نمائشی انفاق

0 1

ریا کاروں کا انفاق

(سورئہ نساء:آیت۳۸۔۳۹)

اور جو لوگ اپنے اموال کو لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جس کا شیطان ساتھی ہو جائے وہ بد ترین ساتھی ہے ۔ان کا کیا نقصان ہے اگر یہ اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئیں اور جو چیز اللہ نے ان کو بطور رزق دیا ہے اسے کس راہ میں خرچ کریں اور اللہ ہر ایک کو خوب جانتا ہے۔

الہٰی اورنمائشی انفا ق

یہ آیہٴ کریمہ متکبر ، خود خواہ اور بخیل افراد کی طرف اشارہ کر رہی ہے جن کا ذکر اس سے پہلی والی آیت میں آیا ہے ۔خدا وند عالم فرماتا ہے: یہ افراد وہ ہیں جو نہ صرف دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے میںبخل کرتے ہیںبلکہ دوسروں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں :اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاٴْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ

اور خدا وند عالم نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے اسے پوشیدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگ ان سے کسی طرح کی کوکوئی توقع نہ رکھیں:وَیَکْتُمُوْنَ مَآ آتَا ہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ

اس کے بعد ایسے لوگوں کا انجام اس طرح بیان کرتا ہے کہ :ہم نے کافرین کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیاّ کر رکھا ہے ۔

شاید تعبیر کفر کا راز یہ ہو کہ عام طور سے کفر کا سر چشمہ بخل اور کنجوسی ہے اس لئے کہ بخیل ، پروردگار کی بے نہایت نعمتوں اور اس کے وعدہ پر مکمل ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔اوروہ احسان کرنے والوںسے کہتے ہیںکہ دوسروں کی مدد کرنا انہیں فقیر بنا دے گا۔ 

ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و رسوا کن عذاب ہے اس لئے کہ تکبّر اور دوسروں کو ذلیل کرنے کی سزا یہی ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر کنجوسی صرف مال ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خداکی دی ہوئی ہر نعمت میںکنجوسی کو شامل ہے بہت سے ایسے افراد ہیں جو مال میں بخیل نہیںہوتے لیکن علم و دانش اور اسی طرح کے دوسرے مسائل میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔ 

مذکورہ آیت میں کنجوس متکبرین کی ایک دوسری صفت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے خداوند عالم فرماتا ہے کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اگر انفاق بھی کرتے ہیں تو لوگوں کے دکھاوے ، شہرت اور مقام و منصب حاصل کرنے کے لئے ۔ان کا مقصد خدمت خلق اور رضائے الہٰی نہیں ہوتا۔ لہٰذاوہ انفاق کرنے میں سامنے والے کے استحقاق کو نظر میں نہیں رکھتے بلکہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح انفاق کیا جائے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جاسکے اور اپنی مو قعیت اور مقام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔اس لئے کہ وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا ان کے انفاق میں معنوی وہ جذبہ نہیں ہوتاہے۔

وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطَانُ لَہ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنا انہوں نے شیطان کو اپناساتھی بنا رکھا ہے اورجس نے ایسا کیا اس نے اپنے لئے بدترین ساتھی کاانتخاب کیا ہے اور وہ اس سے اچھا راستہ اختیار نہیں کر سکتا اس لئے کہ اس کی ساری فکر اور منطق ان کے دوست، شیطان کی فکر ومنطق ہے اور شیطان ہی ہے جو اس سے کہتا ہے کہ خالصانہ انفاق فقرو غربت کا سبب بنتا ہے:اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ (۱)

اسی لئے وہ یا تو انفاق نہیں کرتا اور کنجوسی کرتا ہے (جیسا کہ پہلی آیت میں اشارہ ہوا)یا انفاق کرتا ہے تو ایسے مقامات پر جہاں سے شخصی اور ذاتی فائدہ اٹھاسکیں۔(جیسا کہ اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے)

اس آیہٴ کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ برا ساتھی کس حد تک انسان کے سر انجام میں موٴثر ثابت ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو پستی کے آخری درجہ تک پہنچا سکتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ متکبرین کا شیطان (اور شیطا نی اعمال) سے ایک مسلسل اور مستقل رابطہ ہے صرف وقتی اور اتفاقی نہیں ۔جیسا کہ فرمارہا ہے”انہوں نے شیطان کو اپنا دوست ،ساتھی اور ہمنشین بنا رکھا ہے“

اس کے بعدارشاد فرماتا ہے : وَمَا ذَا عَلَیْہِمْ لَوْآمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ کیاہواکہ یہ لوگ اس گمراہی میں پلٹ آئے کاش یہ لوگ خدا اور روز قیامت پر ایمان لے آتے اور پروردگار نے انہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کو خلوص نیت اور پاکیزہ افکار کے ساتھ اس کے بندوں پر انفاق کرتے اور اس کے ذریعہ دنیا وآخرت میں اپنے لئے سعادت و کامیابی کا انتظام کرتے؟!!

