ولایت فقیہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں

0 0

اب جبکہ امام زمانہ (ع) کی غیبت کا دور ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے حکومتی احکام بھی جاری و ساری رہیں اور اس میں کوئی خلل واقع نہ ہو تو لازمی طور پر ایک حکومت اسلامی کی تشکیل ناگزیر ہے۔ عقل بھی اسی بات کا حکم دیتی ہے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل ضروری ہے اس لیے کہ اگر کوئی ہم پر حملہ کر دے تو کم از کم ہم اس حملے کو روک سکیں۔ اگر ناموس مسلم خطرے میں پڑ جائیں تو ہم اس کا دفاع کر سکیں۔

ولایت فقیہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں
فقہا کی حکمرانی کی مختصر تاریخ
وہ ولایت جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ائمہ علیہم السلام کے لیے ثابت ہے وہی ایک فقیہ کے لیے بھی ثابت ہے اس بات میں اس وقت تک کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا جب تک کوئی دلیل اس کے خلاف نہ ہو۔ ولایت فقیہ کا موضوع کوئی نیا موضوع نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ پر بہت پہلے سے ہی بحث ہوتی رہی ہے۔ میرزا شیرازی کا تنباکو کی حرمت پر جو فتویٰ تھا اس کی حیثیت چونکہ حکومتی حکم کی تھی لہذا دوسرے فقہا کے لیے بھی اس کا ماننا واجب تھا۔ ایک قلیل تعداد کو چھوڑ کر ایران کے بڑے علما کی اکثریت نے اس فتوے کو تسلیم کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ کچھ لوگوں کے اختلاف کو سلجھانے کی خاطر یہ حکم عدالتی فیصلہ کی طرح کا کوئی حکم ہو بلکہ مسلمانوں کے مفاد کو نظر میں رکھتے ہوئے انہوں نے حکم ”ثانوی‘‘ کے عنوان سے یہ حکومتی حکم صادر فرمایا تھا۔ جب تک عنوان موجود تھا یہ حکم بھی باقی تھا اور جیسے ہی عنوان ہٹایا حکم بھی اٹھا لیا گیا۔
مرزا محمد تقی شیرازی جنہوں نے جہاد کا حکم دیا تھا جس کا نام”دفاع‘‘ رکھا گیا سبھی علماء نے اس حکم پر عمل کیا تھا کیوںکہ وہ حکم حکومتی حکم تھا۔
کہا جاتا ہے کہ کاشف الغطا نے بھی اس طرح کے بہت سے مطالب بیان فرمائے ہیں۔ متاخرین علما نراقی نے رسول خدا (ص) سے مربوط تمام شئونات (اختیارات) کو فقہا کے لیے بھی ثابت جانا ہے۔ مرحوم آقائے نائینی بھی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب ”مقبولہ عمر ابن حنظلہ‘‘ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے (جس کی وضاحت بعد میں بیان کی جائے گی)۔
اسلامی معاشرے کو اگر کوئی چیز بچا سکتی ہے تو وہ” اسلامی حکومت‘‘ ہے۔ امام خمینی(رہ) کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی حکمرانی کی بحث چھیڑی جسے وہ ولایت فقیہ سے تعبیر کرتے تھے۔ ولایت فقیہ کا مبنا و نظریہ انتہائی مستحکم ہے۔ قدیم زمانے سے اب تک اگر کسی نے اس بحث کو نہیں چھیڑا یا اسے کنارے پڑے رہنے دیا تو اس کی وجہ یہ رہی کہ ان کی سوچ یہ تھی کہ جو چیز عملی نہیں ہو سکتی اس کے بارے میں بحث کر نے کا کیا فائدہ۔ اس سے ہٹ کر جب انسان فقہا کی کتابوں میں دیکھتا ہے تو اسے یہ پتا چلتا ہے کہ فقہا میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو غیر اسلامی حاکم کی حکمرانی کو قبول کرتا ہو (فقہ کے مختلف ابواب میں انسان اس بات کو ملاحظہ کر سکتا ہے)۔
یہ بات مسلمات میں سے ہے اس کی اگر مثال پیش کیا جائے تو جو تعبیرات صاحب جواہر نے ولایت فقیہ کے بارے میں استعمال کی ہیں وہ بالکل واضح ہیں۔ صاحب جواہر ولایت فقیہ کے دائرہ کار کو صرف ولایت بر صغار (چھوٹوں پر ولایت) تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اس سے بالاتر دوسرے اہم فقہی ابواب جیسے باب جہاد میں فقیہ کی ولایت کی توسیع کے قائل ہیں او اس مسئلہ کو اسلامی فقہ کے واضح مطالب میں سے جانتے ہیں۔ مرحوم نراقی اور آپ ہی کی طرح کے لوگوں نے اس سلسلے میں اچھی خاصی بحث کی ہے۔ اس فکر کی بنیاد بہت ہی مضبوط ہے اور اس کو امام خمینی(رہ) نے پیش کیا ہے۔
امام خمینی(رہ) نے فقہ کے محکم قاعدوں کی مدد سے ۱۳۴۷ہجری شمسی میں نجف اشرف جیسے فقاہت کے مرکز میں ولایت فقیہ کی خاموش اور فراموش شدہ بحث کو دوبارہ زندہ کیا۔ ولایت فقیہ، شیعہ فقہ کے مسلمات میں داخل ہے۔ بعض کم پڑھے لکھے لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ولایت فقیہ امام خمینی(رہ) کی ایجاد ہے ان کے علاوہ کوئی اور اس کا قائل نہیں ہے ان کا یہ کہنا ان کی لا علمی کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ فقہا کے کلام سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ولایت فقیہ کا مسئلہ شیعہ فقہ کے روشن اور واضح مسائل میں سے ایک ہے۔ جو کام امام خمینی(رہ) نے کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے اس فکر کو مضبوط اور مستحکم دلائل کے ساتھ اس کی کیفیت کو ان آفاق سے ہم آہنگ کر دیا جو عصر حاضر کی سیاست اور اس کے بارے میں مختلف مکاتب فکر رکھتے تھے اس طرح سے کہ جدید سیاسی مکاتب فکر اور سیاسی مسائل سے آشنا لوگوں کے لیے یہ فکر قابل فہم ہونے کے ساتھ ساتھ قابل قبول ہو جائے۔
ولایت فقیہ کی تعریف
