نھج البلاغہ

0 0

کائنات میں اس دور اور اس عصر میں تین ایسی کتابیں ہیں جن کی کوئی مثل نہیں اور جن کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان میں  سے ایک قرآن کریم ہے جو ختمی المرتبت کا ایک زندہ معجزہ ہے ۔اور قرآن کا اعجاز ہے کہ کوئی قرآن کے چیلنج کے باوجود  بھی قرآن کی طرح ایک آیت بھی پیش نہیں کر سکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی قرآن کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔دوسرا صحیفہ سجادیہ ہے جو امام زین العابدین کی دعاوں اور مناجات اور معشوق ازل سے کئے گئے راز و نیازپر مشتمل ہے ۔جو علوم و معارف کا گنجینہ،سیر و سلوک کا جامع دستور عمل ہے اور فصاحت و بلاغت کا ایک سمندر  ہے کہ عصر حاضر میں اس کا کوئی ثانی نہیں ۔تیسرا نہج البلاغہ ہے جو مدینۃ العلم کے ان خطبات و مکتوبات اور حکمت کے گوہر پاروں پر مشتمل ہے جسے سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے شہ پارے اور صراط مستقیم کے طور پر انتخاب کیا ہے ۔اسی لئے ہر عصر اور ہر دور  کے نامور ادیب اور عالم کو یہ اعتراف کرانا پڑا کہ یہ مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہیں ۔کیوں نہ ہو چونکہ یہ ایک ھستی کا کلام ہے جس نے ببانگ دھل یہ اعلان کر دیا جو پوچھنا ہو پوچھ لو  علی ان سب کا جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔

نہج البلاغہ  علوم اور معارف کا وہ گراں بہا سرمایہ ہے جس کی اہمیت اور عظمت ہر دور میں مسلم رہی ہے اور ہر عہد کے علماو ادباء نے اس کی بلندی اور رفعت کا اعتراف کیا ہے ۔یہ صرف ادبی شاہکار ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا الہامی صحیفہ ،حکمت و اخلاق کاسر چشمہ اور معارف ایمان کا ایک انمول خزانہ ہے ۔جس گوھر آبدار علم و ادب کے دامن کو زر نگار بنائے ہوئے ہیں اور اپنی چمک دمک سے جوہر شناسوں کو محو حیرت کئے ہوئے ہیں ۔افصح العرب کے آغوش میں پلنے والے اور آب وحی میں دھلی ہوئی زبان چوس کر پروان چڑھنے والے نے بلاغت کلام کے وہ جوھر دکھائے کہ ہر سمت سے [[فوق کلام المخلوق و تحت کلام الخالق]] کی صدائیں بلند ہونے لگیں ۔یہ نثر اس دور کی نثر ہے جب عربوں کی ادبی طاقت کا عروج  جوش گفتار صرف نظم تک محدود تھی ۔عرب کے ریگستان پر بستر لگا کر آزادی کی فضا پر بہار زندگی گزار نے والے فرزندان صحراء شعر و نظم میں تخیل،محافات کے لازوال نقوش تو چھوڑ گئے مگر جہاں تک نثر کا تعلق ہے ان کے دامن میں کوئی ایسا گوہر نہ تھا جس پر وہ فخر کر سکیں اسکا حوالہ دین کر اہل علم کو اپنے مقابلے میں للکارتے۔ 

دامن اسلام میں اگرچہ قرآن کریم جیسا عربی نثر کا جاوید معجزہ موجود ہے مگر وہ اپنے قائل کے عظمت ،جلالت اور اعجازی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے انسانی کلام کے مقابلے میں نہیں لایا جا سکتا ۔کیوں کہ یہ اس ہستی کا کلام ہے جس نے خود کلام اور فصاحت و بلاغت کو پیدا کیا اور انسان کو قوت بیان اور طاقت گفتار کی نعمت سے نوازااور پیغمبر اکرم [ص]کے اقوال اور ارشادات ہیں تو وہ اگرچہ معنوی لحاظ سے وسیع ہمہ گیر ہے مگر لفظی اعتبار سےبہت مختصرہے ۔چناچہ پیامبر اکرم [ص]کا ارشاد {اوتیت جوامع الکلام ]اس کا شاہدہے کہ آپ کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ مطالب سمیٹ لیتے تھے ۔

