وداع ماه مبارک اور عيد کي خوشي

0 0

وداع ِ ماہ مبارک رمضان :آج تمام عالمِ اسلامي ميں مسلمانوں نے سالِ رواں کے رمضان کو وداع کيا بہت ادب و احترام سے غم اور خوشي کے ملے جلے جذبات کے ساتھ  غم اس لئے کہ يہ برکتوں والا مہينوں ختم ہو نے والا ہے خوشي اس ليے کہ حسب ِ توفيق مسلمانوں نے اس کي حرمت کي رعايت اور اس کے حق کو پورا کيا  اسلامي کيلنڈر ميں ماہ رمضان کا مہينہ ايک خص اہميت رکھتا ہے اس مہينہ کو اللہ تعالي نے تمام زمانوں اور وقتوں ميں منتخب کيا اس ميں اللہ تعالي نے قرآن کو نازل کيا ،نور کو اتارا ،

دن ميں روزے واجب کيے ،راتوں کي عبادت کي طرف رغبت دلا ئي اس مہينہ کو ليلة القدر کي بزرگي دي،وہ ايک رات ايک ہزار مہينوں سے بہتر ہے?اس مہينہ کي حدود کي نگہداشت کرنے والوں کے دلوں ميں رقت اور نرمي پيدا ہو تي ہے ،گناہوں ميں کمي ہو جا تي ہے ، نيکي اور احسان کا راستہ آسان ہو جا تا ہے اور جس طرح ايک فوجي تربيتي کيمپ ميں شريک ہو نے کے بعد ايک سپا ہي بہتر سپا ہي بن جا تا ہے ،اسي طرح رمضان کے روحاني تجربے ميں ساري دنيا کے مسلمانوں کے ساتھ شريک ہو کر ايک مسلمان بہتر مسلمان بن جا تا ہے . 

 حقيقت ميں ماہ رمضان مسلمانوں کي روحاني تربيت کا ايک عالمگيرکيمپ ہے  اس کيمپ ميں ملت ِ مسلمہ کي بنياد وحدت عمل کي يک رنگي کے ذريعہ اجاگر ہو تي ہے ،آنکھ  کان ،زبان ،ہاتھ اور پاؤں کي گوناگون برائيوں سے بچ کر حتي کہ اللہ کے حکم سے حلال چيزوں سے بھي فرد تنظيم کے صحيح معنوں سے آشنا ہو تا ہےوہ ذلت اور تعيش سے دامن پاک کر کے انسانيت کي گہرائيوں تک پہنچتا ہے جہاں سے اخوّتاور مساوات کے سوتے پُھوٹتے ہيں خمارِ گندم ذرا کم ہو تا ہے تو انسان تھوڑا سا اپني حيثيت کو سمجھتا ہے اور اللہ تعالي کي نعمتوں کا قولاً اور فعلاً شکر ادا کرنے کي طرف مائل ہو تا ہے صدقات و فطرات اور انفاقِ مال کے ذريعہ سے اپنے سماج ميں مختلف ناہموار يوں کا شعور پيدا ہو تا ہے اور وہ معاشي اور عمراني عدل کي بنيادي اہميت کي طرف متوجہ ہو تا ہے غرض اس کي انسانيت ميں ايک وسعت اور گہرا ئي ،قلب ميں ايک کشادگي ،اللہ کا حکم سمجھ کر معاشرے سے برا ئياں اور ظلم اور ناانصافياں دور کرنے اور نيکيوں اور احسان کو جاري کرنے کے عزم ميں مضبوطي ، اور اس عزم کي بجا آوري ميں جو فرمان ِ خدا وندي سے ہم آہنگ ہے.

 

ہر قسم کي مصيبت کو بخوشي قبول کرنے کي صلاحيت يہ ماہ رمضان کے تحفے ہيں جو اسي حد تک لوگوں کو ملتے ہيں جس حد تک وہ اپنے آپ کو ان کا اہل ثابت کريں يہي روحانيت ہےحقيقتوں کا شعور جس سے يقين ابھرتا ہےاس يقين سے پيدا شدہ عزم اس کو پورا کرنے کے لئے ناقابل ِ شکست صبر و استقلال يہي روحاني طاقت ہے اور مسلمانوں کو بتا يا گيا ہے کہ ہر طاقت کي بنياد روحانيت ہي ہے  روحانيت طاقت موجود ہو تي ہے تو ايک قليل گروہ کثير جماعت پر غالب آجاتا ہے ? اپنے سے دوگني بلکہ دس گني مادي طاقت کا مقابلہ کرنے کي صلاحيت پيدا ہو تي ہے  معاشرے کي صحيح بنياد عدل و احسان ہےاللہ نے عدل اور احسان کا حکم ديا ہے