فقیہ کی قیادت اور دین شناس فقیہ کی حکمرانی سے مراد کیا ہے؟ فقیہ اس شخص کو کہتے ہیں جو دین کی گہری سمجھ رکھتا ہو۔ فقیہ اس راستے کی نشان دہی کرتا ہے جس پر دیندار لوگ چل کر دنیا اورآخرت میں سعادت سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی حکمرانی ایک عقلی اور منطقی استدلال پر استوار ہے۔ ایسی دلیل جو فقیہ کی حکمرانی کو ثابت کرتی ہو کسی فوجی حکمران، کسی سرمایہ دار حکمران یا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والے حکمران کی حکمرانی کے تعلق سے بھی ایسی منطقی اور عقلی دلیل نہیں پائی جاتی۔ ولایت فقیہ کی اصطلاح عربی زبان کی ایک اصطلاح ہے جو دینی طلباء و علما کی کتابوں میں درج ہے۔ فقیہ کی حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ زمام حکومت کو ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دے دینا جس سے کوئی غلط کام کی امید نہ ہو۔ یہ بہت اہم چیز ہے۔ جب بھی کوئی غلط کام اس سے سرزد ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس مقام کا اہل نہیں ہے۔ لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اس بات کو سمجھ رہا ہوتا ہے کہ اگر کوئی غلط کام وہ کر رہا ہے تو پھر اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں ہے۔
اب جبکہ امام زمانہ (ع) کی غیبت کا دور ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے حکومتی احکام بھی جاری و ساری رہیں اور اس میں کوئی خلل واقع نہ ہو تو لازمی طور پر ایک حکومت اسلامی کی تشکیل ناگزیر ہے۔ عقل بھی اسی بات کا حکم دیتی ہے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل ضروری ہے اس لیے کہ اگر کوئی ہم پر حملہ کر دے تو کم از کم ہم اس حملے کو روک سکیں۔ اگر ناموس مسلم خطرے میں پڑ جائیں تو ہم اس کا دفاع کر سکیں۔اسلامی شریعت نے بھی یہی حکم دیا ہے کہ ان لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے باز رکھنے کے لیے بھی قانون اور اس کا نفاذ ضروری ہے یہ ایسے کام ہیں جو خود بخود انجام نہیں پا سکتے بلکہ ان کی انجام دہی کے لیے ایک حکومت کا قیام ضروری ہے۔ حکومت کا قیام اور معاشرے پر حکمرانی کرنے کے لیے چونکہ اس کا مالی طور پر مستحکم ہونا ضروری ہے لہذا شریعت نے خمس و زکات اور خراج(ٹیکس) کی وصولی کے ذریعے مالی نظام کو مستحکم بنایا ہے۔
غیبت کے زمانے میں خدا نے کسی کو اپنی طرف سے حکومت قائم کرنے کے لیے مقرر نہیں فرمایا تو ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ کیا ہم اسلام کو خدا حافظ کر دیں؟ اب ہمیں کسی اسلام کی ضرورت نہیں ہے؟
اسلام صرف دو سو سال تک کے لیے ہی تھا؟ اسلام نے ہماری ذمہ داری معین تو کر دی ہے لیکن وہ ذمہ داری حکومت کے قیام کی نہیں ہے؟ اسلامی حکومت کے نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے بیشتر قوانین کو تعطیل کر دینا پڑے گا۔ غیبت کے زمانے میں اگر خدا نے کسی شخص کو حکومت کے لیے معین نہیں کیا ہے لیکن حکومت کی وہ خصوصیت جو ابتدائے اسلام سے لے کر حضرت حجت(ع) کے زمانے تک موجود تھی اسی خصوصیت کے ساتھ حضرت کی غیبت کے بعد بھی قرار دیا ہے۔ وہ خصوصیت کچھ اور نہیں بلکہ قانون کا علم رکھنا اور عدالت برپا کرنا ہے جو ہمارے بہت سے فقہا متحد ہو جائیں تو ساری دنیا میں ایک عادل حکومت قائم کر سکتے ہیں۔ اگر ایک لائق فرد اٹھے جو ان دو صفتوں کا حامل ہو اور حکومت قائم کرے تو جو ولایت رسول خدا (ص) حکومت کو چلانے کے لیے رکھتے تھے سب پر لازم ہے کہ اس کی اطاعت کریں(کتاب ولایت فقیہ امام خمینی)
ولایت فقیہ کو ثابت کرنے والی دلیلیں
اسلامی معاشرے میں ولایت کا مسئلہ بہت ہی روشن اور واضح ہے جو اسلامی بنیادوں پر استوار، قرآنی آیات سے اخذ شدہ ہے اور ایک سلیم العقل بلاغرض انسان اس کی تصدیق کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
عقلی دلیلیں
ولایت فقیہ ایک ایسا موضوع ہے جس کا محض تصور ہی اس کی تصدیق کا سبب ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لیے شاید کسی برہان و دلیل کی ضرورت ہی نہ ہو کیونکہ جو بھی اسلام کے عقائد و احکام سے اگر اجمالی طور پر ہی مگر صحیح سے واقف ہو جیسے ہی وہ ولایت فقیہ کے مسئلہ تک پہنچتا ہے فورا اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کو ضروریات دین اور بدیہی چیزوں میں پاتا ہے(کتاب ولایت فقیہ امام خمینی)
ولایت فقیہ یعنی اسلامی معاشرے میں فقیہ کی حکومت۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں شاید دلیل نقلی کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو گر چہ نقلی دلائل یعنی قرآن و حدیث سے فقہا و علماء ربانی کی حکومت کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی دلیلیں موجود ہیں لیکن اگر قرآن و حدیث سے بھی کوئی دلیل نہ ملے تب بھی ولایت فقیہ کو ثابت کے لیے عقلی دلیل ہی کافی ہے۔ اگر ہم صرف اتنا جان لیں کہ اسلامی معاشرہ میں الہی احکام کو نافذ کرنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو دین کی گہری سمجھ رکھتے ہوں تو بس اتنا ہی کافی ہے۔ جو شخص یہ مانتا ہو کہ معاشرے میں خدا کے احکام اور اسلامی قانون کا نفاذ ہونا چاہیے اور اس بات کو خدا اور اسلام پر اعتقاد رکھنے کا لازمہ سمجھتا ہو تو جو اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہو ایسا شخص ولایت فقیہ کو سمجھنے کے لیے کسی استدلال کا محتاج نہیں رہے گا۔
