نماز،انسان کورحمت خدا تک پہنچانے کاذریعہ

0 0

قرآن کریم میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں، اگر انسان اپنے آپ کو ان حقائق سے آراستہ کرلے اور اس حقیقت کو حقیقت جامعہ میں تبدیل کردے ،تو یقیناجوار رحمت حق تک پہنچ سکتا ہے             

وہ حقائق جو قرآن کریم میں بیان ہوئےہیں ان کی دو مثالیں آپ کے سامنے پیش کرناچاہتا ہوں،خود آپ لوگ بھی اس بات کی تصدیق کریں گےکہ ان حقائق کو کمال تک پہنچائےبنا پروردگار عالم کی رحمت حاصل نہیں کی جا سکتی ۔

سب سے پہلے اس حقیقت کو بیان کرنا چاہوں گاجو پروردگار عالم کے بیان کردہ احکام شرعیہ میں سے ایک حکم ہے : قرآن کریم میں نماز کا حکم تقریباً ایک سو تین آیات میں آیا ہے اورقرآن کے اوّل جز سے لیکر اس کے آخر جز تک اس بات کو بیان کیا گیا ہے ،یقیناً نماز انسان کو رحمت پروردگا تک لے جانے کا ذریعہ ہے ۔

لیکن آپ قرآن میں دیکھیں ملاحظہ  کریں گے کہ پروردگار نے نماز کا حکم فقط اس عمل کو ظاہراً انجام  دینے کی صورت میں نہیں دیا ہے ،خداوند کریم ہر نماز گزار پر اپنی نظر رحمت  نہیں کرتا ہےاور ہر کسی نمازی کی نماز کو قبولیت اور رضایت کا درجہ عطا نہیں کرتا ۔آپ قرآن کریم میں دیکھیں گے کہ کچھ نماز گزاروں پر یہ کہہ کر وار کیا گیا ہے کہ”فویل للمصلّین”[1]  معلوم ہوا کہ اس نماز گزار نے نماز کو اپنے وجود میں کمال تک نہیں پہنچایا تھا،اس جامع حقیقت  کو پرور دگار عالم کی بارگاہ تک نہیں پہنچایا تھابلکہ نماز کا ایک ایسا پیکر بنایا تھا جو اصلًا نہ خوبصورت  تھا ،نہ جاندار تھا  نہ اس  کی کوئی معنوی شکل وصورت ہی تھی ۔بلکہ اس نماز گزار نے نماز کو ایک ایسا وسیلہ بنایا تھا   جس کے ذریعہ  وہ اپنےشہواتی اور گندے منصوبوں تک پہنچ سکےاور اپنی باطل نیّت کو حاصل کر سکے لیکن یہ نماز ناقص اور با عیب نماز ہے ۔یہ نماز ایک صور ت تو  رکھتی ہے لیکن سیرت نہیں رکھتی ،یہ اس مردہ جسم کی مانند ہے کہ جس میں ابھی روح نہ پھوکی گئی ہواور اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز گزار یا تو منافق ہے یا مشرک یا پھر  ریاکار ہے یا پھر قرآن کے لفظوں میں یوں کہا جائے”عن صلاتھم ساھون”[2]اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ اس نماز گزار نے اس عمل کو اس طریقے سے ادا نہیں کیا کہ وہ خدا کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ حاصل کر سکے، معلوم یہ ہوا کہ اس نے جو عمل انجام دیا تھا   اس کا یہ عمل ایک ڈراونی شکل میں تبدیل ہو گیا  جو خدا کی نظر لطف کو حاصل نہیں کر سکتا ،اس کی وجہ خود نمازگزار ہے  چونکہ یہ ارشاد نہیں ہو رہا ہے کہ “فویل للصلوٰۃ “تباہی ہے نماز کے لیئے،بلکہ ارشاد ہوتا ہے “فویل للمصلّین” [3](ماعون۔۴)تباہی ہے نمازیوں کے لیئے، خدا فرماتا ہے  اے میرے بندہ میں نے تجھےجو چیزیں عطا کی ہیں وہ یہ ہیں تکبیرۃالاحرام،حمد ،سورہ،رکوع ،سجود، تشہداورتعداد رکعات تاکہ توانکا استعمال میری معرفت کے  ساتھ ،خلوص نیّت اور اپنےپروردگار کی محبّت اور اسکی  بندگی کے خاطر، اس کی رضایت حاصل کرنے کی خاطر کرے اور انکے ذر یعہ ایک ایسی کامل صورت وسیرت بنا تاکہ میں خدا اسے نماز کے عنوان سے قبول کر سکوں  ۔لیکن اگر مکلّف ہی پر عیب و نقص ہو،شرک اور نفاق سے گھرا ہو،ریا سے ملبوس ہو اور اس کا یہ عمل اس کی شہواتی اور مالی ضرورتوں  کے تحت ہو تو پھر کوئی بھی قلم اسکی صورت وسیرت کو کامل نہیں کر سکتااور نہ ہی میری بارگاہ میں بھیج سکتا ہے۔یہ بلکل اسی طرح ہے کہ گویا ایک مصوّر کی جگہ ایک انجان انسان نے ایک ڈراونی اور بد شکل تصویربناکر  اس کا نام نماز رکھ دیا ہو ۔