مزید  امام موسی کاظم(ع)

عدل و احسان سے اتحاد و اخوت پيداہو تے ہيں ہر فرد اس معاشرہ سے اپنے آپ کو وابستہ سمجھا جا تا ہے کہ اس کے بغير اپنا تصور بھي نہيں کر سکتا ?اس معاشرہ کو قائم رکھنا ،اس کو ترقي دينا،اس کي حفاظت کرنا، اس کي خاطر جينا اور اس کي خاطر مرنا بھي زندگي کا نصب العين بن جا تا ہے ?يہي جہاد ہے تو گو يا ماہ ِ رمضان کي روحانيت تربيت اپنے نفس کے تزکيہ کے لئے اور معاشرہ کي تعميرو تحفظ کے لئے جہاد کي تياري ہے?ماہ ِ رمضان خدا کے بندے کو خدا کا سپا ہي بنا تا ہے ?مسلمانون کي خوشياں اور عبادتيں صرف انفرادي ہي نہيں اجتماعي بھي ہيں ?وہ اس لئے کہ دين ِ اسلام فرد اور جماعت کے رشتہ پر بہت زور ديتا ہے ?فرد معاشرہ کو بنا تا ہے اور يہ بھي حقيقت ہے کہ معاشرہ فرد کو بنا تا ہے ?جس طرح رمضان اجتماعي عبادت ہے اسي طرح عيد اجتماعي خوشي کو کہتے ہيں ?اجتماعي خوشي اس کو کہتے ہيں کہ معاشرہ کے تمام عناصر خوش ہوں ،صحيح عيد يہ ہے کہ معاشرہ کے تمام افراد امن اور خير ِ سگالي کے ماحول ميں اپني زندگي گذارسکيں

عيد :ايک قوم يا ملّت کي اجتماعي روح کا اندازہ اس کے تہواروں اور تقريبوں سے بخوبي ہو جا تا ہے ?اجتماعي تقيربات اجتماعي رو ح کا مظہر ہو تي ہيںاور خود اس پر اثر انداز بھي ہو تي ہيں مسلمانوں ميں دو بڑي اجتماعي تقريبات مقرر ہيں ان دو عيدوں ميں ايک عيد الاضح?ي ہے ?يہ تقريب حج کے اختتام پر منا ئي جا تي ہے ?اور علامتي حيثيت سے اللہ کي راہ ميں اپني عزيز ترين شئے قربان کرنے کا عہد ہے دوسري عيد ،عيد الفطر ہے جو ماہ صيام کے اختتام پر منا ئي جا تي ہے .

 يہ اس بات کي خوشي ہے کہ اللہ تعالي? نے ماہ صيام کو تمام سال کے مہينوں پر عزّو شرف ،کرامت و فضيلت بخشي ہے ،اسي مہينہ ميں قرآن اتارا جس ميں بندوں کے لئے ہدا يت و رحمت ہے ،اسي مہينہ ميں ليلة القدر کو قرار ديا جو ہزار مہينوں سے بہترہے ،بندوں پر اس مہينہ کے روزے فرض کيے اور ان کو اس بات کي تو فيق دي کہ انہوں نے فرض کو پو را کيا ?اور نعمتوں اور برکتوں سے بہرہ مندہو ئے ?قابل غور بات يہ ہے کہ جس طرح لفظ اسلام کي نسبت کسي شخص سے نہيں ہے بلکہ عقيدہ اور عمل ميں اللہ تعالي کے حضور ايک خاص رجحان اور رويہ سے ہے اسي طرح مسلمانوں کي يہ عيديں بھي کسي شخص کي پيدا ئش يا اس کے کارناموں اور اصلاحات سے يااس کے حصولِ اقتدار و حکومت سے يا ميدان جنگ ميں اس کي فتوحات سے متعلق نہيں ہيں ?عيد الاضح?ي جس واقعہ کي ياد گار ہے اس کي اہميت تاريخي بھي ہے اور اس سے زيادہ علامتي ہے

