وہ كام جو نفس كے پاك كرنے ميں مدد ديتے ہيں

0 0

1_ فكر كرنا_

نفس كے پاك كرنيكا ايك اہم مانع غفلت ہوا كرتى ہے اگر ہم دن رات دنيا كى زندگى ميں غرق رہيں اور موت كى ياد سے غافل رہيں اور ايك گھڑى بھى مرنے كے بعد كے بارے ميں سوچنے پر حاضر نہ ہوں اور اگر كبھى مرنے كى فكر آئي بھى تو اسے فوراًء بھلاديں ہيں اور اگر برے اخلاف كے نتائج سے غافل ہيں اور اگر گناہوں كى اخروى سزا اور عذاب كا فكر نہيں كرتے خلاصہ خدا اور آخرت پر ايمان ہمارے دل كى گہرائيوں ميں راسخ نہيں ہوا اور خدا صرف ايك ذہنى مفہوم سے آگے نہيں بڑھا تو پھر ايسى غفلت كے ہوتے ہوئے ہم كس طرح اپنے نفس كو پاك كرنے كا عزم بالجزم كرسكتے ہيں؟ كس طرح نفس كو اس كى خواہشات پر كنٹرول كرسكتے ہيں؟ كيا اس سادگى سے نفس امارہ كے ساتھ جہاد كيا جاسكتا ہے؟ غفلت خود ايك نفس كى بڑى بيماريوں ميں سے ايك بيمارى ہے اور يہ دوسرى بيماريوں كے لئے جڑ واقع ہوتى ہے_ اس بيمارى اور درد كا علاج صرف فكر كرنا عاقبت انديشى اور ايمان كى قوت كو مضبوط اور قوى كرنا ہے_ انسان كے لئے ضرورى ہے كہ ہميشہ اپنے نفس كا محافظ اور مراتب رہے_ كسى وقت بھى اسے فراموش نہ كرے اور نفسانى بيماريوں كے بدانجام اور گناہوں كى سزا اور دوزخ كى سختعذاب كو سوچنا رہے_ قيامت كے حساب اور كتاب كو ہميشہ نگاہ ميں ركھے اس صورت ميں نفس كو پاك كرنے كے لئے آمادہ كيا جاسكتا ہے اور حتمى فيصلہ كرسكتا ہے اور اپنے نفس كو برے اخلاق اور گناہوں سے پاك كرسكتا ہے_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”جو شخص اپنے دل كو دائمى فكر سے آباد كرے گا اس كے ظاہرى اور باطنى كام اچھے ہونگے_ 

2_ تاديب و مجازات_

اگر ہم نفس كے پاك كرنے پر كامياب ہونا چاہتے ہيں تو ہم تنبيہہ اور ادب ديئےانے اور جزائے اخروى سے استفادہ كرسكتے ہيں_ ابتداء ميں ہم نفس كو خطاب كرتے ہوئے تہديد اور ڈرائيں كہ ميں نے حتمى ارادہ كرليا ہے كہ گناہوں كو ترك كردوں اور اگر اے نفس تو ميرى اس ميں مدد نہيں كرے گا اور گناہ كا ارتكاب كرے گا تو ميں فلاں سزا تيرے بارے ميں جارى كردونگا مثلاً اگر تو نے كسى كى غيبت كى تو ميں ايك دن روزہ ركھ لوں گا يا ايك ہفتے تك صرف لازمى گفتگو كروں گا يا اتنا روپيہ صدقے كے طور پر دے دونگا يا ايك دن پانى نہيں پيونگا يا صرف ايك وقت غذا سے تجھے محروم كردونگا يا كئي گھنٹے گرميوں ميں دھوپ ميں بيٹھا رہونگا تا كہ تو جہنم كى حرارت كو نہ بھلاسكے يا اس طرح اور سزائيں اپنے نفس كو سنائيں_

اس كے بعد اپنے نفس پر اچھى طرح نگاہ ركھيں كہ وہ بعد ميں غيبت نہ كرنے لگے اور اگر اس سے غيبت صادر ہوجائے تو حتمى ارادے سے بغير كسى نرمى اور سستى كے اس كے مقابلے ميں اڑجائيں اور وہ سزا جاسكا نفس سے وعدہ كيا ہوا تھا اس پر جارى كرديں جب نفس امارہ كو احساس ہوجائيگا كہ ہم گناہ كے نہ كرنے پر مصر ہيں اور بغير كسى نرمى كے اسے سزاديں گے تو پھر وہ ہمارى شرعى چاہت كوماننے لگے جائے گا_