یہ بات مدنیۃ العلم ہی کی ذات تھی جس نے علم و حکمت کے بند دروازے کھولے ۔نطق اور فصاحت کے پرچم اور علمی ذوق کو پھر سے زندہ کیا ۔باوجودیکہ آپکی زندگی سکون و اطمینان سے  یکسر خالی تھا لیکن پھر بھی مختلف مرحلوں میں علم و حکمت کے رموز دنیا کو بتاتے رہے اورذہنی الجھاو اور متضا د افکار کے ہجوم میں بشریت  کو عبودیت و عظمت کی طرف ہدایت فرماتے رہے۔امیر المومنین  [ع] نے علمی حقائق کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علم ودب کے نشوونما میں بھی پورا پورا حصہ لیا ۔حضرت علی [ع] کے کلام میں یہ نمایاں خصوصیت ہے کہ اس میں عرب کی سحر انگیزی اور علم وحکمت کے باریک نگاہی دونوں سمٹ کر جمع ہو گئے ہیں اور کسی پہلو میں بھی کمزوری کا شائبہ تک نہیں ۔آپ وہ پہلے مفکر اسلام ہیں جنھوں نے خداوند عالم کی توحیداور اس کی صفات پر عقلی نقطہ نظر سے بحث کی ہے ۔آپکے خطبات علم الھیات میں نقش اول و آخر ہیں ۔کائنات کی چھوٹی سی چھوٹی اور پست سے پست مخلوق میں نقاش فطرت کی نقش آرائیوں کی تصویر کھنیچ کر صانع کے  کمال صفت سے اور اس کی قدرت و حکمت پر دلیل قائم کرتے ہیں ۔

ان خطبات و نگارشات میں نفسیاتی مسائل کے علاوہ اخلاقی ،تمدنی ،معاشرتی،اقتصادی،اصول اورضابطے اور عدل و انصاف اور حرب و ضرب کے ضوابط و قواعد موجود ہیں ۔اس کے علاوہ ایسا مکمل جامع دستور حکومت بھی ان صفحات کی زینت ہے ۔جس کی افادیت اس ترقی یافتہ دور میں مسلم ہے ۔ ان تحریروں میں علماء کا بھی ذکر کیا ہے جن میں علماء ربانی اور دین فروش ملاوںکی تشخیص وتمیز کے اصول بیان فرما کر ان دنیا پرست علماء کے خطرات سے متنبہ کیا ہے جنہیں علم سے کوئی لگاونہیں ہوتا مگر علماء کا روپ دھار کر مسند قضا پر بیٹھ جاتے ہیں اور دین فروشی کے ذریعے دنیا کماتے ہیں ۔

نہج البلاغہ اخلاقی تعلیمات کا سر چشمہ ہے اس کے مختصر جملے اور ضرب المثال اخلاقی شائستگی ،خود اعتمادی ،حق گوئی اور حقیقت شناسی کا بہترین درس دیتی ہے ۔اس کے ایک ایک فقرے میں قرآن و حدیث کی روح اور اسلام کی صحیح تعلیم مضمر ہے ۔بیروت کے شھر ت آفاق مسیحی ادیباور شاعر پولس سلامہ اپنی کتاب [اول ملحمہ عربیہ عید الغدیر]میں لکھتے ہیں “نہج البلاغہ مشھور ترین کتاب ہے جس سے امام علی [ع]کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اس کتاب سے بالاتر سوائے قرآن کے اور کسی کتاب کی بلاغت نظر نہیں آتی اور اس کے بعد چند اشعار پیش کرتے ہیں ۔ترجمہ :یہ معارف و علوم کا معدن اور اسرار رموز کا کھلا ہو ادروازہ ہے ۔یہ نہج البلاغہ کیا ہے ؟ایک روشن کتاب جس میں بکھرے ہوئے موتیوں کو فصاحت و بلاغت کی رسی میں پرووئے گئے ہے ۔یہ چنے ہوئے پھولوں کا ایک ایسا  باغ ہے جس میں پھولوں کی لظافت،چشموں کی صفائی اور آب کوثر کی شیرنی انسان کو نشاط بخشتی ہے ۔جس کی وسعت اور کنارے تو آنکھوں سے نظر آتے ہیں مگر تہ تک نظریں پہنچنے سے قاصرہیں ۔[1]

معتزلہ کے نامور ادیب  ابن ابی الحدید بھی اس عظیم کتاب کی فصاحت و بلاغت کے سامنے مجبور ہو کر خود اس کتاب کی شرح  لکھے ۔ان حقائق کے باوجود چند چمگاڈر صفت اور ناصبی افراد نے نہج البلاغہ کو سید رضی کا اختراع قرار دینےکی مذمت کوشش کی ہے ۔اگر اس تہمت کو بالفرض مان بھی لیں تو پھر بھی اس کتاب علی ابن ابی طالب [ع] کی علمیت کا اندازہ ہو تا ہے کہ انکے شاگردوں کے کسی شاگرد جنکی طرف نہج البلاغہ کی جھوٹی نسبت دی گئی ہے انکا علمی مقام  اتنا بلند ہو تو خود امام علی کی علمیت کتنی ہو گی ؟رسول خدا [ص] جسے مدینۃ العلم قرار دیں تو انے کلام کا کون مقابلہ کر سکتا ہے ؟

