وضو کے آثار وفوائد

0 0

رویناعن علی ، عن رسول الله صلی الله علیہ وآلہ سلم انّہ قال: یحشرہ الله اُمّتی یوم القیامة بین الامم ، غرّاًمُحجّلین مِن آثارالوضوء.(۲)

حضرت علیسے مروی ہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خداوندعالم روزقیامت میری امت کودوسری امتوں کے درمیان اس طرح محشورکرے گاکہ میری امت کے چہروں پروضوکے آثارنمایاں ہونگے اورنورانی چہروں کے ساتھ واردمحشرہونگے۔

(۲) دعائم الاسلام /ج۱/ص۱۰۰. 

حضرت امام باقر فرماتے ہیں : ایک روز نمازصبح کے بعدسیدالمرسلین حضرت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنے اصحاب سے گفتگو کر رہے تھے، طلو ع آفتاب کے بعد تمام اصحاب یکے بعد اٹھ کراپنے گھرجاتے رہے لیکن دو شخص (انصاری وثقفی)آنحضرت کے پاس بیٹھے رہ گئے ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : میں جانتاہوں تم مجھ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں ، اگرتم چاہو تو میں دونوں کی حاجتوں کوبیان کرسکتا ہوں کہ تم کس کام کے لئے ٹھہرے ہوئے ہواوراگرتم چاہوتوخودہی بیان کرو ، دونوں نے نہایت انکساری سے کہا: یارسول الله ! آپ ہی بیان کیجئے . آنحضرت نے انصاری سے کہا:تمھاری منزل نزدیک ہے اورثقفی بدوی ہے ،انھیں بہت جلدی ہے اورکوئی ضروری کام ہے لہٰذپہلے ان کے مسئلہ کاجواب دے دوں اورتمھارے سوال کاجواب دوں گا،انصاری کہا:بہت اچھا،پس آنحضرت نے فرمایا : اے بھائی ثقفی ! تم مجھ سے اپنے وضوونمازاوران کے ثواب کے بارے میں مطلع ہوناچاہتے ہوتو جان لو :

جب تم وضوکے لئے پانی میں ہاتھ ڈالتے ہواور”بسم الله الرحمن الرحیم “کہتے ہوتوتمھارے اپنے ان ہاتھوں کے ذریعہ انجام دئے گئے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے چہرے کودھوتے ہوتوجوگناہ تم نے اپنی ان دونوں انکھوں کی نظروں سے اوراورمنھ کے ذریعہ بولنے سے انجام دئے ہیں سب معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے دونوں ہاتھوں کودھوتے ہوتووہ گناہ جوتمھارے اپنے دائیں وبائیں پہلوسے سرزدہوئے ہیں معاف ہوجاتے ہیں اورجب تم اپنے سروپاوٴں کامسح کرتے ہوتووہ تمام گناہ کہ جن طرف تم اپنے ان پیروں کے ذریعہ گئے ہوسب معاف ہوجاتے ہیں،یہ تھاتمھارے وضوکاثواب ،اس کے بعدآنحضرت نے نمازکے ثواب کاذکرکیا۔(۱)

مزید  مسلم ابن عقیل

(۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج۲/ص۲۰۲.

قال امیرالمومنین علیہ السلام لابی ذر:اذانزل بک امر عظیم فی دین او دنیا فتوضا وارفع یدیک وقل :یاالله سبع مرّات فانّہ یستجاب لک۔(۲)

حضرت علی نے ابوذر غفاری سے فرمایا : جب بھی تمھیں دینی یا دنیاوی امور میں کوئی مشکل پیش آئے تو وضو کرو اور درگاہ الٰہی میں اپنے دونوں ہاتھو ں کو بلند کر کے سات مرتبہ” یَا اَللهُ “ کہو! یقینًا خداوندعالم تمھاری دعامستجاب کرے گا۔

(۲) بحارالانوار/۸۰/ص۳۲۸. 

گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب

عن النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم قال: انّ الله وَعدَ اَن یدخل الجنّة ثلاثة نفربغیرحساب،ویشفع کل واحد منہم فی ثمانین الفا:المؤذّن،والامام،ورجل یتوضاٴ ثمّ دخل المسجد،فیصلّی فی الجماعة(۱)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : پروردگارعالم کا وعدہ ہے کہ تین لوگوں کو بغیر کسی حساب وکتاب کے بہشت میں بھیجا جائے گا اور ان تینوں میں سے ہر شخص/ ۸۰ ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا وہ تین شخص یہ ہیں:

۱۔ موٴذّن ۲۔ امام جماعت ۳۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدمیں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے ۔ 

عن ابی عبدالله علیہ السلام قال:مکتوب فی التوراة انّ بیوتی فی الارض المساجد، فطوبیٰ لمن تطہرثمّ زارنی وحقّ علی الزور اَن یکرم الزائر.(۳)

امام صادق فرماتے ہیں:توریت میں لکھاہے :مساجدزمین پرمیرے گھرہیں، خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئےخوشبحال ہے جواپنے گھرمیں وضوکرتے ہیں اس کے بعدمجھ سے ملاقات کے میرے گھرآئے ،مزورکاحق ہے کہ وہ اپنے زائر کااحترام واکرام کرے۔

(۱)مستدرک الوسائل/ج۶/ص۴۴۹. (۳) علل الشرائع /ج۱/ص۳۱۸.رویناعن علی ، عن رسول الله صلی الله علیہ وآلہ سلم انّہ قال: یحشرہ الله اُمّتی یوم القیامة بین الامم ، غرّاًمُحجّلین مِن آثارالوضوء.(۲)

مزید  امام حسن کی سیرت کی کچھ جھلکیاں

حضرت علیسے مروی ہے کہ پیغمبراکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں:خداوندعالم روزقیامت میری امت کودوسری امتوں کے درمیان اس طرح محشورکرے گاکہ میری امت کے چہروں پروضوکے آثارنمایاں ہونگے اورنورانی چہروں کے ساتھ واردمحشرہونگے۔

(۲) دعائم الاسلام /ج۱/ص۱۰۰. 