اگر كافى مدت تك بغير چشم پوشى كے اس طريقے پر عمل كرتے رہيں تو پھر ہم شيطن كے راستے كو روك سكيں گے اور نفس امارہ پر پورى طرح سے مسلط ہوجائيںگے ليكن اس كى عمدہ شرط يہ ہے كہ ہم حتمى ارادہ كرليں اور بغير كسى معمولى نرمى كے سركش نفس كو سزا دے ديں_ بہت تعجب كا مقام ہے كہ ہم دنياوى امور ميں معمولى غلطى كرنے والے كو سزا اور تنبيہہ كرتے ہيں ليكن اپنے نفس كے پاك كرنے ميں اس روش پر عمل نہيں كرتے حالانكہ اخروى سعادت اور نجات نفس كے پاك ہونے پر موقوف ہوتى ہے_

اللہ تعالى كے بہت سے بندوں نے اپنے نفس كے پاك كرنے اور بہتر بنانے اور نفس پر قابو پانے ميں اس طريقے پر عمل كرنے كى توفيق حاصل كى ہے_

اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ”نفس كو اپنا قيدى بنانے اور اس كى عادات كو ختم كرنے ميں بھوك بہت ہى زيادہ مددگار ہوتى ہے_ 

نيز حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے ” جو شخص اپنے نفس كو رياضت اور تكليف ميں زيادہ ركھے گا وہ اس سے فائدہ اٹھائيگا_

ايك صحابى فرماتے ہيں كہ سخت گرمى كے زمانے ميں رسول خدا (ص) ايك دن ايك درخت كے سائے ميں بيٹھے ہوئے تھے اسى دوران ايك آدمى ايا اس نے اپنا لباس اتارا اور گرم ريت پر ليٹ گيا اور ريت پر لوٹنا پوٹنا شروع كرديا كبھى اپنى پيٹھ كو گرم ريت پر ركھ كر گرم كرتا اور كبھى اپنے پيٹ اور كبھى اپنے چہرے كو اور كہتا اے نفس امارہ اس ريت كى گرمايش كو چكھ اور جان لے كہ دوزخ كى آگ كى گرمى اس سے زيادہ اور سخت تر ہے_ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم اس كاخوب نظارہ كر رہے تھے_ جب اس آدمى نے اپنا لباس پہنا اور چاہا كہ وہاں سے چلا جائے تو رسول خدا(ص) نے اسے اپنے پاس آنے كا اشارہ ديا_ اس آدمى نے آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا حكم بجا لايا اور آپ(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا آپ(ص) نے اس سے فرمايا كہ ميں نے تجھے ايسا كام كرتے ديكھا ہے كہ اسے دوسرے لوگ نہيں كرتے تمہارى اس كام سے كيا غرض تھي؟ اس نے جواب ميں عرض كى يا رسول اللہ (ص) مجھے خدا كے خوف نے اس كام كے كرنے پر آمادہ كيا ہے_ ميں يہ كام انجام ديتا تھا اور اپنے نفس سے كہتا تھا كہ اس گرمى كو چكھ اور جانلے كہ دوزخ كى آگ كى گرمى اس سے زيادہ شديد اور دردناك ہے_ رسول خدا(ص) نے فرمايا واقعى تو خدا سے خوف زدہ ہوا ہے اور اللہ تعالى نے تيرے اس عمل سے آسمان كے فرشتوں پر فخر كيا ہے_ آنحضرت(ص) نے اس كے بعد اپنے اصحاب سے فرمايا كہ” اس آدمى كے نزديك جائو اور الس سے خواہش كرو كہ وہ تمہارے لئے دعا كرے اصحاب اس كے نزديك گئے اور اس سے دعا كى خواہش كى اس آدمى نے دعا كے لئے ہاتھ ااٹعائے اور كہا الہم اجمع امرنا على الہدى و اجعل التقوى زادنا و الجنتہ مابنايعنى اے اللہ ہميں ہدايت پر جمع كردے اور تقوى كو ہمارا زاد راہ قرار دے اور جنت ہمارا ٹھكانا بنا اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” اپنے نفس كو با ادب بنانے كے لئے كوشش كرو اور اسے سخت عادت سے روكو_