آیت کے آخر میں فرماتا ہے خدا ان کے حالات سے آگاہ اورباخبر ہے۔وَکَانَ اللّٰہُ بِہِمْ عَلِیْماً

مزید  کیا بسم اللہ تمام سوروں کا جز ہے؟

بے شک ہرحال میں خدا وند عالم ان کی نیتوں اور اعمال سے باخبر ہے اور اسی کے مطابق انہیں جزا اور سزا دے گا۔ 

 

۱)سورئہ بقرہ/آیت/۲۸۶

قابل توجہ بات یہ ہے کہ گذشتہ آیات جن میں دکھاوے کے انفاق کو بیان کیا گیا تھا اس میں انفاق کی نسبت ”اموال“ کی طرف دی گئی ہے اور اس آیہٴ کریمہ میں :مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ خدا کی عطا کردہ روزی کی طرف نسبت دی جا رہی ہے تعبیر کا یہ اختلاف ممکن ہے کہ تین اہم نکتوں کی طرف اشارہ ہو:

۱- دکھاوے کے انفاق میں مال کے حلال اور حرام ہونے کی طرف توجہ نہیں ہوتی جب کہ خدائی انفاق میں حلال اور ”مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ “ کا مصداق ہونے کی طرف توجہ ہو تی ہے۔

۲- دکھاوے کے انفاق میں چونکہ انفاق کرنے والا مال کو اپنے سے متعلق جانتا ہے لہٰذا وہ احسان جتانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا جبکہ خدائی انفاق میں چونکہ اس بات کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ ان اموال کو خدا ہی نے انہیں عطا کیا ہے اگر اسمیں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کردیا جائے تو احسان جتانے اور منت گذاری کا کوئی مقام نہیں ہے لہٰذاوہ ہر طرح کی منت گذاری اور احسان جتانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ 

۳- دکھاوے کے انفاق عام طور سے مال سے مخصوص ہوتے ہیں اس لئے کہ ایسے افراد معنوی سرمایہ سے محروم ہوتے ہیں کہ ان میں سے کچھ انفاق کر سکیں لیکن خدائی انفاق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ساری مادی اور معنوی نعمتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے چاہے مال اور علم ہو یا سماجی مقام و منزلت یہ سب ”مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ“کا مصداق ہیں ۔

یہ آیہٴ کریمہ متکبر ، خود خواہ اور بخیل افراد کی طرف اشارہ کر رہی ہے جن کا ذکر اس سے پہلی والی آیت میں آیا ہے ۔خدا وند عالم فرماتا ہے: یہ افراد وہ ہیں جو نہ صرف دوسروں کے ساتھ نیکی کرنے میںبخل کرتے ہیںبلکہ دوسروں کو بھی بخل کی دعوت دیتے ہیں :اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاٴْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ

اور خدا وند عالم نے انہیں جو کچھ عطا کیا ہے اسے پوشیدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگ ان سے کسی طرح کی کوکوئی توقع نہ رکھیں:وَیَکْتُمُوْنَ مَآ آتَا ہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہ

اس کے بعد ایسے لوگوں کا انجام اس طرح بیان کرتا ہے کہ :ہم نے کافرین کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیاّ کر رکھا ہے ۔

شاید تعبیر کفر کا راز یہ ہو کہ عام طور سے کفر کا سر چشمہ بخل اور کنجوسی ہے اس لئے کہ بخیل ، پروردگار کی بے نہایت نعمتوں اور اس کے وعدہ پر مکمل ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔اوروہ احسان کرنے والوںسے کہتے ہیںکہ دوسروں کی مدد کرنا انہیں فقیر بنا دے گا۔ 

ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و رسوا کن عذاب ہے اس لئے کہ تکبّر اور دوسروں کو ذلیل کرنے کی سزا یہی ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں پر کنجوسی صرف مال ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خداکی دی ہوئی ہر نعمت میںکنجوسی کو شامل ہے بہت سے ایسے افراد ہیں جو مال میں بخیل نہیںہوتے لیکن علم و دانش اور اسی طرح کے دوسرے مسائل میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔ 

