پردے کی مخالفت میں ایک منطقی نتیجہ

پردے کا انکار در حقیقت شہوانی قوت کا آزاد کرنا، یا اس کو وسعت دینا ، یا برانگیختہ کرنا یا اس کے بے لگام ہونے پر راضی ہو جانا یا اس کو تمام حالات میں محبوس کرنا ہے ، جو اس کو باغی و سرکش بنا دیتا ہے،اور نتیجہ میں انسان عقل کے حوالے سے ناتوان ہو جاتا ہے ، اور وہ کمال تک پہنچنے سے معذور ہو جاتا ہے ۔

وہ خاتون جو خود کو زینت دے کر سڑک پر آتی ہے اور اپنے پوشیدہ حسن کے جلوے دکھاتی ہے، اس کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا یہ عمل مردوں کے لئے تحریک کا سبب بنتا ہے، اور کسی کی شہوت کو برانگیختہ کرنا اس کے حق کا تجاوز کرنا ہے، کسی کی شہوت کو تحریک کرنے کا حق صرف اس کو ہوتا ہے جو اس کی شہوت کو پورا کر سکے ۔

آپ فرض کریں کہ ایک خاتون جو دس یا سو آدمیوں کی شہوت کو اپنے چہرے یا کسی پوشیدہ عضو کے ظاہر کرنے یا بالوں کے ذریعے برانگیختہ کرے ، یعنی اس نے اپنے بناؤ سنگار کے ذریعے ان کے وجود میں ہوس پیدا کی ہو ، اور اپنی طرف راغب کیا ہو (جبکہ یہ کیفیت مردوں میں فطری طور پر پائی جاتی ہے ،کہ اگر وہ کسی ہیجان آور منظر کو دیکھتے ہیں تو یہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہیجان سے بچا لیں لیکن عورت اپنے آپ کو چھپا سکتی ہے) ، لہذا یہاں دو ہی صورتیں ہیںیایہ بے پردہ عورتیں ان سب کی شہوت کو پورا کریں، اور یہ کام ان تمام عورتوں سے کہ جو بے پردہ باہر نکلتی ہیں بعید ہے (خاص عورتوں کی بات یہاں نہیں ہیں جن کا یہ ہی پیشہ ہے) اس لئے کہ گفتگو ان خواتین کی ہے جو خاندانی اور عزت دارہیں، جن میں بہت سی متدین بھی ہوتی ہیں اور ممکن ہے اہل نماز اور اہل خدا بھی ہوں ۔ اگر یہ عورتیں ان کی شہوتوں کو پورا نہیں کر سکتی تو پھر ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو ہیجان میں لائیں اور دوسرے کی حریم پر تجاوز کریں ۔ اس لئے کہ یہ مردوں کا حق ہے ان سے نہیں کہا جا سکتا تم آنکھیں بند کرکے راستہ چلو ، لیکن عورتوں سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے حسن کا مظاہرہ یا اپنی زینت کو عیاں نہ کریں ۔

جنسی روابط کو نظم و ضبط دینا ہمیشہ اخلاق کے مہمترین فرائض میں شمار ہوتاہے ۔ اس لئے کہ بچہ پیدا کرنے کا غریزہ تنھا شادی کے موقع ہی پر ہی مشکل پیدا نہیں کرتا بلکہ شادی سے پہلے اور اس کے بعد بھی مشکلات کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں میں اس غریزے میں شدت اور قانون کی نافرمانی اور طبیعی راستے سے انحراف، معاشرے میں بچے پیدا کرنے نظام میں بد نظمی اور اور سرکشی کا سبب بنتا ہے ۔ جبکہ جنسی زندگی جانوروں کے درمیان بھی آزاد اور بے لگام نہیں ہے، اس لئے کئے مادہ جانور بھی ایک معین وقت کے علاوہ کسی نر جانور کو قبول نہیں کرتا ہے ۔