مزید  بلڈ شوگر بڑھانے والی 7 عام مگر گمنام وجوہات

حضرت صادق عليہ السلام نے ايك حديث ميں فرمايا ہے كہ خدا اور بندے كے درميان نفس كى خواہشات سے زيادہ تاريك اور وحشت ناك پردہ نہيں ہوا كرتا اور اسے ختم كرنے كے لئے خدا كى طرف احتياج اور اس كے سامنے خضوع اور خشوع اور دن ميں بھوك اور پياس اور رات كى بيدارى سے كوئي بہتر ہتھيار نہيں ہے اگر انسان ايسى حالت ميں مرجائے تو شہيد دنيا سے جائے گا اور اگر زندہ رہے تو بالاخرہ اللہ تعالى كے رضوان اكبر كو حاصل كر لے گا خدا قرآن ميں فرماتا ہے ” جو ہمارے راستے ميں جہاد كرتے ہيں ہم انہيں اپنے راستوں كى ہدايت كرديتے ہيں اور اللہ احسان كرنے والوں كے ساتھ ہے_

3_ اللہ تعالى كى كرامت كى طرف توجہہ كرنا اور انسانى اقدار كو قوى بنانا

بيان ہوچكا ہے كہ انسانى روح اور نفس ايك گران بہا موتى ہے جو حيات و كمال و جمال و رحمت و احسان كے عالم سے وجود ميں آيا ہے اور بطور فطرت انہيں امور سےسنخيت ركھتا ہے اگر يہ اپنے بلند مقام اور منزلت اور قيمتى وجود كى طرف توجہ ركھے ہوئے ہو تو گناہوں كا ارتكاب اور برے اخلاق كو اپنى شان سے پست تر شمار كرے گا اور فطرتا ان سے متنفر ہوگا جب اس نے سمجھ ليا كہ وہ انسان ہے اور انسان ذات الہى كے خاص لطف و كرم سے عالم بالا سے اس دنيا ميں آيا ہے تو پھر اس كى نگاہ ميں حيوانى خواہشات اور ہوى اور ہوس بے قيمت جلوہ گر ہوں گى اور اپنے وجود ميں مكارم اخلاق كو زندہ ركھنے كى طرف مائل ہوگا_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” جو شخص اپنے نفس كى عزت كرتا ہو اس كے لئے شہوات بہت معمولى اور بے ارزش ہوں گي_