مذکورہ آیت میں کنجوس متکبرین کی ایک دوسری صفت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے خداوند عالم فرماتا ہے کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو اگر انفاق بھی کرتے ہیں تو لوگوں کے دکھاوے ، شہرت اور مقام و منصب حاصل کرنے کے لئے ۔ان کا مقصد خدمت خلق اور رضائے الہٰی نہیں ہوتا۔ لہٰذاوہ انفاق کرنے میں سامنے والے کے استحقاق کو نظر میں نہیں رکھتے بلکہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح انفاق کیا جائے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جاسکے اور اپنی مو قعیت اور مقام کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔اس لئے کہ وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا ان کے انفاق میں معنوی وہ جذبہ نہیں ہوتاہے۔

وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطَانُ لَہ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنا انہوں نے شیطان کو اپناساتھی بنا رکھا ہے اورجس نے ایسا کیا اس نے اپنے لئے بدترین ساتھی کاانتخاب کیا ہے اور وہ اس سے اچھا راستہ اختیار نہیں کر سکتا اس لئے کہ اس کی ساری فکر اور منطق ان کے دوست، شیطان کی فکر ومنطق ہے اور شیطان ہی ہے جو اس سے کہتا ہے کہ خالصانہ انفاق فقرو غربت کا سبب بنتا ہے:اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْر(۱)

اسی لئے وہ یا تو انفاق نہیں کرتا اور کنجوسی کرتا ہے (جیسا کہ پہلی آیت میں اشارہ ہوا)یا انفاق کرتا ہے تو ایسے مقامات پر جہاں سے شخصی اور ذاتی فائدہ اٹھاسکیں۔(جیسا کہ اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے)

مزید  ديني معاشرہ قرآن و سنت کي نظر ميں

اس آیہٴ کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ برا ساتھی کس حد تک انسان کے سر انجام میں موٴثر ثابت ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو پستی کے آخری درجہ تک پہنچا سکتا ہے اور یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ متکبرین کا شیطان (اور شیطا نی اعمال) سے ایک مسلسل اور مستقل رابطہ ہے صرف وقتی اور اتفاقی نہیں ۔جیسا کہ فرمارہا ہے”انہوں نے شیطان کو اپنا دوست ،ساتھی اور ہمنشین بنا رکھا ہے“

اس کے بعدارشاد فرماتا ہے : وَمَا ذَا عَلَیْہِمْ لَوْآمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ کیاہواکہ یہ لوگ اس گمراہی میں پلٹ آئے کاش یہ لوگ خدا اور روز قیامت پر ایمان لے آتے اور پروردگار نے انہیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کو خلوص نیت اور پاکیزہ افکار کے ساتھ اس کے بندوں پر انفاق کرتے اور اس کے ذریعہ دنیا وآخرت میں اپنے لئے سعادت و کامیابی کا انتظام کرتے؟!!

آیت کے آخر میں فرماتا ہے خدا ان کے حالات سے آگاہ اورباخبر ہے۔وَکَانَ اللّٰہُ بِہِمْ عَلِیْماً

بے شک ہرحال میں خدا وند عالم ان کی نیتوں اور اعمال سے باخبر ہے اور اسی کے مطابق انہیں جزا اور سزا دے گا۔ 

 

۱)سورئہ بقرہ/آیت/۲۸۶

قابل توجہ بات یہ ہے کہ گذشتہ آیات جن میں دکھاوے کے انفاق کو بیان کیا گیا تھا اس میں انفاق کی نسبت ”اموال“ کی طرف دی گئی ہے اور اس آیہٴ کریمہ میں :مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ خدا کی عطا کردہ روزی کی طرف نسبت دی جا رہی ہے تعبیر کا یہ اختلاف ممکن ہے کہ تین اہم نکتوں کی طرف اشارہ ہو:

۱- دکھاوے کے انفاق میں مال کے حلال اور حرام ہونے کی طرف توجہ نہیں ہوتی جب کہ خدائی انفاق میں حلال اور ”مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ “ کا مصداق ہونے کی طرف توجہ ہو تی ہے۔

۲- دکھاوے کے انفاق میں چونکہ انفاق کرنے والا مال کو اپنے سے متعلق جانتا ہے لہٰذا وہ احسان جتانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا جبکہ خدائی انفاق میں چونکہ اس بات کی طرف توجہ ہوتی ہے کہ ان اموال کو خدا ہی نے انہیں عطا کیا ہے اگر اسمیں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کردیا جائے تو احسان جتانے اور منت گذاری کا کوئی مقام نہیں ہے لہٰذاوہ ہر طرح کی منت گذاری اور احسان جتانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ 

