نماز بےمثال اسلامی فریضہ اور دین و دینداری کا مضبوط ستون ہے

0 0

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تئيسویں قومی نماز اجلاس کے نام پیغام میں فرمایا کہ اس بے مثال اسلامی فریضے یعنی نماز کو معاشرے میں رائج کرنے کے لئے بڑی گرانقدر کوششیں کی گئي ہیں اور ان کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جانا چاہیے جوکہ نمازیوں بالخصوص جوانوں کی طرز زندگي پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ آپ نے فرمایا نماز کی ادائيگي اور نماز کی ترویج کے لئے انجام دئے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ نماز اجلاس کے اپنے کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت پسندانہ اور دانشمندانہ محاسبہ اور جانچ پڑتال انجام پانی چاہیے اور نتائج پر عمل درآمد اس کام کا اہم مرحلہ ہے۔ واضح رہے تئيسواں قومی نماز اجلاس رہبرانقلاب اسلامی کے پیغام سے شہر اھواز میں شروع ہوا ہے۔ یہ اجلاس دو دنوں تک جاری رہے گا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کئی برس ہوگئے ہیں کہ ملک بھر میں ہر سال اس مبارک جذبہ، ہمت اور اجلاس کے ذریعہ ذہنوں اور دلوں میں نماز کے بارے میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کا شوق اور جذبہ پیدا کیا جاتا ہےاور اسلام کے اس بےمثال فریضہ اور دین و دینداری کے مضبوط ستون کے بارے میں نکتوں ،یاد دہانیوں و انتباہات کے بارے میں معاشرے کو آگاہ کیا جاتا ہے اور اجلاس کے منتظمین ، سامعین اور مصنفین پر اللہ تعالی کا یہ بہت بڑا لطف و کرم ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ان قابل قدر کوششوں کی محصولات کو حقائق کے ترازومیں تولا جائے ؛ اور دیکھا جائے کہ نماز پڑھنے والے اور نماز کو ہلکا نہ سمجھنے والےمخاطبین بالخصوص نوجوانوں اور نماز کی وادی میں تازہ قدم رکھنے والوں کی رفتار میں اس دعوت کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ نماز کی کیفیت ، خشوع و خضوع کی حفاظت کے بارے میں دیکھا جائے جو اس صالح و رحمانی عمل کا اصلی جوہر اور اصلی روح شمار ہوتی ہے؛ اور پھر ان حکام کی ذمہ داریوں کو بھی دیکھا جائے جنھیں اس سلسلے میں مساجد کی تعمیر یا مدارس اور یونیورسٹیوں میں نماز کے اہتمام یا زمینی اور ہوائی سفر میں نمازیوں کے لئے مواقع فراہم کرنے یا تصویری اور صوتی ذرائع ابلاغ میں نماز کی ترویج کے سلسلے میں ہنری طریقوں سے استفادہ کرنے ، یا اس مختصرو پرمغز عمل کی خوبیاں بیان کرنے جیسے امور میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں یا کتاب و مقالہ کی تحریرمیں یا دوسرے میدانوں میں ان کے دوش پر جو ذمہ داریاں رکھی گئی تھیں انھیں انھوں نے کس حد تک پورا کیا ہے۔

مزید  حضرت زھرا(ع) اور حضرت مہدی(عج)

اجلاس نماز ایک مبارک ، ماجور اور کارآمد اقدام ہے لیکن اس قابل قدر اقدام کو نقطہ کمال کے قریب پہنچانے میں زیادہ سے زیادہ تلاش کی ضرورت ہے اور اس کے لئے حقیقت پسندانہ اور عقلمندانہ محاسبہ اور اندازے لگانے کی ہمت و کوشش کرنی چاہیے اور اس کے نتائج کے حصول کو اس حصہ کی خلاقیت سمجھنا چاہیے۔

آپ سب کے لئے خصوصا گرانقدر عالم دین حجۃ الاسلام جناب قرائتی کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے توفیق طلب کرتا ہوں۔

سید علی خامنہ ای

9/ دی / 1393

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.