نور الاذہان فی تفسیر القرآن

مفسر:شیخ محمد حسن صلاح الدین

*اردو زبان میں ایک فکری،تحریکی اور منفرد تفسیر

*نام تفسیر: نور الازہان فی تفسیر القرآن*

*مفسر :حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد حسن صلاح الدین*

*جلد:8*

*ناشر:مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور*

*مفسر کا مختصر تعارف*

مفسر قرآن شیخ محمد حسن صلاح الدین سکردو کے مضافات تنجوس میں پیداہوئے،ابتدائی تعلیم شگری کلان میں حاصل کیا۔اس کے بعد آپ نجف اشرف تشریف لے گئے۔تقریبا 11سال درامیر المومنین پر اس وقت کے مایہ ناز اساتیذ سے کسب فیض کیا۔بعض مشکلات کی وجہ سے وہاں سے قم میں منتقل ہوئے ایک سال قم میں رہے۔

اس کے بعد بلتستان تشریف لائے اور اپنے گاوں میں کچھ مدت گزارنے کے بعد جا معہ اہل بیت میں دوسال کاعرصہ درس تدریس  میں مشغول رہنے کے بعد شارجہ منتقل ہوگئے۔شارجہ میں جمعہ جماعت ،شرعی امور کے ساتھ شاگردوں کی تربیت اورعوامی مسائل کے حل میں کوشاں رہے۔

پھروہاں سے پاکستان۔میں  آنے کے بعد بھی درس وتدریس،تبلیغ دین،تالیف وتصنیف میں مصروف عمل ہے۔
آپ نے لڑکوں کے لیے دینی درسگاہ «جامعہ علوم اسلامی» اور لڑکیوں کے لیے «معہد الزیرا »جیسے اداروں کی تاسیس کی ہے جو طلبا وطالبات کی جدید اسلوب پر فکری ودینی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں

آپ کی تصانیف میں «شہید اسلام»«اسلامی تحریک» اور« ولایت فقیہ »جیسی کتابیں شامل ہیں۔

*تفسیر کاتعارف*
آپ کی نمایاں تصنیفی خدمات میں  آٹھ جلدوں پر مشتمل نور الاذہان فی تفسیر القرآن ہیں۔جو آپ کے سالہا سال مطالعہ اور سوچ وبچار کا نتیجہ ہے۔تفیسر تجزیہ وتحلیل پر مشتمل ہے۔الگ ترجمہ کی بجائے شیخ محسن نجفی کے ترجمے سے استفادہ کیاگیاہے۔

*تفسیری خصوصیات*
1.قرآنی آیات کی تفسیر دوسری آیات سے کی گئی ہے اس لحاظ سے یہ تفسیر قرآن بالقرآن ہے۔

2.روایات کی بحث کو المیزان کے اسلوب پر الگ بیان کیا گیا ہے۔

3.تفسیر کا مخاطب چونک عمومی ہے اس لیے سب کے لیے قابل استفادہ ہے۔ آپ خود مقدمہ میں لکھتے ہیں:کہ اس تفسیر کے لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

*“میں اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ عرض کرنے کی جسارت کرتاہوں کہباس قلیل خدمت کی وجہ تحریر اور اس کے مخاطب مندرجہ ذیل گروہ ہیں۔*
الف)مروجہ علوم کاتعلیم یافتہ جوان طبقہ ہے جو قرآن سے روشناس ہونے کی آرزو رکھتاہے مگر اس میں اس کے وسائل وقابل فہم عصری مدارک کا فقدان ہے یاکمیاب ہے۔
ب)جو افرادعربی گرامر وعلمی اصطلاح  اور گہری بحث وتحقیق پر مکمل دسترس نہیں رکھتے۔
ج)یامطول تفسیر اور علمی تحقیق کا مختلف وجوہات کی بنا پر مطالعہ نہیں کرتے یاپرانی تفاسیر سے نئے مسائل کا جواب نہیں ملتا۔
مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر تفسیر (نورالاذہان فی تفسیر القرآن )لکھی گئی ہے۔شاید مغربی تہذیب کے تاریک دور میں لوگوں کو نور قرآن سے جلا ملے۔مگر یہ کاوش علماء عظام کی مفصل اور تحقیقاتی تفاسیر کی نعم البدل نہیں ہوگی اور نہ ان سے بے نیاز ہوگی۔ہر ایک کی الگ الگ خصوصیات ہیں۔”
{مقدمہ تفسیرص 21/20}

سکندر علی بہشتی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.