اب اس کے لیے یہ ضرورت باقی نہیں رہے گی کہ اسے یہ سمجھایا جائے کہ قرآن و حدیث نے ولایت فقیہ کے تعلق سے کیا کہا یہ اس لیے ہے کہ معاشرہ اسلامی قوانین پر چلنے کا پابند ہو ضروری ہے کہ اس معاشرے کا حاکم ایک ایسا شخص ہو جو اسلامی قوانین کا عالم ہو۔
وہ معاشرہ جہاں الہی اور دینی اقدار کی کوئی اہمیت نہ ہو اور اس بات پر راضی ہو کہ اس معاشرہ کا حاکم ایک ایسا شخص بن جائے تو انسانی صفات سے عاری ہو تو ایسا معاشرہ ایک فلمی ادا کار، ایک بڑے سرمایہ دار اور انہیں جیسے افراد کو زمام حکومت سونپنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا لیکن وہ معاشرہ جو الہی اور دینی اقدار کا پابند ہو توحید پروردگار کو دل و جان سے قبول کرتا ہو نبیوں کی نبوت پر اعتقاد رکھتا ہو خدا کی شریعت کا قائل ہو ایسے معاشرے کے لیے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایک ایسے شخص کو حاکم کے طور پر قبول کرے جو خدا کی شریعت سے واقف ہو الہی اخلاق سے آراستہ ہو گناہ نہ کرتا ہو غلطی اس سے سرزد نہ ہوتی ہو، ظلم نہ کرتا ہو، مفاد پرست نہ ہو، لوگوں کا درد رکھتا ہو، الہی اقدار کو اپنی ذات اور اپنے گروہ کی منفعت پر ترجیح دیتا ہو۔
آج اسلامی حکومت اور ولایت فقیہ دو ایسے موضوعات ہیں جن کی فقہ جعفری اور عقلی معیارات کے نزدیک ایک مسلمہ حیثیت ہے۔ اگر انسان اپنی گفتگو کی بنیاد عقلی معیارات کو قرار دے تو تمام حکومتی نظریوں میں یہ نظریہ پوری طرح واضح، روشن اور قابل دفاع نظریہ نظر آئے گا۔ لیکن اس نظریہ ہے خدشہ وارد کرنے کی خاطر اس کا موازنہ پادریوں کی ظالمانہ حکومت یا پھر سلطنتی طرز حکومت سے کیا جاتا ہے جس کی تردید کرنا بہت ضروری ہے۔
پہلی دلیل
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ خدا نے کس لیے اولی الامر قرار دیا اور اس کی اطاعت کو واجب کیوں گردانا؟ تو اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ بہت سی وجوہات اور دلائل ہیں جن کی بنیاد پر خدا نے ایسا کیا ہے:
ان میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ لوگ ایک معین راستہ پر حرکت کریں خدا کی طرف سے انہیں یہ حکم ہے کہ وہ اس راستے سے تجاوز نہ کریں اور مقرر شدہ حدود و قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اگر تجاوز کیا تو غلط راستے پر نکل کر فساد کا شکار ہو جائیں گے اور خدا نے جو حکم دیا ہے نہ اس کی تعمیل ہو سکے گی اور نہ لوگ ایک راستے پر باقی رہ سکیں گے لیکن اگر صاحب اقتدار شخص کو ان پر ناظر بنا دیا جائے جو امانت دار ہو، جو اس امر کی ذمہ داری اٹھا سکے اور کسی کو یہ اجازت نہ دے کہ اپنے حق کے دائرے سے تجاوز کرے یا پھر کسی اور کے دائرے حقوق میں قدم رکھے۔ اگر صاحب اقتدار شخص کا تقرر ناظر کے عنوان سے نہ کیا جائے تو لوگ اپنے فائدے اور اپنی لذت کی خاطر دوسروں پر ظلم و ستم کرنے سے باز نہیں رہیں گے۔
دوسری دلیل
خدا کی طرف سے اولی الامر کو مقرر کرنے اور اس کی اطاعت کو واجب کرنے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ تمام فرقوں اور قوموں کی طرف نظر کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بغیر کسی سر پرست، صدر یا رہبر کے اپنی سماجی حیات کو باقی نہیں رکھ سکتے کیوں کہ اپنے دینی و دنیوی امور کی ادائیگی کے لیے وہ ہر قدم پر ایک سرپرست یا رہبر کے محتاج ہیں جو ان کے دنیوی یا دینی امور کی رہبری اور رہنمائی کرے یہ چیز تمام انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے اور ایک فطری چیز ہے لہذا خداوند عالم نے ہر قوم کے لیے ایک رہبر اور ہادی مقرر کیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق بغیر رہبر کے ہر قدم بھی زندگی کا آگے نہیں بڑھا سکتی۔ ایک الہی رہبر ہونا چاہیے جس کے وجود سے قوم کو تقویت ملے اور اسی کی سربراہی میں وہ دشمنوں کا مقابلہ کریں اور وہی لوگوں میں دولت کی صحیح تقسیم عمل میں لائے۔ نماز جمعہ و جماعت کو قائم کرے اور مظلوم کو ظالم سے بچائے۔(ولایت فقیہ، امام خمینی)
اولی الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرہ میں اولی الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمتگزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی احکام اور اسلامی سنتیں الٹ پھیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور نئی چیزیں داخل کرنے والے بدعتی لوگ سنتوں کو بدعتوں میں بدل دیتے ہیں، بے دین اور ملحد افراد دین سے بہت سی چیزیں کم کر دیتے ہیں اور پھر ایک نئے انداز سے مسلمانوں کے سامنے اس کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس تبدیلی کے بغیر دین باقی نہیں رہ سکتا تھا۔ لوگ ناقص ہیں اور کمال کے محتاج ہیں اس کے ساتھ ان میں بہت سے اختلاف پائے جاتے ہیں ان کے میلانات اور ان کے حالات ایک جیسے نہیں رہ پاتے۔ لہذا اگر کوئی ایسا شخص جو نظم کو باقی رکھ سکتا ہو اور جو قوانین اور دستورات پیغمبر لے کر آئے ان کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھ سکتا ہو ان پر ناظر کے عنوان سے بٹھایا نہ جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا اور جب ایسا ہو گا تو بشریت تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ جائے گی(ولایت فقیہ، امام خمینی)
