نماز مکتب اسلام کے اصولوں کا خلاصہ

0 0

نماز ۔۔۔ مکتب اسلام کے اصولوں خلاصہ ہے ، نماز ۔۔۔ مسلمانوں کے لئے ان سے راہ نماز ’’ صراط مستقيم ‘‘ کو روشن کرنے والي ۔۔۔ ان کي مسؤليت و ذمہ داري کي نشاندہي کرنے والي۔۔۔ اور ان کي محنت و جدوجہد کے نتيجے کو بيان کرنے والي ہے۔

دن کا آغاز يا زوال آفتاب يا پھر رات کي تاريکي ۔۔۔ مسلمان کو طلب کرکے اسلام کے اصول و قوانين ، اسلام کے راستے اور اس کے مقصد و نتيجے کو اس کي زبان ميں سمجھايا جاتا ہے اور اسے روحاني طريقے سے آمادہ کيا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے اصول و قوانين کے مطابق عمل کرے۔ نماز ميں انسان اپني زبان کے ذريعے دل کو آمادہ کرتا ہے۔۔۔۔۔ اسے اطمينان و تسلي ديتا ہے اور اپنے ميں يہ احساس پيد اکرتا ہے کہ کہيں ميں اپنے ہدف و مقصد سے دور تو نہيں ہورہا ہوں، نماز ہي انسان کے ہر قدم کو ايمان کے آخري درجے تک لے جاتي ہے اور اس کے ہر عمل کو کامل کرديتي ہے ۔ المختصر نماز انسان ناقص کو انسان کامل بناديتي ہے۔ ہاں يہي نماز ہے جو معراج مومن ہے۔

نماز تار يکي و ظلمت ميں نور الہي ہے

ہم انسانوں کا راستہ ۔۔۔ جو خداوند عالم نے ہمارے کمال کے لئے مقرر کيا ہے ۔۔۔ جو آگے چل کر بہت دشوار ہوگا کہ اسي راستے پر چل کر انسان کامياب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ حقيقي سعادت ۔۔۔۔ خوشي اور کمال کو حاصل کرسکتا ہے اور اسي راستے پر چلنا اور منزل کو پانا ہي انسان کي زندگي کا اصلي ہدف ہے۔

ليکن مشکل يہ ہے کہ ہمارے سامنے صرف يہي راستہ نہيں ہے کہ اس کي نشاندہي کردي جائے اور ہم وہ راستہ طے کرکے اپني منزل تک پہنچ جائيں بلکہ ظلمت ( تاريکي) ۔۔۔ خدائي اصولوں سے انحراف۔۔۔۔ اور ہميں ہماري منزل سے دور کرنے والے عوامل کثرت سے ہماري راہ ميں رکاوٹ ہيں اور نہ صرف رکاوٹ ہيں بلکہ اتنے پرکشش و پر فريب اور دل کو اپني جانب موہ لينے والے ہيں کہ راہ اسلام پر چلنے والا مسافر تردد ميں مبتلا ہوجاتا ہے کہ کيا کروں اور کيا نہ کروں ۔۔۔ اس راستے پر قدم اٹھاوں يا نہ اٹھاوں۔۔۔ اور اسي کيفيت ميں انسان بعض اوقات غلط کو صحيح خيال کرنے لگتا ہے۔

انسان اس منزل پر کيا کرے جب اس کے قدم لڑکھڑانے لگيں۔۔۔۔ انسان کيا کرے کہ اس کي راہ روشن اور اس کي جدوجہد صحيح سمت ميں جاري رہے ۔۔۔۔۔ اور انسان کيا کرے کہ وہ اپني منزل آخر ۔۔۔ جو قرب خدا اور کمالات کا حصول ہے ۔۔۔۔۔ سے ايک لمحے کے لئے بھي غافل نہ ہو۔

