نماز تار يکي و ظلمت ميں نور الہي ہے

0 0

ہم انسانوں کا راستہ ۔۔۔ جو خداوند عالم نے ہمارے کمال کے لئے مقرر کيا ہے ۔۔۔ جو آگے چل کر بہت دشوار ہوگا کہ اسي راستے پر چل کر انسان کامياب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔ حقيقي سعادت ۔۔۔۔ خوشي اور کمال کو حاصل کرسکتا ہے اور اسي راستے پر چلنا اور منزل کو پانا ہي انسان کي زندگي کا اصلي ہدف ہے۔ 

ليکن مشکل يہ ہے کہ ہمارے سامنے صرف يہي راستہ نہيں ہے کہ اس کي نشاندہي کردي جائے اور ہم وہ راستہ طے کرکے اپني منزل تک پہنچ جائيں بلکہ ظلمت ( تاريکي) ۔۔۔ خدائي اصولوں سے انحراف۔۔۔۔ اور ہميں ہماري منزل سے دور کرنے والے عوامل کثرت سے ہماري راہ ميں رکاوٹ ہيں اور نہ صرف رکاوٹ ہيں بلکہ اتنے پرکشش و پر فريب اور دل کو اپني جانب موہ لينے والے ہيں کہ راہ اسلام پر چلنے والا مسافر تردد ميں مبتلا ہوجاتا ہے کہ کيا کروں اور کيا نہ کروں ۔۔۔ اس راستے پر قدم اٹھاوں يا نہ اٹھاوں۔۔۔ اور اسي کيفيت ميں انسان بعض اوقات غلط کو صحيح خيال کرنے لگتا ہے۔ 

انسان اس منزل پر کيا کرے جب اس کے قدم لڑکھڑانے لگيں۔۔۔۔ انسان کيا کرے کہ اس کي راہ روشن اور اس کي جدوجہد صحيح سمت ميں جاري رہے ۔۔۔۔۔ اور انسان کيا کرے کہ وہ اپني منزل آخر ۔۔۔ جو قرب خدا اور کمالات کا حصول ہے ۔۔۔۔۔ سے ايک لمحے کے لئے بھي غافل نہ ہو۔ 

انساني عزائم کو کمزور و متزلزل کرنے کے مقام پر نماز ہي وہ سہارا ہے جس کے ذريعے انسان باحفاظت اپني منزل تک پہنچ سکتا ہے ۔۔۔ تردد و اشتباہ کي سياہي و ظلمت ميں نماز ہي مينارہ نور ہے جو انسان کي راہ کمال کو روشن رکھتي ہے ۔۔۔۔ نماز ہي وہ ميزان الہي ہے جو حق کو حق اور باطل کو باطل قرار ديتي ہے ۔۔۔ اور يہ نماز ہي ہے جس کي وجہ سے انسان ياد خدا کي طرف متوجہ رہتا ہے۔ 

مزید  امتحان و آزما‏‏‏یش قرآن کی نظر میں

اپنے مفاہيم کو سميٹتے ہوئے ہم اپنے مقصد کو دوسرے الفاظ ميں يوں بيان کرسکتے ہيں کہ انسان کي پوري زندگي کا خلاصہ روزانہ نماز ميں اس کے سامنے آتا ہے ۔۔۔۔ نماز ہي کي وجہ سے ہمارے دل کي کھڑکي سے خدا کے رابطے باد نسيم ہماري روحاني دنيا کو شاد و آباد رکھتي ہے اور ہمارے وجود کو حقيقت ۔۔۔۔ انسانيت ۔۔۔۔ اور روحانيت عطا کرتي ہے يا يوں کہيے کہ نماز کے چند الفاظ ميں اسلامي فکر کي تمام باتيں اور مقاصد بطور خلاصہ موجود ہيں يا اسلام کے تمام بيانات کا نچوڑ نماز ميں ہے يا نماز اسلام کا جوہر اصلي ہے۔ 