تیسری دلیل
اسلام میں ولایت وہ چیز ہے جسے قرآن نے”انما ولیکم اللہ و رسولہ‘‘ کو قیادت، امارت اور حکمرانی کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ معاشرہ اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ علما، دانشمند، مفکرین، سائنسدان، برجستہ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان سب کے باوجود ایک ایسے شخص کی ہمیشہ معاشرے کو ضرورت رہتی ہے جو اس پر حکمرانی کر سکے یہ ایک عہدہ ہے، ایک پیشہ ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ شخص جو حکمرانی کی ذمہ داری اپنی گردن پر لے رہا ہے اس کا کوئی عقلی ملاک اور معیار ہونا چاہیے یا نہیں؟
یہاں اسلام آکر ایک ایسی بات پیش کرتا ہے جو دنیا کے تمام عقل رکھنے والوں کے لیے قابل قبول ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ حکمران ایسا شخص ہو کہ جس مکتب کے ماننے والوں پر وہ حاکم ہو اس پر مکمل ایمان رکھتا ہو اور عصمت کا جنبہ اس میں اس حد تک ہو کہ جان بوجھ کر کوئی گناہ انجام نہ دے۔
دنیا میں کوئی ایسی عقل ہے جو اس بات کی نفی کرتی ہو؟ اس سے بہتر کوئی بات ہو سکتی ہے کہ ایسا شخص معاشرے پر حاکم ہو جو اس مکتب پر ایمان رکھتا ہو اس کا عالم ہو، اسے نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو جو مکتب اس معاشرے کی اکثریت کا مکتب ہے۔ ایک طرح کی ضمانت بھی اس شخص میں پائی جاتی ہو وہ عمدا اور جان بوجھ کر کوئی گناہ کوئی غلطی نہ کرتا ہو۔ یہ ایک بہت ہی اچھی بات ہے کہ ایسا شخص معاشرے کا حاکم ہو۔
نقلی دلیلیں
اس باب میں نقلی دلیلیں قرآن بالخصوص روایات سے ماخوذ بہت زیادہ ہیں جن سب کو یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے لیکن اثبات مدعیٰ کے لیے چند دلیلوں کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے:
پہلی دلیل: ” الحوادث الواقع‘‘ والی روایت
فی کتاب اکمال الدین و اتمام النعم عن محمد بن محمد بن عصام عن محمد بن یعقوب عن اسحاق بن یعقوب قال: سالت محمد بن عثمان العمری ان یوصل لی کتابا قد سالت فیہ عن مسائل اشکلت علی۔ فورد التوقیع بخط مولانا صاحب الزمان(علیہ السلام) اما ما سالت عنہ، ارشدک اللہ و ثبتک ( الی ان قال) و اما الحوادث الواقعۃ فارجعوا فیہا الی رواۃ حدیثنا۔ فانھم حجتی علیکم و انا حجۃ اللہ علیہم۔ و اما محمد بن عثمان العمری فرضی اللہ عنہ و عن ابیہ فانہ ثقتی و کتابہ کتابی(کمال الدین)
اسحاق بن یعقوب حضرت ولی عصر(ع) کو ایک خط لکھ کر اپنی مشکلات کا اس میں ذکر کرتے ہیں جسے محمد بن عثمان عمری حضرت کے نائب خاص حضرت کو یہ خط پہنچاتے ہیں۔ اس خط کا جواب خود حضرت اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجتے ہیں:” جو حوادث تم کو پیش آتے ہیں ان میں ان کی طرف رجوع کرو جو ہم سے روایت نقل کرتے ہیں کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی طرف سے حجت ہیں۔
اس روایت میں ”حوادث واقعہ‘‘ سے مراد شرعی احکام اور دینی مسائل نہیں ہیں۔ پوچھنے والا یہ سوال نہیں کر رہا ہے کہ نئے پیش آنے والے مسائل میں ہم کیا کریں کس سے رجوع کریں اس لیے کہ متواترہ حدیثوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ شیعہ مذہب کی واضح چیزوں میں یہ بات داخل ہے کہ مسائل میں فقہا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ائمہ اطہار(ع) کے زمانے میں بھی فقہا سے رجوع کر کے مسائل دریافت کئے جاتے تھے۔ وہ شخص جو حضرت ولی عصر (ع) کے زمانے کا ہو خط لکھ کر حضرت کے نائب خاص کے ذریعے حضرت تک پہنچا رہا ہو اور پھر جواب بھی حاصل کر رہا ہو وہ اس بات کی طرف متوجہ ہے کہ شرعی مسائل کن لوگوں سے دریافت کرنے چاہیے۔ لہذا” حوادث واقعہ ‘‘ سے مراد معاشرے میں پیش آنے والے وہ واقعات اور مشکلات ہیں جن سے مسلمان جوجھ رہے ہوں۔
سوال کرنے والا کلی طور پر بند الفاظ میں یہ پوچھ رہا ہے کہ اب جبکہ ہماری آپ تک رسائی نہیں ہے تو ایسے حالات میں سماج میں پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ حوادث کا ذکر کر کے یہ پوچھنا چاہ رہا ہے کہ ان حوادث میں کس کی طرف رجوع کریں؟ جو بات سمجھ میں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ سوال کرنے والے نے کلی طور پر سوال کیا ہے اور حضرت نے اس کے سوال کے مطابق جواب دیا ہے کہ حوادث اور مشکلات میں ہماری روایتوں کو بیان کرنے والے راویوں کی طرف رجوع کرو یعنی فقہا کی طرف رجوع کرو وہ میری طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے ان پر حجت ہوں۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ ولی امر حجت خدا ہے تو کیا شرعی مسائل میں حجت ہے کہ ہمارے لیے مسائل بیان کرتا رہے؟ رسول خدا(ص) نے جو یہ فرمایا کہ میں جا رہا ہوں میرے بعد علی تم پر حجت ہیں تو کیا اس حدیث سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت تو چلے گئے اب سب کام تعطیل ہو گئے صرف شرعی مسائل بیان کرنا باقی رہ گیا اور صرف یہی کام امیر المومنین (ع) کے سپرد کیا گیا ہے؟!
