هرثمه بن اعین کی حدیث؛ امام رضا (ع) اپنی شہادت سے آگاہ تھے

مامون کا چہرہ پیلا، لال اور پھر کالا پڑگیا اور بے ہوش ہو کر نقش زمین ہوا۔ اور اسی بے ہوشی کے عالم ميں کہہ رہا تھا: وائے ہو مجھ پر! میں رسول خدا اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین اور علی بن الحسین اور محمد بن علی اور جعفر بن محمد اور موسی بن جعفر اور علی بن موسی الرضآ (علیہم السلام) کے حضور کیسے جواب دوں گا؟ خدا کی قسم کھلا خسارہ (خسران مبین) یہی ہے۔

ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی
هرثمه بن اعین کی حدیث؛ امام رضا (ع) اپنی شہادت سے آگاہ تھے
هرثمه بن اعین (خواجه مراد) کہتے ہیں:
ایک رات چار گھنٹوں تک اور رات گئے تک میں مامون کے پاس تھا اور اور پھر گھر چلا گیا۔ آدھی رات کے بعد گھر کے دروازے پر دستک ہوئی اور پیغام لانے والے نے کہا: امام رضا علیہ السلام نے آپ کو بلایا ہے؛ چنانچہ میں اٹھا اور لباس پہن کر امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا۔
امام (ع) گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے، میں داخل ہوا تو فرمایا: بیٹھو اور خوب غور سے سنو اور میں جو کہتا ہوں یاد رکھو۔
اے هرثمه! میری عمر آخری ہے اور میری رحلت نزدیک۔ یہ باغی و سرکش مامون مجھے انار یا انگور کے ذریعے مسموم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وہ ایک زہریلا دھاگا انگور سے گذارے گا اور انار کو ایک غلام کے ہاتھوں سے مسموم کرے گا اور وہ یوں کہ غلام کے ہاتھ زہر آلود ہونگے اور وہ ان ہی ہاتھوں سے میرے لئے انار کا پانی نکال کر دے گا۔
مامون کل مجھے اپنے پاس بلائے گا اور میرے لئے انگور اور انار لائے گا اور مجھے کھانے پر مجبور کرے گا۔ میں کھا کر مسموم ہونگا اور دنیا سے رخصت ہوجاؤنگا۔ اس کے بعد وہ خود مجھے غسل دینا چاہے گا۔ تم جاکر چپکے سے اس کو کہہ دو کہ میں نے کہا ہے کہ مجھے غسل نہ دو اور میری تکفین و تدفین سے خود کو الگ کرے کیونکہ اس طرح وہ عذاب اس پر نازل ہوگا جو مؤخر ہوچکا ہے اور ایسی مصیبت میں پھنس جائے گا جس سے وہ بری طرح خوفزدہ ہے۔ تم جب مامون کو یہ بتاؤگے وہ میری تکفین و تدفین سے پیچھے ہٹے گا۔
اس کے بعد فرمایا: جب مجھے سپرد خاک کرنا چاہیں تو گھر کے پہلو میں ایک سفید خیمہ نصب ہوگا۔ مجھے میرے اسی لباس کے ساتھ لے جاؤ اور خیمے کے پیچھے قرار دو۔ خیمے کا پردہ مت اٹھاؤ ورنہ ہلاک ہوجاؤگے۔ مامون تم سے کہے گا کہ “کیا یہ تمہارا عقیدہ نہیں ہے کہ ہر امام کو صرف آنے والا امام غسل دیتا ہے؟ پس علی ابن موسی الرضآ کو اب غسل کون دے گا جبکہ ان کا بیٹا مدینہ میں ہے اور ہم طوس میں ہیں؟”۔
اے هرثمه تم اس کو جواب دو کہ: ایسا ہی ہے لیکن اگر کوئی ظالم ظلم و جبر سے کسی امام کو غسل دے تو آنے والے امام کی امامت باطل نہیں ہوا کرتی اور آنے والے امام کی امامت پوری قوت سے برقرار ہے۔ اگر علی ابن موسی علیہ السلام اس وقت مدینہ میں ہوتے تو ان کے فرزند لوگوں کے سامنے ان کو غسل دیتے اور اب بھی ان کا بیٹا ہی ان کو غسل دے رہا ہے لیکن لوگوں کی نظروں سے دور۔