مزید  مؤمن اورکافرکے قبض روح میں فرق

مشہد میں مجھ سےایک شخص نے کہا جبکہ رو کر کہا لیکن مجھے اس بات کو بیان کرتے ہوئے ناگوار لگ رہا ہے  وہ کہتا ہے کہ :میں نے رات کو خواب کی حالت میں ایک خوبصورت  جوان کو دیکھا جسکے سر پر  دو سینگھ تھے،مجھے بہت افسوس ہوا کہ اتنا خوب صورت جوان اور سر پر سینگھ؛چونکہ سینگھ تو جانوروں کےہوتے ہیں ۔میں نے اس سے کہا کہ کہاں تو یہ خوبصورتی اور کہاں یہ سینگھ؟اس جوان نے جواب دیا واللہ انکا تعّلق مجھ سے نہیں بلکہ تم سے ہےتم نے ہی یہ  سینگھ میرے سرپر رکھے ہیں اے شخص میں تیری نماز ہوں اور آج رات نماز مغرب میں تم جو عیب رکھتے تھے انکی وجہ سےمجھے یہ سینگھ ملے ہیں  جن کو تم دیکھ رہے ہو،ذرا بتاو خدا مجھے انکے ساتھ کتنے میں خریدےگا؟معلوم ہے کہ مفت بھی نہیں ۔

جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں  تو میرا تمام وجود نما زمیں ہوتا ہے ،  میرا بدن تنہا نماز کو اقامہ نہیں  کر رہا ہوتا ہے البتہ بدن خون بھی ہے  گوشت اور پوست بھی ،  بدن دل اورنفس کے ساتھ روح بھی رکھتا ہے  اور ان سب کا نماز کے وقت رو بہ قبلہ ہونا ضروری ہے ،ایسا نہیں ہے کہ میرا بدن تو قبلہ کی جانب ہو لیکن میری جان پشت قبلہ،جسم تو خدا کی طرف ہو لیکن میرا دل پشت  بہ خدا،مان لیجے میں نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا لیکن میرے وجود میں حسد، تکبّر ،غرور،بخل اور ریا  موجود ہو جوتمام جانوروں سے بدتر ہے اور جسے کسی بھی سمندر کاپانی پاک نہیں کر سکتا   ،میرے وجود میں موج مار رہا ہواور میں ایسی نماز کو خدا کی بارگاہ میں پیش کروں؟؟؟یہ عمل خدا کی رحمت  نہیں پا سکتا۔

مزید  نبی(ص) کی احادیث میں تناقض

آپ جو کہ ایک اچّھی اور کامل تصویر کی تلاش میں ہیں ،کیا ایک ایسے جاہل انسان کو کہ جس نے کبھی قلم ہاتھ میں بھی نہ لیا ہو،اسےقلم تھما کر ایک قیمتی صفحہ پر ایسی خوبصورت اور جذّاب  تصویر کہ  جسے دیکھ کر آپ کی تمام خستگی دور ہو جائے اور آپ لطف اندوز ہوں ، بنانے کو کہیں گے ؟آپ کی کیا توقّع ہے کہ وہ انسان ایسی تصویر بنا سکےگا؟آپ کہیں گے کہ نہی۔

تو پھر خدا کو بھی یہ حق ہے کہ وہ قرآن میں شدید ترین کلمہ” ویل “کےذریعہ نماز پر نہیں بلکہ اس نماز گزار پر وار کرے جس نے  اپنی نماز کو ضائع کیا ۔