حجت خدا وہ ہوتا ہے جسے بعض امور کی انجام دہی کے لیے خدا مقرر فرماتا ہے اور اس کے تمام تر افعال و اقوال مسلمانوں کے لیے حجت ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس کی بات نہ سنے تو اس سے احتجاج( دلیل و برہان ) قائم کیا جائے گا۔ اگر وہ حکم دے کہ فلاں کام کرو حدود کو اس طرح جاری کرو، غنائم، زکات و صدقات کو اس طرح مصرف میں لے کرآو اور تم اس کی بات نہ سنو تو خدا قیامت کے دن تم سے احتجاج کرے گا۔ حجت کی موجودگی میں اپنے تنازعات کے حل کے لیے اگر دستگاہ ظلم سے رجوع کیا تو قیامت کے دن خدا احتجاج کرے گا کہ میں نے تمہارے لیے حجت قرار دی تھی کیوں ظالموں اور ستمگروں کی عدالت کی جانب رجوع ہوئے؟ (ولایت فقیہ امام خمینی)
دوسری دلیل: مقبولہ عمر ابن حنظلہ
محمد بن یعقوب، عن محمد بن یحییٰ، عن محمد بن الحسین، عن محمد بن عیسی، عن سفوان بن یحییٰ، عن داود بن الحصین، عن عمر بن حنظلہ: قال سالت ابا عبد اللہ (علیہ السلام) عن رجلین من اصحابنا بینھما منازع فی دین او میراث فتحاکما الی السلطان و الی القضا یحل ذالک؟ قال من تحاکم الیہم فی حق او باطل، فانما تحاکم الی الطاغوت و ما یحکم لہ، فانما یاخذہ سحتا و ان کان حقا ثابتا لہ لانہ اخذہ یحکم الطاغوت و ما امر اللہ ان یکفر بہ۔ قال اللہ تعالیٰ: ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت و قد امروا ان یکفروا بہ۔ قلت کیف یصنعان؟ قال: ینظران من کان منکم ممن قد روی حدیثنا و نظر فی حلالنا و حرامنا و عرف احکامنا ۔۔۔ فلیرصوا بہ حکما۔ فانی قد جعلتہ علیکم حاکما۔۔۔
عمر بن حنظلہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق(ع) سے ایسے دو شیعوں کے بارے میں سوال کیا جن کے درمیان قرض یا میراث کے حوالے سے نزاع پیش آئی تھی اور اس نزاع کے حل کے لیے ان لوگوں نے قاضی کی طرف رجوع کیا تھا میں نے امام سے سوال کیا کہ کیا یہ روا ہے؟ اس پر امام نے فرمایا: جو بھی اپنے حق یا ناحق جھگڑوں میں ان (قاضیوں) سے رجوع کرے در حقیقت اس نے طاغوت سے مراجعہ کیا ہے اور جو بھی ان کے حکم سے کچھ لے در حقیقت حرام کے طور پر لے گا اگر چہ لی ہوئی چیز اس کا ثابت شدہ حق ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ جو لیا ہے وہ طاغوت کے حکم سے لیا ہے جس کے بارے میں خدا نے یہ فرمایا ہے کہ اس کا انکار کیا جائے۔ خداوند عالم فرماتا ہے:
اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ سرکش لوگوں کے پاس فیصلہ کرائیں جب کہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں گمراہی میں دور تک کھینچ کر لے جائے۔(سورہ نسا آیت۶۰)
میں نے پوچھا کہ وہ لوگ کیا کریں تو امام نے فرمایا: انہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ تم میں سے وہ کون ہے جو ہماری حدیثوں کو بیان کرتا ہے، ہمارے حلال و حرام کو جانتا ہے اس میں صاحب نظر ہو چکا ہے اور ہمارے احکام وقوانین کو بخوبی جانتا ہے لہذا چاہیے کہ ایسے شخص کو قاضی کے عنوان سے قبول کریں کیونکہ میں نے اس کو تمہارا حاکم قرار دیا ہے۔
جھگڑوں کی یکسوئی کے لیے قاضیوں کے پاس یا عدالت عامہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے یا فوجداری عدالت اور حکومتوں کے ان اداروں کی طرف جو قانون کا نفاذ عمل میں لاتے ہیں۔ قاضیوں سے رجوع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حق ثابت ہو جھگڑوں کا حل نکلے اور سزا سنائی جائے اور قانون کے نفاذ کے اداروں سے اس لیے رجوع کیا جاتا ہے تا کہ دونوں فریقوں سے صادر شدہ فیصلہ کو قبول کروائے اور سزا عملی کرے۔
اس روایت میں امام سے یہی سوال کیا جا رہا ہے کہ سلاطین اور حکومتی اداروں یا قاضیوں سے رجوع کرنا کیسا ہے؟ تو امام فرما رہے ہیں: ”انی قد جعلت علیکم حاکما‘‘۔ میں نے مذکورہ شرائط کے حامل شخص کو تمہارا حاکم بنایا ہے قانونی اور حکومتی امور کو نافذ کرنے کے لیے میں نے اسے تمہارا حاکم معین کیا ہے مسلمانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور کے پاس اپنے معاملات طے کریں۔
اس بنا پر اگر کوئی بدمعاش آپ کا مال ہڑپ کر جائے تو آپ اس شخص کے پاس اپنی شکایت لے کر جائیں گے جسے امام نے معین فرمایا ہے۔ قرض کے سلسلے میں کسی سے نزاع ہو تو اس قاضی سے رجوع کریں گے جو امام کی طرف سے معین کیا گیا ہو کسی اور سے رجوع نہیں کر سکتے۔ یہ حکم عمر بن حنظلہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہی مسلمانوں کی عام ذمہ داری ہے۔
امام نے یہ جو حکم صادر فرمایا ہے وہ ایک کلی اور عمومی حکم ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی ظاہری خلافت میں قاضیوں اور حاکموں کا تقرر فرمایا کرتے تھے اور تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ان معین شدہ قاضیوں اور حاکموں کی اطاعت کریں۔ حضرت امام صادق علیہ السلام بھی چونکہ ولی امر مطلق ہیں جو تمام علماء و فقہا اور دنیا کے تمام لوگوں پر حکومت کا حق رکھتے ہیں اس لیے اپنی حیات اور موت کے بعد حاکم اور قاضی کا تعین فرما سکتے ہیں اور آپ نے یہی کام کیا اور اس منصب کو فقہا کے لیے مخصوص کیا۔ آپ نے ”حاکما‘‘ کی تعبیر استعمال کی تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ اس حکم میں صرف یہ قانونی امور ہی پیش نظر ہے دوسرے حکومتی امور سیاست کا کوئی تعلق نہیں ہے اس وہم کو ”حاکما‘‘ کی تعبیر سے دور کر دیا۔(ولایت فقیہ، امام خمینی)
تیسری دلیل ۔ ابو خدیجہ کی روایت
محمد حسن باسنادہ عن محمد بن علی بن محبوب، عن احمد بن محمد، عن حسین بن سعید، عن ابی الجھم، عن ابی خدیج، قال بعثنی ابو عبد اللہ علیہ السلام الی احد من اصحابنا فقال: قل لھم: ایاکم، اذا وقعت بینکم الخصوم او تداری فی شیئ من الاخذ و العطا ان تحاکموا الی احد من ھولا الفساق، اجعلوا بینکم رجلا قد عرف حلالنا و حرامنا فانی قد جعلتہ علیکم قاضیا، و ایاکم ان یخاصم بعضکم بعضا الی السلطان الجائر( وسائل الشیعہ)
امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک معتبر صحابی ابو خدیجہ کہتے ہیں کہ امام نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی کہ میں آپ کی طرف سے آپ کے چاہنے والوں(شیعوں) تک یہ پیغام پہنچاوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے بیچ کسی بات پر جھگڑا یا نزاع ہو جائے یا پھر لین دین کے کسی معاملہ میں کوئی اونچ نیچ ہو جائے اور تم اس معاملے کے حل کے لیے بری جماعت کی طرف رجوع کرو۔ لہذا اس شخص کو اپنا قاضی یا حاکم بنانا جو ہمارے حلال و حرام کو جانتا ہو۔
روایت میں جو ”تداری فی شئی‘‘ استعمال ہوا ہے اس سے مراد وہ اختلافات ہیں جو عدالتوں ہی میں حل ہو سکتے ہیں یعنی قانونی جھگڑوں اور تنازعات میں ”فساق‘‘ کی طرف رجوع نہ کرو۔ اس کے ساتھ ہی امام یہ فرماتے ہیں کہ ‘‘ میں نے تمہارے لیے قاضی مقرر کئے ہیں‘‘ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فساق ان برے لوگوں کو کہتے ہیں جو امراء جور اور ناجائز حکومتوں کی جانب سے قاضی بنائے جاتے ہیں۔ حدیث کے دوسرے حصے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ” وایاکم ان یخاصم بعضکم بعضا ای السلطان الجائز‘‘ جھگڑوں کے وقت بھی جابر حکمران و ناجائز حکومتوں کے سربراہ کی طرف رجوع مت کرو، یعنی حکومت جور کے ان اداروں سے رجوع مت کرو جو قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ اس فرمان میں کلی طور پر سلطان جائر سے رجوع کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن در اصل ہر غیر اسلامی حکومت کے کارندوں سے رجوع کرنے سے منع کیا گیا ہے جن میں قاضی، قانون بنانے والے اور قانون کا نفاذ کرنے والے یہ تین محکمے شامل ہیں۔ قاضیوں سے رجوع نہ کرنے کی جو بات کہی جا رہی ہے وہ در اصل ان لوگوں سے رجوع کرنے سے منع کیا جا رہا ہے جو قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ ( کتاب ولایت فقیہ، امام خمینی)
کتاب مستدرک میں ایک روایت اس مضمون کی نقل ہوئی ہے ” العلما حکام علی الناس‘‘ (غرر الحکم پر شرح آقا جمال الدین خوانساری ) علما لوگوں پر حاکم ہیں۔ ولایت کا مسئلہ بھی انہیں روایات کا پابند ہے چاہے وہ ولایت، ولایت معصومین علیہم السلام ہو چاہے فقیہ کی ولایت ہو ( جو معصومین کی ولایت ہی کے سلسلے کی کڑی ہے)۔
اس بنا پر ”ولی امر‘‘یعنی وہ حاکم جو نظم و ضبط کر برقرار رکھ سکتا ہو اور اسلامی قانون کا محافظ ہو اس کی آج اور کل ہمیشہ ضرورت ہے۔ وہ حاکم جو ظلم و ستم کو روکے، امانتدار ہو اور مخلوق خدا کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو۔ لوگوں کو اسلامی تعلیمات، عقائد اور احکام کیطرف ہدایت کرنے والا ہو ملحدوں اور بے دینوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی بدعتوں کو روکنے والا ہو۔
کیا امیر المومنین(ع) کی خلافت انہیں کاموں کے لیے نہیں تھی؟
منی میں سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کا خطبہ
انہیں روایتوں میں سے ایک روایت کتاب تحف العقول میں مجاری الامور و الاحکام علی ایدی العلما کے عنوان کے تحت ذکر ہوئی ہے۔ اس روایت سے دو اہم مطالب ہاتھ آتے ہیں۔ پہلا مطلب ولایت فقیہ ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ فقہا، جہاد اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے حکام جور کی حکومتوں کو رسوا کرتے ہوئے اس کی بنیادوں کو ہلا دیں تاکہ مسلمان بیدار ہو کر انقلاب برپا کرتے ہوئے حکام جور کی حکومت کا تختہ اکھاڑ پھینکیں اور اس کی جگہ ایک اسلامی حکومت قائم کریں۔ روایت کچھ اس طرح ہے:
ایہا الناس! خدا نے ”احبار‘‘ کی سرزنش کے ذریعے اپنے دوستوں کو جو نصیحت کی ہے اس سے عبرت لو۔ خدا فرماتا ہے: آخر انہیں اللہ والے (احبار) اور علما ان (یہودیوں) کے جھوٹ بولنے اور حرام کھانے سےکیوں نہیں منع کرتے۔ یہ یقینا بہت برا کر رہےہیں۔
امام کا یہ فرمان اس لیے کیونکہ امام یہ جانتے ہیں کہ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا ہو جائے تو بقیہ تمام واجبات آسان سے لے کر مشکل تک سب قائم ہو جائیں گے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ایک ایسا فریضہ ہے جس کے ذریعے اسلام کے دائرے سے باہر افراد کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے مظلوموں کو انکا حق دلوایا جاتا ہے مسلمانوں کے درمیان موجود ظالموں سے مقابلہ کیا جاتا ہے جنگی غنائم اور عمومی اموال کی عادلانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے صدقات کو جمع کر کے ان کا صحیح مصرف بھی اسی فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی میں مضمر ہے۔
امام علیہ السلام فرماتے ہیں: اس بنا پر اگر تم(علمائےدین) اس سلسلے میں ہماری اطاعت نہیں کرو گے اور غاصبوں سے ہمارا حق ہمیں نہیں دلواو گے تو ظالم تم پر غالب آجائیں گے اور تمہارے پیغمبر کے نور کو بجھانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ وحدہ لاشریک ہمارے لیے کافی ہے اور ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ ہماری قسمت کا فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس کی طرف پلٹنا ہے۔
ولی فقیہ کے اختیارات اور اس کی ذمہ داریاں
دین اور اسلامی معاشرہ کی حفاظت: محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام موسی کاظم (ع) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب بھی کوئی مومن یا مومن فقیہ اس دنیا سے اٹھ جاتا ہے تو فرشتے، زمین کے وہ ٹکڑے جہاں وہ خدا کی عبادت کرتا رہا اور آسمان کے وہ دروازے جہاں سے اس کے اعمال اوپر جاتے رہے ہیں اس پر گریہ کرتے ہیں۔ اس کے مرنے سے اسلام (کے قلعہ) میں ایک ایسی دراڑ پڑ جاتی ہے جسے کوئی چیز پر نہیں کر سکتی کیونکہ مومن فقہا اسلام کے قلعے ہیں اور اسلام کے لیے ان کی موجودگی ایسی ہی ہے جیسے کسی شہر کے لیے اس کی فیصل کی ہوتی ہے۔