انساني عزائم کو کمزور و متزلزل کرنے کے مقام پر نماز ہي وہ سہارا ہے جس کے ذريعے انسان باحفاظت اپني منزل تک پہنچ سکتا ہے ۔۔۔ تردد و اشتباہ کي سياہي و ظلمت ميں نماز ہي مينارہ نور ہے جو انسان کي راہ کمال کو روشن رکھتي ہے ۔۔۔۔ نماز ہي وہ ميزان الہي ہے جو حق کو حق اور باطل کو باطل قرار ديتي ہے ۔۔۔ اور يہ نماز ہي ہے جس کي وجہ سے انسان ياد خدا کي طرف متوجہ رہتا ہے۔

اپنے مفاہيم کو سميٹتے ہوئے ہم اپنے مقصد کو دوسرے الفاظ ميں يوں بيان کرسکتے ہيں کہ انسان کي پوري زندگي کا خلاصہ روزانہ نماز ميں اس کے سامنے آتا ہے ۔۔۔۔ نماز ہي کي وجہ سے ہمارے دل کي کھڑکي سے خدا کے رابطے باد نسيم ہماري روحاني دنيا کو شاد و آباد رکھتي ہے اور ہمارے وجود کو حقيقت ۔۔۔۔ انسانيت ۔۔۔۔ اور روحانيت عطا کرتي ہے يا يوں کہيے کہ نماز کے چند الفاظ ميں اسلامي فکر کي تمام باتيں اور مقاصد بطور خلاصہ موجود ہيں يا اسلام کے تمام بيانات کا نچوڑ نماز ميں ہے يا نماز اسلام کا جوہر اصلي ہے۔

مزید  بیسویں صدی کی اسلامی تحریکیں

اس طريقے سے يہ واضح ہوجاتا ہے کہ نماز کو پانچ اوقات ميں تقسيم کرنے کي کيا وجہ ہے اور اسي وجہ سے يہ اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کي اہميت کس قدر ہے ؟ جيسے جسم کو قوت پہنچانے کے لئے ہم ايک نظام کے تحت اسے غذا ديتے ہيں، اسي طرح ہماري روح کو بھي خدا تک پرواز کے لئے غذا کي ضرورت ہے تاکہ وہ تندرست و توانا رہتے ہوئے تمام شيطاني قوتوں کا ظابت قدمي سے مقابلہ کرسکے۔ ساتھ ہي ساتھ يہ بھي سمجھنا چاہئيے کہ روح کا معاملہ ايسا نہيں ہے کہ ہم روح کو ايک دفعہ درس دے ديں يا ايک ہي دفعہ ہدايت کرديں جو ہمارے مرنے تک اس کے لئے کافي ہو بلکہ روح کا معاملہ بدن سے زيادہ حساس ہے يعني روح کے لئے ضروري ہے کہ دن و رات ميں ہر تھوڑي دير بعد اسے غذا فراہم کي جائے۔

ايک بات تو يہ طے ہوگئي کہ نماز اسلام کے تمام اغراض و مقاصد کا خلاصہ ہے۔ نماز ميں تلاوت قرآن بھي ہے جو نماز کے واجبات ميں سے ہے۔ نما ز، نمازي کو قرآن کے مضامين سے آشنا کرتي ہے کہ قرآن کے مطالب ميں غور کرو اور اپني فکر کو فکر قرآن کے ساتھ مربوط کرنے کي کوشش کرو۔ بنيادي طور سے ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ نماز ميں جتنے افعال و حرکات ہيں سب اسلام کو نمونہ پيش کرتي ہيں البتہ مختصر طريقے سے۔

اسلام اپنے پيروکاروں کے بدن، ان کي فکر اور ان کي روحوں کو بھي ان کي خوش بختي اور کمال کے لئے استعمال کرتا ہے۔ نماز ميں انسان کي تينوں چيزيں يعني اس کا بدن ، اس کي فکر اور اس کي روح مصروف ہوتے ہيں۔

بدني حالت : ہاتھ ، پير ، زبان کي حرکت ، جھکنا ، بيٹھنا اور خاک پر پيشاني رکھنا۔ يہ انسان کي بدني حالت ہے۔

