فرماتے ہیں انہوں نے بڑے بے رحمی سے ہمیں قیدی کیا کبھی پتھروں کی بارش برستی تھی کبھی پانی ملتا تھا کبھی نہیں کبھی دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے کبھی تازیانہ مارتے تھے یہ پورا راستہ بہت سخت تھا راستے میں کتنے بچے شہید ہو گئے مگر امام فر ما تے ہیں پورے راستے میں ہماری کسی بی بی کی نماز تہجد قضا نہ ہوئی امام زین العابدین فر ماتے ہیں بس ایک مرتبہ شام کے زندان میں آدھی رات کا وقت تھا میں نے دیکھا میری پھوپھی زینب اٹھیں میری پھوپھی نے جا کر وضو کیا مگر میں نے دیکھا میری پھوپھی بیٹھ کر نماز تہجد پڑھ رہی ہیں میں نے کہا پھوپھی اما ں آپ کی طبیعت کو ٹھیک ہے میں نے آ پ کو کبھی بیٹھ کر نماز تہجد پڑھتے ہو ئے نہیں دیکھا پھوپھی کی آواز آئی سجاد بیٹے زندان میں کھا نا اتنا کم آ تا ہے کہ ہم بچوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اب مجھ میں طاقت نہ رہی کہ کھڑے ہو کر نماز تہجد ادا کروں۔ 

مو من ہو کر اور نماز تہجد قضا ہو جا ئے نماز تہجد یہ خاص نشانی ہے اس کو کبھی ترک نہ کیا کریں نماز تہجد پڑھنے والے کی سکرات بہت آسانی سے ہو تی ہے نماز تہجد پڑھنے والے کے لئے قیامت کے دن شفاعت اہل بیت ہے نماز تہجد پڑھنے والا جب قیامت کے دن ا ٓئے گا اُس کے چہرے سے اتنا نور نکلے گا خصوصاً وہ نماز تہجد پڑھنے والا جو نماز تہجد کے ساتھ حسین مظلومیت پہ آ نسوں بہائے اگر نماز تہجد کی عادت ڈالیں گے تو امام زمانہ سے رابطہ ہو جا ئے گا رابطہ کے لئے دوسری اہم چیز تبلیغ اسلام ہے امربالمعروف بھی وہی تبلیغ ہے اگر ہم تبلیغ کریں گے تو ہماری آنے والی نسلیں بچ سکیں گی ورنہ یہودی خبیث پورا اسلامی ممالک کو غلام بنا نا چا ہتے ہیں سیاستدانوں کو ذلیل کیا جارہا ہے اس لئے صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ مسلمان منظم طریقے سے مل کر عیسائیوں کومسلمان بنا ئیں تا کہ ان کی عیسائیوں کی اکثریت ہو جا ئے تا کہ یہودیوں کا زور ٹوٹ جا ئے اس وقت عیسائی بھی یہودیوں کے غلام ہیں کچھ بول نہیں سکتے ہیں ساری اقتصادیات یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اسلحہ کی فکٹریاں یہودیوں کی ہے جسے صدر بنا ئیں یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اگر ہم ان عیسائیوں کو بیدار کر یں کہ تم خود یہودیوں کے غلام ہو تو یورپ امریکا میں انقلاب آسکتا ہے اور یہودیت ختم ہو سکتی ہے ۔ 

سال میں آ رام سے پانچ دس عیسائی مسلمان بن جاسکتے ہیں، آپ انٹرنیٹ کے ذریعے سے پانچ چھ گروپ کو میسج بھیج سکتے ہیں اور وہ لوگ روحانیت کے لئے مر رہے ہیں بھوکے ہیں ،حتیٰ کہ یہ ہندوستان کے لوگوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تا کہ انہیں وہاں سے کچھ روحانیت مل جائے عیسائیت مرچکی ہے ،یہ بھی یہودیوں کی پلاننگ ہے اس وقت یورپ امریکا میں تبلیغ اسلام کا بہترین موقع ہے ایک روحانی طریقے سے اور ایک خود بائبل کے طریقے سے اور خود فلسفی اندازمیں بہترین طریقے سے انہیں مسلمان بناسکتے ہیں ۔ 

مزید  صحابہ کی حیثیت

ہمارے یہاں توحید ہے اور اُن کے یہاں ہونیٹرنٹی کا مسئلہ ہے کہ وہ حضرت عیسی کو خدا ما نتے ہیں اسی کتاب سے پانچ منٹ میں ہم اُن کا عقیدہ باطل کرسکتے ہیں ۔ اگر حضرت عیسی خدا تھے تو یہ آ یتیں کیا کہہ رہی ہیں بائبل ۵ چپٹر آیت نمبر۱۶ حضرت عیسی کے بارے میں ہے And Hazrat Jesus with you himself in to the wilderness and prayed to his god اس آ یت میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے خدا کی عبادت کی ہم کہیں گے اگر خود خداتھے تو پھر عبادت کس کی کیا کرتے تھے۔ ہم ان کو بہت جلد مسلمان بنا سکتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ خود اپنی کتاب نہیں پڑھتے ہیں یہ اُن کے پریسٹ اُن کو گمراہ کرتے ہیں اور دوسری آ یت متی کی انجیل چپٹر۲۶ آیت ۳۹And going little way forword he is jesus coverd his facepray and said “My father if it is possible late me stufe passe away from me 