یہ جو فرمایا گیا ہے کہ ”مومن فقہا اسلام کے قلعے ہیں‘‘ حقیقیت میں فقہا کو انکی عظیم ذمہ داری جو اسلام کے عقائد و احکام کی حفاظت ہے اس کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ امام کا یہ فرمان تکلف پر مبنی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
ولایت فقیہ وہ ڈھانچہ ہے جس پر اسلام کی حفاظت اور انحراف سے بچاو کی عمارت ٹکی ہوئی ہے یہی ولایت فقیہ کا بنیادی معنی و مفہوم ہے۔
ولایت(سرپرستی) حکومت کا قیام، ملک کے انتظامی امور کی نظارت و سرپرستی، اسلامی تعلیمات کا جز ہیں۔ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی تمام تر عظمت کے باوجود اس پیغام کو پہنچانے کے لیے خاص اہتمام فرمایا اور اس کو ایک طریقہ سے پہنچایا کہ نماز، روزہ، زکات اور جہاد جیسے کسی اور واجب کو پہنچانے کے لیے ایسا اہتمام نہیں کیا۔
ولایت یعنی حکومت، ملک کو چلانا اور شریعت مقدسہ کے قوانین کو نافذ کرنا۔ یہ بہت ہی اہم اور بھاری ذمہ داری ہے۔ ولایت ایک عظیم ذمہ داری ہے نہ یہ کہ کوئی امتیازی یا اعزازی مقام جیسا کہ بعض لوگ اس کو خیال کرتے ہیں۔
قانون کا نفاذ بغیر نافذ کرنے والے کے ممکن نہیں ہے۔ ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ صرف قانون بنا لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کو عملی طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ قانون بنا لینے سے بشریت کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ قانون بنانے کے بعد ایک ایسے طاقتور ادارہ کی ضرورت ہوتی ہے جو قانون کو عملی طور پر نافذ کر سکے۔ ولی امر قانون کو اجرا کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔
رہبر کا سب سے اہم کام ملکی سیاست کی بڑی پالیسیوں کو بنانا یعنی ملک میں جتنے امور انجام پا رہے ہوں اسی سیاست کے تناظر میں ہوں۔ ہر محکمہ میں رہبر کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ ہر محکمہ میں رہبر کی سیاسی پالیسیوں پر عمل ہو۔
افتاء ( فتویٰ دینے کی ذمہ داری): قال امیر المومنین علیہ السلام قال رسول اللہ (ص): اللھم ارحم خلفاء(ثلاث مرات) قیل: یا رسول اللہ و من خلفاءک؟ قال: الذین یاتون من بعدی، یروون حدیثی و سنتی فیعلمونھا الناس من بعدی‘‘۔
امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: خدایا! میرے جانشینوں پر رحم فرما۔ اس دعا کو آپ نے تین بار دہرایا۔ آپ سے کہا گیا: اے رسول خدا آپ کے جانشین کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: وہ جو میرے بعد آنے والے ہیں میری حدیث اور سنت کو نقل کرنے والے اور میرے بعد لوگوں کو حدیث و سنت سکھانے والے ہیں۔
ولی فقیہ کا کام نقل حدیث بھی ہے لہذا جن کی اپنی کوئی رائے نہ ہو اور نہ ان کا کوئی فتویٰ ہو ایسے افراد اس حدیث میں شامل نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ بعض محدثین جو در اصل حدیث ہی کو نہیں سمجھ پاتے ہوں جو ” رب حامل فقہ لیس فقیہ‘‘ رسول خدا (ص) نے مسجد خیف میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: فرب حامل فقہ لیس بفقیہ و رب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ‘‘۔ کتنے ایسے ہیں جو علم رکھتے ہیں لیکن خود اس سے آگاہ نہیں ہیں اور کتنے ایسے صاحبان علم ہیں جو اپنے سے زیادہ آگاہ افراد تک علم پہنچا دیتے ہیں، کے مصداق ہوں جو ایک ٹیپ ریکارڈر کی طرح روایات و اخبار کو ریکارڈ کر لیتے ہیں اور پھر اسے لکھ کر لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں اس حدیث کے مصداق نہیں ہیں۔
جس طرح رسول خدا اور ائمہ اطہار اسلامی احکام کو کھول کھول کر بیان فرماتے تھے اس کو نشر کرتے تھے لوگوں کو سکھاتے تھے کئی ہزار لوگ ان کے مکتب سے علمی استفادہ کرتے تھے اور یہ ان کی ذمہ داری تھی اسی طرح یہ ذمہ داری عام طور سے سارے مسلمانوں اور خاص طور سے علما کی ہے کہ وہ انہیں خطوط پر کام کریں۔” یعلمونھا الناس‘‘ کا مطلب ہی یہی ہے کہ اسلامی علوم کو لوگوں میں پھیلایا جائے اور ان تک پہنچایا جائے۔ اگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ہے تو پھر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانوں کی اور خاص طور پر علما کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام اور اس کے احکام کو لوگوں میں پھیلائیں اور دنیا کو اس سے متعارف کروائیں۔
قضاوت کی ذمہ داری: حضرت امیر المومنین (ع) قاضی شریح سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تم ایک ایسے منصب پر فائز اور ایک ایسے مقام پر بیٹھے ہوئے ہو جس پر نبی یا نبی کا وصی اور شقی کے علاوہ کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا یعنی کوئی شقی اس منصب کا حقدار نہیں ہے۔
شریح نہ تو نبی تھا نہ نبی کا وصی تھا بلکہ وہ ایک شقی تھا جو اس مسند قضاوت پر بیٹھا ہوا تھا۔ شریح وہ ہے جو پچاس سے ساٹھ سال تک کوفہ میں مسند قضاوت پر بیٹھا رہا۔ وہ ان درباری ملاوں میں شامل تھا جو معاویہ کی دستگاہ خلافت سے وابستہ ہونے کے نتیجے میں اسلامی حکومت کے خلاف فتوے صادر کرتا اور اس کے خلاف قیام کرنے والوں میں سے تھا۔ حضرت امیر المومنین اپنے دور حکومت میں بھی اسے معزول نہ کر سکے کیونکہ لوگ اس کی معزولی کے خلاف تھے چونکہ شیخین نے اسے نصب کیا تھا لہذا حضرت امیر کی عادل حکومت پر بھی اس کا منحوس سایہ منڈلاتا رہا لیکن حضرت اسے یہ اجازت نہیں دیتے کہ قانون کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کرے۔
مذکورہ بالا روایت سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ قاضی کو منصوب کرنے کا حق یا رسول خدا کو ہے یا آنحضرت کے وصی کو ہے۔ عادل فقہا کو یہ منصب ائمہ اطہار کی جانب سے عطا ہوا ہے اور یہ منصب عادل فقہا سے مخصوص ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے برخلاف مسئلہ ولایت کے کہ اس مسئلہ میں بعض فقہا جیسے مرحوم نراقی اور مرحوم نائینی وہ تمام اختیارات جو امام کے لیے ثابت ہیں فقیہ کے لیے بھی ثابت جانتے ہیں جبکہ بعض فقہا ایسا نہیں مانتے لیکن قضاوت کے منصب کا عادل فقہا سے مخصوص ہونے میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور یہ بہت ہی واضح چیزوں میں داخل ہے۔