۳- دکھاوے کے انفاق عام طور سے مال سے مخصوص ہوتے ہیں اس لئے کہ ایسے افراد معنوی سرمایہ سے محروم ہوتے ہیں کہ ان میں سے کچھ انفاق کر سکیں لیکن خدائی انفاق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ساری مادی اور معنوی نعمتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے چاہے مال اور علم ہو یا سماجی مقام و منزلت یہ سب ”مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ“کا مصداق ہیں ۔

۲۳ . نمائشی انفاق کا دوسرا نمونہ

( سورہٴ بقرہ: آیت۲۶۶)

کیا تم میں کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس کھجور اور انگور کے باغ ہوں ان کے نیچے نہریں جاری ہوں ان میں ہر طرح کے پھل ہوں اور آدمی بوڑھا ہو جائے اس کے کمزور بچے ہوں اور پھر اچانک تیز گرم ہوا جس میں آگ بھری ہوچل جائے اور سب جل کر خاک ہو جائے خدا اسی طرح اپنی آیات کو واضح کر کے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کر سکو۔ 

وضاحت

ایک بہترین مثال

اٴَیَوَدُّ اٴَحَدُکُمْ اٴَنْ تَکُوْنَ لَہ جَنَّةٌ قرآن کریم اس آ یہٴ کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ روز قیامت انسان اعمال صالح کا محتاج ہو گا اوریہ کہ کس طرح دکھاوا، احسان جتانا اور اذیت دیناانسان کے انفاق اور نیک اعمال کو بربادکر دیتا ہے اس کی ایک عمدہ مثال ذکر کرتا ہے یہ مثال اس شخص کے حالات کو مجسم کرتی ہے جس نے مختلف قسم کے درختوں جیسے کھجور اور انگور وغیرہ کے سرسبز وشاداب باغ پروان چڑھا رکھا ہواوراس میں برابرپانی جاری ہو جس کی وجہ سے سینچائی کی ضرورت نہ ہو ۔ اور وہ شخص بوڑھا ہو جا ئے اوراس کے کمزوروناتواں بچے اس کے ارد گرد ہوں اور زندگی بسر کرنے کا ذریعہ فقط یہی ایک باغ ہواور اچانک ایسی تیز اورگرم ہوا چلے جو آگ سے بھری ہو اور وہ باغ کو جلا کر راکھ کر دے ایسی صورت میں بوڑھا جو جوانی کی طاقت و قوت کھو چکا ہے اس کے پاس زندگی بسر کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہ ہو اور اس کے بچے بھی کمزورو ناتواں ہوں تو اس کی کیا حالت ہوگی اور اسے کس قدر حسرت اور دکھ ہوگا ۔

مزید  الکافی

جو لوگ نیک عمل انجام دیتے ہیں اور اس کے بعد دکھاوے اور احسان جتانے اوراذیت دینے کی وجہ سے اسے ضائع کر دیتے ہیں ان کا حال بھی اسی بوڑھے باغبان کے مانند ہے جس نے بہت زیادہ زحمتیں برداشت کیں اور جب اس سے فائدہ اٹھانے کی اسے سخت ضرورت ہوئی تو اس کام کے نتیجہ بالکل تباہ و بربادہو گیا اور حسرت وغم کے علاوہ کوئی چیز باقی نہ رہی۔ 

کَذَٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُْمُ الْآیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ چونکہ تمام بد بختیاں خاص طور سے احمقانہ کاموں کا سر چشمہ غورو فکر نہ کرنا ہے جیسے احسانجتا ناجس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس کانقصان بہت زیادہ اور جلدی ہوتا ہے لہٰذاخدا وند عالم آخر آیت میں لو گو ں کو غور فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : 

اس طرح خداآیات کو تمہارے لئے واضح کرتا ہے کہ شاید تم غور و فکر کرو۔ 

دو نکتے

۱- جملہ ”وَاٴَصَابَہ الْکِبَرُوَلَہ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ “

(باغ کا مالک بوڑھا ہے اور اس کے بچے کمزور ہیں ) سے معلوم ہوتا ہے کہ راہ خدا میں انفاق و بخشش کرنا اور حا جت مندوں کی مدد کرنا سرسبز و شاداب باغ کے مانند ہے خودمالک بھی اس کے پھلوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اور اس کے بچے بھی جبکہ ریاکاری ،احسان جتا نا اوراذیت دیناخود اس کی بھی محرومی کا سببہے اور آنے والی نسلوںکی بھی محرومی کا باعث ہے جنھیں اس کے نیک اعمال کے برکات اور ثمرات سے بہرہ مند ہونا ہے ۔

یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والی نسلیں گذشتہ نسلوں کے نیک اعمال کے نتائج و اثرات میں شریک اور حصہ دار ہیں ۔سماجی اعتبار سے بھی ایسا ہی ہے اس لئے کہ اپنے نیک کاموں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان جو محبوبیت،حسن شہرت اور اعتماد حاصل کرتے ہیں وہ ان کی اولاد کے لئے بھی ایک بہت بڑا سرمایہ ہے ۔ 

۲-جملہ”اِعْصَارٌ فِیْہِ نَار ٌ“ یعنی وہ گرد وباد کہ جس میں آگ ہو “ ممکن ہے کہ ان گرد وباد کی طرف اشارہ ہو جو مسموم اور خشک کر دینے والی ہواوٴں سے پیدا ہوتی ہیں یا وہ گرد وباد جو ایسے مقام سے گذرا ہو جہاں پر آگ جل رہی ہو ۔ 

معمول کے مطابق گرد وباد اپنے راستہ میں آنے والی ہر چیز کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ پہنچا دیتی ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس گردو باد کی طرف اشارہ ہو جو بجلیکے ساتھ ہو جب بھی وہ کسی مقام پر گرتی ہے تو ہر چیز کو راکھ میں بدل دیتی ہے ۔بہر حال بہت جلدی اور مکمل نا بودی اور تباہی کی طرف اشارہ ہے۔(تیسرا احتمال زیادہ مناسب لگتاہے) 

 

نمائشی انفاق ،روایات کی روشنی میں

خلوص نیت تمام عبادات خاص طور سے انسانی امداد اور اعمال خیر کی قبولیت کی شرط ہے اسی لئے اس مسئلہ کو روایات معصومین (ع)میں وسیع پیمانے پر بیان کیا گیا ہے نمونہ کے طور پر یہاں چند روایات کو بیان کیا جا رہا ہے: 

(۱) رسول خدا ارشادفرماتے ہیں :

سبعةفی ظلّ عرش اللّٰہ عزّ وجلّ یوم لا ظلّ اِلاّ ظلّہ :رجل تصدّق بیمینہ فاخفا ہ عن شمالہ(۱) 

سات دستہ ایسے ہیں جو اس دن عرش الٰہی کے سایہ میں ہوں گے جس دن سایہ (الٰہی) کے علاوہ کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا(ان میں سے) ایک وہ دستہ ہے جو داہنے ہاتھ سے صدقہ دے اور بائیں ہاتھ کو علم بھی نہ ہو گا ۔

(۲) حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

افضل ما توسّل بہ المتوسّلون، الایمان باللّٰہ و صدقة السّرّفاِنّھا تذہب الحطیئةو تطفی غضب الرّب(۲)

سب سے برتر چیز جس سے توسل کرنے والے توسل کرتے ہیں ، پروردگار پر ایمان لانااور پوشیدہ طور سے صدقہ دینا ہے جو گناہ کو نابود اور غضب الٰہی کو ختم کردیتا ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا :

لا تتصدّق علی اٴعین النّاس لیز کوّکَ فاِنّک اٴن فعلت ذٰلک فقد استو فیت اجرک ولکن اٴذا اٴَعطیت بیمینک فلا تطّلع علیھا شمالک فاٴن الّذی تتصدّق لہ سرّاًیجزیک علانیة (۳)

لوگوںکے سامنے انفاق نہ کرو کہ وہ تمہاری تعریف کریں اس لئے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو تم اپنی جزا حاصل کرچکے ہو۔ (یعنی لوگوں کی تعریف ) لیکن جب بھی تم داہنے ہاتھ سے انفاق کرو تو اس طرح انفاق کرو کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہ بھی ہو سکے ۔اس لئے کہ جس کے لئے تم پوشیدہ طورسے صدقہ دے رہے ہو وہ تمہیں علانیہ اس کی جزا دے گا۔

________________________________________

(۱)بحارالانوار۔ج ۹۳،ص۱۷۷

( ۲)میزان الحکمة،حدیث۱۰۴۱۸

(۳)بحارالانوار،ج ۷۵،ص۲۰۴

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.