مزید  صفات خدا

سید رضی اور نہج البلاغۃ:

سید رضی ذاتی طور پر کلام حضرت علی [ع] کے گرویدہ تھے وہ ایک ادیب ،شاعر اور سخن شناس آدمی تھے ان کے بارےمیں ان کا ہم عصر ثعلبی کہتا ہے “وہ دور حاضر کی عجیب ترین اورعراقی سادات میں سب سے زیادہ معززو شریف شخص ہیں ۔حسب و نسب کی بزرگی سے قطع نظر وہ ادب اور فضل و کمالات سے آراستہ ہیں ۔باوجود اس کے  کہ آل ابو طالب [ع] میں بہت  سے نامور شعراء ملتے ہیں مگر وہ سب سے افضل و برتر ہیں اور اگر ہم یہ کہیں کہ پورے قریش میں کسی کی شاعری انکے پایہ تک نہیں پہنچتی تو یہ حقیقت سے دور نہ ہو گا ۔[2]

سید رضی کہ یہی دلچسپی جو ادب سے عموما اور کلمات علی [ع] سے خصوصا تھی باعث ہوئی کہ آپ نے کلمات حضرت علی [ع] کو زیادہ تر فصاحت و بلاغت اور ادب کے زاویہ سے دیکھا ہے ۔چناچہ اس کے انتخاب میں بھی انہوں اس کا لحاظ رکھا ہے ۔یعنی آپ کی نظر کو ان حصوں نے زیادہ جذاب کیا ہے جو بلاغت کے لحاظ سے خا ص شھرت رکھتے ہیں ۔اسی وجہ سے اپنے اس منتخب مجموعہ کا نام نہج البلاغہ رکھا اور اسی لئے ماخذو مدارک کے ذکر کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دی ۔

کسی اهم تاریخی یا حدیثی مجموعہ کے لئے سند و مدرک کا مشخص و معین ہونا ضروری ہے ورنہ وہ قابل اعتبار قرار نہیں پائے گا ۔لیکن ادبی شاہ کار کی اہمیت اس کی لطافت و چاشتی اور اسلوب نگارش میں ہوتی ہے ۔لیکن سید رضی کے لئے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تاریخی اقدار اور دیگر تمام معیاروں سے غافل اور صرف اس کے ادبی اقدار کی طرف متوجہ رہے ہیں لیکن  خوش قسمتی سے نہج البلاغہ کے اسناد و مدارک کے حوالے سے کتابیں منظر عام پر آگئی ہے ۔کلام حضرت علی [ع] کی جمع آوری کا کام صرف سید رضی کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ دوسرے افراد نے بھی اس سلسلے میں مختلف ناموں سے کتابیں تالیف کیں ہیں ۔ان میں سے مشھور کتاب آمدی کی [[غرر ودرر]] ہے ۔

امتیاز کلام امیر المومنین:

کلام امیر المومنین [ع] زمانہ قدیم سے ہی دو ا متیازات کا حامل رہا ہے ۔اور ان ہی امتیازات  سے اس کی شناخت ہوتی ہے۔ایک فصاحت و بلاغت اور دوسرا اس کا متعد د جھات اور مختلف پہلووں پر مشتمل ہونا ہے ۔ان میں سے ہر ایک امتیاز اپنی  جگہ  کلام علی کی بے پناہ اہمیت کے لئے کافی ہوتا ،چہ جائیکہ ان دونوں کا ایک جگہ جمع ہونا ،یعنی ایک گفتگو جو مختلف بلکہ کہیں کہیں بالکل متضاد جہتوں اور میدانوں سے گزر رہی ہے  اور اسی کے ساتھ ساتھ اپنے کمال فصاحت و بلاغت کو بھی باقی رکھے ہوئے ہے ۔اس نے کلام حضرت علی [ع] کو معجزے کی حد سے قریب کر دیا ہے ۔اسی وجہ سے آپ کا کلام خالق اور مخلوق کے کلام کے درمیان رکھا جاتا ہے ۔

حسن کلام :