امام سجاد عليہ السلام كى خدمت ميں عرض كيا گيا كہ معزز اور گراں قدر انسان كون ہوتا ہے؟ تو آپ نے فرمايا ” جو دنيا كو اپنے وجود كى قيمت قرار نہ دے _ لہذا روح كے انسانى شرافت اور اس كے وجود كے قيمتى ہونے اور اس كے مقام و مرتبت كے بلند و بالا كى طرف توجہہ سے نفس كو گناہوں اور برے اخلاق سے پاك كرنے ميں مدد لى جا سكتى ہے _ اگر ہم اپنى روح سے مخاطب ہوں اور اسے كہيں كہ اے روح تو علم و حيات كمال و جمال احسان و رحمت اور قدس كے عالم سے آئي ہے تو اللہ تعالى كا خليفہ ہے تو ايسا انسان ہے جو ہميشہ زندہ رہنے اور اللہ تعالى كے قرب حاصل كرنے كے لئے پيدا كيا گيا ہے تو حيوان سے بلند و بالا ہے_ تيرے وجود كى قيمت حيوانى خواہشات كى پيروى كرنا نہيں ہے اگر انسان اس طرح سوچے تو پھر گناہوں كے ترك كر دينے اور روح كو پاك كرنے ميں بہت آسانى ہوجائيگى اسى طرح نفس كو پاك كرنے كے لئے ہر برى صفت كى ضد كو قوى كرنا چاہئے تا كہ برى صفت آہستہ آہستہ دور ہو جائے نيك صفت كو اس كى جگہ لئے چاہئے تا كہ اس كى ثانوى عادت ہو جائے مثلا اگر كسى انسان سے حسد كرتے ہيں اور اس پر نعمت او رخوشى سے ہميں تكليف ہوتى ہے اور اس كى برائي اور اذيت اور توہين اور لاپروراہى كرنے اور اس كے كاموں ميں روڑا اٹكانے سے ہم اپنے اندرونى بغض كو خوش كرتے ہيں تو اس صورت ميں ہميںاس كى تعريف اور ثنا احترام اور احسان اور خيرخواہى اور مدد كرنے ميں كوشش كرنى چاہئے جب ہمارے كام حسد كے اقتضا كے خلاف ہونگے تو پھر آہستہ آہستہ يہ برى صفت زائل ہوجائيگى اور خيرخواہى كى صفت اس كى جگہ لے لے گي_ اور اگر ہم كنجوسى اور بخل كى بيمارى ميں مبتلا ہوئے تو پھر اپنے مال كو شرعى امور ميں خرچ كردينے كو اپنے نفس پر لازم قرار دے ديں تا كہ تدريجا بخالت كى صفت زائل ہوجائے اور احسان اور خرچ كرنے كى عادت ہوجائے_ اور اگر حقوق اللہ خمس و زكوة و غيرہ كے ادا كرنے ميں بخل كرتے ہيں تو پھر حتمى طور سے نفس كے مقابلے پر آجائيں اور اس كے وسوسے پر كان نہ دھريں اور مالى حقوق كو ادا كرديں اور اگر ہم اپنے مال كو اپنے اہل و عيال اور زندگى كے مصارف ميں خرچ كرنے سے انكار كرتے ہيں تو پھر ان ميں خرچ كرنے كے لئے اپنے نفس پر زور ديں تا كہ اس كى عادت ہوجائے اور اگر بخالت كيوجہ سے نيكى كے كاموں ميں شريك نہيں ہوتے تو پھر جيسے بھى ہو ان امور ميں شركت كرتے رہيں اور كچھ اپنے مال كو اللہ تعالى كے راستے اور غريبوں كى اعانت كے لئے خرچ كرتے رہيں تا كہ آہستہ آہستہ اس كام كى عادت پڑ جائے معلوم ہے كہ يہ كام ابتداء ميں بہت حد تك مشكل ہونگے ليكن اگر پائيدارى اور كر گزرنا ہوجائے تو پھر يہ آسان ہوجائيں گے_

مزید  اکیسویں پارے کا مختصر جائزه

قاعدتا اپنے نفس كو پاك كرنے اور برے اخلاق سے جہاد كرنے كے لئے دو كاموں كو ہميں انجام دينا ہوگا_

1_ برے اخلاق اور نفس كى خواہش كا كبھى اثبات ميں جواب نہ ديں يعنى جو نفس چاہتا جائے ہم اسے بجالاتے جائيں ايسا نہ كريں تا كہ اس كا بيج اور جڑ آہستہ آہستہ خشك ہو جائے_

2_ نيك صفت جو برى صفت كى ضد ہے اسے قوى بنائيں اور نفس كو اس پر عمل كرنے كے لئے مجبور كريں تا كہ وہ آہستہ آہستہ اس كى عادت ڈال لے اور وہ اس كى عادت اور ملكہ بن جائے اور برى صفت كو بيخ سے اكھاڑ ڈالے_

اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے ” كہ اپنے نفس كو فضائل اور اچھے كام بجا لانے پر مجبور كر كيونكہ برى صفات تيرے اندر ركھ دى گئي ہيں_

نيز حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ” اپنے نفس كو اچھے كام انجام ديے اور سختى كا بوجھ اٹھانے كى عادت ڈال تا كہ تيرا نفس شريف ہو جائے اور تيرى آخرت آباد ہو جائے اور تيرى تعريف كرنے والے زيادہ ہوجائيں_

نيز آن حضرت(ع) نے فرمايا ہے كہ ” نفسانى خواہشات قتل كردينے والى بيمارياں ہيں ان كا بہترين علاج اور دواء صبر اور خوددارى ہے_

