پھل اور فروٹ کی خصوصیات(حصہ سوم)

0 0

جی ہاں! آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ جوں جوں سورج تیز ہونے لگتا ہے، میں آپ کی مدد کے لئے بازار میں آجاتا ہوں۔ یوں تو سب پھل اچھے ہوتے ہیں، لیکن گرمیوں کے موسم میں میری قدر زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ میں اس موسم کی سختیوں اور تکلیفوں کے دور کرنے میں آپ کی بڑی مدد کرتا ہوں۔ میرا ذائقہ اور خوشبو سب کو بھاتی ہے۔ پاکستان میں میری کئی قسمیں کاشت ہوتی ہیں؛ زرد، گہرا سرخ، سفید اور سبز۔ سب کے اپنے رنگ اور مزے ہوتے ہیں۔ کوئی اتنا میٹھا کہ لب بند ہو جائیں، کوئی ہلکی مٹھاس والا اور کچھ بالکل پھیکے سیٹھے، لیکن فائدہ سب سے ہوتاہے۔
میری کاشت عام طور پر دریاوں اور نالوں کے کنارے ہوتی ہے۔ یہاں کی رتیلی زمین میں میری جڑیں دور تک جاکر صاف ستھرا پانی پی کر بڑھتی اور پھلوں میں رنگ، خوشبو اور ذائقہ بھرتی رہتی ہیں۔
میرا شمار سستے پھلوں میں ہوتا ہے۔ گاوں دیہات میں تو ڈھیروں خربوزہ کھایا جاتا ہے، ہاں شہروں میں مہنگا بکتا ہوں، لیکن میرے فائدے میری قیمت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ میری دو قسمیں، سردا اور گرما بڑی اور وزنی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت میٹھی بھی ہوتی ہیں۔
مجھ میں کافی غذائی اجزائ ہوتے ہیں۔ مجھے پابندی سے کھائیے، اس سے اگر آپ دبلے اور کمزور ہوں تو وزن بھی بڑھے گا اور آپ خود کو تازہ دم بھی محسوس کریں گے۔
طبی لحاظ سے مجھ میں پیشاب زیادہ لانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لئے گردوں کے مریضوں کے لئے میں بہت مفید ثابت ہوتا ہوں۔ زیادہ پیشاب لانے کی وجہ سے جسم سے خون کے خراب مادوں کے علاوہ میں گردوں اور مثانے سے پتھری بھی نکال دیتا ہوں۔ میرے چھلکوں سے نمک بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ جس کے کھانے سے یہی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ نمکِ خربوزہ کہلاتا ہے۔
اسی طرح میرے چھلکوں کو پانی یا عرقِ گلاب میں پیس کر چہرے پر لیپ کرنے سے رنگ صاف ہوتا ہے۔
اکثر اوقات پیشاب میں جلن کی شکایت ہوجاتی ہے۔ گرمیوں میں خاص طور پر یہ تکلیف ہو تو میرے کھانے سے یہ تکلیف بھی دور ہو جائے گی۔ میرے استعمال کا بہترین وقت سہ پہر کا ہوتا ہے۔
میرے باریک ٹکڑوں کے ساتھ برف کا چورا، دودھ، بالائی اور شکر ملا لینے سے بڑی عمدہ میٹھی ڈش تیار ہوجاتی ہے۔ میرے بیجوں کو خاص طور پر شہروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ بیج بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔ ان کے استعمال سے بھی گردے، مثانے اور آنتیں صاف ہوتی ہیں۔ اسی طرح انھیں چھیل کر مغز پیس کر لیپ کرنے سے چہرے کی رنگت نکھرتی ہے۔ انھیں کھانے سے گلے کی خشکی اور خراش بھی دور ہوتی ہے۔ معالجین بتاتے ہیں کہ میرے بیجوں کے مغز کے استعمال سے دماغ کو بھی طاقت ملتی ہے۔
مجھ میں پروٹین، نشاستہ، کیلشیم کے علاوہ فولاد، تانبا، حیاتین الف، حیاتین ب اور وٹامن سی بھی ہوتا ہے۔

مزید  امام رضا(ع) اور فضائل و کمالات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.