واقعہ کربلا سے حاصل ہونے والي عبرتيں

0 1

واقعہ کربلا سے رہتي دنيا نے بہت درس و سبق حاصل کيے ہيں – يہ سانحہ جہاں انسان کو زندگي کے مختلف پہلوۆ ں کے لحاظ سے درس ديتا ہے وہيں يہ مقام عبرت بھي ہے – اس ليۓ ہميں چاہيۓ کہ اس واقعے کا ہر لحاظ سے بغور جائزہ ليں اور اس سے عبرت حاصل کريں – کربلا سے عبرت لينے کا کيا مطلب ہے؟

واقعہ کربلا سے رہتي دنيا نے بہت درس و سبق حاصل کيے ہيں – يہ سانحہ جہاں انسان کو زندگي کے مختلف پہلوۆ ں کے لحاظ سے درس ديتا ہے وہيں يہ مقام عبرت بھي ہے – اس ليۓ ہميں چاہيۓ کہ اس واقعے کا ہر لحاظ سے بغور جائزہ ليں اور اس سے عبرت حاصل کريں –

کربلا سے عبرت لينے کا کيا مطلب ہے؟

اس کا مطلب يہ ہے کہ ہميں تاريخ کي روشني ميں  پيش آنے والے حالات کو ذہن نشين کرتے ہوۓ ہر طرح کے حالات سے باخبر رہنا چاہيۓ اور مشکل حالات کے ليۓ خود کو تيار رکھنا چاہيۓ اور مصيبت کي گھڑي ميں کيسے خود کو تيار کرنا ہے اس بارے ميں سوچنا چاہيۓ – کون سا امر اُس کيلئے خطرے کا باعث ہے اور کس امر کي انجام دہي اُس کيلئے لازمي و ضروري ہے ؟ اِسے عبرت لينا کہتے ہيں-

مثال کے طور پر  سفر کے دوران آپ کي نظر ايک گاڑي پر پڑتي ہے جو حادثے کا شکار ہو کر الٹي پڑي ہے – اس ميں موجود مسافر ہلاک ہو گۓ ہيں – آپ کو خيال آتا ہے کہ مجھے يہاں رک کر حالات کا جائزہ لينا چاہيۓ – آپ حادثے کے مقام پر کھڑے ہو کر کچھ دير کے ليۓ گاڑي کو ديکھتے ہيں – آپ کے وہاں کھڑے ہو کر بغور جائزہ لينے کا مقصد يہي ہوتا ہے کہ حادثے کي وجہ معلوم کي جاۓ تاکہ آپ اس  سے عبرت حاصل کرتے ہوۓ زندگي ميں وہ غلطي نہ دہرائيں جس کے باعث يہ گاڑي حادثے کا شکار ہوئي – اس کے بعد آپ ڈرائيونگ کرتے ہوۓ ہميشہ احتياط برتيں گے –

مزید  عید نوروز کی شرعی حیثیت

`يہ بھي درس و سبق لينا ہے ليکن يہ درس از راہ عبرت ہے لہٰذا اِس جہت سے واقعہ کربلا ميں غور وفکر کرنا چاہيے-

پہلي عبرت: مسلمانوں کے ہا تھوں نواسہ رسول (ص) کي شہادت!

واقعہ کربلا ميں پہلي عبرت جو ہميں اپني طرف متوجہ کرتي ہے وہ يہ ہے کہ ہم يہ ديکھيں کہ پيغمبر اکرم (ص) کے وصال کے بعد اسلامي معاشرے ميں وہ کون سے حالات وقوع پذير ہوئے کہ نوبت يہاں تک آ پہنچي کہ امام حسين جيسي شخصيت، اسلامي معاشرے کي نجات کيلئے ايسي فدا کاري کي زندہ مثال قائم کرے- اگر ايسا ہوتا کہ امام حسين رسول اکرم (ص) کي وفات کے ايک ہزار سال بعد اسلامي ممالک ميں اسلام کي مخالف و معاند اقوام کے اصلاح و تربيت کيلئے ايسي فداکاري کرتے تو يہ ايک الگ بات ہے ليکن يہاں امام حسين وحي کے مرکز يعني مکہ و مدينہ جيسے عظيم اسلامي شہروںميں انقطاعِ وحي کہ پچاس سال بعد ايسے اوضاع و حالات کا مشاہدہ کرتے ہيں کہ اُن کي اصلاح کيلئے اپني جان کو فدا کرنے اور قرباني دينے کے علاوہ کوئي اور چارہ کار نہيں پاتے! مگر وہ کون سے حالات تھے کہ جن کيلئے امام حسين نے يہ احساس کيا کہ فقط اپني جان کي قرباني ہي کے ذريعہ اسلام کو زندہ کرنا ممکن ہے واِلَّا سمجھو کہ پاني سر سے گزر گيا! عبرت کا مقام يہ ہے-

ايسا اسلامي معاشرہ کہ جس کے رہبر اور پيغمبر (ص) مکۃ و مدينہ ميں بيٹھ کر اسلام کے پرچم کو مسلمانوں کے ہاتھوں ميں ديتے تھے اور وہ جزيرۃ العرب کے کونے کونے ميں جاتے اور شام و ايران و روم اُن کے وجود سے کپکپاتے تھے اور انہيں ديکھتے ہي فرار کرجانے ميں اپني غنيمت سمجھتے تھے، يوں مسلمان فاتحانہ اندار ميں واپس لوٹتے تھے؛ بالکل جنگ تبوک کي مانند- يہي اسلامي معاشرہ تھا کہ جس کي مسجدوں اور کوچہ و بازار ميں تلاوت قرآن ہو رہي تھي-

مزید  کرونا دنیا بھر میں بیماری اور خوف کا ذریعہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ناکام تشہیری وائرس

تبصرے
Loading...