انسانی معاشرہ اپنی تاریخ میں ہر قسم کے پردے یا برہنگی اور جنسی روابط کو ایک قانون کی حیثیت سے تجربہ کر چکا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی معاشرے میں پردے کا وجود عشق کے مفہوم پر مبنی تھا، اس بیان کے ساتھ کہ جب بھی میں کسی سے وابستہ ہوتا ہوں اور اس سے محبت کرتا ہوں، تو یہ احساس مجھ میں پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرا میرے عشق میں تصرف کا حق نہیں رکھتا، اگر کوئی دوسرا میرے عشق پر نظر ڈالے تو وہ میری نفرت کا شکار ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب میرا اس سے عشق کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ میں اس کی حمایت کروں، تاکہ دوسرا اس کی طرف نہ آسکے ، اور سب اس بات کو سمجھ لیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے ہیں ۔ یہ وہ احساس ہے جو میرے عشق کے درمیان انے والے افراد کے ساتھ سخت برتاؤ پر مجبور کرتا ہے، اور یہ احساس تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے لوگ ان دو عاشقوں کے رابطے کو رسمی سمجھیں، اور اس کی حدوں کی رعایت کریں، اور اسی مقام سے شادی کے مسئلے نے اپنی شکل اخیتار کی اور رسمیت حاصل کی، اس طرح ہر فرد اور معاشرہ، جنسی کمیونزم اور مرد و عورت کے غیر قانونی روابط سے الگ ہو جاتاہے ۔ اور اس طرح عشق کا خوبصورت مفہوم جو دو عاشقوں کے درمیان مشاہدے میں آتا ہے ، شادی کے مفہوم کو مزید حسین اور پسندیدہ بنا دیا ۔

اس بحث کے تسلل میں، جس وقت کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ وابسطہ تھا ، تو اس کے یہاں دلشکنی اور تردد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اور محبوب کا سابق رابطہ عشق اور خلوص میں کمی کا سبب بن جاتا ہے، اور یہ امر اس نئے عشق پر اثرانداز ہوتا ہے، اور انسان اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جو عشق ماضی میں کسی سے وابسطہ نہیں ہوتا ہے وہی زیادہ خوبصورت اور دل آویز ہوتا ہے ۔ لہذا اس قسم کی عورتیں جب اپنے عشق کو خلوص سے خالی دیکھتی ہیں تو بکارت کے تصور کو اپنی ہم جنس عورتوں کے درمیان رائج کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے شوہروں سے عشق کرنے سے پہلے اپنے جسم کو کسی دوسرے کے حوالے نہ کریں، اور یہ کام ان کو اپنے عشق کے سامنے حقیر اور رسوا نہ کر سکے ۔

اس طرح کی سازگاری کنوارے پن کے مفہوم کو گراں قدراوربے بہا بنا تی ہے، اس لئے کہ عشق اور شادی کی حسین صورت بھی کنوارپن تک سرایت کرتی ہے، اس راہ میں اگر کوئی لڑکی خالص عشق کے حصول کی خاطر باکرہ رہنا چاہے تو دوسروں کی نگاہوں سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر سکتی، اور سخت حالات کا سامنا کرتی ہے، لہذا سوائے اپنے آپ کو پردے میں چھپانے کے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، لہذا اپنی باطنی خوبصورتی اور اپنے کلام کی دلفریبی کو پردے میں رکھے تاکہ غیروں کی اس تک رسائی نہ ہونے پائے ۔ اس طرح پردہ معاشرے میں اپنا وجود پیدا کرتا ہے، عشق، شادی اور کنوارے پن کے حسن کا مالک بن جاتا ہے، اور کنوارے پن، شادی اور خالص عشق کے حصول کے لئے ایک صدف کی مانند ہو جاتا ہے ۔

اس طرح پاکیزہ عشق معاشرے میں عورت و مرد کے رابطہ کو محکم بناتا ہے اور اصول و قوانین پر اس کی بنیادیں رکھتا ہے جس کو ہر عقل سلیم دوسرے تمام طریقوں پر فوقیت دیتی ہے، یاد رہے اس قسم کا عشق ہمیشہ تھذیب و تمدن کی ترقی کا ثمرہ ہوتا ہے، جہاں انسانی شہوت کو اطمئنان بخشنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے مطابق کچھ حدیں بنائیں جاتی ہیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

دو + 7 =

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More