اس طريقے سے يہ واضح ہوجاتا ہے کہ نماز کو پانچ اوقات ميں تقسيم کرنے کي کيا وجہ ہے اور اسي وجہ سے يہ اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کي اہميت کس قدر ہے ؟ جيسے جسم کو قوت پہنچانے کے لئے ہم ايک نظام کے تحت اسے غذا ديتے ہيں، اسي طرح ہماري روح کو بھي خدا تک پرواز کے لئے غذا کي ضرورت ہے تاکہ وہ تندرست و توانا رہتے ہوئے تمام شيطاني قوتوں کا ظابت قدمي سے مقابلہ کرسکے۔ ساتھ ہي ساتھ يہ بھي سمجھنا چاہئيے کہ روح کا معاملہ ايسا نہيں ہے کہ ہم روح کو ايک دفعہ درس دے ديں يا ايک ہي دفعہ ہدايت کرديں جو ہمارے مرنے تک اس کے لئے کافي ہو بلکہ روح کا معاملہ بدن سے زيادہ حساس ہے يعني روح کے لئے ضروري ہے کہ دن و رات ميں ہر تھوڑي دير بعد اسے غذا فراہم کي جائے۔ 

مزید  تحريک امام حسين ميں مضمر تين عظيم پہلو

ايک بات تو يہ طے ہوگئي کہ نماز اسلام کے تمام اغراض و مقاصد کا خلاصہ ہے۔ نماز ميں تلاوت قرآن بھي ہے جو نماز کے واجبات ميں سے ہے۔ نما ز، نمازي کو قرآن کے مضامين سے آشنا کرتي ہے کہ قرآن کے مطالب ميں غور کرو اور اپني فکر کو فکر قرآن کے ساتھ مربوط کرنے کي کوشش کرو۔ بنيادي طور سے ہم يہ کہہ سکتے ہيں کہ نماز ميں جتنے افعال و حرکات ہيں سب اسلام کو نمونہ پيش کرتي ہيں البتہ مختصر طريقے سے۔ 

اسلام اپنے پيروکاروں کے بدن، ان کي فکر اور ان کي روحوں کو بھي ان کي خوش بختي اور کمال کے لئے استعمال کرتا ہے۔ نماز ميں انسان کي تينوں چيزيں يعني اس کا بدن ، اس کي فکر اور اس کي روح مصروف ہوتے ہيں۔ 

بدني حالت : ہاتھ ، پير ، زبان کي حرکت ، جھکنا ، بيٹھنا اور خاک پر پيشاني رکھنا۔ يہ انسان کي بدني حالت ہے۔ 

فکري حالت: ہم نماز کے مضامين اور نماز کے الفاظ کے بارے ميں سوچتے ہيں جو نماز ميں بيان کئے جاتے ہيں۔ يہ مضامين اور الفاظ عام طور سے اشارہ کرتے ہيں کہ ہماري زندگي کا ہدف و مقصد اور اس کے وسيلے کيا ہيں يعني نماز ميں اسلام کا خلاصہ ہمارے ذہنوں سے گذرتا ہے۔ 

روحي حالت: نماز ميں ہماري روح کا عالم يہ ہوتا ہے کہ نماز ميں ہم خدا کو ياد کرتے ہيں جو ہماري روح کے کمال کا سبب ہے، نماز ميں ہمارا دل ۔۔۔ باطني کمالات ۔۔۔ اور اخلاقي پاکيزگي کے لئے پرواز کرتا ہے اور نماز نہ صرف ہماري روح کي طہارت کرتي ہے بلکہ ہمارے دل کو فضول کاموں کي انجام دہي اور اسے بھٹکنے سے روکتي ہے اور يہ نماز ہي ہے جو ہماري روح ميں خوف خدا کا بيج ڈالتي ہے۔ 

مزید  رمضان المبارک کے ساتویں دن کی دعا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.