فقہا نہ تو مقام نبوت کے حامل ہیں اور نہ ہی شقی ہیں اس لیے کہ ان کا شمار رسول خدا کے جانشینوں میں ہو گا لیکن غالبا جب بھی وصی کا ذکر ہوتا ہے تو اس سے مراد وصی بلافصل سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے مذکورہ روایات سے تمسک معمولا نہیں کیا جاتا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وصی نبی کا دائرہ وسیع ہے جس میں فقہا بھی شامل ہیں۔
بہر حال روایت سے جو بات سمجھ میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ فقہا رسول خدا(ص) کے دوسرے درجہ کے وصی ہیں اور وہ امور جو رسول کی جانب سے ائمہ اطہار علیہم السلام کو عطا ہوئے وہ فقہا کے لیے ثابت ہیں۔ لہذا فقہا کو چاہیے کہ وہ ان تمام امور کو انجام دیں جنہیں رسول خدا(ص) انجام دیا کرتے تھے۔
احکام و حدود کا نفاذ اور شعائر کو قائم کرنے کی ذمہ داری: حدود سے متعلق جتنی آئتیں قرآن میں ہیں ان میں ایک آیت وہ ہے جس میں زنا کی سزا کا حکم ہے جو سو تازیانہ ہے۔ حد جاری کرنا اور زنا سے مقابلے کا قانون نافذ کرنا جس کی ذمہ داری ہے، کیا ہم سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے؟ کیا رسول خدا(ص) بھی ایسے ہی تھے قرآن پڑھ کر اسے ایک کونے میں رکھ دیتے تھے سزا و جزا کے قانون سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا؟ رسول خدا(ص) کے بعد جو خلفا آئے کیا انہوں نے مسائل کی یکسوئی لوگوں کے حوالے کر دی؟ یا اس کے بر خلاف الہی حدود کو جاری کرتے، لوگوں کو کوڑے لگاتے، انہیں سنگسار کرتے، عمر قید کی سزا سناتے، شہر بدر کرتے تھے یا نہیں؟ اگر اسلام کے حدود اور دیات کے باب سے رجوع کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام کام اسلام کے کام ہیں اور اسلام آیا ہی انہیں کاموں کی انجام دہی کے لیے تاکہ امن و سکون قائم ہو سکے لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں۔
اس معاشرے میں ولی یعنی حاکم وہی ہے جس کی ذات پر تمام امور جا کر ختم ہوتے ہیں۔ خدا کے راستے پر معاشرے کو حرکت دیتا ہے اور اسے ذکر خدا سے مملو کرتا ہے۔ دولت کی عالانہ تقسیم عمل میں لاتا ہے، نیکیوں کو عام کرنے اور برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے:
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کی اور زکات ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔( سورہ حج آیت ۴۱)
معاشرہ میں اگر ولایت کا نظام آجائے تو یہ سب چیزیں عملی ہو سکتی ہیں۔ نماز کا قیام، زکات کی ادائیگی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خلاصہ یہ کہ بے جان ڈھانچہ میں جان آجاتی ہے۔
مذہب اسلام میں بنیادی طور پر حکومت و قیادت ایک شرعی وظیفہ ہے کہ ایک شخص حکومت کے منصب پر فائز ہو، حکومت کے قیام کی یہ عظیم ذمہ داری اس کی گردن پر ہے ان تمام شرعی وظائف کے ساتھ ساتھ جو سارے مسلمان انجام دیتے ہیں اور یہ جو کہا جاتا ہے ” اگر ولایت فقیہ کا نظام قائم ہو جائے تو آمریت آجائیگی‘‘ یہ صرف اس لیے ہے کیونکہ یہ لوگ ولایت فقیہ کو سمجھے نہیں ہیں۔ اگر مغربی ممالک کا کوئی صدر ہو تو اس کو تمام اختیارات دینے میں یہ لوگ ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے لیکن اگر ایک فقیہ جس نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے جو اسلام سے محبت کرتا ہے ان شرائط کے ساتھ جو اسلام نے بتائے ہیں (کہ کوئی غلط کام نہ کرتا ہو) ایسا شخص جب حکومت کے لیے آگے بڑھتا ہے تو اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔
اسلام ایک قانون کا پابند مذہب ہے پیغمبر بھی اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے بلکہ خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتے تھے۔ خدا پیغمبر سے یہ فرما رہا ہے اگر ایک کلمہ بھی غلط کہا تو تمہاری رگ گردن کو کاٹ دیں گے۔ حکمرانی قانون کی ہے خدا کے قانون کے علاوہ کوئی حکومت، حکومت نہیں ہے۔ قانون کے بغیر کسی کی حکومت نہیں ہے نہ فقیہ کی نہ غیر فقیہ کی۔ سب کو قانون کے تحت عمل کرنا ہے۔ فقیہ اور غیر فقیہ سبھی قانون کو نافذ کرنے والے ہیں۔ فقیہ کا کام یہ ہے کہ وہ قانون کا نفاذ کرنے والوں پر نظر رکھتا ہے کہ لوگ قانون کی خلاف ورزی نہ کریں اور خود فقیہ قانون کے بغیر حکومت نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ اجازت دے سکتا ہے کہ حکومت طاغوتی نظام یا آمریت میں بدل جائے۔
اسلام کے لیے کافی تکلیفیں برداشت کی گئیں اسلام کی راہ میں جوانوں کا خون بہایا گیا اگر اب ہم دوبارہ اس بنیاد کو کھوکھلا کرنا چاہیں جسے اسلام نے مضبوط کیا ہے اور وہ نظام جو رسول خدا او امیر المومنین کے زمانے میں تھا اس سے پھر جائیں تو کن لوگوں کی خاطر؟ ان کی خاطر جو ایک جگہ جمع ہو کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چائے نوشی میں مشغول ہو کر سفسطہ آرائی کر رہے ہیں دین کی بنیاد کو کمزور کرنے اور لوگوں کو حقائق سے منحرف کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں! سچ تو یہ ہے کہ ولایت فقیہ اسلام کے آغاز کے ساتھ تھا اور رسول خدا کے زمانے سے اب تک ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں کرنے والے یا تو ولایت فقیہ کے بارے میں جانتے نہیں ہیں یا پھر اپنے شخصی و دنیاوی مفاد کے پیش نظر حق سے منہ موڑ رہے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ” الحق یعلو و لا یعلی علیہ‘‘۔
تہیہ کنندہ: افتخار علی جعفری

مزید  حدیث معراج میں خواتین کے عذاب کا ذکر

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.