حضرت عیسی سجدہ بھی کررہے ہیں اور سجدہ میں یہ دعاء کی کہ پروردگارا ممکن ہے کہ یہ میری مشکل مجھ سے دو رکردے یہ کیسا خدا ہے کہ خود مشکل بھی دور نہیں کرسکتا یہ جملہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عیسی خدا نہیں ہیں بندہ ہے خدا کانبی ہے ایسی بہت زیادہ آیتیں ہیں جن سے ہم ان کو مسلمان بنا سکتے ہیں مگر سب سے بڑا مسئلہ رو حانیت کا ہے یہ لوگ اس وقت رو حانیت اور معنویت کے شدید بھوکھے ہیں اور یہ معنویت اور روحانیت پہلے ہم پیدا کریں گے تبھی کسی غیر مسلمان کو مسلمان بنا سکتے ہیں لوگ بہت سارے مسلمان ہیں مگر ہم معنویت طور پر صفر ہیں کلمہ بھی پڑھتے ہیں مو من بھی کہلاتے ہیں مگرہمارا معنوی اور روحانی اسٹیج صفر کے برابر ہے کبھی صفر سے بھی کم ہے جب مو من کا روحانی اور معنوی اسٹیج بلند ہو گا تو امام سے رابطہ ہوگاکبھی انسان کی غفلت کی وجہ سے انسان کادل مرجاتا ہے نکاح کی لذت کھانے کی لذت یہ فانی لذتیں ہیں یہ لذتیں پانچ منٹ اور دس منٹ میں ختم ہو جاتی ہیں انہیں لذتوں کی وجہ سے بعض لوگ گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسی کے بارے میں مو لا علی کا بڑا حسین جملہ ہے مو لا فر ماتے ہیں اے نادان انسان لذت کی وجہ سے تو اندھا ہو گیا گناہ میں گرگیا مگر مو لا فر ما تے ہیں گناہ کی لذت ختم ہوجاتی ہے مگر اُس کی نجاست اور اُس کا عذاب ہمیشہ کے لئے رہ جاتا ہے مگر یہ کہ انسان توبہ کرے گناہوں کی وجہ سے انسان کا قلب دل روح بالکل مردہ ہو جاتی ہے اگر ہمیں ان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اُس کے بارے میں علماء نے فر ما یا اگر آپ نماز تہجد کے وقت اٹھتے ہیں اور اگر آپ کو دعاء اور نماز میں لذت نہیں مل رہی ہے یہ انبیاء کی لذت امام زین العابدین (ع) فر ماتے ہیں خدا نے جو لذت نماز میں رکھی ہے جو لذت نماز تہجد میں رکھی ہے وہ کائنات کہ کسی چیز میں نہیں رکھی ہے مگر اللہ نے اُس لذت کو گنہگاروں کے لئے حرام قرار دیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے اور اس کا علاج یہ ہے آپ نماز فجر کی آذان سے بیس منٹ پہلے اٹھ جائیں اور قبلہ رخ ہوکر بیٹھ جائیں اور ” یا حی یا قیوم “ حی خدا کا نام ہے یعنی حیات دینے والا پروردگار میں نے گناہ کر کے اپنے دل کو ما ردیا ہے تو حی ہے تو میرے اس مردہ دل کو زندہ کردے اُس کے بعد ” یا من لا الہ الاانت“ پروردگار تو میرا رب ہے تو ہی میرا خدا ہے اگر تو نے مجھے زندہ نہ کیا تو کون میرے اس مردہ دل کو زندہ کرے گا․ علماء کہتے ہیں یہ وہ ذکر ہے جو جلد سے جلد دعاء قبول ہوجا ئے گی یعنی تین چار دن میں آپ کو نتیجہ مل جا ئے گا اس کے بعد انسان معنوی لذتیں حاصل کرتا ہے اگر انسان معنوی لذتیں حاصل نہ کرے تو اُس کا درجہ حیوانیت کے برابرہے کہ حیوان کو دعاء سے لذت نہیں ملتی ہے ہم انسان ہیں مگر گناہوں کی وجہ سے اتنا گر جا تے ہیں کہ وہ لذت ہمارے اندر سے ختم ہو جاتی ہے رو حانی طور پر ہم مریض ہو جاتے ہیں اور دوسرے مصائب امام حسین، یہ رو حانی بیماریوں کا علاج ہے۔ 

مو لا علی نے ریا کاری کو شرک کہا ہے فر ما یا: اگر تو نے اللہ کی عبادت میں بندوں کو شریک کیا تو اس کے بارے میں نبی کی حدیث بھی ہے اور مو لا علی کا فر ما ن بھی ہے ”الریاء ھو شرک کلہ“ اور شرک سے بڑا کو ئی گناہ نہیں ہے۔ 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.