برے دستوں سے قطع تعلق_

انسان ايك موجود ہے جو دوسروں سے اثر قبول كرتا ہے اور دوسروں كى تقليد اور پيروى كرتا ہے_ بہت سى صفات اور اداب اور كردار اور رفتار كو دوسرے ان انسانوں سے ليتا ہے كہ جن كے ساتھ بود و باش اور ارتباط ركھتا ہے_ در حقيقت ان كے رنگ ميں رنگا جاتا ہے بالخصوص دوستوں اور ميل جول ركھنے والوں سے زيادہ اثر ليتا ہے جو اس كے زيادہ نزديك ہوتے ہيں_ بداخلاق اور فاسد لوگوں كے ساتھ دوستى انسان كو فساد اور بداخلاقى كى طرف لے جاتى ہے _ انسان كى ايك خاصيت يہ ہے كہ وہ اپنے آپ كو دوسروں كى طرح بناتا ہے اگر كسى كے ہم نشين بداخلاق اور گناہگاروں تو وہ ان كے برے اخلاق اور گناہ سے انس پيدا كر ليتا ہے اور صرف ان كى برائي كو برائي نہيںسمجھتا بلكہ وہ اس كى نگاہ ميں اچھائي بھى معلوم ہونے لگتى ہے اس كے برعكس اگر ہم نشين خوش اخلاق اور نيك ہوں تو انسان ان كے اچھے اخلاق اور كردار سے مانوس ہوجاتا ہے اور اس كا دل چاہتا ہے كہ وہ خود بھى اپنے آپ كو انہيں كى طرح بنائے لہذا اچھا دوست اللہ تعالى كى ايك بہت بڑى نعمت ہے اور انسان كى ترقى اور كمال تك پہنچنے كا بہت اچھا كارآمد اور سعادت آور شمار ہوتا ہے_ اس كے برعكس برا دوست انسان كى بدبختى اور راستے سے ہٹنے اور مصائب كا موجب ہوتا ہے لہذا دوست كےانتخاب اور اختيار كرنے كو ايك معمولى كام اور بے اہميت شمار نہيں كرنا چاہئے بلكہ اسے ايك اہم اور عاقبت ساز كام شمار كرنا چاہئے كيونكہ برا گناہگار دوست برے كاموں كو بھى اچھا بتلايا ہے اورچاہتا ہے كہ اس كے دوست بھى اسى كى طرح ہوجائيں برا دوست نہ دنيا ميں كسى كى مدد كرتا ہے اور نہ آخرت كے امور ميں مدد كرتا ہے اس كے پاس آنا جانا بے عزتى اور رسوائي كا موجب ہوتا ہے_

مزید  موصوع ''تقوی" - تقوی كا مفہوم

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” كسى مسلمان كے شايان شان نہيں كہ وہ فاسق احمق دروغ گو سے دوستى كرے_

پيغمبر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” انسان اپنے دوست اور ہم نشين كے دين پر ہوتا ہے_

حضرت عليہ عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” فاسق انسان سے دوستى كرنے ميں حتمى طور سے اجتناب كرو اس واسطے كہ شر شر سے جا ملتا ہے_ 

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” برے اور شرير لوگوں سے ميل جول ركھنے سے حتمى طور سے پرہيز كر كيونكہ برا دوست آگ كى طرح ہوتاہے كہ جو بھى اس كى نزديك جائيگا جل جائيگا_

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” برے دوست كے ساتھ ميل جول سے حتما پرہيز كر كيونكہ وہ اپنے ہم نشين كو ہلاك كرديتا اور اس كى آبرو كو ضرر پہنچاتا ہے_

لہذا جو انسان اپنے نفس كو پاك كرنا چاہتا ہے اگر اس كے برے دوست ہيں تو ان سے ميل جول فورا ترك كردے كيونكہ برے دوست ركھتے ہوئے گناہوں كا چھوڑنا بہت مشكل ہے برے دوست انسان كے اپنے نفس كو پاك كرنے كے ارادے كو سست كرديتے ہيں اور اسے گناہ اور فساد كى طرف راغب كرتے ہيں گناہ كرنا بھى ايك عادت ہے اور يہ اس صورت ميں چھوڑى جا سكتى ہے جب دوسرے عادت ركھنے والوں سے ميل جول ترك كردے_