حضرت امام باقر فرماتے ہیں : ایک روز نمازصبح کے بعدسیدالمرسلین حضرت نبی اکرم (صلی الله علیه و آله)اپنے اصحاب سے گفتگو کر رہے تھے، طلو ع آفتاب کے بعد تمام اصحاب یکے بعد اٹھ کراپنے گھرجاتے رہے لیکن دو شخص (انصاری وثقفی)آنحضرت کے پاس بیٹھے رہ گئے ، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله)نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : میں جانتاہوں تم مجھ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں ، اگرتم چاہو تو میں دونوں کی حاجتوں کوبیان کرسکتا ہوں کہ تم کس کام کے لئے ٹھہرے ہوئے ہواوراگرتم چاہوتوخودہی بیان کرو ، دونوں نے نہایت انکساری سے کہا: یارسول الله ! آپ ہی بیان کیجئے . آنحضرت نے انصاری سے کہا:تمھاری منزل نزدیک ہے اورثقفی بدوی ہے ،انھیں بہت جلدی ہے اورکوئی ضروری کام ہے لہٰذپہلے ان کے مسئلہ کاجواب دے دوں اورتمھارے سوال کاجواب دوں گا،انصاری کہا:بہت اچھا،پس آنحضرت نے فرمایا : اے بھائی ثقفی ! تم مجھ سے اپنے وضوونمازاوران کے ثواب کے بارے میں مطلع ہوناچاہتے ہوتو جان لو :

جب تم وضوکے لئے پانی میں ہاتھ ڈالتے ہواور”بسم الله الرحمن الرحیم “کہتے ہوتوتمھارے اپنے ان ہاتھوں کے ذریعہ انجام دئے گئے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے چہرے کودھوتے ہوتوجوگناہ تم نے اپنی ان دونوں انکھوں کی نظروں سے اوراورمنھ کے ذریعہ بولنے سے انجام دئے ہیں سب معاف ہوجاتے ہیں اورجب اپنے دونوں ہاتھوں کودھوتے ہوتووہ گناہ جوتمھارے اپنے دائیں وبائیں پہلوسے سرزدہوئے ہیں معاف ہوجاتے ہیں اورجب تم اپنے سروپاوٴں کامسح کرتے ہوتووہ تمام گناہ کہ جن طرف تم اپنے ان پیروں کے ذریعہ گئے ہوسب معاف ہوجاتے ہیں،یہ تھاتمھارے وضوکاثواب ،اس کے بعدآنحضرت نے نمازکے ثواب کاذکرکیا۔(۱)

مزید  ایمان ابو طالب: مخالفین کے دلائل کا تجزیہ

(۱)من لایحضرہ الفقیہ/ج۲/ص۲۰۲.

قال امیرالمومنین علیہ السلام لابی ذر:اذانزل بک امر عظیم فی دین او دنیا فتوضا وارفع یدیک وقل :یاالله سبع مرّات فانّہ یستجاب لک۔(۲)

حضرت علی نے ابوذر غفاری سے فرمایا : جب بھی تمھیں دینی یا دنیاوی امور میں کوئی مشکل پیش آئے تو وضو کرو اور درگاہ الٰہی میں اپنے دونوں ہاتھو ں کو بلند کر کے سات مرتبہ” یَا اَللهُ “ کہو! یقینًا خداوندعالم تمھاری دعامستجاب کرے گا۔

(۲) بحارالانوار/۸۰/ص۳۲۸. 

گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب

عن النبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم قال: انّ الله وَعدَ اَن یدخل الجنّة ثلاثة نفربغیرحساب،ویشفع کل واحد منہم فی ثمانین الفا:المؤذّن،والامام،ورجل یتوضاٴ ثمّ دخل المسجد،فیصلّی فی الجماعة(۱)

رسول اکرم (صلی الله علیه و آله)فرماتے ہیں : پروردگارعالم کا وعدہ ہے کہ تین لوگوں کو بغیر کسی حساب وکتاب کے بہشت میں بھیجا جائے گا اور ان تینوں میں سے ہر شخص/ ۸۰ ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا وہ تین شخص یہ ہیں:

۱۔ موٴذّن ۲۔ امام جماعت ۳۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدمیں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے ۔ 

عن ابی عبدالله علیہ السلام قال:مکتوب فی التوراة انّ بیوتی فی الارض المساجد، فطوبیٰ لمن تطہرثمّ زارنی وحقّ علی الزور اَن یکرم الزائر.(۳)

امام صادق فرماتے ہیں:توریت میں لکھاہے :مساجدزمین پرمیرے گھرہیں، خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئےخوشبحال ہے جواپنے گھرمیں وضوکرتے ہیں اس کے بعدمجھ سے ملاقات کے میرے گھرآئے ،مزورکاحق ہے کہ وہ اپنے زائر کااحترام واکرام کرے۔

(۱)مستدرک الوسائل/ج۶/ص۴۴۹. (۳) علل الشرائع /ج۱/ص۳۱۸.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.