تھوڑی دیر بعد خیمہ آسمان کی جانب چلا جائے گا اور میرا جنازہ اسی مقام پر غسل و کفن کے بعد تیار ہوگا اس کے بعد مجھے میری قبر کی جانب لے جاؤ۔ مامون مجھے اپنے باپ ہارون کی قبر کے پیچھے سپرد خاک کرنا چاہے گا لیکن جتنا بھی اس زمین پر کدال ماریں گے زمین ایک ناخن کے برابر بھی کھودی نہ جاسکے گی اور جب لوگ تھک جائیں تو میری جانب سے مامون سے کہو کہ ایک کدال اپنے باپ کی قبر کے قبلہ کی جانب مارے۔ وہ جب ایسا کرے گا تو ایک تیار قبر ظاہر ہوجائے گی۔ اس حال میں مجھے قبر میں داخل نہ کرو اور صبر کرو، ایک سفید رنگ کا پانی قبر کو بھر دے گا، ایک بڑی مچھلی پانی میں ظاہر ہوگی اور اس کے بعد زمین پانی کو جذب کرے گی۔ اس کے بعد مجھے قبر میں داخل کرو۔ کہدو کہ مجھ پر مٹی نہ پھینکیں کیونکہ قبر خود بخود بھر جائے گی۔
اے هرثمه! میں نے جو کچھ کہا اسے خوب یاد رکھو اور عمل کرو۔
محزون دل اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ سے رخصت ہوا اور آگ پر حرمل (اسپند) کی مانند مضطرب اور پریشان تھا۔ میرے حال سے خدا کے سوا کوئی بھی آگاہ نہ تھا۔
دوسرے روز مامون نے مجھے بلوایا اور کہا: ابوالحسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ اور کہدو کہ آپ ہمارے پاس تشریف لاتے ہیں یا یہ کہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوجائیں۔
میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، فرمایا: میری باتیں یاد ہیں؟
میں نے عرض کیا: ہاں یابن رسول اللہ (ص)
فرمایا: میرے جوتے لاؤ، میں جانتا ہوں کہ مامون نے تمہیں کس لئے میرے پاس بھجوایا ہے!۔
جب امام (ع) مامون کی مجلس میں داخل ہوئے، مامون اٹھا اور بڑے دوستانہ انداز سے اپنا ہاتھ آپ (ع) کی گردن میں ڈال دیا اور آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے پہلو میں بٹھادیا۔
تھوڑی دیر امام (ع) کے ساتھ بات چیت کی اور اس کے بعد اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ انگور اور انار لائیں۔ میں نے جب مامون کی یہ بات سنی تو مزید صبر نہ کرسکا اور میرے بدن پر بخار مسلط ہوگیا۔ اس لئے کہ کوئی میری حالت سے باخبر نہ ہو، اٹھ کر مجلس سے نکل گیا اور ایک گوشے میں گر گیا۔ ظہر کے قریب میں نے دیکھا کہ امام (ع) مامون کی مجلس سے نکل کر اپنے گھر تشریف لے گئے۔
اس کے بعد مامون کے حکم پر امام (ع) کے گھر میں طبیبوں کا آنا جانا شروع ہوا۔ [سرکاری تشہیراتی مہم کے نتیجے میں] لوگ کہہ رہے تھے کہ امام (ع) مریض ہوگئے ہيں۔ رات گئے آہ و فریاد کی صدا بلند ہوئی۔ سب امام (ع) کے گھر کی جانب دوڑے۔ میں نے مامون کو دیکھا جس کا سر برہنہ تھا اور گریبان کھلا ہوا تھا اور رو رہا تھا۔ میں لوگوں کے بيچ تھا کہ صبح ہوا اور مامون نے تغسیل و تکفین کے لئے ہدایات دینا شروع کردیں۔ میں مامون کے پاس پہنچا اور اس کو امام (ع) کا پیغام پہنچایا۔
مامون نے کہا: ٹھیک ہے میں مداخلت نہیں کروں گا جیسے چاہو عمل کرو۔
سب کچھ اسی طرح پیش آیا جس طرح کہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ میں اس سفید خیمے کے قریب کھڑا تھا اور وہاں سے تکبیر (اللہ اکبر)، تہلیل (لا الہ الا اللہ) اور تسبیح (سبحان اللہ) کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں اور ساتھ ساتھ برتنوں کے ٹکرنے کی آوازیں بھی واضح تھیں اور عطر کی ایسی خوشبو اطراف میں پھیلی ہوئی تھی جو اس سے پہلے میری ناک نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔
اس کے بعد مامون نے مجھے سے وہی سوال پوچھا جو امام (ع) نے مجھے بتایا تھا اور میں نے وہی جواب دیا جو امام (ع) نے مجھے تعلیم فرمایا تھا۔ سب کچھ ویسے ہی وقوع پذیر ہورہا تھا جو امام (ع) نے فرمایا تھا۔ جب کدال زمین پر اثر نہ کرسکا تو میں نے امام (ع) کے ارشاد کے مطابق قبر کی جگہ دکھائی اور میں نے خود ہی اس جگہ پر کدال مارا اور ایک تیار قبر نمودار ہوئی اور مأمون مبہوت رہ گیا۔ قبر پانی سے بھر گئی اور اس میں ایک مچھلی ظاہر ہوئی اور پھر غائب ہوگئی اور پانی زمین میں جذب ہوگیا۔ میں نے امام علیہ السلام کا جسم اطہر قبر کے کنارے رکھا؛ اچانک ایک سفید کپڑے نے قبر کو ڈھانپ لیا اور میں نے یا کسی اور نے ہاتھ ہی نہيں لگایا تھا کہ جسم امام (ع) قبر میں اترگیا۔ مامون نے کہا: مٹی ڈال دو۔ میں نے امام (ع) کے ارشاد کے مطابق مامون سے کہا: نہیں! قبر خود بخود بھر جائے گی۔ اور قبر بھر گئی اور مامون لوٹ کر گھر چلا گیا۔
مامون نے مجھے گھر بلایا اور کہا: اے هرثمه! تمہیں خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ جو کچھ علی ابن موسی علیہ السلام نے تمہیں بتایا ہے وہ مجھے بتاؤ۔
میں نے کہا: یہی کچھ تھا جو آپ نے دیکھا۔
مامون نے کہا: کیا انھوں نے اس کے سوا بھی تمہیں کچھ بتایا ہے؟
ميں نے کہا: ہاں! انگور اور انار کی داستان۔
یہ سن کر مامون کا چہرہ پیلا، لال اور پھر کالا پڑگیا اور بے ہوش ہو کر نقش زمین ہوا۔ اور اسی بے ہوشی کے عالم ميں کہہ رہا تھا: وائے ہو مجھ پر! میں رسول خدا اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین اور علی بن الحسین اور محمد بن علی اور جعفر بن محمد اور موسی بن جعفر اور علی بن موسی الرضآ (علیہم السلام) کے حضور کیسے جواب دوں گا؟ خدا کی قسم کھلا خسارہ (خسران مبین) یہی ہے۔
ميں نے اس کو اسی حال میں ترک کیا اور ایک گوشے میں چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے مجھے آواز دی۔ میں قریب گیا تو دیکھا کہ نشے میں دھت اشخاص کی طرح بیٹھا ہے۔
کہا: اے ہرثمہ خدا کی قسم! تم میرے نزدیک علی ابن موسی الرضا اور دنیا کے تمام انسانوں سے زيادہ عزیز نہیں ہو؛ اور میرے نزدیک تمہاری قیمت کسی سے بھی زیادہ نہيں ہے، اگر سن لوں کہ جو کچھ تم نے دیکھا اور سنا ہو تم نے کسی اور کو بھی سنایا ہے، تمہيں قتل کروں گا۔
میں نے کہا: اگر میں ایک لفظ بھی کہوں میرا خون آپ پر حلال ہو۔
مامون نے کہا: نہیں! تمہیں قسم اٹھانی پڑے گی۔
اور میں نے قسم اٹھائی۔
اس کے بعد مامون نے ہاتھ دوسرے پر مارا اور کف افسوس ملتے ہوئےکہا: وائے ہے مجھ پر، اور اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کی: ” يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لاَ يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا۔ (سورہ نساء آیت 108)
وہ لوگوں سے (شرماتے ہوئے اپنی دغابازی کو) چھپاتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے درآنحالیکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو (کسی) ایسی بات سے متعلق (چھپ کر) مشورہ کرتے ہیں جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، اور اللہ جو کچھ وہ کرتے ہیں (اسے) احاطہ کئے ہوئے ہے۔
منابع:
بحار الانوار، ج 49، ص 293، ح 8. از عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 245- 250.

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.