سخن فہم افراد کے لئے ،نہج البلاغہ کا یہ امتیاز محتاج تعارف نہیں  ہے کہ کلام کی زیبائی فھم و ادراک سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ توصیف و تمجید سے ۔چودہ سو سال بعد بھی نہج البلاغہ  کے سننے والوں کو وہی لطافت و چاشتی اور جاذبیت محسوس ہوتی ہے جو اس زمانےمیں لوگوں کو ہوتی تھی ۔علی [ع] کے ساتھی  جو فن خطابت سے تھوڑی بہت آشنائی رکھتے تھےآپ کی خطابت کے شیدائی تھے۔انہی شیدائیوں میں سے ایک ابن عباس ہے جیسا کہ جاحظ نے لکھا ہے وہ خود هی ایک زبردست خطیب تھے انہوں نے حضرت علی [ع] کی باتیں اور تقرریں سننے اور ان سے لطف اندوز ہونےکا اشتیاق چھپایا نہیں ہے ۔چناچہ جب حضرت علی [ع] اپنا مشھور خطبہ [خطبہ شقشقیہ ] ارشاد فرما  رہے تھے ۔ابن عباس وہاں موجود تھے  خطبے کے دوران کوفے  کی ایک علمی شخصیت نے  ایک خط آپ کو دیاآپ  نے خطبہ روک دیا اور یہ خط پڑھنے کے بعد کلام کو آگے نہ بڑھائے ۔ابن عباس نے کہا کہ مجھے اپنی عمر میں کسی بات کا اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس تقریر کے قطع ہونے کا افسوس ہو اہے ۔[3]

ابن عباس حضرت علی [ع] کے ایک مختصر خط کے بارے میں جو خود انہی کے نام لکھے  گئے تھے  کہتے ہیں ” پیغمبر اسلام [ص]  کی باتوں کے بعد حضرت علی [ع] کے اس کلام سے زیادہ کسی اور کلام سے میں مستفید نہیں ہوا ہوں ۔[4]معاویہ  ابن ابی سفیان جو آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا وہ بھی آپ کے کلام کی غیر معمولی فصاحت و بلاغت  اور زیبائی کا معترف تھا ۔

محقق ابن ابی محقن حضرت علی [ع] کو چھوڑکر معاویہ کے پاس گئے اور اس کو خوش کرنےکے لئے کہا” میں ایک  گنگ ترین شخص کو چھور کرتمھارے پاس آیاہوں “یہ چاپلوسی اتنی منفور تھی کہ خود معایہ نے اس شخص کو ڈانٹتے ہوئے کہا “وائے ہو تجھ پر،تو علی کو گونگا ترین شخص کہتا ہے جب کہ قریش علی سے پہلے فصاحت سے واقف بھی نہیں تھے ۔علی نے ہی قریش کو درس فصاحت دیا ہے ۔[5]

اثر و نفوذ:

جو افراد آپکے ان خطبات کو سنتے وہ بہت زیادہ متائثر  ہو جاتے  تھے ۔آپ کے موعظے لوگوں کے دلوں کو ہلا دیتے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری کر دیتے تھے۔سید رضی مشھور خطبہ [غرا ]نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں [جس وقت حضرت علی [ع] نے یہ خطبہ دیا تو لوگوں کے بدن کانپ اٹحے ،اشک جاری ہو گئے اور دلوں کی دھڑکنیں بڑھ گئیں ۔[6]

 ہمام ابن شریح آپکے دوستوں میں سے تھے جن کا دل عشق خدا سے لبریز اور روح مصونیت سے سرشار تھی ۔آپ کو صرار کرتے ہیں کہ خاصان خدا کی صفات بیان کیجئے ۔جب آپ نے خطبہ شروع کیا اور جوں جوں آگے بڑھتے گئے  ہمام کے دل کی دھڑکنیں تیز تر ہوتی گئی اور ان کی متلاطم روح کے تلاطم میں اضافہ ہو تا گیا اور کسی طائر قفس کی مانند روح قید بدن سے پرواز کے لئے بے تاب ہو گئے کہ ناگاہ  ایک ہو لناک چیخ نے سامعین کو اپنی طرف متوجه کر لیا جو ہمام کی چیخ تھی ۔جب لوگ اس کے سرہانے پہنچے تو روح قفس عنصری  سے پرواز کر چکی تھی ۔آپ نے فرمایا :میں اسی بات سے ڈر رہا تھا ۔عجب، پر بلیغ موعظہ آمادہ قلوب پر اسی طرح اثر کرتا ہے  ۔[7]

مزید  سفر امام رضا (ع)، مدینہ تا مرو

اعترافات:

رسول [ص] کے بعد تنھا علی [ع] کی وہ ذات  ہے جس کے کلام کو لوگوں نے حفظ کرنے کا اہتمام  کرتے رہتے ہیں ۔ابن ابی الحدید عبد الحمید کاتب سے جو انشاء پردازی میں ضرب المثل ہے اور دوسری صدی ہجری  کے اوائل میں گزرا ہے نقل کرتے ہیں :اسکا بیان ہے کہ میں حضرت علی [ع] کے ستر خطبے حفظ کئے اور اس کے بعد میراذھن یوں جوش مارتا تھا جو جوش مارنے کا حق ہے ۔علی الجندی لکھتے ہیں کہ لوگوں نے عبد الحمید سے معلوم کیا تمھیں بلاغت کے اس مقام پر کس چیز نے پہنچایا ؟اس نے کہا “حفظ کلام الاصلع” علی کے خطبوں کی مرھون منت ہے ۔

عبد الرحیم ابن نباتہ جوکہ خطبائے عرب میں اسلامی دور کا ضرب المثل خطیب ہے اعتراف کرتا ہے کہ میں نے فکر و ذوق کا سرمایہ حضرت  علی [ع] سے حاصل کیا ہے ۔ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ کے مقدمے میں اس کا یہ قول نقل  کیا ہے : میں نے حضرت علی [ع] کے کلام کی سو فصلیں حفظ کیں اورذھن میں محفوظ کر لی ہیں  اور یہی میرا وہ خزانہ ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے ۔مشھور ادیب ،سخن شناس ،نابغہ ادب جاحظ جس کی کتاب البیان و التبین ادب کے ارکان چھارگانہ میں شمار ہوتے ہے اپنی کتاب میں بار بار حضرت علی [ع] کی غیرمعمولی ستائیش اور حد سے زیادہ تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔

وہ البیان و التبین کی پہلی جلد میں ان افراد کے عقیدے کے بارے میں لکھتے ہوئے کہ جو سکوت اور صداقت کی تعریف اور زیادہ بولنے کی مذمت کرتے تھے کہتے ہیں :زیادہ بولنے کی جو مذمت آئی ہے وہ بے ہودہ باتوں کے سلسلے میں ہے نہ کہ مفیدو سود مند کلام کے بارے میں ورنہ حضرت علی [ع] اور عبد اللہ ابن عباس کا کلام بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔[8]

اسی جلد میں جاحظ نے حضرت علی [ع] کا یہ مشھور جملہ نقل کیا ہے [قیمۃ کل امرء مایحسنہ]ہر شخص کی قیمت اس کے علم و دانائی کےمطابق ہے ۔اور پھر اس جملے کی وضاحت اور تشریح میں لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں “ہماری پوری کتاب میں  اگر صرف یہی  ایک جملہ ہوتا تا کافی تھا ۔بہترین کلام وہ ہے جو کہ ہونے کے باوجود آپ کو اپنے بہت ہونے سے بے نیاز کر دے اور معنی لفظ پنہاں نہ رہیں بلکہ ظاھر و آشکار ہوں ۔پھر کہتے ہیں گویا خدانے اس مختصر جملے کو اس کے کہنے والے کی پاک نیت کی مناسبت سے جلالت کاایک پیراھن اور نور حکمت کا لباس پہنا دیا ہے ۔[9]

ابن ابی الحدید  اپنی کتاب کے مقدمے میں تحریر فرماتے ہیں :حق تو یہ ہے کہ لوگوں نے بجا طور پر آپ کے کلام کو خالق کے کلام کے بعد اور بندوں کے کلام سے بالاتر قرار دیا ہے ۔لوگوں نے تحریر و تقریر دونوں فنون آپ سےسیکھے ہیں ۔آپ کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ لوگوں نے آپ کے کلام کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ جمع اور محفوظ کیا ہے ۔

اسی طرح کتاب شرح نہج البلاغہ کی چوتھی جلد میں بھی ابن ابی الحدید امام کے اس خط کے بارے میں جو آپ نے مصر میں معاویہ کی فوج کے تسلط اور محمد ابن ابی بکر کی شھادت کے بعد بصرہ کے گورنر عبد اللہ ابن عباس کے نام لکھا تھا اور انہیں اس سانحے کی خبردے تھی ،لکھتے ہیں : فصاحت نے اپنی باگ دوڑ کس طرح اس مرد کے سپرد کر دی ہے ۔الفاظ کی بندش کو دیکھے جو یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور خود اس طرح اس کے حوالے کر دیتے ہیں جیسے زمین سے اپنے آپ بلا کسی پریشانی کے چشمہ ابل رہا ہو۔سبحان اللہ ،مکہ جیسے شھر میں پروان چڑھنے والے اس عرب جوان کا  کیا کہنا کہ جس نے فلسفی و مفکر کی صورت بھی نہیں دیکھی لیکن اس کا کلام حکمت نظری میں افلاطون و ارسطو کے کلام سے زیادہ بلند ہے جو حکمت عملی سے آراستی بندوں کی بزم میں بھی نہیں بیٹھا لیکن اقراط کی حد پراواز سے کہیں آگے پہنچاہوا ہے جس نے بہادروں اور پہلوانوں سے تربیت حاصل نہیں کی لیکن روئے زمین پر پورے عالم بشریت میں شجاع ترین  انسان تھا ۔خلیل ابن احمد سےسوال کیا گیا کہ علی شجاع ہیں یا عنبہ و بسطام؟ اس نے کہا :عنبہ و بسطام کا موا زنہ انسانوں سے کرنا چاہیے علی مافوق بشر ہیں ۔[10]