فکري حالت: ہم نماز کے مضامين اور نماز کے الفاظ کے بارے ميں سوچتے ہيں جو نماز ميں بيان کئے جاتے ہيں۔ يہ مضامين اور الفاظ عام طور سے اشارہ کرتے ہيں کہ ہماري زندگي کا ہدف و مقصد اور اس کے وسيلے کيا ہيں يعني نماز ميں اسلام کا خلاصہ ہمارے ذہنوں سے گذرتا ہے۔

روحي حالت: نماز ميں ہماري روح کا عالم يہ ہوتا ہے کہ نماز ميں ہم خدا کو ياد کرتے ہيں جو ہماري روح کے کمال کا سبب ہے، نماز ميں ہمارا دل ۔۔۔ باطني کمالات ۔۔۔ اور اخلاقي پاکيزگي کے لئے پرواز کرتا ہے اور نماز نہ صرف ہماري روح کي طہارت کرتي ہے بلکہ ہمارے دل کو فضول کاموں کي انجام دہي اور اسے بھٹکنے سے روکتي ہے اور يہ نماز ہي ہے جو ہماري روح ميں خوف خدا کا بيج ڈالتي ہے۔

نماز کو قائم کرنا پڑھنے سے زيادہ اہميت ک حامل ہے

لوگوں نے بيان کيا ہے کہ دنيا ميں جتنے آئين اور جتنے لوگ ہيں، ہر ملت کي نماز ان کے نظريے کا خلاصہ ہوتي ہے چنانچہ اس بيان کے مطابق ہم کہہ سکتے ہيں کہ نماز بھي ايسي ہي ہے اور اسلام نے جو نماز مقرر کي ہے اس ميں روح و جسم ۔۔۔۔ماديت و روحانيت ( معنويت) ۔۔۔۔ اور دنيا و آخرت ۔۔۔۔۔ کو يکجا کرديا گيا ہے۔ يہ نماز کي عظيم الشان خوبيان ہيں جو اسلام نے بيان کي ہيں۔ يہي وجہ ہے کہ جب ايک مسلمان نماز اد اکرتا ہے تو وہ اپني تمام ( مادي و روحاني) طاقتوں اور قوتوں کو اپنے وجود کے کمال کے لئے استعمال کرتا ہے يعني وہ بيک وقت اپني جسماني ۔۔۔ فکري ۔۔۔۔ اور روحي قوتوں کو اپنے کمال و ارتقائ کے لئے استعمال کرتا ہے۔

مزید  بندے کے وجود ميں خدائي نشانياں

نماز پڑھنے والا اس دليل کي وجہ سے۔۔۔ اپني تمام ( مادي و روحاني) صلاحيتوں اور قوتوں کے ساتھ خدائي راستے پر قدم بڑھاتا ہے ۔۔۔۔ اور اپنے وجود ميں سر اٹھانے والے شر کے جذبات ۔۔۔۔۔ فساد کے ميلانات اور انحرافات کا مشاہدہ کرتا ہے تو نماز کے ذريعے سے ان کو ترک کرتا جاتا ہے چنانچہ قرآن ميں کئي مقامات پر نماز کو قائم کرنے کو کہا گيا ہے اور يہي دينداري کي پہچان اور علامت ہے اور اسي وجہ سے ہماري يہ خيال ہوتا ہے کہ نماز کو قائم کرنا نماز کو پڑھنے سے زيادہ اہميت والا ہے يعني آيات قرآني ميں جس کثرت کے ساتھ نماز کو قائم کرنے کا حکم آيا ہے اس کا مطلب فقط يہ نہيں ہے کہ ايک شخص صر ف( ظاہري صورت اور آداب کے ساتھ) نماز پڑھ لے بلکہ حقيقتاً نماز کو قائم کرنے کا مقصد يہ ہے کہ نماز ہميں جس سمت لے جانا چاہتي ہے ہم اسي سمت پيش قدمي کريں۔۔۔۔ جس منزل کي طرف ہماري توجہ مبذول کرانا چاہتي ہے ہم اس کے لئے بھرپور توجہ کريں ۔۔۔۔ اور جن اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے آمادہ کرتي ہے ہم ان کے حصول کے لئے جدوجہد کريں يعني ہم نيک صفات اور تمام خير و خوبيوں کو حاصل کرنے کا عہد کريں جن کا خلاصہ نماز ہے يا دوسرے الفاظ ميں ياد خدا اور اسلام کے بيان کردہ تمام مقاصد ہمارے دل ميں قيام کريں اور يہ دوسروں کي زندگي ميں قيام کريں۔ ہم بھي اسلام کے مقرر کردہ ہدف و مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کريں اور دوسرے بھي انہي مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں رہيں۔