5_ لغزش كے مقامات سے دور رہنا_

نفس كو پاك كرنا اور گناہ كا چھوڑ دينا اور وہ بھى ہميشہ كے لئے كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ يہ بہت مشكل كام ہے_ انسان ہر وقت لغزش اور گناہ كے ميدان ميں رہتا ہے_ نفس امارہ برائيوں كى دعوت ديتا رہتا ہے اور نفس جو جسم كے حكم ماننے كا مركز ہے وہ ہميشہ بدلتا اور دگرگون ہوتا رہتا ہے_ دنيا ميں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہوتا ہے اور اسى كے مطابق فرمان جارى كرتا اور پھر وہ اسے كيسے سنتا اور ديكھتا اور كن شرائط ميں قرار پاتا ہے_ انسان مجالس اور محافل معنوى اور عبادات اور احسان نيك كاموں كے ماحول ميں جانے سے اچھے كاموں كے بجالانے كى طرف مائل ہوتا ہے برعكس فسق و فجور اور گناہ كے مراكز اور محافل ميں جانے سے انسان گناہ كى طرف لے جايا جاتا ہے_

معنوى ماحول ديكھنے سے انسان معنويات كى طرف رغبت كرتا ہے اور شہوت انگيزى ماحول ديكھنے سے انسان شہوت رانى كے لئے حاضر ہوجاتا ہے اگر كسى عيش و نوش كى مجلس ميں جائے تو عياشى كى طرف مائل ہوتا ہے اور اگر كسى دعا و نيائشے كى مجلس ميں حاضر ہو تو خدا كى طرف توجہ پيدا كرتا ہے_ اگر دنيا داروں اورمتاع كے عاشقوں كے ساتھ بيٹھے تو حيوانى لذت كى طرف جايا جاتا ہے اور اگر خدا كے نيك اور صالح بندوں كے پاس بيٹھے نيكى اور خوبى كى طرف رغبت كرتا ہے_ لہذا جو لوگ اپنے نفس كو پاك كرنے اور گناہوں كے ترك كرنے كا ارادہ ركھتے ہيں تو ان كے لئے ضرورى ہے كہ وہ اپنى آنكھوں كانوں كوشہوت انگيز اور خرابى و فساد اور گناہوں كے محافل اور مراكز سے دور ركھيں اور اس طرح كى محافل اور اجتماع ميں شريك نہ ہوں اور اس طرح كے لوگوں كے ساتھ ميل جول اور دوستى نہ ركھيں اگر انسان نہيں كريں گے تو پھر ہميشہ كے لئے گناہ اور خطا اور لغزش كے ميدان ميں واقع ہوتے رہيں گے اس لئے تو اسلام نے حرام كے اجتماع اور محافل جيسے جوئے بازى شراب و غيرہ ميں شريك ہونےسے روكا ہے_ نامحرم كو ديكھنا اور غير محرم عورت كے ساتھ تنہائي ميں بيٹھنا اور اس سے مصافحہ كرنا اور اس سے ہنسى اور مزاح كرنے سے منع كيا ہے_ اسلام ميں پردے كے لئے سب بڑى حكمت اور مصلحت يہى چيز ہے_ اسلام چاہتا ہے كہ ماحول گناہوں كے ترك كردينے اور نفس كو پاك كرنے كے لئے سازگار ہو اس كے علاوہ كسى اور صورت ميں نفس امارہ پر كنٹرول كرنا غير ممكن ہے كيونكہ فاسد ماحول انسان كو فساد كى طرف لے جاتا ہے يہاں تك كہ صرف گناہ كى فكر اور سوچ بھى انسان كو گناہ كى طرف بلاتى ہے لہذا اسلام ہميں كہتا ہے كہ گناہ كى فكر اور سوچ كو بھى اپنے دماغ ميں راستہ نہ دو_

امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” جب آنكھ كسى شہوت كو ديكھ لے تو پھر اس كى روح اس كے انجام كے سوچنے سے اندھى ہوجاتى _حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ” گناہ كا سوچنا اور فكر كرنا تجھے گناہ كرنے كا شوق دلائے گا_

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.