علی الجندی اپنی کتاب [علی ابن ابی طالب شعرہ و حکمہ ] کے مقدمے میں مولائے کائنات کی نثر کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :آپ کے کلام میں ایک خاص قسم کی موسقی کا آہنگ ہے جو احساسات کی گہرائیوں میں پنجے جمادیتا ہے ۔سجع کے اعتبار سے اس قدر منظوم ہے کہ اسے نثری شعر کہا جا سکتا ہے ۔[11] اس مختصر مقالے میں ہم انہیں اعترافات پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔

اسناد ومدارک و مستدرکات نہج البلاغہ :

نہج البلاغہ کے حوالے سے جو ابھامات ہے ان میں سےایک یہی ہے کہ سید رضی نے خطبوں اور خطوط کے اسناد کو ذکر نہیں کئے ہیں اس لئے کتاب کا اعتبار مورد سوال قرار پاتا ہے ۔اس طرح کے ابھامات کے بارے میں یہی جواب ہے کہ نہج البلاغہ میں موجود  خطبے اور خطوط امام کے خطبوں اور خطوط میں سے بعض ہے جسے سید رضی نے جمع آوری کی ہے ۔اور اس زمانے میں سید رضی نے اسناد و مدارک کی ضرورت بھی محسوس نہیں کیں چونکہ نہج البلاغہ کے منابع اس قدر معروف و مشھور تھے کہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ دوبارہ ان منابع و مدارک کا ذکر کرے۔ علاوہ بر این نہج البلاغہ امام علی[ع] کے کلام کے بارےمیں نہ اولین کتاب ہے اور نہ آخرین بلکہ سید رضی کے کتاب سے پہلے بھی بہت ساری کتابیں امام علی [ع] کے کلام کے بارے میں  تحریر ہوئی ہے ۔محققین نے نہج البلاغہ کے مصادر کو بیان کئے ہیں ۔

کلام علی [ع] نہج البلاغہ سے پہلے :

امام علی [ع] کے خطبات اور خطوط کو لوگوں نے زبانی حفظ کئے اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے اور بعض نے اسے کتابت کی شکل دئے ۔یقوبی لکھتے ہیں :امام علی [ع] سے چار سو خطبے موجود ہیں ۔[12] درحالیکہ نہج البلاغہ میں چار سو اسی خطبے موجود ہیں ۔علی بن حسین مسعودی لکھتے ہیں :امام علی [ع] کے خطبات میں سے چارر سو اسی خطبے موجود ہیں ۔[13] حسن بن علی شعبہ حرانی لکھتے ہیں :اگر امام علی [ع] کے وہی خطبات جو توحید کے بارے میں بیان ہوئے ہیں صرف انہی کو جمع کریں تو کتاب تحف العقول کے برابر بن جائے گے ۔[14]

مزید  خاندان کے بارے ميں صرف ايک جملہ !

سید رضی سے پہلے امام علی [ع] کے کلمات کو بہت سارے لوگوں نے جمع آوری کی تحیں جو بغداد میں شیخ طوسی کے زمانے سے لے کر ابو العباس نجاشی کے زمانے تک محفوظ تھے لیکن سلجوقیوں کے بغداد میں تصرف کرنے اور کتابخانے کو آگ لگانے کی وجہ سے ضائع ہوگئے ۔عزیز اللہ عطارردی ایک تحقیق میں ستر افراد کا نام جنہوں نے امام علی [ع] کے کلمات کی جمع آوری کی تھی بیان کرتے ہیں ۔[15]

نہج البلاغہ میں موجود  منابع:

سید رضی اتنے کوششوں کے ساتھ امام علی [ع] کے کلمات  کی جمع آوری کی ہیں  تو یقینا بہت سارے منابع و ماخذ سے ہی استفادہ کئے ہیں ۔لیکن انکے نام ذکر کرنے کو اہم نہیں سمجھے اور ذکر نہیں کئے  لیکن اس کے باوجود بہت سارے خطبوں اور خطوط کو منابع و اسناد کے ساتھ  ذکر کرتے ہیں ۔

نہج البلاغہ میں موجود مدارک :

نہج البلاغہ میں موجود مدارک کچھ یوں ہے ۔

۱۔ المغازی ،سعید بن یحی بن ابان  اموی ۔

۲۔الجمل ،محمد بن عمر واقدی [۲۰۷ھ]

۳۔ البیان و التبین ،ابو عثمان عمر بن بحر جاحظ [۲۴۰ھ]

۴۔ المقامات ،ابو جعفر محمد بن عبد اللہ اسکافی [۲۴۰ھ]

۵۔المقتصب ،ابو العباس محمد بن یزید مبرد[۲۸۵]

۶۔تاریخ طبری محمد بن جریر طبری [۲۴۰ھ]

۷۔غریب الحدیث،ابو عبید قاسم بن سلام [۲۲۴ھ]

۸۔حکایت تعلب شیبانی [۲۹۱ھ]

۹۔حلف ربیعۃ و یمن ،ابو منذرھشام بن محمد کلبی [۲۰۴ھ]

۱۰۔روایت ضرار بن حمزہ ضبائی

۱۱۔روایت نوف بکالی حمیری

۱۲۔روایت ابو جحیفہ وھب بن عبد اللہ سوائی [۷۵ھ]

۱۳۔ روایت کمیل بن زیاد نخعی [۸۲ھ]

۱۴۔روایت ذعلب یمانی

۱۵۔روایت امام محمد باقر [ع][۱۱۴ھ]

۱۶۔ مسعدہ بن صدقہ کتاب خطب امیر المومنین

اسناد و مدارک نہج البلاغہ :

اگر سید رضی مرحوم کلینی کی روش کو اپنا لیتے [جو انہوں نے کتاب شریف اصول کافی کی اسناد اور مدارک کو ثبت کرنے کے حوالے سے اپنائے ہیں ]اور اس زمانے میں جب اسناد و مدارک اور بہت سارے منابع انکے اختیار میں تھے ،ثبت کرتے تو نہج البلاغہ ہزار حا سال پہلے فقہای  تشیع کے محافل فقہی میں شامل ہو جاتے ۔لیکن بہت سارے محقیقین نے ہزاروں زحمتوں کے ساتھ اسناد و مدارک کو مختلف اور پرانی کتابوں کی ورق گرادنی کرتے ہوئے نکال لئے ہیں اور بہت ساری کتابیں صرف اسی موضوع پر لکھے گئے ہیں تا کہ نہج البلاغہ کے حوالے سے کسی قسم کی شک و شبہ ایجا د نہ ہو ۔وہ کتابیں جو مدارک و اسناد نہج البلاغہ کے حوالے سے لکھے گئے ہیں یہاں اجمالا ذکر کرتے ہیں ۔

۱۔ مدارک نہج البلاغہ و دفع شبہات ،شیخ ہادی کاشف الغطا ء[۱۳۶۱ھ]

۲۔ اسناد نہج البلاغہ ،امتیاز علی خان عرشی

۳۔مصادر نہج البلاغہ فہ مدارک نہج البلاغہ ،ھبۃالدین شھرستا نی

۴۔تحقیق دربارہ اسناد و مدارک نہج البلاغہ ،سید محمد مھدی جعفری

۵۔   بحثی کوتاہ پیرامون نہج البلاغہ ،رضا استادی

۶۔ مصادر نہج البلاغہ ،عبد اللہ نعہہ

۷،۸۔ دو کتاب اسناد و مدارک نہج البلاغہ و روات محدثین نہج البلاغہ ،محمد دشتی

۹۔ برسی و اسناد و مدارک نہج البلاغہ ،سید جواد مصطفوی

۱۰۔مواض مختلف تکملۃ منھاج البراعۃ فی شرح نہج البلا غہ ،حسن زادہ آملی

۱۱۔  نھج السعادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ ،محمد باقر محمودی

۱۲۔ مصادر نہج البلاغہ و اسانیدہ،سید عبد الزہراء حسینی خطیب

مستدرکات نہج البلاغہ:

اولین شخص جس نے مستدکات نہج البلاغہ لکھنے کی تصمیم و اردہ کیا وہ خود سید رضی ہے چونکہ وہ احتمال دیتے تھے کہ بعض کلمات امیر المومنین ان تک نہیں پہنچی ہے اس لئے انہوں نے اپنی کتاب نہج البلاغہ کے بعض صفحات کو خالی رکھا تاکہ بعد میں اگر کوئی کلام امام مل جائے تو انہیں انتخاب کر لیں اور اسے بھی نہج البلاغہ میں اضافہ کرے ۔بہت سارے علماء نے بھی امام علی [ع] کے ان  کلمات کو جو نہج البلاغہ میں نہیں آیا ہے جمع آوری کی اور کتاب کی شکل دی ہیں ۔ بعض مستدرکات  نہج البلاغہ یہ ہیں ۔

۱۔ التذیل علی نہج البلاغہ ،عبد اللہ بن اسماعیل حلبی

۲۔ملحق نہج البلاغہ ،احمد بن یحیی  بن احمد بن ناقہ

۳۔ النہج القویم فی کلام امیر المومنین ،سید خلف بن عبد المطلب مشعشعی حویزی

۴۔مستدرک نہج البلاغہ ،شیخ ھادی کاشف الغطاء

۵۔ نہج الفصاحۃ، سید کاظم کفائی

۶۔ مصباح البلاغہ فی مشکوۃ الصیاغۃ،سید حسن میر جھانی طباطبائی

۷۔ نہج البلاغہ الثانی ،شیخ جعفر حائری

۸۔ نہج السادۃ فی مستدرک نہج البلاغہ ،محمد باقر محمودی

۹۔ تمام نہج البلاغہ ،سید صادق موسوی

نہج البلاغہ نام کا یہ یہ نفیس مجموعہ جو ہمارے پاس ہے جس پر زمانہ کی گردشیں اثر انداز نہیں ہو سکیں بلکہ زمانے کی ترقی کے نئے نئے اور روشن سے روشن افکار و نظریات برابر اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔نہج البلاغہ زندگی کرنے ،بندگی کرنے ،اور صحیح فکر کرنے کا درس دیتا ہے ۔نہج البلاغہ کتاب عشق ،کتاب جنگ ،کتاب پرستش و عبودیت  اور کتاب دنیا و آخرت  ہے ۔شخصیت بر جستہ امیر المومنین [ع] مھم ترین  سبب جاودانگی نہج البلاغہ  ہے ۔جامعیت  خصال و صفات آنحضرت انے کلام میں بھی  تجلی ہوا ہے اور دلوں کو اپنی طرف مجذوب کرتے ہیں ۔

نہج البلاغہ  چمکتے ہوئے سورج کی طرح ہمیشہ زمانے میں  چمکتا رہیگا اور راه ہدایت وصراط مستقیم کو سالکان ہدایت کے لئے نشان دیتا رہیگا اور علم و معرفت کے پیاسوں کو سیراب کرتا رہیگا ۔ہر قسم کے غبار آلود بادلیں اگرچہ کثرت سے ہی کیوں نہ ہو اس چمکتے ہوءے سورج کے راہ میں حائل نہیں ہو سکتے ۔خداوند متعال نے سچ فرمایا ہے :[اما الزبد فیذھب جفاء و اما ما  ینفع الناس فیکمث فی الارض ][16] جو چیز لوگوں کے لئے خیر و برکت کا باعث  ہو ہمیشہ ماندگار رہے گا ۔

[1] ۔نہج البلاغۃ،مفتی جعفر حسین۔

[2]  شرح نہج البلاغہ عبدہ،ص۹۔

[3]  جاحظ ،البیان و التبین،ج۱،ص۲۳۰۔

[4] نہج البلاغہ ،خط،۲۲۔

[5]  مرتضی مطہری ،سیری در نہج البلاغہ،ص  ۲۶

[6]  نہج البلاغہ ،خطبہ ۸۱۔

[7]  مرتضی مطہری ،سیری در نہج البلاغہ،ص ۲۷

[8]  جاحظ البیان و التبین،ج۱۔

[9]  جاحظ البیان و التبین،ج۱ص۸۳۔

[10]  ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ ،ج۴۔

[11]  علی الجندی،علی ابن ابی طالب شعرہ و حکمہ ۔

[12]  یعقوبی ،احمد ابن ابی یعقوب،مشا کلۃ الناس لزمانھم ترجمہ خدیوجم،ص ۱۲،۲۸

[13]  مسعودی علی بن حسین،مروج الذھب،ج۲ص ۴۱۷۔

[14]  حرانی ابن شعبہ،تحف العقول،ص ۶۱۔

[15]  عطاردی عزیز اللہ ،کلام علی ماقبل نہج البلاغہ،ھفتہ نامہ گلستان قرآن ،شمارہ ۱،۲۔

[16]  رعد،۱۷۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.