گويا نماز کو قائم کرنے سے مراد يہ ہے کہ انسان اپني کوشش کے ذريعے اپنے ماحول اور زندگي کي فضا کو ايسا بنائے کہ جيسا نما زہم سے تقاضا کرتي ہے يعني سب خدا کي تلاش و توجہ ميں ہمہ وقت کوشاں ہوں، خدا پرست ہوں اور اس سمت اور اس راستے پر حرکت کريں کہ جس سمت اور جس راہ پر نما ز ہميں لے جانا چاہتي ہے۔

پس ايک مومن ہو يا مومنين کا گروہ۔۔۔۔۔ نماز کو قائم کرکے اپني تباہي ، گناہ کي طرف توجہات و ميلانات اور فساد کي تمام کيفيات کو اپني ذات سے ختم کرديتا ہے اور نہ صرف اپني ذات کو ان سے پاک کرتا ہے بلکہ اپنے ماحول اور معاشرے کو بھي پاک کرتا ہے۔

يعني ايک گروہ جب نماز قائم کرتا ہے تو اس کا مطلب يہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو تباہي و بربادي سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

نماز ان تمام کيفيات کو ۔۔۔ جو انسان کو اس کے مقصد و ہدف سے انحراف و بغاوت پر اکساتي ہيں ۔۔۔۔ ختم کرديتي ہے، ہمارے گناہوں کو جلاديتي ہے ، نماز ہي ہمارے اندروني و بيروني جوش و جذبات کے طوفان کو پرسکون کرديتي ہے اور نفس کے ان عوامل کو ۔۔۔۔ خواہ شخصي و فردي ہوں يا اجتماعي ۔۔۔ بے جان کرديتي ہے ۔ حقيقت يہ ہے کہ نماز فرد واحد کي اصلاح کے ساتھ ساتھ ايک معاشرے کو بيہودہ اور ناپسنديدہ اعمال سے روکنے کا ذريعہ ہے۔

نيکي کے خلاف شيطان کي جنگ جاري ہے

زندگي کي دوڑ ميں ۔۔۔۔۔ جہاں ہر طرف مختلف نوعيتوں کي کشمکش اور نيکي و بدي کي جنگ و جدل جاري ہے۔۔۔ ہمارا مقابلہ مختلف النوع مسائل سے ہوتا ہے اور ہمارا ذہن مختلف الجھنوں ميں گھرا رہتا ہے۔ کاروبار حيات ميں برائيوں کي نجاسات اپنے عروج پر ہيں يعني تمام شيطاني قوتيں اپنے کل اسباب ، بہترين انتظامات اور ہتھياروں سے مسلح اپني کمين گاہ سے انسانوں کو اپنے نشانے پر لئے ہوئے ہيں اور انہوں نے اس بات پر قيام کيا ہوا ہے کہ جہاں بھي ديکھيں کہ لوگوں ميں نيکي کا جذبہ ہے يا نيک اعمال کي طرف توجہات ہيں تو کسي نے کسي طرح اسے نابود کرديں اور اس شجر طيبہ کو جڑ سے کاٹ ديں تاکہ وہ نيکي کا شجر معاشرے ميں نشونما نہ پاسکے۔

