پیام عاشورا

0 0

اقعۂ عاشورا تاریخ انسانی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ جس کی یاد ہر نبی کے کلیجہ کو برماتی رہی اور ہر دور میں اس واقعہ نے لوگوں کو جلاء بخشی ہے ۔شب عاشور میں امام حسین نے مادی چراغوں کو گل کر کے قیامت تک آنے وا

پیام عاشورا

اقعۂ عاشورا تاریخ انسانی میں اپنی مثال آپ ہے ۔ جس کی یاد ہر نبی کے کلیجہ کو برماتی رہی اور ہر دور میں اس واقعہ نے لوگوں کو جلاء بخشی ہے ۔شب عاشور میں امام حسین نے مادی چراغوں کو گل کر کے قیامت تک آنے والی بشریت کے لئے نور ایمان کی شمع روشن کر دی جس کی روشنی کبھی ماند نہیں پڑ سکتی ، اور اس شمع سے پھوٹنے والی شعاعیں وادی ظلم و ستم میں تڑ پتے بلکتے انسانوں کی ہدایت کرتی ہیں ۔ مستضعف اور ستمدیدہ انسانوں کے کلیجہ سے خوف ظلم کو دور کر کے ان کے دلوں کو خوف خدا کا گھر کرتی ہیں ، اور جب ایک انسان حقیقی طور پر خدا سے ڈرتا ہے تو خدا کا یہ خوف اس کو ایسی جرات بخشتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں خوف دنیا اس کے دل سے رخت سفر باندھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وادی فناء میں اپنا بسیرا کر لیتا ہے اور پھر اس انسان مومن کی نگاہ میں ظلم ایک ریت کی دیوار کی حیثیت رکھتا ہے جس کی نابودی یقینی ہوتی ہے اور وہ انسان پھر کسی ظلم سے نہیں ڈرتا اور عاشورابڑ ھ بڑ ھ کر اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور کہتی ہے اگر تم جوان ہو تو ، عبّاس وعلی اکبر اور کربلا کے جوانوں سے جینے کا سبق حاصل کرو ! اگر ظلم کے لشکر کی تعداد لاکھوں میں ہو اور تم اکیلے ہو توکبھی ظالموں کی کثیرتعداد سے خائف نہ ہونا خدا ہمیشہ کمزور اورضعیفوں کا مددگار ہے اور یہی وجہ ہے ظلم و ظالم کی کثرت انکی نابودی وپشیمانی کا سبب بنتی ہے اور فتح و ظفر خدا کے مخلص بندوں کے قدم چوما کرتی ہے ۔ اگر تم بوڑ ھے ہو تو لشکر حسینی کے ایک بوڑ ھے فوجی کے جوان خیالات سے درس عبرت حاصل کرو جس کے ایمان کی جوان قوّت اس کے ضعیف و نا توان جسم کو سہارا دے کر ظالم کی قوی اور مسلح افواج کی شکست کے لئے میدان کار زارمیں لے جا رہی ہے اور یہ اعلان کر رہی ہے کہ ظلم کتنا کمزور ہے جس کے مقابلہ کے لئے بوڑ ھوں میں بھی یہ جرات پیدا ہو گئی ہے کہ بوڑ ھاپے کے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے بنیاد ظلم و ستم کو متزلزل کرنے چلے ہیں اور ان کے قدموں کی آہٹ سے قصر استبداد لرزہ بر اندام ہے ۔اور نہ صرف یہ کہ یہاں بوڑ ھوں کے عزم جوان ہیں بلکہ اس سے بڑ ھ کر ذرا تاریخ کربلا کے اختتامیہ تک جائیے اور دیکھئے وہ بچّہ جس کو چلنا نہیں آتا بے بضاعتی ظلم و ستم کو دیکھ کر اپنے ایمان کی توانائی کا مظاہرہ کرنے میدان میں جا رہا ہے اور بچّہ پر تیر چلانا یہ ظلم و ستم کے خائف اور بزدل ہونے کی دلیل ہے اور بچّہ کا تیر کھا کر ہنسنا اس کی شجاعت اور دلیری کا ثبوت ہے اور لشکر ظلم کا رو دینا ایمان کی کفر پر فتح ہے ۔اور اس طرح سے وعدہ الہی پورا ہو رہا ہے کہ اصلی کامیابی و کامرانی فقط مومنین و متّقین کا حق ہے ۔کربلا دنیا کے مظلوموں سے با بانگ د ہل وعدہ کر رہی ہے کہ تم خدا کی راہ میں قدم رکھو تو سہی کامیابی کی راہ تمہاری قدم بوسی کے لئے منتظر ہے ۔ سلاطین زمن کے تاج تمہاری جوتیوں کو بوسہ دینے کے لئے آج بھی قصر شاہی کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ خدا پر توکّل کے ساتھ راہ خدا پر گامزن ہو جاؤ۔ کربلا ہر دور کے انسانوں کے کے لئے چراغ ہدایت ہے وہ چاہے کوئی بھی دور ہو اگر انسان آج بھی اپنی فلاح و بہبودی چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ کربلا کے دامن سے متمسک ہو جائے اور اس کے امر و نہی پر عامل ہو جائے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے ثبات قدم کو لغزش نہیں دے سکتی۔

مزید  اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی ہمسر نہ ہوتا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.