ايک بندہ کا تسليم و رضا کے امتحان ميںپورا اترجانا جو روح اسلام ہے اور اللہ تعالي? کا اس کو خلّت و امامت سے سرفراز کرنا ?عيد الفطر اللہ کاشکر ہے اس نعمت پر کہ اس نے اپنے بندوں کو عبادت کے طريقے سکھا ئے ?ان عيدوں کا تعلق دورارکان يعني حج اور روزے سے ہے ?عيد کا مرکزي عمل نمازِ عيد ہے?اس عبادت کا معاشرتي پہلو يہ ہے کہ تمام بستي کے مسلمان ايک جگہ جمع ہو کر ايک ساتھ اس عبادت کو ادا کرتے ہيں?دن ميں پانچ وقت اجتماع محلّہ کي مسجد ميں ہو تا ہے ?ہفتہ ميں جمعہ کے روز اس سے بڑا اجتماع مسجدِ جامع ميں ہو تا ہے ? تمام بستي کے مسلمانون کا اجتماع سال ميں دو مرتبہ عيد کے موقع پر عيد گاہ ميں ہو تا ہے ? نمازِعيد فرادي? يا اکيلے نہيں پڑھي جا تي  نہ صرف يہ کہ محمود اور اياز ايک صف ميں کھڑے ہو جا تيہيں اور بندہ اور بندہ نواز کا فرق وقتي طور پر مٹ جا تا ہے ،بلکہ يہ اس حقيقت کا اثبات ہے کہ قابلِ حمد يا محمودذات اللہ کي ہے،باقي سب اس کے عبد اور اياز ہيں بندہ نواز ايک ہے ،باقي سب بندے ہيں اور بندہ ہو نے کي حيثيت سے سب کالے،گورے اصفر و احمر ايک ہي خاندان کے فرد ہيں?اور مسلمان ہو نے کي حيثيت سے سب بھا ئي بھا ئي ہيں ? اس نقطہ ? نظر سے ايک انسان دوسرے انسان کے ما بين معاشرتي رشتہ کي بنياد ايک اللہ کا بندہ ہو نا ہے .

مزید  اعلي خاندان کي اعتقادي ضرورت

نمازِ عيد سے پہلے صدقہ فطرہ ديا جا تا ہے ?بدقسمتي سے معاشرہ ميں وہ لوگ بھي ہو تے ہيں جو عيد کي خوشي منانے کي استطاعت نہيں رکھتے ذي استطاعت لوگوں پر يہ فرض ہے کہ مقررہ مقدار ميں اناج يا اس کي قيمت نماز ادا کرنے سے پہلے ان لوگوں کے حصّہ کے طور پر نکال ديں جو حاجت مندہيں ?اس لئے کہ عيد کي خوشياں تو ساتھ مل کر ہي   منا ئي جا تي ہيں ?عيد کے دن يہ منظر کہ ہر عيدگاہ کے اندر عطر ميں بسے ہو ئے کپڑے پہنے   ہو ئے نمازيوں کا ہجوم اور عيدگاہ کے باہر ايک فوج عورت اور بچے اور بوڑھے فقيروں کي اپاہجوں مناداروں جذاميوں کي ہاتھ ميں کاسہ? گدا ئي ليے ہو ئے اس کي منتظر ہو کہ اللہ کے پيارے کب اپني نماز ختم کرتے ہيں تا کہ اپني محتاجي اور معذوري کا مظاہرہ کر کے وہ ان سے کچھ خيرات وصول کرسکيں?عيد کے خوشنما چہرے پر ايک کالک ہے ?اور تکليف کي بات يہ ہے کہ يہ منظر اپنے معاشرتي اور انفرادي ضمير کے لئے چيلينج،اور اپنے معاشرہ کے لئے ايک لعنت ہے ،اور اپني عيد کي خوشيوں پر ايک طنز سمجھ کر اس کو مٹانے کي کوشش کرنے کے ، ہم اس کو ٹھنڈے دل سے قبول کرليتے ہيں اور کچھ پيسے ان کي جھولي ميں ڈال کر اپنے ضمير کو بہلا کر سلاليتے ہيں کہ ہم نے کو ئي بڑا نيک کام کيا?کاش!وہ دن بھي آئے جب صدقہ. فطرہ دينے والے سب ہوں اور لينے والا کو ئي نہ ہو ، مدد کے لئے بڑھنے والے ہاتھ ہوں،کسي کے سامنے پھيلنے والے ہاتھ نہ ہوں ،اور جو رقم صدقہ اور خيرات کے طور پر نکالي جاتي ہے وہ اجتماعي طور پر اور زيادہ فلاح و بہبود کے کام ميں آئے مسکينوں کي صحيح معني ميں دستگيري ہو سکے اور ہمارے يتيم خانے گدا گري کا فن سکھا نے کي اکيڈمي نہ رہيں.

کاش کہ صدقہ . فطرہ کا يہ سبق کہ ہم اپني خوشيوں ميں اپنے غريب بھا ئيوں کو نہ بھوليں اور خوشياں تو مل کر ہي منا ئي جا سکتي ہيں .ہماري زندگي کا رہنما اصول بن جا ئے .