مزید  شیعوں کے نزدیک شریعت کے سرچشمے

انسان کے الہي مقاصد کي پہلي حفاظتي ديوار کہ جس پر شيطاني قوتوں کا زيادہ ہجوم رہتا ہے انسان کا عزم اور نفس کي قوت ہے۔ شيطان کي دلي آرزو ہے کہ ہمارے عزم ( مقصد و ہدف کو حاصل کرنے کي قوت طلبي) کو کمزور کردے اور ہمارے نفس کي قدر و طاقت نيست و نابود ہوجائے۔ چنانچہ انسان کي زندگي ميں عزم اور قدرت نفس کا نہ ہونا يا کمزور ہونا اس بات کا پيش خيمہ ہوگا کہ شيطان ہمارے وجود پر اپنا تسلط جمالے اور ہماري صلاحيتوں اور کمالات کو برباد کردے۔ شيطان انسان کے وجود کو ۔۔۔۔۔ جس ميں صلاحيتيں ، کمالات ، خوبياں اور علم و معرفت الہي کے خزانے پوشيدہ ہيں ۔۔۔۔۔ اپني چراگاہ بناليتا ہے اور جب چاہے اس ميں داخل ہو کر انسان کے گلشن معرفت کو ويران کرديتا ہے اور اس طرح اپنے مذموم مقاصد کي تکميل کرتا ہے۔

وہ افراد جو اپنے زمانے اور تاريخ کے لئے خدا کے راستے پر ايک پيغام رکھتے ہوں اور نئے راستے پر چلنے کے خواہشمند ہوں۔۔۔۔ ايسے افراد اور ان کے نظريے کي تباہي کے لئے شيطان زيادہ فکر مند رہتا ہے اور ان پر زيادہ حملے کرتا ہے تاکہ ان کے عزم و قدرت نفس کو کمزور کردے۔ چنانچہ وہ افراد جو اپني منزل تک پہنچنا چاہتے ہيں انہيں چاہئيے کہ اپنے عزم و ارادے کو مستحکم بنائيں تاکہ وہ شيطان کے حملوں کا دفاع کرتے ہوئے اپني منزل مقصود تک پہنچ سکيں۔

اسلام نے انسان کي حقيقي کاميابي و کامراني اور اس کے معراج کے لئے جو نماز مقرر کي ہے، ہم اس ميں اپنے آپ کو نصيحت کرتے ہيں اور دل کو بار بار ياد خدا کي طرف متوجہ کرتے ہيں۔ نماز معمولي قوتوں کي مالک اور مادي کمالات کي حاصل شخصيت کو ۔۔۔ جس کے لئے تباہي کے خطرات ہمہ وقت اس کے سر پر منڈلاتے رہتے ہيں ۔۔۔۔۔ اس خدا سے مربوط کرديتي ہے جس کي تمام صفات و کمالات کي کوئي حد نہيں ہے بلکہ حد يہ ہے کہ وہ تمام حدود سے مبرا ہے۔

يقيناً نماز ہي وہ پل ہے جس کے ذريعے ہمارا اور خدا کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور نماز ہي کے ذريعے سے ہم خدا پر بھروسہ کرتے ہيں اور ہم خود کو اس ذات سے قريب کرتے ہيں جو تمام جہانوں کي فکر کرنے والي ہے اور ہميں احساس ہوتا ہے کہ ہماري قوت لامحدود لازول ہے۔ نماز کے ذريعے سے انسان کا خدا سے قريب ہونا اور خدا کي حاکميت و طاقت پر بھروسہ کرنا ہم انسانوں کي تمام کمزوريوں اور تمام برائيوں کا بہترين علاج ہے اور ہمارے عزم و ارادے کو مضبوط و مستحکم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے بہترين مالک ہے۔

اقتباس از نماز کي گہرائیاں از حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای دام ظلہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.