پھل اور فروٹ کی خصوصیات(حصہ ششم)

0 0

بعض بچے فروٹ کھانے میں منہ بناتے ہیں اور بعض بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ لیکن اکثر بچے ایسے ہوتے ہیں جو بعض پھل شوق سے اور بعض پھل بالکل نہیں کھاتے۔ جب کہ ہمارے پیارے اللہ نے ہر پھل میں ہمارے لئے بہت سے فوائد رکھے ہیں۔ گریپ فروٹ بھی ایک ایسا ہی پھل ہے۔ آئیے اس کی خوبیاں جاننے کے لئے یہ مضمون پڑھتے ہیں۔
جی ہاں! مجھے اندازہ ہے‘ آپ مجھے پسند نہیںکرتے ہیں۔ میری کڑواہٹ ملی ترشی آپ کو نہیں بھاتی۔ میں ویسے بھی اور پھلوں کے مقابلے میں ایک نیا پھل ہوں‘ لیکن آپ نے کبھی دیکھا کہ پاکستان میں اب میں خوب ہونے لگا ہوں؟! اب تو تقریباً جوس کی ہر دکان پر میں موجود ہوتا ہوں۔ ذرا سوچئے تو کیوں؟!
میرا شمار ان چند پھلوں میں ہوتا ہے جن میں جوڑوں اور ان کی کرکری ہڈیوں میں جمع ہونے والے کیلشیم کو جسم سے نکال باہر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ آپ مجھے پسند نہیں کرتے، لیکن آپ کے بزرگ مجھے بڑی چاہت سے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ میں ان کی کئی تکالیف کا علاج ثابت ہوتا ہوں۔ اب یہی جوڑوں کی تکلیف کو لیجئے۔ میرا رس ان میں جمع خراب مادوں کو خارج کر کے گٹھیا اور جوڑوں کا درد دور کر دیتا ہے۔ یہ خراب مادے کیوں جمع ہوتے ہیں؟ بس اتناسمجھ لیجئے کہ جو لوگ بہت زیادہ میدہ، چاول، آلو وغیرہ کھاتے ہیں، ان کے جسم اور جوڑوں میں خراب مادے جمع ہو جاتے ہیں۔ ہاں جو بے چھنا آٹا اور بغیر پالش کے چاول اور سبزیاں زیادہ کھاتے ہیں، ان تکالیف سے محفوظ رہتے ہیں۔
آپ بے شک مجھے پسند نہ کریں، لیکن میری ایک بات یاد رکھئے کہ زیادہ گوشت اور خاص طور پر بڑا گوشت کھانے سے آگے چل کر ان تکالیف کے علاوہ دوسرے کئی مرض آگھیرتے ہیں۔
مجھ میں دراصل وہی دوائی جز قدرتی شکل میں موجود ہوتا ہے جو اسپرین میں ہوتا ہے۔ میں سیلی سلک ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہوں۔ اسپرین سے تو تکلیف بھی ہوسکتی ہے لیکن مجھ میں موجود یہ کیمیائی مادہ کوئی تکلیف پہنچائے بغیر جسم سے خراب مادے خارج کر کے درد اور ورم سے نجات دیتا ہے۔ بہتر ہے اس عمر سے مجھے اپنا دوست بنالیجئے۔ میری تھوڑی سی کڑواہٹ نتیجے کے لحاظ سے میٹھی ثابت ہوگی۔
میرے چھلکوں میں بھی ایک خاص صلاحیت ہوتی ہے۔ بہتر ہے کہ یہ بات اپنے دادا جان اور نانا ابو اور تمام بزرگوں کو بتا دیجئے کہ وہ میرے چھلکوں کو نہ پھینکیں بلکہ انھیں باریک کتر کر خشک کر کے رکھ لیں اور جب جاڑوں میں سردی زکام ستانے لگے، ان کے ساتھ تازہ یا خشک پودینہ ملاکر چائے کی طرح دم دے کر یہ چائے دن میں ٣ ۔ ٤ مرتبہ پیتے رہیں۔ اس سے سردی کی تکالیف دور ہوجائیں گی۔
میں زخموں کا بھی محفوظ علاج ہوں۔ زخم پر میری پھانک کی پتلی پرت کاٹ کر رکھ دیجئے اور اوپر سے پٹی باندھ دیجئے۔ زخم پکنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے گا۔
میرے کھانے سے جسم کے تمام نظام تیز ہوجاتے ہیں بلکہ یوں کہئے اسمارٹ ہوجاتے ہیں۔ مثلاً جگر اپنا کام عمدہ انداز میں کرنے لگتا ہے تو پتے میں جمع پتھریاں بھی خارج ہوجاتی ہیں۔ آنتوں کا فعل میرے گودے یا ریشے کی وجہ سے تیز ہوجاتا ہے۔ نزلے اور اس کی وجہ سے رہنے والے بخار سے نجات ملتی ہے۔ ہاضمہ ٹھیک ہوتا ہے۔ جسم میں صاف ستھرا خون بننے سے رنگ کھل جاتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مجھ میں قدرت نے جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے کی بڑی صلاحیت بھر دی ہے۔ آپ مجھے تنہا کھائیے یا میرے ساتھ دوسرے پھل بھی شامل کر کے نئی لذت اور اچھی صحت کے مزے اٹھائیے۔
مجھ میں حیاتین الف تو برائے نام ہوتا ہے۔ لیکن حیاتین ب کے علاوہ حیاتین ج ٤٠ ملی گرام ، حرارے٤٠ عدد ، کیلشیم ٢٢ملی گرام، فولاد ٢ئ ملی گرام اور فاسفورس ١١ ملی گرام ہوتا ہے

مزید  شخصیت علی (ع) پر امت اسلامی کا بے مثال اجماع

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.