مزید  میاں بیوی کا ہم کفو ہونا

عيد کي تيارياں عيد سے بہت دن پہلے شروع ہو جا تي ہيں. جس بازار ميں جاؤو وہاں خريد و فروخت کي گہما گہمي نظر آتي ہے ،عيد کي رات تک يہي چہل پہل رہتي ہے کپڑے ، جوتے ،پھل ،مٹھا ئي آرائش و زيبائش کي چيزوں کي دکانوں پر ايک ميلہ لگا رہتا ہے ? تاجر بجا ئے اس کے کہ بِکري زيادہ ہو رہي ہے تو قيمتيں کم کرديں اس موقع سے زيادہ فائدہ اٹھا کر منہ بولے دام مانگتے ہيں،اور کچھ چيزوں کي قيمت تو عيد کے موقع پر جہاں تک پہنچ گئيں وہيں رک رہ جا تي ہيں.عيد کا دن ملنے ملانے کا ہے ،جو دوست اور عزيز نظروں سے دور ہو تے ہيں ان کو عيد کارڈ کے ذريعہ يا د کيا جا تا ہے ?اور ان کو اس بات کا يقين دلا يا جا تا ہے کہ آنکھوں سے دور رہ کر ہمارے پيارے دل سے دور نہيں ہيں ملنا ملانا نماز کے بعد ہي شروع ہو جا تا ہے?عيد کے دن مصحافے نہيں ہو تے معانقيہوتے ہيں ?گلے ملا جا تا ہے ،سينہ سے سينہ ملا يا جا تا ہے ،گو يا اشاراتي زبان ميں يہ کہا جا تا ہے کہ ہمارے دل بغض اور کينہ سے پاک ہيں اور محبت و آشتي سے بھرے ہو ئے ہيں ? عيد گاہ ميں گلے ملنے ميں اپنے پرا ئے ،دوست واجنبي کي کو ئي تميز نہيں کي جا تي ،جو بھي آس پاس موجود ہيں انھيں سے معانقہ ہو جا ئے ?جتنے لوگ بھي اس روز مل سکيں انتنا ہي اچھا ہے .

جيسا کہ عيد کے دن حضور ايک راستہ سے عيدگاہ تشريف لے جا تے تھے اور دوسرے راستے سے واپس تشريف لاتے تھے ?گھر آنے کے بعد پھر عزيزاور دوستوں کے يہاں جانے ميں اور سيوئيّاں اور مٹھا ئي چکھنے اور عيد کي مبارکباد دينے ميں عيد کا دن ختم ہو تا ہے ? ہماري عيد کي خوشي مين کو ئي حد سے بڑھي ہو ئي اخلاقي اعتبار سے مذموم حرکتيں نہيں ہوتيں  کو ئي اوچھا پن يا سوقيانہ بات نہيں ہو تي ،بہت صاف ستھري خوشي ہو تي ہے جس ميں ايک وقار ايک ٹھيراؤاور ايک اعتدال ہو تا ہے اس لئے کہ اسلام اخلاقي تربيت ہي کا نام ہے .

 انساني زندگي مين خوشي کے ساتھ ساتھ غم بھي لگے رہتے ہيں خوشيوں کے موقعوں پر وہ غم اور بھي دل پر قيامت ڈھا تے ہيں ?ليکن يہ بھي ايک اخلاقي تربيت کي بات ہے کہ عيد کي اجتماعي خوشي ميں ہم اپنے ذاتي غموں کا اظہار نہ ہو نے ديں ? ہاں عيد الفطر کي روح کو اچھي طرح سمجھ ليں ، صدقہ ? فطرہ کو سمجھ ليں کہ اپني خوشيوں موقع پر اپنے غريب بھا ئيوں کو نہيں بھولنا ہے،

گلے ملنے کو سمجھ ليں کي بلا طبقاتي امتياز کے ہمارے دل بغض اور دشمني سے پاک اور محبت سے بھرے ہوں ?ساتھ مل کر نماز پڑھنے کو سمجھ ليں کہ ہم اپنے آپ کو اجتماعي فلاح و بہبود کے حصول کے لئے وقف کرديں ، ہمارے ملک ميں وہ عيد بھي آئے گي جب معاشرہ ميں اتنے اونچ نيچ نہ ہوں کہ آدمي ،آدمي کو انسان نہ سمجھے اور سب مل کر ملک و ملّت کو فروغ دينے ميں مصروف ہوں .حقيقت ميں وہ عيد آزاد قوم کي عيد ہو گي .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.