“فخلف٫ من بعدھم خلف أضاعواالصلاۃواتبعواالشھوات”[4]

نماز کے عناصر تو پاک  ہیں اورخدا کی طرف سے نازل ہوئےہیں :اللہ اکبر خدا کی جانب سے ہے، سورہ حمد جو قرآن کا پہلا سورہ ہے اللہ کی جانب سے ہے ذکر رکوع وسجدہ ،تعداد رکعات اللہ کی جانب سے ہیں جو مختلف رنگوں کی مانند ہیں اورمیں نمازگزار قلم کی مانند ہوں  ،مجھے یہ قلم ملا ہے تاکہ ان عناصر کو معرفت اور اخلاص کے ساتھ ،عشق و ہمّت کے ساتھ ایک دوسرے سے پیوند دوں اوراس طرح ترتیب دوں کہ خدا اس نماز کو قبولیت کا درجہ عطا کر دے ۔

اس بارے میں عجیب روایات ملتی ہیں جو قرآن کی آیات کی پیروی کرتی نظر آتی ہیں ،ملتا ہے کہ بعض نمازیں ایسی ہیں جو مقام اوّل تک بھی نہیں پہنچ پاتیں اور بعض نمازیں  مقام اوّل تک تو پہنچ جاتی ہیں لیکن دوسرے مقام تک ان کی رسائی نہیں ہوتی ،بعض نمازیں چوتھے مقام تک پہنچ کر واپث پلٹا دی  جاتی ہیں اور  اس کے لے جانے والے سے کہ دیا جاتا ہے کہ ایسی نماز کونمازگزار کے سر پر ہی دے مارو کہ یہ نماز قابل قبول نہیں ہے۔

مزید  خطبۂ غدیر؛دسواں حصہ،حلال و حرام اور واجبات و محرمات

بعض نمازیں ایسی ہیں جو تمام پانچویں مقام سے آگے نہیں بڑھتیں ،لیکن بعض نمازیں ایسی بھی ہیں جو تمام مقامات  سےگزر کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہنچ کرقبولیت کا شرف حاصل کرتی ہیں اور پروردگار عالم اپنے فرشتوں سے یہ فرماتا نظر آتا ہے کہ اےملایکہ اس دن جوتم نے کہا تھا کہ اس مخلوق کو پیدا نہ کر ،دیکھو آج میں اپنے اس بندہ  کو دیکھ کر فخر محسوس کرتا ہوں اور تم سے یہ کہتا ہوں کہ فساد اور شہوات  سے بھری دنیا میں میں ایسےپاکیزہ اور نیک  دوست بھی رکھتا ہوں ۔

پھر غور کریں کہ یہ حملہ نماز پر نہیں “فویل للمصلین “[5]  بلکہ نمازگزار پر ہے۔نماز کے عناصر پرحملہ نہیں ہوا اس کےاللہ اکبر، حمد ،رکوع ،سجدہ ،تشہد پر اعتراض نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس شخص پر یہ اعتراض ہے کہ جو بےسلیقگی سے نماز کی تصویر بنا بیٹھا ہے،اسی سے کہا جا رہا ہے کی جب صحیح معنٰی میں مصوّر نہیں ہو تو پھر تصویر کیوں بنا ئی  کیوں نماز کو جہالت کے ساتھ ادا کیا ؟نماز میں سستی سے کام کیوں لیا؟ “ولایأتون الصّلاۃالاّوھم کسالی”[6]اور(منافقین)نماز نہیں ادا کرتے چونکہ سست ہیں ۔خداوند کریم کے یہ الفاظ نماز  میں سستی سے عمل انجام دینے کی طرف اشارہ کر رہے  ہیں ،یہ اس معنٰی میں ہیں کہ جس وقت تم سستی اور تھکاوٹ کا احساس کرتے ہو جس وقت تمہیں نماز پڑھنا  اچّھا نہیں لگتا تو اس وقت  میری عبادت نہ کیا کرو،میں نہیں چاہتا کہ تم اس حالت میں نماز کے قریب آؤ چونکہ اس حالت میں تم نماز کوضایع کر دوگےاور میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی حالت میں میرے سامنے آؤاور نماز کو ضایع کرو۔

1;ماعون۔۴

2: ماعون۔۵

3: ماعون۔۴

4: مریم ۔۵

5: ماعون۔۴

 6:توبہ۔۵۴

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.